ہند بنت عتبہ

بنت عتبہ

236

ہند بنت عتبہ (متوفی 14ھ) ہند جگرخوار کے نام سے معروف ابو سفیان کی بیوی اور معاویہ کی ماں ہے۔ جنگ احد میں مشرکین کو مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کی ترغیب دیتی رہی اور جنگ کے اختتام پر حمزہ بن عبدالمطلب کا سینہ چاک کرکے ان کا کلیجہ چبایا۔ اسی طرح مسلمان مقتولین کے ناک اور کان وغیرہ سے ہار بنایا۔ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئی اور خلیفہ دوم کے دور میں وفات پائی۔
زندگی‌ نامہ

ہند عتبۃ بن ربیعۃ بن عبد شمس[1] اور صفیہ بنت أمیہ بن حارثہ کی بیٹی تھی۔[2] اپنے زمانے میں قریش کی خوبصورت[3] اور ذہین عورتوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔[4] بعض مآخذ میں اس سے منسوب مختلف اشعار نقل ہوئے ہیں۔[5]

ابتداء میں ہند نے حفص بن مغیرہ مخزومی سے شادی کی تھی۔[6] جس سے ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام أبان تھا[7] لیکن کچھ مدت بعد انہیں طلاق ہوگئی۔[8] حفص سے جدائی کے بعد بغیر مشورت کے انہیں حفص کی زوجیت میں دینے پر ا­نہوں نے اپنے والد کی ملامت کی۔[9] اس کے بعد انہوں نے ابو سفیان سے شادی کی۔[10] ابو سفیان سے ان کے دو بیٹے معاویہ اور عتبہ[11] اور دو بیٹیاں جویریہ اور ام الحکم[12] پیدا ہوئیں۔ اہل سنت تاریخ دان ذہبی کے مطابق ابو سفیان نے بھی آخری عمر میں انہیں طلاق دی۔[13] خلیفہ دوم کے دور میں بیت المال سے چار ہزار درہم قرضہ لے کر تجارت شروع کی۔[14]

ابن جوزی ان کی تاریخ وفات کو خلیفہ دوم کے دور میں سنہ 14 ہجری قرار دیتے ہیں[15] جبکہ ابن حجر عسقلانی کے مطابق اس نے عثمان کے دور خلافت میں وفات پائی ہے۔[16]
جنگ احد میں شمولیت

ہند جنگ احد میں مشرکین کے ساتھ[17] شامل ہو کر انہیں مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی ترغیب دیتی تھی۔[18] ہند مختلف اشعار پڑھ کر مشرکین کو جنگ کی ترغیب دیتی تھی: “ہم صبح کے ستاروں کی بیٹیاں ہیں۔ اگر جنگ میں کامیاب سے پیش قدمی کرو گے تو ہم تمہارے لئے اپنی آغوش پھیلائیں گے اور تہمارے بستر گرم کریں گے۔ لیکن اگر میدان جنگ سے بھاگ جاؤ گے تو ہم بھی تم لوگوں سے دوری اختیار کریں گے”۔[19]

جنگ احد کے اختتام پر جنگ بدر میں مارے جانے والے کفار کے انتقام لینے کے حوالے سے بھی انہوں نے اشعار پڑھے۔[20] جنگ بدر میں ہند کے والد عتبہ بن ربیعہ، چچا شیبہ اور بھائی ولید مارے گئے تھے[21] اس بنا پر جنگ بدر کے بعد ہند ہمیشہ ان مقتولین کا انتقام لینے کی بات کیا کرتی تھی اور قریش کو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی ترغیب دیتی رہتی تھی۔[22]
حمزہ اور شہدائے احد کی لاشوں کا مثلہ کرنا

جنگ احد میں ہند نے وحشی نامی ایک غلام کو حضرت محمدؐ، حضرت علیؑ یا حمزۃ بن عبدالمطلب میں سے کسی ایک کو قتل کرنے پر مأمور کیا۔[23] وحشی نے حضرت حمزہ کو شہید کر دیا۔[24] ہند نے حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کیا[25] اور ان کا کلیچہ نکال کر چبایا[26] پھر اسے حضرت حمزہ کے بدن کے بعض دیگر اعضاء کے ساتھ مکہ لے کر گئی۔[27] حضرت حمزہ کے بدن کو مثلہ کئے جانے سے متعلق یہ اشعار بھی ان سے منسوب ہیں:
شفیت من حمزة نفسی بأحد حتی بقرت بطنه عن الکبد
میرے اندر جو حزن و اندوہ تھا وہ جنگ احد کے دن حمزہ کے ذریعے ختم ہوا جب میں نے ان کا پیٹ چاک کیا اور ان کا کلیجہ باہر نکالا
أذهب عنی ذاک ما کنت أجد من لذعة الحزن الشّدید المعتمد[28]
تو اس چیز نے میرے اندر موجود اس غم و اندوہ کو ختم کیا جس کی آگ مجھے اندر سے جلا رہی تھی”۔

پیغمبر اکرمؐ نے انہیں حضرت حمزہ کا کلیچہ چبانے پر “آکلَۃَ الْأَکبَاد” یعنی جگر خوار کا نام دیا۔[29] ان کی اولاد بھی (ابْن آکلَۃ الْأَکبَاد) جگر خور کی اولاد کے نام سے مشہور ہوئیں۔[30]

ہند اور مشرکین کی دوسری خواتین نے جنگ احد میں شہید ہونے والے دیگر شہداء سوائے حنظلہ بن ابی‌ عامر کہ ان کا باپ مشرکین کے ساتھ تھا، کی لاشوں کی بے حرمتی کیں۔[31] ہند نے شہداء کے ناک اور کان سے ہار اور دستبند بنائے۔[32]
اسلام قبول کرنا

فتح مکہ کے موقع پر اپنے شوہر ابو سفیان کے اسلام لانے کے بعد ہند نے بھی اسلام قبول کیا۔[33] اسی بنا پر انہیں بھی صحابہ کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔[34] اگرچہ بعض مآخذ میں اس بات پر شک و تردید پایا جاتا ہے کہ انہوں نے حقیقی طور پر اسلام قبول کیا تھا یا نہیں۔[35] ہند نقاب پہن کر پیغمبر اکرمؐ کے پاس گئی اور آپ پر ایمان لے آنے کے بعد چہرے سے نقاب اتار پھینکی۔[36] اس سے پہلے پیغمبر اکرمؐ نے انہیں مہدور الدم ٹہرایا تھا۔[37]

ابن عساکر کے مطابق جب ہند اسلام لے آئی تو پیغمبر اکرمؐ نے اس سے فرمایا خدا کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹہراؤ، زنا مت کرو، چوری مت کرو۔ ہند نے کہا: مگر کوئی آزاد انسان بھی زنا کا مرتکب ہوتا ہے؟ اسی طرح پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: اپنی اولاد کو قتل مت کرو۔ ہند نے جواب دیا: ہم نے تو اپنی اولاد کو بڑا کیا تھا لیکن آپ نے جنگ بدر میں انہیں قتل کر دیا۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا انہیں خدا نے قتل کیا ہے۔[38] بعض مآخذ کے مطابق ہند مکہ میں زنا میں مشہور تھی،[39] لیکن اس بات پر کوئی قرائن و شواہد ان مآخذ میں ذکر نہیں ہیں۔[40]

اسی طرح مسلمان ہونے کے بعد جب پیغمبر اکرمؐ نے ہند سے اسلام کے متعلق سوال کیا تو اس نے اسلام کی تعریف کی سوائے تین چیزوں کے: رکوع، دوپٹہ اور کالے غلام کا خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر فریاد کرنا (بلال حبشی کی اذان کی طرف اشارہ ہے)۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا رکوع کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی، وہ کالا غلام خدا کا نیک بندہ ہے، اور پردہ کے لئے دوپٹہ سے بہتر اور کیا چیز ہو سکتی ہے؟[41]

ہند نے ابو سفیان کے ساتھ جنگ یرموک میں شرکت کی اور مسلمانوں کو رومیوں کے ساتھ جنگ کی ترغیب دلائی۔[42]

با تشکر از (ur.wikishia.net)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.