جھوٹ بڑے گناہوں میں سے ایک
سترہواں ایسا گناہ جس کے کبیرہ ہونے کی صراحت موجود ہے۔ جھوٹ بولناہے۔ شیخ انصاری علیہ الرّحمہ کتاب " مکاسبِ محترمہ " میں فرماتے ہیں: "جھوٹ بولنا نہ صرف یہ کہ عقلی اعتبار سے یقینا حرام ہے، بلکہ تمام آسمانی ادیان، خصوصا ًاسلام کے لحاظ سے یہ حرام ہے نہ صرف قرآن ِمجید بلکہ احادیث اجماع اور عقل، ادلّہ اربعہ سے جھوٹ کا حرام ہونا ثابت ہے۔
فضل ابن شاذان نے حضرت امام علی رضا علیہ السَّلام سے جو گناہانِ کبیرہ کی فہرست نقل کی ہے اور اسِی طرح کی روایت اعمش نے امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے جو نقل کی ہے، ان دونوں میں جھو ٹ کو صاف الفاظ میں گناہِ کبیرہ بتایا گیا ہے۔
جھوٹ بڑے گناہوں میں سے ایک
حضرت رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے کہ اَلَآ اُخْبِرُکُمْ بأَکِبَرِالْکَبَآئِر: اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَوْلُ الزُّوْر (وسائل الشیعہ) " آگاہ ہوجاوٴ، مَیں تمھیں گناہانِ کبیرہ میں سے سب سے بڑے گناہوں کو بتاتا ہوں: کسی کو خدا کا شریک قرار دینا، والدین کے ذریعے عاق ہوجانا، اور جھوٹ بولنا!"
اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السَّلام سے مروی ہے کہ
جُعِلَتِ الْخَبَآئِثُ کُلّھَافَیْ بَیْتٍ وَّاحِدٍ وَجُعِلَ مِفْتَاحُھَا الْکِذْبَ
(مستدرک الوسائل ، کتاب حج، باب ۱۳۰)۔
"تمام برائیاں ایک کمرے میں مقفّل ہیں اور اسکی چابی جھوٹ ہے!"
فرشتے لعنت بھیجتے ہیں
حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا : اِنَّ الْمُوٴْمِنَ اِذَاکَذِبَ بِغَیْرِ عُذْرٍ لَعَنَہ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ " مومن جب بغیر کسی عذر کے جھوٹ بولتا ہے تو اس پر ستّر ہزار فرشتے لعنت بھیجتے ہیں!! " وَخَرَجَ مِنْ قِلْبِہ نَتِنُ حتّٰی یَبْلُغَ الْعَرْش"اور اس کے دِل سے ایسی سخت بدبو اٹھتی ہے جو عرش تک پہنچتی ہے! وَکَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ بِتْلِکَ الْکِذْبَةِسَبْعِیْنَ زِنْیَةً اَھْوَنُھَا کَمَنْ زَنیٰ بِاُمِّہ (کتاب مستدرک الوسائل) " اور اس ایک جھوٹ کے سبب سے خدا اس کے لئے ستّر مرتبہ زنا کرنے کے برابر کا گناہ لکھ دیتا ہے۔ اور وہ بھی ایسے زنا جن میں سے معمولی ترین زنا، ماں کے ساتھ (نعوذ بالله)ہو"
بے شک کوئی گناہ اتنا بڑا نہیں ہے جتناکہ جھوٹ ہے۔ ظاہر ہے کہ جھوٹ کے نقصانات زنا کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جو دو قبیلوں اور دو قوموں کو آپس میں لڑوا دیتے ہیں ۔ بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جو بے شمار جانوں اور ان گنت عصمتوں کو ضائع کردیتے ہیں یاکم ازکم مالی نقصان کا اور انسانی اصولوں کی پامالی کا سبب بنتے ہیں۔ بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جو خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور آئمہ ومعصومین (علیہم السلام) پر باندھے جاتے ہیں ۔ ظاہر ایسے جھوٹ بدترین گناہ ہیں ۔ بعض جھوٹی گواہیاں بے گناہ آدمیوں کو سولی پر چڑھا دیتی ہیں اور کئی گھرانے تباہ کردیتی ہیں اسی لئے ایک روایت میں ہے اَلْکِذْبُ شَرُّمِّنَ الشَّرَابِ " جھوٹ شراب سے زیادہ بڑی بُری ہے!"
جھوٹ کی مذمت میں آیات
سورئہ نحل میں ارشاد ہے اِنَّمَایَفْتَرِی الْکَذِ بُ الَّذِیْنَ لَایُوٴْمِنُوْنَ بِآیَاتِ اللّٰہِ (سورئہ نحل ۱۶: آیت نمبر۱۰۵) "جھوٹ بہتان تو بس وہی لوگ باندھا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے!"
اورسورئہ زُمر میں ارشاد ہے اَنَّاللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ ھُوَکَذِبُ کَفَّارُ (سورئہ زُمَر ۳۹: آیت نمبر ۳) " بے شک خدا جھوٹ اور بہت ناشکرے آدمی کو ہدایت نہیں دیتا!"
اسِی طرح چند دیگر آیتوں سے استفادہ ہوتا کہ جھوٹا شخص خدا کی لعنت کا مستحق ہے اور خدا اس سے غضب ناک رہتا ہے۔ مثلاً فَنَجْعَلْ لَٓعْنَةَاللّٰہِ عَلَی الْکاذِبِیْنَ (سورئہ آ لِ عمران ۳: آیت نمبر ۶۱) " پھر ہم جھوٹوں پر خُدا کی لعنت کے لئے بددُعا کریں گے!" اور مثلاً اَنَّ لَعْنَةَاللّٰہِ عَلَیْہِ اِنَّ کَانَ مِنَ الْکاذبِیْنَ (سورئہ نور ۲۴: آیت نمبر ۷)اور اس پر خدا کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے!"
گناہ کی مذمت اور اس کے نقصانات سے متعلق کئی آیت و روایات موجود ہیں مرحوم حاجی نوری علیہ الرَّحمہ نے اختصار کے طور پر اور آسانی سے یاد ہو جانے کے لئے چالیس موضوعات میں ان آیات وروایات کو تقسیم کر دیا ہے جو ہم پیش کر رہے ہیں۔
(۱) جھوٹ،فسق ہے
سورئہ بقرہ میں ارشاد ہے فَلَارَفَثَ وَلَا فَسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (سورئہ بقرہ ۲: آیت نمبر ۱۹۷)" پس حج میں نہ تو جماع کی اجازت ہے نہ فسق وفجور کی اجازت ہے۔ اور نہ ہی کسی جھگڑے کی اجازت ہے۔" اس آیت شریفہ میں فسق سے مراد جھوٹ ہے اور مثلاً سورئہ حجرات میں جھوٹے کو فاسق کہاگیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اِنْ جَا ئَکُمْ فَاسِقُ بِنبَاِفَتَبَیَّنُوْا (سورئہ حجرات ۴۹: آیت نمبر ۶)" اگر تمھارے پاس کوئی جھوٹا آدمی کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو۔" اس آیت میں ولید کو جاسق یعنی جھوٹا قرار دیاگیا ہے۔
(۲) "قَوْلَ الزُّوْر" سے مُراد
بُت پرستی کے ساتھ جھوٹ سے پرہیز کا حکم دیا گیا ہے اور ارشاد ہے کہ فَاجْتَنِبُ ا لرَّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ (سورئہ حج ۲۲: آیت ۳۰) " پس تم ناپاک چیزوں مثلاً بتوں سے بچو اور لغو باتوں سے بھی بچو ۔" یہاں قَوَْلَ الزُّوْر یالغو باتوں سے مُراد جھوٹ ہے۔
(۳) جھوٹ بولنے والا مومن نہیں ہوتا
گزشتہ آیت شریفہ (سورئہ نحل ۱۶: آیت نمبر ۱۰۵)سے ثابت ہوتا ہے کہ جو جھوٹ بولتا ہے وہ موٴمن نہیں ہوتا اور جو مومن ہوتا ہے وہ جھوٹ نہیں بولتا ۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے " جھوٹ، بہتان وہی لوگ باندھتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے !" ظاہر ہے خدا کی آیتوں پر ایمان نہ رکھنے والاشخص موٴمن نہیں ہوسکتا۔
(۴) جھوٹ اثم اور گناہ ہے
روایتوں میں جھوٹ کو "اِثم" یا "ذَنْب" (گناہ) بھی کہا گیا ہے۔ مثلاً حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جھوٹ پورا پورا اِثم اور گناہ ہے۔
(۵) جھوٹا شخص ملعون ہے
جھوٹا شخص خدا کی لعنت کا مستحق ہوتا ہے اور اس پر خدا کا غضب اور قہر نازل ہوتا ہے۔ مثلاً ارشاد ہے
اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کاَنَ مِنَ الْکاَذبِیْنَ (سورئہ نور ۲۴: آیت ۷)
" اور اس پر خدا کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے۔"
(۶) جھوٹے کاسیاہ چہرہ
پیغمبرِاکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا (قَالَ) اِیَّاکَ وَالْکِذْبَ فاِنّہ یُسَوَدُّاْوَجْہَ (مستدرک الوسائل) " جھوٹ سے بجتے رہو، اس لئے کہ جھوٹ مُنْہ کالا کردیتا ہے!"
کتاب "حبیبُ السِّیرَ " میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ:
سلطان حسین میرزا خراسان اور زابلستان کا بادشاہ تھا۔ اس نے آذر بائیجان اور عراق کے بادشاہ سلطان یعقوب میرزا کے پاس اپناایک ایلچی بہت سی کتابوں اور دیگر تحفوں کے ساتھ روانہ کیا ۔ ان کتابوں میں" کلیاتِ جامی" رکھنے کا بھی اس نے حکم دے دیا تھا جو اس زمانے میں بہت پسند کی جاتی تھی ۔
امیر حسین ابیوروی نام ایلچی جلدی میں غلطی کر بیٹھا اور " کلیاتِ جامی" کی بجائے "فتوحاتِ مکّی" لے گیا۔ عراق کے بادشاہ نے اس کے ساتھ بہت شفقت آمیز سلوک کیا اور کہا: " اتنی طویل مسافت میں تم بہت اکتاگئے ہوگئے!" ایلچی کہنے لگا:" جی نہیں سلطان نے آپ کے لئے کلیاتِ جامی بھی بھیجی ہے راستے میں جب بھی پڑاوٴکرتا تھا تو اس کا مطالعہ کر کے محظوظ ہوتا تھا!" سلطان یعقوب نے پر اشتیاق سے وہ کتاب تحفوں میں سے منگوائی تو وہ موجود نہیں تھی ۔ اب ایلچی کا شرمنّدگی کے مارے بُرا حال ہوگیا۔ بادشاہ نے کہا تم کو شرم نہیں آئی ایسا جھوٹ کہتے ہوئے!"
ایلچی کہتا ہے کہ " میں انتہائی شرمندگی کے ساتھ دربار سے نکلا اور سلطان سے خط کا جواب لئے بغیر ہی اور راستے میں پڑاوٴ کئے بغیر ہی خراسان پہنچ گیا! میرا جی چاہ رہاتھاکہ کاش مرجاتا مگر یہ جھوٹ نہ کہتا!"
(۷)جھوٹ کا گناہ شراب سے بڑھ کر ہے
حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام کا ارشاد ہے : اِنَّ اللّٰہَ جَعَلَ لِشَرِّ اَقْفَالاً وَجَعَلَ مَفَاتِیْحِ تِلک َالاَقْفَال الشَرَابُ، وَالْکِذْبُ شَرُّ مِّنَ الشَّرابِ (اصولِ کافی، کتاب الایمان والکفر، جھوٹ کاباب) "بیشک خدانے تمام برئیوں کے کچھ نہ کچھ تالے بنائے ہیں اور ان تالوں کی چابی شراب ہے جب کہ جھوٹ شراب سے بدتر ہے!"
اگرچہ شراب عقل وہوش کو ختم کردیتی ہے لیکن جھوٹ نہ صرف عقل کو خبط کردیتا ہے بلکہ انسان کو اتنابے حیا اور بے غیرت بنادیاتا ہے کہ وہ ہر قسم کی شیطانیت پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ شرابی کی عقل جب کام نہیں کرئی ہے تو وہ چالاکی اور عیّاری نہیں دکھا سکتا، جب کہ آدمی جھوٹ بول کر چالاکی سے معاشرے کو شرابی سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا دیتا ہے۔
(۸)جھوٹے کا بدبو دار مُنہ
مروی ہے کہ قیامت کے دِن ہر جھوٹے آدمی کے مُنْہ سے سخت بدبو آئے گی!
(۹)ملائکہ کا اظہارِبیزاری
بدبو اس قدر ہوگی کہ فرشتے تک جھوٹے شخص کے پاس نہیں جائیں گے اور اس سے دور ہٹیں گے۔ یہ بات صرف قیامت تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا میں بھی فرشتوں کو جھوٹے لوگوں کے مُنْہ سے بَدبو محسوس ہوتی ہے۔ حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ) میں ہے : اِنَّ الْعَبْدَ اِ ذَالکَذِبَ تَبَاعَدَعَنْہُ الْمَلَکُ مِنْ نَتْنِ مَا جَآءَ مِنْہُ (مستدرک الوسائل) " جب خدا کا کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کے مُنْہ سے اتنی بدبو آئی ہے کہ فرشتے اس سے دور ہٹ جاتے ہیں !"
جھوٹ کفر کا سبب
(۱۰) خدا وندِتعالیٰ جھوٹے پر لعنت بھیجتا ہے، جس طرح کہ آیت مباہلہ اور آیت لِعان (سورئہ نور ۲۴: آیت ۷) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ چنانچہ اس سے پہلے ذکر ہوا۔
(۱۱) مروی ہے کہ جھوٹے کے مُنْہ سے خارج ہونے والی بدبو عرش تک پہنچ جاتی ہے!
(۱۲) یہ مروی ہے کہ عرش کو اٹھائے ہوئے خداکے مقرّب فرشتے جھوٹے پر لعنت بھیجتے ہیں!
(۱۳) جھوٹ ایمان کو خراب کردیتا ہے۔ امام محمد باقر علیہ السَّلام فرماتے ہیں عَنْ اَ بِیْ جَعْفَرٍ) اَلْکِذْبُ خَرَابُ اِلْایْمَانِ (کتاب "کافی ") "جھوٹ ایمان کو خراب کردینے والا ہوتاہے۔"
(۱۴) جھوٹ ایمان کاذائقہ چکھنے سے آدمی کو محروم کردیتا ہے ۔ امام علی علیہ االسَّلام فرماتے ہیں (عَنْ عَلِّیٍ)لَا یَجِدُ عَبْدُ طَعْمَ الْاِیْمَانِ حَتَّی یَدْرُکَ الْکِذْبَ ھَزْلَہُ وَ جِدَّہ (کتاب "کافی") کوئی بندہ ایمان کا ذائقہ اس وقت تک چکھنے سے محروم رہتا ہے جب تک وہ جھوٹ کو ترک نہ کرے‘ خواہ وہ جھوٹ مذاق میں ہو یا سنجیدگی کے ساتھ!"
(۱۵) روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ دلوں میں دشمنی اور کینے کا سبب بنتا ہے!
(۱۶) جھوٹ کی وجہ سے آدمی کا اخلاق دیگر تمام انسانوں کی نسبت ذیادہ خراب ہو جاتا ہے۔ حدیثِ نبوی میں ہے:اَقَلُّ النَّاسِ مُرَوَّةً مَنْ کَانَ کَاذِبًا (مستدرک الوسائل) "مروت اور اخلاق کے اعتبار سے پست ترین آدمی وہ ہے جو جھوٹ بولتا ہو"
(۱۷) مروی ہے کہ جھوٹ ایک ایسے گھر کی چابی ہے جس میں تمام برائیاں مقفّل ہیں!
(۱۸) جھوٹ فسق و فجور ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مروی ہے کہ اِیّاکُمْ وَالْکِذْبَ فَاِ نَّہ مِنَ الْفُجُوْرِ وَھُمَا فِی النَّارِ (مستدرک الوسائل) "جھوٹ سے بچو، اس لئے کہ یہ فسق و فجور کی ایک قسم ہے اور یہ دونوں چیزیں جہنمی ہیں!"
(۱۹) روایت میں ہے کہ ایک جھوٹ کے بدلے ستّر ہزار فرشتے جھوٹے آدمی پر لعنت کرتے ہیں!!
(۲۰) جھوٹ منافق کی علامت ہے۔ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی یہ حدیث مستدرک الوسائل میں موجود ہے کہ : "منافق کی تین علامتیں ہیں: جھوٹ بولنا، خیانت کرنا اور وعدہ خلافی کرنا۔"
(۲۱) جھوٹے شخص کا مشورہ شرعی لحاظ سے پسندیدہ نہیں ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں لَا رَأْ لِکَذُوْبٍ (مستدرک الوسائل) "جھوٹے شخص کی رائے کی کوئی حیثیت نہیں ہے!"
(۲۲) جھوٹ بدترین نفسیاتی بیماری ہے! امیرالمومنین حضرت علی علیہ السَّلام کا ارشاد ہے: وَ عِلَّةُ الْکِذْبِ اَقْبَحُ عِلَّةٍ(مستدرک الوسائل) "اور جھوٹ کی بیماری بدترین نفسیاتی بیماری ہے!
(۲۳) جھوٹ شیطان کے ہاتھ کی زینت ہے۔ حدیثِ نبوی میں ہے کہ اِنَّ لِاِبْلِیْسَ کُحُلاًوَّ لُعُوْقًاوَّ سُعُوْطاً "بیشک ابلیس سُرمہ بھی لگاتا ہے، انگلی میں چھلّا بھی پہنتا ہے۔ اور نسوار بھی استعمال کرتا ہے!" فَکُحْلُہُ النُّعَاسُ وَ لُعُوْقُہُ الْکِذْبُ وَ سُعُوْطُہُ الْکِبْرُ "پس اُس کا سُرمہ اونگھنا اور سستی کرناہے، اس کی انگلی کا چھلّا جھوٹ ہے اس کی نسوار غرور و تکبر ہے!"
(۲۴) انسان جو چیزیں کماتا ہے اُن میں جھوٹ بدترین چیز ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہی کا ارشاد ہے: اَدْبَی الرِّبَا الْکِذْبُ (وسائل الشیعہ) "انسان کی بدترین کمائی جھوٹ کا سود ہے! " جی ہاں، گناہ کے اعتبار سے، آدمی جھوٹ بول کر سب سے زیادہ گناہ کما لیتا ہے!
(۲۵) جَآءَ رَجُلُْ اِلَی النَّبِیّ ایک شخص نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ فَقَالَ: مَا عَمَلُ اَھْلِ النَّارِ اس نے دریافت کیا " ایسا کون سا عمل ہے جو سب سے زیادہ لوگوں کہ جہنمی بنا دیتا ہے؟" فَقَالْ: اَلْکِذْبُ آنحضرت نے جواب دیا۔ وہ "جھوٹ ہے!"اِذَا کَذَبَ الْعَبْدُ فَجَرَوَاذٰافَجَرَ کَفَرَ وَاِذٰا کَفَرَ دَخَلَ النَّارَ (مستدرک الوسائل) " جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو ہر گناہ کے سلسلے میں بے باک ہوجاتا ہے، اور جب اتنا بڑھ جاتا ہے تو کفر کر بیٹھتا ہے اور جب کفر کر بیٹھتا ہے تو جہنم میں داخل ہوجاتا ہے!"
جھوٹ نسیان اور بھول پیدا کرتا ہے
(۲۶) امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں کہ اِنَّ مِمَّآ اَعَانَ اللّٰہُ عَلَی الْکَذَّابِیْنَ اَلنِّسْیَانَ (وسائل الشیعہ) "بیشک بہت جھوٹ بولنے والوں کو خدا جو سزائیں دیتا ہے اُن میں سے ایک نسیان (اور بھول )کا مرض ہے! " پس آدمی جھوٹ بولتاہے اور بھول جاتا ہے کہ اُس نے جھوٹ بولا تھا۔ پھر اس کا جھوٹ پکڑا جاتارہتاہے، وہ رسواہوتا ہے مگر اپنی رسوائی کو چھپانے کی کوشش میں وہ جھوٹ پر جھوٹ بولتا ہے اور دوسرا جھوٹ بول کروہ پہلا جھوٹ نبھانے کی کوشش کردیتا ہے ۔لیکن وہ بھی بھول کر خود کو مزید رسوا کر دیتا ہے۔
(۲۷) "جھوٹ، نفاق اور منافقت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہی۔"
جھوٹ بولنے والوں پر سخت عذاب
(۲۸) جھوٹ بولنے والوں پر خاص قسم کے عذاب نازل ہوتے ہیں آقائے راوندی کی کتاب "دعوات" میں اس موضوع پر ایک طولانی حدیثِ نبوی موجود ہے جس میں آنحضرت شبِ معراج کا آنکھو ں دیکھا حال بیان فرماتے ہیں ۔ اسی میں فرماتے ہیں کہ:
" میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کو پیٹھ کے بَل لٹایا گیا ہے اور دوسرا شخص اس کے سَر پر کھڑا ہے۔ کھڑے ہوئے شخص کے ہاتھ میں ایک نو کیلا لوہے کا ڈنڈا ہے جس سے وہ لیٹے ہوئے شخص کو زخمی کردیتا ہے۔ اس کا مُنْہ گردن تک ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے! ڈنڈا اوپر ہوجاتاہے تو دوبارہ نیچے آنے سے پہلے وہ شخص ٹھیک ہوجاتا ہے اور بار بار اس عذاب سے وہ گذرتا ہے!"
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں میں نے پوچھا " اس کے عذاب کی وجہ کیا ہے؟"
بتایا گیا: " یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا تھا تو ایسا جھوٹ کہتا تھا جس سے دنیا کے لوگوں کو نقصان پہنچتا تھا۔ پس قیامت تک اس پر (مرنے کے بعد ) ایسا ہی عذاب ہوگا!"
(۲۹) جھوٹا شخص نمازِ شب سے محروم رہتاہے اور اس طرح نمازِ شب سے حاصل ہونے والی برکتوں سے بھی محروم رہتا ہے اور اس کی ایک برکت رزق کی فراوانی ہے۔ شریفی ، حضرت جعفر صادق علیہ السَّلام سے نقل کرتے ہیں کہ: اِنَّ الرَّجُلَ لَیَکْذِ بُ الْکِذْبَ فَیَحْرُمُ بِھَا صَلٰوةُ اللَّیْلِ، فَاِ ذا حَرُمَ صَلٰو ةُ اللَّیْلِ حَرُمَ بِھَا الرِّزْقُ (بحارالانوار) " بے شک آدمی جب جھوٹ بولتا ہے تو اس کی وجہ سے نمازِ شب کی توفیق اسے حاصل نہیں ہوتی اور جب نمازِ شب کی توفیق نہیں ہوتی تو اس کی وجہ سے فراوانی رزق بھی نہیں ہوتی!"
(۳۰) جھوٹ ہدایت سے محرومی کا اور گمراہی کا سبب ہوتا ہے آیت میں ہے اِنَّ اللَّٰہَ لَا یَھْدِیٰ مَنْ ھُوَکََاذِ بُ کَفَّارُ (سورئہ زمر ۳۹: آیت ۳) " بے شک خدا جھوٹے ناشکرے کو ہدایت نہیں دیتا!"
(۳۱) جھوٹے سے انسانیت رخصت ہوجاتی ہے ! حضرت عیسی ابن مریم علیہ السَّلام کا ارشاد ہے مَنْ کَثُرَ کِذْبُہ ذَھَبَ بَھَآ ئُہُ (کتاب "کافی") جس شخص کا جھوٹ کثرت سے ہوتا ہے اس کی انسانیت رخصت ہوجاتی ہے ۔" پھر کوئی اُس سے مانوس نہیں ہوتا اور کوئی اس سے دِلی لگاوٴ نہیں رکھتا!
(۳۲) "جھوٹ سب سے زیادہ خبیث اور گندی چیز ہے!"
(۳۳) جھوٹ ایک گناہِ کبیرہ ہے ، جس طرح کہ ثابت ہوچکا ہے۔
(۳۴) جھوٹ ایمان سے دُور ہے، بلکہ اس کی ضد ہے پیغمبر ِاکرم فرماتے ہیں اَلْکِذْبُ مْجَانِبُ الْاَیْمَانِ (مستدرک الوسائل) " جھوٹ جتنا بڑھے گا ایمان اتناکم ہوگا!"
(۳۵) سب سے بڑا گنہگار جھوٹا شخص ہے ! حدیثِ نبوی میں ہے کہ
ٍ مِنْ اَعْظَمِ الْخَطَیَا اَللَّسَّانُ الْکذُوْبُ (مستدرک الوسائل)
"ایک سب سے بڑا گناہ بہت باتونی اور بہت جھوٹے شخص کا گناہ ہے!"
(۳۶) جھوٹا آدمی اپنے جھوٹ کی وجہ سے ہلاکت میں پڑجاتا ہے۔ پیغمبرِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں : اِجْتَنِبُوا لْکِذْبُ وَاِنْ رَأَیْتُمْ فِیْہِ النَّجَاةَ فَاِنَّ فِیْہِ الْھَلَکَةَ (مستدرک الوسائل) " جھوٹ سے پرہیز کرو ، اگرچہ تمھیں اس میں نجات نظر آرہی ہو، مگر در حقیقت اس میں ہلاکت ہوتی ہے!"
(۳۷) جھوٹا آدمی دوستی کے اور بھائی بنائے جانے کے قابل نہیں ہوتا ۔ امیر المومنین علیہ السَّلام فرماتے ہیں: یَنبََغیْ لِلرَّجُلِ الْمُسْلِمِ اَنْ یَّجْتَنِبَ مُوٴَاخَاةَ الْکَذَّابِ"ہر مسلمان آدمی کو چاہیے کہ وہ بہت چھوٹے آدمی کے ساتھ دوستی اور برادری کا رشتہ نہ باندھے !" اِنَّہ یُکَدَّبُ حَتَّی یَجِیْ َ بِا لصِّدْقِ فَلَا یُصَدَّقُ(وسائل الشیعہ) "اس لئے جھوٹے سے دوستی کرنے والے شخص کو بھی جھوٹا سمجھا جائے گا! حتّٰی کہ اگر وہ سچی بات بھی کرتے گا تو سچ نہیں مانا جائے گا!"
(۳۸) اِنِّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ ھُوِ مُسْرِفُ کَذَّابُ (سورئہ مومن ۴۰: آیت ۲۸) "بے شک خدا اسراف کرنے اور جھوٹ بولنے والے کو راہِ ہدایت نہیں دکھاتا!" جھوٹا شخص حق اور حقیقت سے دور رہتا ہے۔
(۳۹) جھوٹا شخص صرف دیکھنے میں انسان ہوتا ہے لیکن عالمِ برزخ میں اس کی صورت انسانی نہیں ہوتی۔ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے حضرت فاطمہ زہرا ء = کو حدیثِ معراج بناتے ہوئے فرمایا تھا: شبِ معراج میں نے ایک عورت کو دیکھا جس کا سر سُور سے ملتا جلتا تھا اور جس کا باقی بدن گدھے کی طرح کا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ فتنے اُٹھاتی تھی اور جھوٹ بولتی تھی!" (کتاب "عیون اخبار الرَّضا)
جھوٹ کے مختلف درجات
اگرچہ شہیدِ ثانی علیہ الرحمہ کی طرح مجتہدین کا ایک گروہ جھوٹ کو، خواہ وہ کیسا ہی ہو، مطلق طور پر گناہِ کبیرہ قرار دیتا ہے، لیکن روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ کے مختلف درجات ہیں۔ اُن میں سے بعض یقینا کبیرہ ہیں، بعض جھوٹ سب سے بڑے گناہِ کبیرہ ہیں، اور بعض جھوٹ البتّہ ایسے بھی ہیں جن کے گناہِ کبیرہ ہونے میں شک ہے۔ اب ہم جھوٹ کے مختلف درجات ایک ایک کر کے بیان کر رہے ہیں۔
اللّٰہ، رسول اور امام کے خلاف جھوٹ
بدترین قسم کا جھوٹ خدا، رسول اور امام کے خلاف جھوٹ ہے۔ سورئہ نحل میں ارشاد ہے وَلَا تَقُوْالِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلُ وَ ھٰذَا حَرَامُ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللهِ الْکَذِبَ اِنَّ الَّذَیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ o مَتَاعُ قَلِیْلُ وَّلَھُمْ عَذَاٰبُ اَلَیْمُ (سورئہ نحل ۱۶: آیت ۱۱۶ اور ۱۱۷) "اور جھوٹ موٹ جو کچھ بھی تمہاری زبان پر آئے نہ کہہ بیٹھا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ اس طرح تو تم خدا پر جھوٹ بہتان باندھو گے۔ بیشک جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔ (دنیا میں) فائدہ تو ذرا سا ہے لیکن (آخرت میں) اُن کے لئے دردناک عذاب ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں (قَالَ) اَلْکِذْبُ عَلَی اللهِ وَ عَلیٰ رَسُوْلِہ مِنَ اْلکَبَآئِرِ (کتاب کافی) خدا پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر جھوٹ باندھنا گناہانِ کبیرہ میں سے ہے۔"
اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے ابو نعمان سے فرمایا تھا: لَا تَکْذِبْ عَلَیْنَا کِذْبَةً فَتَسْلُبُ الْحَنِیْفِتَةَ (کافی) یعنی " ہم پر ایک جھوٹ بھی مت باندھو کیوں کہ اس طرح جھوٹ تمھیں اسلام جیسے خاص دین سے خارج کر دے گا۔" یعنی اماموں پر ایک جھوٹ بھی باندھنے سے ایمان کا نور دل سے ختم ہوجاتا ہے۔ یہ جھوٹ اتنا شدید ہے کہ اگر جان بوجھ کر روزے کی حالت میں باندھا جائے تو روزہ باطل ہو جاتا ہے۔
جھوٹ خواہ کیسا بھی ہو
جھوٹ خواہ کیسا بھی ہو اور کسی انداز میں ہو تو حرام ہے۔ جس طرح زبان سے جھوٹ کہنا حرام ہے اُسی طرح قلم سے جھوٹ لکھنابھی حرام ہے۔ بلکہ ایساا شارہ انگلی یاسر وغیرہ سے کرنا بھی حرام ہے جو جھوٹا ہو۔ مثلاً نماز نہ پڑھنے والے آدمی سے کوئی پوچھے کہ کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے تو اگر وہ سرسے ہاں کا اشار ہ کرئے تو یہ بھی جھوٹ اور گناہ ہے۔ اسی طرح یہ جانتے ہوئے کہ دوسرا آدمی جھوٹ بول رہا ہے، اس کے جھوٹ کو مزید پھیلانا اور اُس کی تائید کرنا حرام ہے۔
آیات واحادیث کو اپنے مطلب میں ڈھال لینا
خدا، رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور معصومین (علیہم السلام)کے خلاف جھوٹ باندھنے کے معنی یہی ہیں کہ آدمی کسی بات کی جھوٹی نسبت اِن حضرات میں کسی کودے۔ مثلاً پیغمبرِاکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے جو بات نہیں کہی ہو، یہ جانتے بوجھتے بھی کہے کہ یہ پیغمبرِاکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا ہے، یا یہ جانتے ہوئے بھی کہ عربی کا فلاں جملہ آیت نہیں ہے، یہ کہہ دے کہ یہ آیت قرآنی ہے۔ اِسی طرح آیات واحادیث کے حیقیقی معنوں یا ظاہری معنوں کے برخلاف کوئی معنی اپنے مطلب کے مطابق کرنابھی حرام ہے۔ یا غلط ترجمہ کرے۔
ہرکسی کے بس کی بات نہیں
اسی لئے منبر پر تقریر کرنایا کہیں اور آیا ت وروایات کا ترجمہ کرنا ان کی تشریح کرنا ہر کسی کا کام نہیں ہے یہ بہت خطرناک موقع ہوتا ہے اور کافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مقرر عربی قواعد مکمل طور سے پڑھاہوانہ ہو اور اُسے آیات وروایات کی ظاہری مطالب سمجھنا آتانہ ہو تو وہ خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر جھوٹ باندھنے سے بچ نہیں سکتا۔ اِسی لئے مقرّروں کو چاہئے کہ وہ کافی احتیاط کریں اور آیات کا وہی معنی بتائیں جو واضح اور ظاہر ہوں ۔ خاص طور پر متشابہ آیتوں کے ترجمہ وتشریح سے پرہیز کریں۔
خدا کے خلاف جھوٹ کا ایک مقام
خدا پر جھوٹ باندھنے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ آدمی ہے کہ آدمی اپنی جھوٹی بات کو سچ ظاہر کرنے کے لئے کہے کہ " خدا شاہد ہے کہ میں سچ کہہ رہا ہوں یا یہ کہے کہ خدا جانتا ہے کہ میں سچ کہہ رہاہوں۔امام جعفر صادق علیہ السَّلام کا ارشاد ہے کہ:
مَنْ قَالَ عَلِمَ اللّٰہُ مَالَا یَعْلَمُ اِ ھْتَزَّلَہُ الْعَرْشُ اِعْظَا مًا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ (کافی) " جو شخص کہے کہ خدا جانتا ہے " حالانکہ خدا اُس کے برخلاف جانتا ہو تو خدا کی عظمت اور اس کا جلال دیکھ کر عرش کانپ اٹھتا ہے!" ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں کہ: اِذَا قَالَ الْعَبْدُ عَلِمَ اللّٰہُ وَکَانَ کَاذِبًاقَا لَ اللّٰہُ تَعَالٰی جب کوئی بندہ کہتا ہے کہ " خدا جانتا ہے " : حلانکہ وہ جھوٹ کہہ رہا ہو تو خدا تعالیٰ اس سے کہتا ہے اَمَاوَجَدْتَّ اَحَدًا تَکْذِ بُ عَلَیْہِ غَیْرِ یْ؟ (وسائل الشیعہ ، کتاب الایمان باب ۵) یعنی " تمہیں میرے علاوہ کوئی اور نہیں ملا۔ جس پر تم جھوٹ باندھ سکو؟"
بعض روایتوں میں ہے کہ جب بندہ کسی جھوٹ بات پر خدا کو گواہ بناتا ہے تو خدا وندِ عالم اس سے فرماتا ہے " تمہیں مجھ سے کمزور اور کوئی نہیں ملا جو اِ س جھوٹ پر تمہارا گواہ بن سکے؟"
پیغمبروامام کے خلاف جھوٹ
پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور امام (علیہ السلام)پر جھوٹ باندھنا یہ ہے کہ آدمی اپنی جانب سے کوئی حدیث گھڑے اور اُن سے منسوب کردے۔ اِسی طرح کوئی جعلی حدیث جانتے بوجھتے صحیح حدیث قرار دے دے۔ البتہ اگر قرائن میں موجود ہوں کہ حدیث صیحح ہو تو اُسے معصوم سے نسبت دی جاسکتی اور نقل کیا جاسکتا ہے۔
روایات کوسند کے ساتھ نقل کریں
البتہ کتابوں میں ایسی بہت حدیثیں ملتی ہیں جن کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ صحیح ہیں یا جعلی۔ اگر ایسی حدیثیں بیان کرنی ہوں تو کتاب کا یاراوی کا حوالہ دے کر بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ نقل کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیئے کہ حدیث میں ضروریاتِ دین کے برخلاف کوئی بات نہ ہو ۔ اگر ضروریاتِ دین کے خلاف بات ہو تو حدیث یقیناً جعلی ہوگی ۔ اسی طرح امام اور معصوم کی توہین کا اس میں کوئی پہلو نہیں ہونا چاہئے اسی طرح کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہئے جس کو عقلِ سلیم تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ صرف ایسی ہی کتابوں سے آدمی احادیث نقل کرے جو معتبر ہوں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام فرماتے ہیں وَلَاتُحَدِّثْ اِ لَّاعَنْ ثِقَةٍ فَتَکُوْنَ کَذَّابًا وَالْکِذْبُ ذُلُّ (کشف المحجہّ)یعنی " اور کسی معتبر آدمی کے سوا کسی اور سے حدیث نقل مت کرو رنہ تم بہت بڑا جھوٹ کہہ بیٹھو گے ۔ اور جھوٹ خدا اورمخلوقِ خدا کے سامنے ذلّت کا باعث ہی ہوتا ہے۔"
حضرت امیرالموٴمنین علی علیہ السَّلام نے حارث ہمدانی کو جو خط لکھا تھا اس میں یہ نصیحت بھی فرمائی تھی کہ وَلَا تُحَدِّثِ النَّاسَ بِکُلِّ مَا سَمِعْتَ فَکَفٰٰی بِذَالِکَ کِذْبًا (نہج البلاغہ) " ہر سُنی سنائی بات لوگوں سے نہیں کہہ دیا کرو جھوٹ بولنے کے سلسلے میں یہی کافی ہے۔"
اسی طرح حدیث کو من وعن نقل کرنا چاہئے ۔ نہ ایک لفظ اپنی طرف سے بڑھانا چاہیئے اور نہ ایک لفظ کم کرنا چاہیئے اِسی طرح کوئی لفظ بدلنا بھی نہیں چاہیئے، ورنہ اِن تمام صورتوں میں معصومین پر بہتان ہوجاتا ہے۔
رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں مَنْ قَالَ عَلَیَّ مَا لَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّءْ مَقْعَدُہ مِنَ النَّارِ (وسائل الشیعہ) " جو شخص مجھ سے ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو تو وہ جہنم میں بیٹھے گا!"
آقائے نوری کی کتاب دارالسلام میں لکھا ہے کہ ایک شخص عالمِ باعمل ، کتاب مقامِع کے مصنّف ا ٓقائے محمدعلی کے پاس کر مان شاہ میں پہنچا ۔ اُس نے کہا: " میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ اپنے دانتوں سے حضرت امامِ حُسین علیہ السَّلام کا گوشت نوچ رہا ہوں ۔اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟" آقائے محمد علی کچھ دیر سَر جُھکائے فکرمند بیٹھے رہے اور پھر فرمایا: " شاید آپ مجلس پڑھتے ہیں اور ذکر مصائب کرتے ہیں۔" اُس شخص نے کہا " جی ہاں" اُنھوں نے فرمایا یا تو یہ سلسلہ ترک کردیجئے یا معتبر کتابوں سے نقل کرتے ہوئے پڑہیئے۔ "
کتاب شفاء ُ الصّدُور میں لکھا ہے کہ آیت اللہ الحاج محمدابراہیم کلباسی کے حضور ایک عالم مجلس پڑھ رہے تھے۔ وہ بتارہے تھے کہ حضرت امام حُسین علیہ السَّلام نے فرمایا: " یا زینب یازینب" یہ سُن کر آیت اللہ کلباسی نے بآوازِ بلند فرمایا: "خدا تیرا منہ توڑ دے ! امام نے یازینب دو مرتبہ نہیں فرمایا تھا، بلکہ ایک مرتبہ فرمایا تھا!"
(۱)روایت کے مضمون کو بیان کرنا
البتہ حدیث یا آیت کا مفہوم اپنے الفاظ میں بیان کرنا جائز ہے لیکن اِس کی شرط یہ ہے کہ حدیث نقل کرنے والا شخص نہ صرف یہ کہ عربی سے اچّھی طرح واقف ہو بلکہ اُسے مراد سمجھنے کا فن بھی آتا ہو ۔ خلاصہ یہ کہ حدیث کے ظاہری معنی اپنے الفاظ میں بیان کرنا جائز ہے۔
البتہ اگر معصوم کی شان کے خلاف محسوس نہ ہو تو نظم کو نثراور نثر کو نظم میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ماضی کے واقعات کو زبانِ حال میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً یہ کہنا ہو کہ ایک شخص امام کی خدمت میں حاضر ہواتو امام نے اس سے فرمایا، تو زبانِ حال میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک شخص امام کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور امام اُس سے فرماتے ہیں البتہ سامعین کو معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ زبانِ حال ہے۔ اسی طرح اگرحدیث میں ہوکہ امام نے منع فرمایا تو اپنے الفاظ میں ایسا کہنا جائز ہے کہ امام نے فرمایا ایسا مت کرو۔
(۲)جھوٹی قسم اور گواہی سے اجتناب
جھوٹ کا ایک اور درجہ یہ ہے کہ جھوٹی قسم کھائی جائے ، جھوٹی گواہی دی جائے یاشرعی عدالت میں گواہی چھپائی جائے ۔ یہ بھی ایسا جھوٹ ہے جس کے گناہِ کبیرہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اِن میں سے ہر ایک کا تفصیلی بیان انشاء اللہ آنے والا ہے۔
(۳)جھوٹ کے مُضر اثرات
ایسا جھوٹ یقیناًگناہِ کبیرہ ہے جس کے مضراثرات ہوں، اور دوسروں کو جس سے نقصان پہنچے۔ اگر نقصان بڑا ہو تو گناہ بھی اُسی کی مناسبت سے زیادہ ہے۔ مثلاً جھوٹبولنے سے اگر کسی کا مالی نقصان ہوتا ہو تو اس کا گناہ ایسے جھوٹ سے یقیناکم ہے جس کے نتیجے میں جان ضائع ہوتی ہو۔
(۴) ہنسی مذاق میں جھوٹ
جھوٹ کی ایک اور قسم مذاق میں جھوٹ بولنا ہے ۔ مثلاً ایک بھولے بھالے شخص سے کہا جائے کہ فلاں عورت تم سے شادی پر مائل ہے یا فلاں شخص نے آج رات تمھیں کھانے پر بلایا ہے جب کہ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہ ہو۔ اِس قسم کا جھوٹ بھی حرام ہے چونکہ روایتوں سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ حرام ہے۔ البتہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اگر حقیقت کے خلاف بات مذاق میں اِس طرح کہی جائے کہ اس کا مذاق ہونا صاف ظاہر ہو۔ تو حرام نہیں ہے مثلاًایک غیر شادی شدہ آدمی سے مذاق میں کہا جائے کہ دیکھو تمہاری بیوی جارہی ہے تویہ حرام نہیں ہے۔ اِس لئے کہ سُننے والوں کو اِس سے دھوکا نہیں ہوتا ۔ اگر دھوکے میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو حرام ہے ۔ البتہ بعض مجتہدین مطلق طور پر مذاق میں جھوٹ بولنے کو حرام قرار دیتے ہیں خواہ اس کا مذاق ہونا ظاہر ہو یا ظاہر نہ ہو ، اور یہی احتیاط کا طریقہ ہے اور روایتیں بھی مطلق طور پر مذاق میں جھوٹ بولنے کومنع کرتی ہیں۔