ہتک حرمتِ کعبہ
اس کے علاوہ فرمایا ماخلق فی الارض بقعتہ احب الیہ من الکعبتہ ولا اکرم علییہ منھا(من لایحضرہ الفقیہ جلد دوم ص۱۷۵)خداوند عزوجل نے روئے زمین پر کوئی ایسا مکان پیدا نہیں کیا جو اس کے نزدیک کعبہ سے زیادہ پسندیدہ اور اس سے بڑھ کر قابل احترام ہو۔ہر صاحب ایمان اور تمام مسلمان اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ کعبہ معظمہ کی توہین کرنا بہت بڑا گناہ ہے بلکہ تمام حرم الہی اور شہر مکہ کا احترام ہر فرد مسلمان پر واجب و لازم ہے۔
احترام کعبہ کے متعلق تاکیداس کے علاوہ اس گناہ کے کبیرہ ہونے پر نص موجود ہے اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے واضح طور پر ارشاد فرمایا:و استحلال البیت الحرامیعنی بیت الحرام کی توہین اوراس کی بے حرمتی کو جائز و مباح سمجھنا گناہ کبیرہ ہے۔سورہ مائدہ میں فرمایا گیا یا ایھا الذین امنوالا تحلوا شعائر اللّٰہ(سورہ مائدہ آیت۲)اے ایماندارو خدا کی نشانیوں کی بے حرمتی حلال نہ سمجھو ۔تفسیر المیزان میں لکھا ہے احلال یعنی کسی محترم چیز کو لا پرواہی اور بے توجہی سے مباح سمجھنا اور شعائر کے احترام کو ترک کرنے سے مراد ہے۔اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ کعبہ معظمہ اعظم شعائر ہے۔چنانچہ ارشاد فرمایا ومن یعظم حرمات اللّٰہ ھو خیر لہ عند ربہ (سورہ حج آیت۲۹) جو شخص خدا کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے گا تو یہ اس رب کے نزدیک اس کے حق میں بہتر ہے۔بعض مفسرین کے مطابق اس آیت شریفہ میں حرمات سے مراد کعبہ معظمہ بیت الحرام ہے اس کے علاوہ مسجد الحرام اور مکہ مکرمہ جو کہ بلد الحرام ہے اور حرام مہینے اور دوسری حرمت والی چیزیں مراد ہیں۔
اہانت کے مراتبجیسا کہ اس سے پہلے بیان کیا گیا ہے ہتک حرمت کے کچھ مراتب جیسے قرآن کو پھاڑنا یاجان بوجھ کر نجاست سے آلودہ کرنا ،کفر و ارتداد کا سبب بنتے ہیں لیکن توہین کے بعض دوسرے درجے بھی ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
حرم میں الحادہر وہ گناہ اورخلاف شرع عمل جو مکہ معظمہ میں واقع ہو وہ بیت اور بلد حرام کی اہانت اور ہتک کے ضمن میں شمار ہوتا ہے ۔کیونکہ اس میں جا کر خلاف قانون الہٰی اقدام کرنا اس کی انتہائی بے ادبی،لاپرواہی اوربے حرمتی ہے ۔چنانچہ بعض روایات میں حرم خدا میں نیک عمل کے انجام دینے سے دوگنا ثواب ملتا ہے اسی طرح حرم میں واقع ہونے والے عمل بد کا گناہ بھی دوسری جگہوں کی نسبت دو گنا ہے۔روایات اہل بیت اطہار (علیہم السلام) سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے اگر کوئی حرم میں کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہو جس کیلئے حد یا سزا مقرر کر دی گئی ہو تو اس مقررہ حد سے زیادہ سزاملنی چاہیے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حرم خدا کے اندر بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔اس لئے ہر وہ گناہ جو حرم خدا میں انجام دیتا ہے وہ گناہ کبیرہ ہے۔بعض فقہاء جیسے شیخ احمد جزائری اپنی کتاب آیات الاحکام کتاب حج صفحہ۱۶۱ میں فرماتے ہیں کہ حرم خدا میں واقع ہونے والے ہر گناہ کے کبیرہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا گیا: ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم(سورہ حج آیت ۲۵) اور جو شخص حرم میں الحاد(یعنی ظلم و تجاوز کے ذریعہ قانون الہٰی اور حق سے انحراف) کرے ہم اسے درد ناک عذاب کا مزہ چکھا دیں گے۔یہ یاد رکھئے مکہ معظمہ کی حدود میں گناہ واقع ہونا بجائے خود گناہ کبیرہ ہے۔جب گناہ صادر ہوتا ہے تو اس سے حرم الہی اور بلد امن کی توہین لازم آتی ہے اس لیے ہتک حرم کا گناہ اس گناہ کے علاوہ ہے یعنی دو گناہ کبیرہ شمار ہوتے ہیں۔جناب اما م جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ہر وہ ظلم جو لوگ اپنے آپ پر مکہ مکرمہ میں کرتے ہیں جیسا چوری یا کسی پر ظلم کرے یا قانون الہی کی حدود سے تجاوز کرے وہ میری نگاہ میں الحاد ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل تقویٰ حرم الہٰی میں زیادہ دیر ٹھہرنے سے پرہیز کرتے ہیں تا کہ حرم میں کسی گناہ کے مرتکب ہو کر عذب الہی کے مستحق نہ بنیں کتاب وافی میں اس سے ملتی جلتی کئی روایتیں نقل کی گئی ہیں،علامہ مجلسی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں اس حدیث شریف سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو شخص مکہ میں ارتکاب گناہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتا ہے اس کے لئے حدود مکہ کے اندر رہائش اختیار کرنا کراہت نہیں۔حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے کسی نے پوچھا مکہ میں ایک ایسا پرندہ ہے جس کے شر سے حرم کے کبوتر محفوظ نہیں۔امام (علیہ السلام) نے فرمایا اسے پکڑ کر مار ڈالو کیوں کہ اس نے الحاد کیا ہے ۔ (کافی کتاب حج باب ۱۴۱) مخفی نہ رہے کہ حرم الہٰی کی حد ہر طرف سے چار فرسخ ہے جو مجموعی سولہ فرسخ بنتے ہیں( اور ہر فرسخ تین میل کے برابر ہے) (مسالک کتاب الحج ص۱۴۲)
حرم محل امن ہےجو شخص حرم کے باہر کوئی جرم وخیانت اور پھر حرم میں پناہ حاصل کرے تو پھر کوئی دوسرا اس پر ہاتھ ڈال سکتا ہے بلکہ اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور معاشرت ترک کرے اس سے لینا دینا سختی سے بند کر دیں یہاں تک اپنی مرضی سے حرم سے باہر نکل جائے ۔پھر اسے اپنے جرم کی سزا دیں ۔لیکن اگر کوئی شخص حدود حرم کے اندر اس قسم کے جرم کرتا ہے جس سے قصاص ،حد یا تعزیر لازم آئے تو ایسی صورت میں حرم ہی میں اس پر قصاص یا حد الہی جاری کیا جائے گا۔جناب امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے کسی ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو حرم کے باہر کسی کو قتل کرے اور پھر وہی شخص حرم میں داخل ہو جائے؟آپ نے فرمایا جب تک حرم میں ہے اسے قتل نہیں کیا جائے گا ۔ایسے شخص کا کھانا پینا بند کر دیا جائے اس سے کسی قسم کا لین دین نہ کیا جائے اور ٹھہرنے کے لئے جگہ نہ دے یہاں تک جب وہ حرم سے باہر نکل جائے تو پھر اس پر حد جاری کی جاسکتی ہے۔پھر سوال کیا گیا آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو حرم کے اندر کسی کو قتل کرے یاچوری کا مرتکب ہو؟امام (علیہ السلام) نے فرمایا ایسے شخص پر حرم ہی میں حد جاری کر دی جائے گی کیوں کہ اس شخص کے دل میں حرم خدا کے لئے کوئی حرمت باقی نہیں رہی۔سماعہ نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا میرا مال کسی شخص کے پاس تھا وہ ایک مدت تک اپنے آپ کو مجھ سے چھپاتا رہا۔یہاں تک کہ ایک دن کعبہ کے اردگرد طواف کرتے دیکھا تو کیا میں اس وقت اس سے اپنے مال کا مطالبہ کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس پر سلام نہ کرو(تاکہ وہ تمہیں پہچان جائے) جب تک وہ حرم سے باہر نہ نکل جائے اسے نہ ڈراوٴ۔(وافی نقل از کافی صفحہ ۱۷)
حیوانات کاذبح کرنا اور نباتات کا اکھاڑناحرم خدا میں اونٹ،گائے،گوسفند اور مرغی کے سوا حرم میں موجود دوسرے جانوروں کو ذبخ کرنا حرام ہے ۔مگر سانپ ،بچھو،چوہے،مچھر اور ہر موذی جانور عشرات کے شر سے بچنے کے لئے مارنا جائز ہے۔اسی طرح حرم میں اگنے والے کسی درخت یا نباتات کا توڑنا بھی حرام ہے۔مزین معلومات حاصل کرنے کے لئے مراجع عظام کے مناسک حج کا مطالعہ کریں۔
احرام کے بغیر حرم میں داخل ہونامکہ معظمہ بلکہ حرم میں بغیر احرام داخل ہونا جائز نہیں۔ یعنی سال کے دوران جب بھی حرم اور مکہ معظمہ جائے تو میقات سے احرام باندھنا اور اسی حالت میں داخل ہونا واجب ہے۔پھر طواف وسعی اور تقصیر کے بعد احرام سے باہر نکل سکتا ہے ۔مگر جس شخص کا حرم اور میقات سے باہر بار بار آمدورفت کا پیشہ ہو جیسے ڈاکیہ ،لکڑہار۔چرواہا،ڈرائیوں وغیرہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں اسی طرح جس کا سابقہ احرام اور حالیہ احرام کے درمیان ایک ماہ سے کم مدت گزر رہی ہو۔مفصل مسائل جاننے کے خواہشمند حضرات رسائل عملیہ کی طرف رجوع کریں۔بعض فقہاء عظام احرام باندھے بغیر حرم کی حدود میں داخل ہونے کو گناہ کبیرہ میں محسوب کرتے ہیں جو کہ استحلال البیت کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے۔
روبہ قبلہ یا پشت کر کے رفع حاجت کرناقبلہ کی طرف رخ یا پشت کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنا حرام ہے خواہ آبادی میں ہو یا غیر آباد اور عمارت کے اندر…احتیاط یہ ہے نابالغ بچہ کو اس مقصد کے لئے…روبہ قبلہ…نہ بٹھایا جائے اگر بچہ خود ایسا کرے تو اس کو ٹوکنا واجب نہیں۔لیکن عاقل وبالغ انسان ایسا کرے تو اس صورت میں جبکہ وہ مسئلہ نہ جانتا ہو تو اس کو سمجھانا چاہیے۔اگر مسئلہ جاننے کے باوجود بھی عمداً ایسا کر رہا ہے تو نہی عن المنکر کے سلسلے میں اس کا منع کرنا واجب ہے اس کی تفصیل نہی عن المنکر کے باب میں ذکر ہو چکی ہے۔اگر قبلہ سے تھوڑا دائیں یا بائیں منحرف ہوجائے اورمکمل طور پر روبہ قبلہ یا پشت نہ ہو تو پھرحرام نہیں۔تفصیل کے لئے مراجع کرام کے رسائل عملیہ کی طرف رجوع کریں۔