عملِ اصحاب سے استدلال کا تنقیدی جائزہ
عملِ اصحاب سے استدلال کا تنقیدی جائزہ
اصحاب کے عمل اور ان کی سیرت سے استدلال اس وقت صحیح ہے جب ان کی سیرت قرآن و سنت کی طرح اسلامی شریعت کا منبع اور سرچشمہ قرار پائے۔ یعنی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اللہ نے فرمایا:
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ 1
بتحقیق تمہارے لئے اللہ کے رسول(ص) میں بہترین نمونہ ہے۔
نیز
وَمَآ اٰتٰاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُق وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا 2
اور رسول جو تمہیں دے دیں وہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جاؤ۔
اسی طرح کا فرمان ان کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثابت ہو۔ اس کے بغیر صحابہکا عمل ہمارے لئے حجت نہیں ہو گا۔ پھر ہمیں کیا معلوم کہ کس صحابی کی پیروی کریں جبکہ اقوال و اعمال کے لحاظ سے صحابہکے درمیان اختلاف ہے۔ چنانچہ خلافت کے قیام کی کیفیت میں علماء کی آراء میں اختلاف ہے۔ کیا ہم اس قول کو مانیں کہ ایک ہی شخص کی بیعت قیام خلافت کیلئے کافی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا جناب عباسنے حضرت علی(ع) سے کہا تھا: اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں بیعت کروں تو دوسرے لوگ بھی بیعت کریں یا حضرت عمرکے اس قول کو مانیں کہ حضرت ابوبکرکی بیعت اچانک اور سوچے سمجھے بغیر واقع ہوئی تھی یا معاویہ کی روش پر چلیں جس نے خلیفہ برحق حضرت علی سے جنگ کی ہے؟ اور منبروں پر ان کو سب و شتم کیا۔ یہاں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں اور جو کچھ ہم بیان کر چکے ہیں اس کامطالعہ کافی ہے۔ رہا نہج البلاغہ میں حضرت علی کے کلام سے بعض لوگوں کا استدلال تو اس پر ہم جلد ہی روشنی ڈالیں گے۔
شوری، بیعت اور سیرت صحابہکے ذریعےاستدلال کے حق میں نہج البلاغہ سے استدلال
مکتب خلفاء کے بعض پیروکاروں نے شوری، بیعت اور سیرت اصحاب (کے ذریعے تعیین امام ) کی صحت پر حضرت علی کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے جسے سید شریف رضی نے نہج البلاغہ میں مکتوبات کے باب میں نقل کیا ہے اور کہا ہے: ومن کتاب لہ الٰی معاویہ۔ معاویہ کے نام آپ کا ایک خط:
انہ بایعنی القوم الذین بایعوا ابابکر و عمر و عثمان علی مابایعوھم علیہ فلم یکن للشاھد ان یختار ولا للغائب ان یردو انما الشوریٰ للمھاجرین والانصار فان اجتمعوا علی رجل و سموہ اماماً کان ذلک رضی فان خرج عن امر ھم خارج بطعن او بدعة ردہ الی ما خرج منہ فان ابی قاتلوہ علیٰ اتباعہ غیر سبیل المومنین و ولاہ الله ما تولیّٰ 3
بہ تحقیق جن لوگوں نے ابوبکر، عمراور عثمانکی بیعت کی، انہوں نے میری بیعت انہی اصولوں پر کی ہے جن پر ان کی بیعت کی تھی۔ پس موجود افراد کے لئے اس میں نظرثانی کا حق نہیں اور جو بروقت حاضر نہ ہو اسے رد کرنے کا حق نہیں۔ شوریٰ کا حق صرف مہاجرین و انصار کو ہے۔ اگر وہ کسی پر اتفاق کر لیں اور اسے خلیفہ بنا دیں تو یہ (اللہ کی) خوشنودی کا حامل ہو گا۔ اب جو کوئی اس کی شخصیت پر اعتراض یا جدید نظریہ اپناتا ہوا ان کی صف سے خارج ہو جائے تو وہ سب اسے اسی جانب واپس لائیں گے جہاں سے وہ منحرف ہوا ہے اور اگر وہ انکارکرے تو مومنوں کا راستہ چھوڑ کر دوسری راہ اختیار کرنے پر اس سے لڑیں گے اور اللہ اسے اسی طرف پھیرے گا جس طرف وہ پھر گیا ہے۔
(مکتب خلفاء والوں کے مطابق) امام(ع) نے اس خط میں معاویہ کے مقابلے میں بیعت شوری اور مہاجرین و انصار کے اجماع سے استدلال کیا ہے۔ بنابریں حضرت علی مرتضیٰ(ع) مذکورہ امور کے ذریعے امام(ع) کے انتخاب کو صحیح مانتے تھے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ شریف رضیگاہے امام کے خطوط اور خطبات سے ان حصوں کا انتخاب کرتے تھے جو بلاغت کے اعلیٰ معیار کے مطابق ہوں اور باقی حصے کو چھوڑ دیتے تھے۔ اس خط کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ نصر ابن مزاحم نے اپنی کتاب ”الصفین“ اور حافظ عبد البر اندلسی نے ”العقد الفرید“ میں اس خط کو مکمل طور پر نقل کیا ہے جس کا متن یہ ہے:
بسم اللہ الرحم الرحیم اما بعد فان بیعتی بالمدینة لزمتک انت بالشام لانہ بایعنی القوم الذین بایعوا ابا بکر و عمر و عثمان علیٰ ما بویعوا علیہ فلم یکن للمشاھدان یختار ولا للغائب ان یرد والما الشوری للمھاجرین و الاانصار فاذا اجتمٰعوا علیٰ رجل فسموہ اماماً کان ذالک لله رضی فان خرج من امرھم خارج بطعن او رغبة ردوہ الی ما خرج منہ فان ابی قاتلوہ علیٰ اتباعہ غیر سبیل المومنین و ولا ہ الله ما تولی و یصلیہ جھنم و ساء ت مصیرا وان طلحة و الزبیر بایعانی ثم نقضا بیعتی وکان نقضھما کردھما فجاھدتھما علی ذلک حتی جاء الحق و ظھر امر الله وھم کارھون فادخل فیما دخل فیہ المسلمون فان احب الامور الی فیک العافیة الا ان تتعرض للبلاء فان تعرضت لہٰ قاتلتک واستعنت الله علیک وقد اکثرت فی قتلة عثمان فادخل فیما دخل فیہ المسلمون ثم حاکم القوم الی احملک وایاھم علی کتاب الله فاما تلک التی تریدھا فخدعة الصبی عن اللبن و لعمری لئن نظرت بعقلک دون ھواک لتجدنی ابراً قریش من دم عثمان و اعلم انک من الطلقاء۱ الذین لا تحل لھم الخلافة ولا تعرض فیھم الشوری وقد ارسلت الیک والی من قبلک جریر بن عبد الله و ھو من اھل الایمان و الھجرة فبایع ولاقوة الابالله۔ 4
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اما بعد مدینے میں میری جو بیعت ہوئی ہے تم شام میں اس کے پابند ہو۔ کیونکہ جن لوگوں نے جن اصولوں پر ابوبکر، عمراور عثمانکی بیعت کی تھی ان لوگوں نے انہی اصولوں پر میری بیعت کی ہے۔ پس جو حاضر ہے اسے نظرثانی کا اختیار نہیں اور جو بروقت موجود نہ ہو اسے رد کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ شوری کا حق صرف مہاجرین و انصار کو ہے۔ اگر وہ متفق ہو کر کسی کو خلیفہ بنا دیں تو اسی میں اللہ کی خوشنودی سمجھی جائے گی۔ اب جو شخص اس پر تنقید یا نیا نظریہ اپناتا ہوا الگ ہو جائے تو وہ سب اسے وہیں واپس لائیں گے جہاں سے وہ الگ ہوا تھا اور انکار کی صورت میں اس سے لڑیں گے کیونکہ وہ مومنوں کی روش چھوڑ کر دوسری راہ پر لگ گیا اور اللہ تعالیٰ اسے اسی طرف پھیر دے گا جس طرف وہ پھر جائے اور اسے جہنم کے حوالے کرے گا جو نہایت برا ٹھکانہ ہے۔ بلاشک و شبہ طلحہ و زبیر نے میری بیعت کرنے کے بعد اسے توڑا۔ ان دونوں کا بیعت توڑنا بیعت کو رد کرنے کے مترادف ہے۔پس میں نے ان دونوں کے ساتھ اس امر پر جہاد کیا یہاں تک کہ حق غالب آگیا اور ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی خدا کا امر ظاہر ہو گیا۔ پس تم بھی اس دائرے میں داخل ہو جاؤ جس میں دوسرے مسلمان داخل ہو چکے ہیں۔ تمہارے بارے میں میرے ہاں سب سے پسندیدہ چیز عافیت ہے مگر یہ کہ تم خود مصیبت میں کود پڑو۔ اگر تم مصیبت کو دعوت دو گے تو میں تجھ سے جنگ کروں گا اور تیرے خلاف اللہ سے مدد مانگوں گا۔ تم نے قاتلین عثمانکا خوب ڈھونگ رچایا ہے۔ پس میری بیعت کے دائرے میں داخل ہو جاؤ جس میں سب مسلمان داخل ہو چکے ہیں۔ اگر میری عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کرو تو میں کتاب خدا کے مطابق تمہارا اور ان کا فیصلہ کروں گا لیکن تمہارا دوسرا ارادہ ایک دھوکہ ہے جو بچے کو دودھ سے روکنے کے لئے دیا جاتا ہے۔ مجھے اپنی جان کی قسم اگر تم خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر عقل کی آنکھوں سے دیکھو تو ضرور مجھے قتل عثمانکے معاملے میں قریش کے درمیان سب سے زیادہ بے گناہ پاؤ گے۔ جان لو کہ تم طلقا (آزاد شدہ اسیروں) میں سے ایک ہو جن کے لئے خلافت جائز نہیں اور نہ ہی وہ مشورہ لئے جانے کے قابل ہیں۔ میں نے تیری اور تجھ سے پہلے والوں کی طرف جریر بن عبداللہ کو بھیجا ہے۔ وہ صاحب ایمان اور مہاجر ہے۔ پس بیعت کرو۔ ولا قوة الا بالله۔
اس خط سے ہمارے لئے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حضرت علی(ع) نے معاویہ بن ابی سفیان کے خلاف اس چیز کے ذریعے استدلال کیا ہے جس کا معاویہ اور اس جیسے افراد خود کو پابند سمجھتے تھے۔ اسی لئے فرمایا:
اے معاویہ تم شام میں رہتے ہوئے میری اس بیعت کے پابند ہو جو مدینہ میں ہوئی ہے۔ یعنی جس طرح تم نے شام میں رہتے ہوئے مدینہ میں ہونے والی بیعت عثمانکا اپنے آپ کو پابند سمجھا تھا اسی طرح اب میری بیعت کے بھی پابند بن جاؤ۔ اسی طرح مدینہ سے باہر موجود تیرے جیسے دیگر لوگ بھی میری بیعت کے پابند ہیں جس طرح وہ اس سے قبل دیگر مقامات پر رہتے ہوئے مدینہ میں ہونے والی بیعت عمرکے پابند تھے۔
یوں ان دنوں معاویہ اور مکتب خلافت سے تعلق رکھنے والے اس جیسے دیگر افراد اپنے آپ کو جن چیزوں کا پابند سمجھتے تھے۔ حضرت علی انہی چیزوں کے ذریعے ان کو پابند بنانا چاہتے تھے اور ظاہر ہے کہ استدلال کی یہ روش اہل دانش کے ہاں مقبول ہے کیونکہ عقلاً اپنے مخالفین کے مقابلے میں ان چیزوں کے ذریعے استدلال کرتے ہیں جن کو وہ تسلیم کرتے ہوں۔ یہ تھا پہلا نکتہ۔
دوسرا نکتہ: رہی امام(ع) کی یہ عبارت:
فاذا اجتمعوا علیٰ رجل فسموہ اماماً کان ذالک لله رضاً
جب لوگ کسی شخص پر اتفاق کر لیں اور اسے امام کا نام دیں تو خدا کی رضایت اسی میں مضمر ہے۔
تو واضح رہے کہ بعض نسخوں میں کان ذالک رضاً 5 نقل ہوا ہے یعنی وہ لوگ اپنی مرضی سے بیعت کرنے، جبر اور تلوار کے بغیر بیعت واقع ہونے پر خوش ہوتے ہیں اور اگر ہم فرض بھی کرلیں کہ امام نے کان لله رضاً فرمایا تھا (لفظ اللہ کے ساتھ) تو بھی ہم کہیں گے جی ہاں جس چیز پر سارے مہاجرین و انصار بشمول امام علی ، امام حسن اور امام حسین کے متفق ہوں اس سے اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا ایک بدیہی بات ہے۔
تیسرا نکتہ: نہ معلوم یہ لوگ نہج البلاغہ کے اس قول سے کیسے استدلال کرتے ہیں جبکہ وہ حضرت علی(ع) کے باقی اقوال جنہیں شریف رضی نے نہج البلاغہ میں نقل کیا ہے بھول جاتے ہیں یا بھولنے کا بہانہ کرتے ہیں مثال کے طورپر امام(ع) کا وہ قول جو باب الحکم میں مذکور ہے۔ شریف رضی کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ کی خبریں امیر المومنین (ع) کو پہنچیں تو آپ نے فرمایا:
انصار نے کیا کہا؟
بولے کہ انصار نے کہا:
ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔
امام(ع) نے فرمایا:
تم لوگوں نے یہ دلیل پیش نہیں کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت کی تھی انصار میں سے جو اچھا ہو اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور جو برا ہو اس سے درگزر کیا جائے؟
بولے:
اس میں ان کے خلاف کون سی دلیل ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:
اگر امارت ان کا حق ہوتی تو پھر ان کے بارے میں دوسروں کو کیوں وصیت کی جاتی؟
اس کے بعد فرمایا:
پھر قریش نے کیا کہا؟
بولے:
قریش نے یہ دلیل پیش کی کہ ان کا تعلق شجر رسول(ص) سے ہے۔
امام(ع) نے فرمایا:
انہوں نے شجر سے تو استدلال کیا لیکن اس شجر کے پھلوں کو ضائع و برباد کر دیا ہے۔ 6
امام کے حکمت آمیز فرمودات کے باب میں مروی ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا:
وا عجباہ اتکون الخلافة فی الصحابة والقرابة؟
کس قدر تعجب کا مقام ہے۔ کیاخلافت کامعیار صحابیت اور قرابت ہی ہے؟
سید رضی کہتے ہیں: اس مضمون کے اشعار بھی حضرت سے مروی ہیں جو یہ ہیں:
فان کنت بالشوریٰ ملکت امورھم
فکیف بھذا والمشیرون غیب
وان کنت بالقربیٰ حججت خصیمھم
فغیرک اولیٰ بالنبی و اقرب
اگر تم شوری کے ذریعے لوگوں کے سیاہ و سفید کے مالک ہو گئے ہو تو یہ کیسے جبکہ مشورہ دینے کے اہل افراد غیر حاضر تھے؟ اور اگر تم قرابت کی بنیاد پر اپنے حریف پر غالب آئے ہو تو پھر ایک اور شخص ہے جو تم سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قریبی اور حقدار ہے۔
اس مسئلے میں حضرت علی مرتضیٰ(ع) کا سب سے جامع کلام ”خطبہ شقشقیہ“ ہے جس میں آپ(ع) فرماتے ہیں:
خدا کی قسم! ابوقحافہ کے بیٹے نے خلافت کی قمیص پہن لی حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ خلافت میں میرا وہی مقام ہے جو چکی کے اندر چکی کی کیلی کا ہوتا ہے۔ میں وہ کوہ بلند ہوں جس پر سیلاب کا پانی گزر کر نیچے جاتا ہے اور میری بلندیوں تک پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ (اس کے باوجود) میں نے خلافت کے آگے پردہ لٹکا دیا اور اس سے پہلوتہی کر لی اور سوچنا شروع کیا کہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کروں یا اس سے زیادہ بھیانک تاریکی پر صبر کر لوں، جس میں سن رسیدہ آدمی مکمل ضعیف اور کمسن آدمی بوڑھا ہو کر رہ جاتا ہے نیز مومن اس میں ہاتھ پیر مارتا ہوا اپنے پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے؟ مجھے اس اندھیر پر صبر ہی قرین عقل نظر آیا۔ لہذا میں نے صبر کیا حالانکہ آنکھوں میں (غبار اندوہ کی) خلش تھی اور حلق میں (غم و رنج کے) پھندے لگے ہوئے تھے۔ میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ پہلے نے اپنی راہ لی اور اپنے بعد خلافت ابن خطاب کے سپرد کر گیا
پھر حضرتنے بطور تمثیل اعشی کا یہ شعر پڑھا:
شتان مایومی علیٰ کورھا
ویوم حیان اخی جابر
کہاں یہ دن جو ناقہ کے پالان پر گزرتا ہے اور کہاں وہ دن جو جابر کے بھائی حیان کی صحبت میں گزرتے تھے۔ 7
جب حضرت علی(ع) خطبہ دیتے ہوئے اختتام کے قریب پہنچے ہی تھے کہ اچانک ایک عراقی باشندہ آگے بڑھا اور ایک نوشتہ حضرت کے سامنے پیش کیا۔ آپ اسے دیکھنے لگے۔ جب فارغ ہوئے تو ابن عباسنے کہا:
یا امیر المومنین! آپ نے جہاں سے خطبہ قطع کیا تھا وہیں سے اس کا سلسلہ آگے بڑھائیں۔
حضرتنے فرمایا:
یہ تو ایک شقشقہ (گوشت کا وہ نرم لوتھڑا جو اونٹ کے منہ سے مستی و ہیجان کے وقت نکلتا ہے) تھا جو ابھر کر دب گیا۔
ابن عباسکا بیان ہے کہ مجھے کسی کلام پر اتنا افسوس نہیں ہوا جتنا اس کلام پر کیونکہ امیر المومنین(ع) اپنا مدعا بیان نہ کر پائے تھے۔
اس پورے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مکتب خلفاء کے عقیدت مند حضرت علیعلیہ السلام کے ان فرمودات کو بھول جاتے ہیں یا بھولنے کا بہانہ کرتے ہیں اور امام علی(ع) کے اس کلام کو فہم و ادراک کئے بغیر اپنے مدعا میں استعمال کرتے ہیں حالانکہ حضرت علی(ع) نے معاویہ کے خلاف استدلال کیا۔ کیونکہ معاویہ اور اس جیسے دوسرے افراد خود کو اس میں مذکور باتوں کا پابند قرار دیتے تھے۔
اس دلیل کا تنقیدی جائزہ کہ خلافت طاقت کے ذریعے قائم ہوتی ہے
اسلامی تاریخ کے عملی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ترکی کے عثمانی خلفاء کے عہد تک خلافت طاقت اور ڈنڈے کے بل بوتے پر قائم رہی اور اس روش سے ہٹ کر قیام خلافت کی مثال تقریباً ناپید ہے۔ ہاں اس کی ایک مثال حضرت علی(ع) کی بیعت کا واقعہ ہے (جو ایک مکمل آزادانہ اور جمہوری انتخاب تھا) یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں ہمیں کسی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔رہا مکتب خلفاء کے بعض معتقدین کا یہ کہنا کہ جب کوئی شخص تلوار کے زور سے خلیفہ بن بیٹھے اور امیر المومنین کے لقب سے معروف ہو جائے تو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہر شخص پر واجب ہے کہ اسے امام سمجھے خواہ وہ نیکو کار ہو یا فاجر و فاسق، تو اس بارے میں عرض ہے کہ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ ان بزرگان دین کا مقصود کلام کیا ہے۔ کیا وہ اسلامی معاشرے میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی بات کر رہے ہیں یا شیروں اور چیتوں کے ماحول میں قانون جنگل کی ؟
چونکہ ہم نے سابقہ علماء کے اقوال کو نقل کیا ہے اس لئے ممکن ہے کہ کچھ لوگ اس سلسلے میں یہ اعتراض کریں کہ عصر حاضر کے لوگ ان نظریات و اعتقادات سے موافقت نہیں کرتے اور ممکن ہے کہ کچھ لوگ یہ کہیں کہ آج ہمیں موجودہ اسلام کی بات کرنی چاہیے۔ 8 بنابریں ہم یہاں ایک کتاب کے سرورق کی تصویر من و عن پیش کر رہے ہیں۔ یہ کتاب ایک ایسے ملک کے تعلیمی اداروں کے لئے چھاپی گئی ہے جس ملک میں بیت اللہ الحرام کعبہ، مسجد نبوی اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حرم واقع ہے۔ سعودی حکومت کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس میں یزیدبن معاویہ کی مدح سرائی کی گئی ہے اور اس کی تعریف میں بند باندھے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی یزید ہے جس نے منجنیق سے کعبے پر سنگباری کی تھی، مسجدرسول(ص) اور مدینہ رسول(ص) کی حرمت کو پامال کیا تھا اور تین دن تک مدینہ منورہ کو اپنے لشکر کے لئے مباح قرار دیا تھا۔ اس دوران انہوں نے لوگوں کا قتل عام کیا اور عورتوں سے تجاوز کیا جس کی تفصیل ”لشکر خلافت کے ہاتھوں حرمت رسول(ص) مدینہ کی پامالی“ اور ”لشکر خلافت کی مکہ کی طرف روانگی“ نامی عنوانات کے ذیل میں آئے گی۔
یزید کی حمایت اور اس کی تعریف و توصیف کی خاطر حرمین شریفین میں اس کتاب کی نشر و اشاعت اور ترویج کا کام انجام پاتا ہے۔ وہ کتاب یہ ہے:
سنت رسول(ص) کے مخالف ظالم حکمران کی اطاعت
مکتب خلفاء کے ہاں اطاعت امام کے وجوب کی بحث میں ہم نے ان روایات کا تذکرہ کیا ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمسے روایت کرتے ہیں اور جن کے مطابق سنت رسول(ص) کے مخالف ظالم حکمرانوں کے خلاف قیام ممنوع ہے اور اس کی اطاعت واجب۔ لیکن اس کے برعکس مکتب اہل بیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی احادیث مروی ہیں جو مذکورہ روایات کو جھٹلاتی ہیں مثال کے طور پر سبط رسول(ص) امام حسین علیہ السلام کی اپنے جد سے روایت کردہ حدیث جس میں حضورنے فرمایا:
جو شخص کسی ظالم حکمران کو دیکھے جو اللہ کی حرام کردہ اشیاء کو حلال قرار دیتا ہو، خدا کے ساتھ عہد کو توڑتا ہو، رسول اللہ(ص) کی سنت کا مخالف ہو اور خدا کے بندوں کے درمیان گناہ اور ظلم کی روش اپناتا ہو پھر وہ اپنے قول و فعل سے اس کی مخالفت نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور اس ظالم کے ساتھ رکھے گا۔ 9
یہ اور اس قسم کی دیگر احادیث کاموازنہ جب ہم مکتب خلفاء کی احادیث سے کرتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مکتب خلفاء نے یہ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس لئے منسوب کی ہیں تاکہ (بزعم خویش) ایک کار خیر انجام دیں اور مسلمانوں پر حاکم طبقے کی حمایت کریں۔ یہ کام اموی دور کے اوائل میں انجام پایا۔ اس کے بعد دوسری صدی ہجری کے اوائل میں تدوین حدیث کا دور شروع ہونے پر احادیث کی کتب میں انہیں شامل کیا گیا خواہ وہ کتب صحاح ستہ ہوں یا مسانید۔ پھر وہ سب ان کتب کی صحت اور ان پر عمل کرانے میں متفق ہو گئے۔ حکمران طبقے کے درباری علماء (خواہ وہ محدث ہوں یا قاضی یا خطیب یا ائمہ جمعہ و جماعت وغیرہ) مدتوں تک مختلف علاقوں میں ان کی شرحیں اور تعلیقات لکھتے رہے اور ہر دور میں ان کی تائید کرتے رہے۔ یہ سلسلہ شام اور اندلس کی اموی حکومتوں اور بغداد میں عباسی حکومت کے دور سے لے کر ترکی میں عثمانیوں کی حکومت، مصر میں ممالیک کی حکومت، ایران میں سلجوق اور غزنوی حکومتوں اور شام میں کردوں کی حکومت کے دوران بھی جاری رہا۔ ان حکومتوں نے مذکورہ لوگوں کو جاہ و مال اور اپنے درباروں میں مقام و مرتبہ مال و متاع سے خوب نوازا۔ ان لوگوں کی متابعت ان کے دیگر پیروکاروں نے کی جو آج تک جاری ہے۔
یوں مسلمان دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک تو خلفاء پسند گروہ تھا جس کے حکمرانوں نے اپنے عقائد کے مبلغ و مروّج افراد پر مال و دولت، جاہ و مقام، عہدوں اور مراتب کے دروازے کھول دئیے۔ دوسرا گروہ اہل بیت کے ماننے والوں کا تھا جو مذکورہ نظریات کے سامنے ڈٹ گئے نیز انہوں نے حکمرانوں اور ان کے من پسند اجتہادات کی تائید میں نقل ہونے والی روایات کی مخالفت کی۔ یوں حکمران ان کو صدیوں تک قتل و بند، جلاوطنی اور تباہ کن حملوں سے دوچار، ان کے کتاب خانوں اور کتابوں کو نذر آتش 10 کرتے رہے تاکہ ان لوگوں کے افکار سے معاشرے کو محروم کر دیں جو سنت رسول(ص) کی حفاظت کے امین تھے اور ان افکار کو مسلمانوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھیں۔
گزشتہ بحث کا خلاصہ
سقیفہ بنی ساعدہ میں موجود حضرات مہاجر ہوں یا انصار ان کے قول و فعل میں جس سوچ کی حکمرانی نظر آرہی تھی وہ تھی قبیلہ پرستی پر مبنی سوچ اور اس دن حضرت ابوبکرکی بیعت حضرت عمرکے بقول بغیر سوچے سمجھے اور اچانک ہو گئی تھی نیز حضرت عمرنے خلافت کو شوری کے حوالے کرنے کے معاملے میں قرآن و سنت پر مبنی کسی دلیل پر استناد نہیں کیا بلکہ اپنے من پسند اجتہاد پر بھروسہ کر لیا۔ انہوں نے ذاتی اجتہاد سے کام لیتے ہوئے ولی امر کی تعیین کو اپنے بعد چھ افراد کے حوالے کیا اور اس تعداد میں اضافہ نہیں کیا۔ انہوں نے اجتہاد سے کام لیا اور کسی انصاری کو شوریٰ میں شامل نہیں کیا بلکہ اسے مہاجرین تک محدود رکھا۔ انہوں نے ذاتی اجتہاد سے کام لیا اور چناؤ کا حق صرف عبدالرحمانبن عوف کے ہاتھوں میں رکھتے ہوئے دوسروں کو اس سے محروم رکھا۔ چنانچہ حضرت عمرنے کہا اگر دو افراد ایک فرد پر اور دوسرے دو افراد کسی اور پر اتفاق کر لیں تو جس طرف عبدالرحمن بن عوف ہو ان کی حمایت کرو۔
نیز انہوں نے اجتہاد سے کام لے کر فرمایا:
جب عبدالرحمن تالی بجائے تو اس کے فیصلے پر عمل کرو۔
پس جو لوگ قرآن و سنت رسول(ص) کے ساتھ ساتھ حضرت عمر کے اجتہادات کو بھی اسلامی شریعت کا منبع اور سرچشمہ سمجھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ امامت چھ افراد کی شوریٰ کے ذریعے قائم ہوتی ہے۔ ان چھ میں سے پانچ افراد ایک فرد کی بیعت کر لیتے ہیں۔ رہی وَاَمْرُ ھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ والی آیت جس کے ذریعے مکتب خلفاء کے پیروکار استدلال کرتے ہیں تو واضح ہو کہ یہ آیت زیادہ سے زیادہ شوریٰ کے رجحان پر دلالت کرتی ہے (نہ کہ وجوب پر) کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو واجب قرار د ینا چاہے تو وہ فرماتا ہے: اللہ نے تمہارے اوپر فلاں چیز کو لازم قرار دیا ہے یا اسے فرض قرار دیا ہے یا بنایا ہے یا اس کے بارے میں حکم کیا ہے یا اس قسم کے دیگر الفاظ سے تعبیر فرماتا ہے جو وجوب پر دلالت کریں۔
رہی شَاِورْھُم ْفِیْ الْاَمْرِ، والی آیت جس میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب قرار دیا گیا ہے تو یہ جنگوں سے مربوط ہے نیز اس مشورے کامقصد مسلمانوں کو ذہنی تربیت دینا اور مشرکین کے درمیان شکوک و شبہات اور اختلاف پیدا کرنا تھا۔ پھر ان سب باتوں کا تعلق شرعی احکام کے نفاذ کے طریقہ کار سے تھا نہ کہ حکم شرعی معلوم کرنے یا وضع کرنے سے۔ علاوہ ازیں انہوں نے اس بات کی تعیین نہیں کی کہ امام کے انتخاب کے لئے شوریٰ کو کن معیاروں کے مطابق وجود میں لانا ہو گا۔ حضرت عثمانکو خلیفہ بنانے والی مجلس شوری کا حال ہم دیکھ چکے ہیں۔ یہ تھی شوری کی بحث۔ رہی بیعت والی دلیل تو واضح ہے کہ بیعت جبر و تشدد اور تلوار کے زور سے نہیں ہو سکتی نہ کسی گناہ کی انجام دہی کے لئے بیعت ہو سکتی ہے اور نہ ہی خدا کی نافرمانی کرنے والے کی بیعت جائز ہے۔
رہا سیر ت صحابہسے استدلال تو اگر آپ سیرت صحابہ کو بھی قرآن و سنت کی طرح شریعت اسلامی کا منبع قرار دیں تو اس سے استدلال درست ہے وگرنہ نہیں۔
حضرت علی(ع) کے جس کلام سے استدلال کیا گیا ہے اس کے بارے میں یاد رہے کہ یہاں امام نے اپنے مخالف کے خلاف خود اس کے ہاں مسلمہ باتوں سے استدلال کیا ہے اور یہ کام صاحبان عقل کے ہاں مرسوم ہے۔
پھر امام کے مذکورہ خطبہ میں ذکر شدہ اجماع صحابہکے بارے میں عرض ہے کہ حضرت علی ، امام حسن اور امام حسین کی شرکت کی صورت میں اجماع رضائے الہٰی کی دلیل ہو گا۔
رہا مکتب خلفاء کے پیروکاروں کایہ قول کہ تلوار کے زور سے غالب آنے والا شخص امیرالمومنین کہلائے گا اور اس کی اطاعت واجب ہو گی خواہ وہ نیک ہو یا فاجر و فاسق تو یہ وہ تاریخی حقیقت ہے جس پر وہ چلتے آئے ہیں۔ جیسا کہ اسلامی تاریخ میں خلفاء کے حالات کا مطالعہ کرنے سے واضح ہو گا۔
حوالہ جات
1 سورة احزاب آیت ۲۱
2 سورة حشر آیت ۷
3 نہج البلاغہ مکتوب نمبر ۶
4 روایت میں ”انک منٰ لطلقاء“ آیا ہے طلقاء طلیق کی جمع ہے جس کا معنی ہے کہ وہ اسیر جسے آزاد کیا گیا ہو۔ اس سے مراد کفار ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن چھوڑ دیا تھا اور غلام نہیں بنایا تھا۔
۱ کتاب الصفین نصر بن مزاحم صفحہ ۲۹ مطبوعہ ۱۳۸۲ئھ، العقد الفرید ج۳ صفحہ ۱۰۶ طبع قاہرہ
5 آپ کو لفظ ”اللہ“ بریکٹ میں لکھا ہوا ملے گا ملاحضہ ہو نہج البلاغہ مطبوعہ المطبعة الاستقامة قاہرہ، اس کا مطلب یہ ہے کہ لفظ ”اللہ“ اصل نسخوں میں موجود نہیں
6 پھل (ثمرة) سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہل بیت ہے۔
7 حیان جو قبیلہ حنیفہ کا ایک مالدار آدمی تھا اور اعشی یعنی ابو بصیر میمون بن قیس بن جندل اس کا ہمنشیں تھا اور مشہور شاعر تھا جابر اسی حیان کا چھوٹا بھائی تھا۔ شعر کا مطلب یہ ہے کہ پالان شتر پر بیٹھ کر سفر کرنے اور حیان کے ساتھ پرُ کیف زندگی گزارنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کیونکہ اول الذکر نہایت سخت ہے اور موٴخر الذکر عیش و آرام سے عبارت ہے۔ اس شعر کو بطور مثال بیان کرنے سے حضرت علی کا مقصد واضح ہے۔
8 ”رسالة الازھر “ جلد ۳۲ (باب الکتب حصہ دہم) صفحہ ۱۱۵۰،۱۱۵۱ مطبوعہ قاہرہ ۱۳۸۰ئھ
9 تاریخ طبری، کامل ابن اثیر وغیرہ کتب تاریخ میں جناب حر ریاحی کے لشکر سے حضرت امام حسین کا خطاب ملاحظہ فرمائیں۔
10 عالم اسلام پر مغلوں کے حملے کے ضمن میں اس کی وضاحت اسی کتاب میں آئے گی انشا اللہ۔