ظہور امام بارے نبی کریم (ص) کی بشارتیں

285

 

ظہور امام مہدی  کےبارے میں نبی کریم (ص) کی بشارتیں

 
 

حضرت مہدی علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہم نام ہوں گے۔

 

 

 
 

سنن ترمذی (امام مہدی  سے مربوط روایات کے باب میں) اور سنن ابوداؤد (کتاب المہدی ) میں نیز دیگر کتب میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

 

 

 
 

لا تذھب الدنیا حتی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطیٴ اسمہ اسمی۔

 

 

 
 

دنیا کا خاتمہ اس وقت تک نہ ہو گا جب تک میرے اہل بیت کا ایک فرد جو میرا ہم نام ہو گاعرب پر حکمرانی نہ کرے۔

 

 

حضرت ابو سعید خدریسے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
لا تقوم الساعة حتی تملاء الارض ظلماً وجوراً وعدواناً ثم یخرج من اہل بیتی من یملاء ھا قسطاً وعدلا کما ملئت ظلماً و عدواناً۔ ۱
 
 

قیامت سے پہلے زمین ظلم، جور اور زیادتی سے بھر جائے گی۔ اس کے بعد میرے اہل بیت  کے ایک فرد کا ظہور ہو گاجو اس کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھر چکی تھی۔

 

 

 
 

امام مہدیعلیہ السلام اہل بیت  میں سے ہیں

 
 

ابو ہریرہسے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

 

 

 
 

لو لم یبق من الدنیا الا یوم لطولہ الله عزوجل حتی یملک رجل من اھل بیتی یملک جبل الدیلم و القسطنطینیة۔

 

 

 
 

اگر دنیا کا خاتمہ ہونے میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے تب بھی اللہ عز وجل اس ایک دن کو اس قدر لمبا کر دے گا کہ میرے اہل بیت کا ایک فرد حکومت کرے گا۔ وہ کوہ دیلم اور قسطنطنیہ پر حکومت کرے گا۔

 

 

 
 

حضرت علی(ع) سے منقول ہے کہ حضرت رسالتمآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

 

 

المہدی منا اھل البیت یصلحہ الله فی لیلة۔ ۲
مہدی ہمارے اہل بیتکا ایک فرد ہو گا۔ اللہ ایک ہی رات میں اس کے معاملے کو ٹھیک کر دے گا۔
اس روایت کو دوسروں نے بھی نقل کیا ہے۔
مستدرک علیٰ الصحیحین کی روایت کے مطابق ابوسعید خدریکہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
 
 

المہدی منا اہل البیت اشم الانف، اقنیٰ، اجلیٰ یملاء الارض قسطاً وعدلاً کماملئت جوراً وظلماً یعیش ھکذا

 

 

 
 

یعنی مہدی ہمارے اہل بیتکا ایک فرد ہو گا۔ اس کی ناک بلند، خوبصورت اور درمیان سے اوپر کو اٹھی ہو گی۔ اس کے سر کے اگلے حصے پر بال نہ ہوں گے (یا وہ تابناک شکل کا مالک ہو گا“۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

 

 

 
 

یہ فرما کر رسول الله(ص) نے اپنے بائیں ہاتھ (کی انگلیوں) اور دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کو کھولا اور فرمایا:

 

 

وہ اتنا عرصہ رہے گا (یعنی سات سال)۔
 
 

صاحب مستدرک کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور مسلم کی شرائط کے مطابق ہے۔۳ ان دونوں نے اسے نقل نہیں کیا۔ اسے ابوداؤد نے بھی نقل کیا ہے۔

 

 

 
 

امام مہدی

 
 

اولاد فاطمہ  سے ہوں گے

 

 

 
 

ام المومنین ام سلمہنے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

 

 

المھدی من عترتی من ولد فاطمة۔
مہدی  میری عترت  سے اولاد فاطمہ  سے ہو گا۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
المہدی رجل منا من ولد فاطمة۔
مہدی ہمارے اہل بیتکا ایک مرد ہو گا فاطمہ  کی اولا سے۔۴
 
 

امام مہدی امام حسین  کی ذریت سے ہوں گے

حضرت ابو ایوب انصاریسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
 
 

یولد منھما یعنی الحسن والحسین علیھما السلام مہدی ھذہ الامة۔

 

 

 
 

اس امت کا مہدی  اور دونوں (یعنی حسن اور حسین علیہما السلام) کی اولاد سے ہو گا۔

 

 

 
 

حضرت حذیفہسے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

 

 

 
 

اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اس کو ایک دن لمبا کر دیا جائے گا یہاں تک کہ اللہ میری ذریت سے ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جو میرا ہمنام ہو گا۔

 

 

سلماننے پوچھا :
 
 

وہ آپ کے کس فرزند کی اولاد سے ہو گا اے اللہ کے رسول(ص)! ؟

 

 

فرمایا:
میرے اس بیٹے کی اولاد سے۔ یہ کہکر آپ نے حسین  کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا۔۵
 
 

حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی احادیث میں باقی ائمہ علیہم اسلام کی بہ نسبت حضرت

 

 

 
 

علی ابن ابی طالب (ع) کی امامت اور آخری امام مہدی(ع) کے ظہور کی بشارت اور اماموں کی تعداد کے بارہ ہونے پر زیادہ زور دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پہلے اور آخری امام کی معرفت ہو جائے اور تعداد کا بھی علم ہو جاے تو پھر اس بات میں شک و تردید کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ ان بارہ اماموں سے کون مراد ہیں، جن کی ابتدا حضرت علی(ع) سے اور انتہا امام مہدی  پر ہے۔ (اللہ کا سلام ہو ان سب پر)

 

 

 
حوالہ جات
۱ سنن ترمذی ج۹ صفحہ ۷۴، سنن ابی داؤد ج۲ صفحہ ۷، مسند احمد ج۱ صفحہ ۳۷۶، مستدرک امام حاکم ج۴ صفحہ ۵۵۷
۲ سنن ابن ماجہ جاب الخروج المھدی حدیث نمبر ۴۰۸۵، حلیة الاولیاء ج۳ صفحہ۱۷۷، مسند احمد ج۱ صفحہ ۸۴، الدارمنثور للسیوطی ج۶ صفحہ۵۸، تفسیر سورہ محمد زیر آیت فھل ینظرون الا الساعة
۳ مستدرک حاکم ج۴ صفحہ ۵۵۷، ابو داؤد ج۶ صفحہ ۱۳۶، ج۴ صفحہ ۱۰۷ حدیث نمبر ۴۲۸۵
۴ سنن ابی داؤد کتاب المہدی ج۴ صفحہ ۷ حدیث ۴۲۸۴، کنز العمال ج۷ صفحہ ۲۶۱
۵ ذخائر العقبیٰ صفحہ ۱۳۵ طبع قاہرہ
 

اقتباس از دو مکاتب فکر کا تقابلی جائزہ۔ حصہ اول

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.