امام زمانہ( عج )کی الھی حکومت
احادیث کی رو سے امام زمانہ( عج )کی الھی حکومت
ہر صحیح العقیدہ مسلمان امام مہدی(عج) کی ولایت کا قائل ہے کیونکہ ان کی ولایت پر قرآن مجید اور سنت نبوی سے بے شمار دلیلیں نقل ہوئی ہیں ان دلیلوں میں امام مہدی کی امامت، ان کا زمانہ ظہور، ان کے زمانے میں حق و عدالت کا قیام اور اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں کا نازل ہونا بیان ہوا ہے ہم یہاں امام مہدی(عج) کی الھی حکومت کے حوالے کچھ عناوین کے ساتھ چند با برکت احادیث پیش کرتے ہیں:
(۱)پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی امام مہدی(عج) کے بارے میں بشارت:
باسنادہ عن ابی سعید الخدری قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ: ابشرکم بالمھدی یبعث فی امتی علی اختلاف من الناس و زلزال فیملا الارض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا یرضی عنہ ساکن السماء و ساکن الارض یقسم المال صحاحا فقال لہ رجل وما صحاحا قال السویۃ بین الناس۔
ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں کہ وہ اس وقت میری امت میں آئے گا کہ جب وہ آپس میں اختلاف کررہے ہوں گے اور لڑکھڑا رہے ہوں گے تو وہ زمین کو اسی طرح انصاف و عدالت سے پر کرے گا جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے پر ہوچکی ہو اس سے آسمان و زمین والے راضی ہوں گے وہ مال کو صحیح تقسیم کرے گا تو ایک شخص نے ان سے پوچھا کس طرح صحیح تقسیم کریں گے تو آپ نے فرمایا لوگوں میں برابر تقسیم کرے گا
(۲)امام مہدی (عج) کے زمانہ میں نعمتوں کی فراوانی :
باسنادہ عن ابی سعید الخدری عن النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قال: تتنعم امتی فی زمن المھدی نعمۃ لم یتنعموا مثلھا قط یرسل علیھم مدرارا و تدع الارض شیئا من بناتھا الا خرجۃ ۔
ابو سعید خدری پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مہدی کے زمانہ میں میری امت پر فراوان نعمتیں ہوں گی اور ایسی نعمتیں کہ ان کی مثل کبھی نہ دیکھی گئی ، آسمان سے ہمیشہ باران رحمت نازل ہوتی رہے گی اور زمین ایسی کوئی نباتات نہ چھوڑے گی کہ اسے باہر نہ نکالا ہو ۔
(۳)مہدی کے ذریعہ اللہ تعال لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرے گا:
وفیہ باسنادہ عن علی ابن ابی طالب قال قلت یا رسول اللہ امنا آل محمد المھدی ام من غیرنا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ لابل منا یختم اللہ بہ الدین کما فتح بنا وبنا ینقذون من الفتن کما انقذوا من الشرک و بنا یولف اللہ بین قلوبھم بعد عداوۃ الفتنہ اخوانا کما الف بینھم بعد عداوۃ الشرک وبنا یصبحون بعد عداوۃ الفتنۃ اخوانا کما اصبحوا بعد عداوۃ الشرک اخوانا فی دینھم ۔
امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے نقل ہوا کہ میں نے رسول اکرم(ص) کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ: آیا مہدی ہم آل محمد سے ہے یا کسی اور سے تو آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ ہم سے ہے اللہ تعالی اس کے ذریعہ دین کو ختم کرے گا کہ جس طرح ہمارے وسیلہ سے اسے کھولا اور ہمارے وسیلے کے ذریعہ لوگ فتنہ سے بچیں گے کہ جس طرح شرک بچے ہیں اور ہمارے ذرہعہ اللہ تعالی لوگوں کے دلوں کو آپس میں ملائے گا فتنہ کی عداوت کے بعد اسی طرح بھائی بھائی بن جائیں گے کہ جس طرح شرک کی عداوت کے بعد ان میں محبت پیدا کی اور فتنہ کی عداوت کے بعد اسی طرح بھائی بھائی کی حالت میں صبح کریں گے کہ جس طرح اپنے دین میں شرک کی عداوت کے بعد بھائی بھائی کی حالت میں صبح کی ۔
(۴)مہدی لوگوں کے لئے پناہ گاہ:
وفیہ باسنادہ عن ابی سعید الخدری ان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قال یخرج المہدی فی امتی یبعثہ اللہ غیاثا للناس تنعم الامہ و تعیش الماشیۃ و تخرج الارض نباتھا و یعطی المال صحاحا۔۔
ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا: میری امت میں مہدی ظاھر ہوگا اور اللہ تعالی اسے لوگوں کے لئے پناہ گاہ قرار دے گا نعمتوں کی فراوانی ہوگی حیوانات درندوں سے بے خوف زندگی گزاریں گے زمین اپنے نباتات کو باہر نکالے گی اور مال کو صحیح طریقے سے عطا کریں گے ۔
(۵)آیت قاتلوا المشرکین کے ضمن میں :
قال: لایبقی صاحب ملۃ الاصار الی الاسلام حتی تامن الشاۃ من الذئب والانسان من الحیۃ و حتی لاتقرض الفارۃ جرابھا و ذلک عند قیام القائم عجل اللہ فرجہ الشریف ۔
ینابیع المودۃ میں اس آیت کے ضمن میں آیا ہے کہ تمام اقوام عالم حلقہ اسلام میں داخل ہوجائی گی یہاں تک کہ بھیڑ بکری بھیڑئے کے ضرر سے محفوظ ہوں گی اور انسان سانپ سے نہیں ڈرے گا یہاں تک کہ چوہا کسی کپڑے میں سوراخ نہیں کرے گا ہر حوالے سے یہ امن قائم آل محمد ک زمانہ میں ہوگا۔(مترجم: یہ سب بہت زیادہ امن و آسایش کے ھوالے سے کنایہ ہے ورنہ حیوانات کی طبیعی اور غریزی صورت باقی رہے گی،واللہ عالم)
(۶)امام مہدی کے زمانہ حکومت کی ایک تصویر:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ فیکون عیسیٰ فی امتی حکما و عدلا قسطا یدق الصلب و ینکل الخنزیر و یترک الصدقۃ فلایسعی علی الشاۃ و لا بعیر و ترفع الاشجان والتباغض و ترفع حمۃ کل ذی حمی حتی یدخل الولید یدہ فی الحیۃ فلا تضرہ و تنفر الولیدۃ الاسد فلا یضرہ و یکون الذئب فی الغنم کانہ کیلھما و یملا الاناء من الماء و تکون الکلمۃ واحدۃ ولا یبعد الا اللہ عزوجل ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں عیسیٰ میری امت میں عدل و انصاف سے فیصلہ کریں گے اور صلیب کو توڑ دیں گے ،خنزیر کو ختم کردیا جائے گا ،دوسرے لفظوں میں اس پر یوں سختی کی جائے گی کہ بھیڑ اور اونٹ پر حملہ نہیں کرے گا ، غم و غصہ اور دشمنی ختم ہوجائے گی ہر متکبر اور غصب ناک کا تکبر اور غضب ختم ہوجائے گا یہاں تک کہ ایک نومولود بچہ اگر سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈالے گا تو وہ اسے ضرر نہیں پہنچائے گا، بچہ شیر کو اپنے سے دور کرے گا وہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ، بھیڑیئے بھیڑ بکریوں کی حفاظت کریں گے، ساری زمین اس طرح اسلام سے بھر جائے گی کہ برتن پانی سے بھر جاتا ہے اور ایک ہی کلمہ ہوگا اللہ تعالی کے سوا کسی اور کی عبادت نہ ہوگی۔(مترجم: واضح رہے بہت سی چیزیں اس دور کی لسانی روش کی بناء پر کنایہ یا ضرب المثل کے طور پر استعمال ہویی ہیں اسی لیے فہم حدیث ایک مشکل امر ہے )