نظریہ عناصر اربعہ پر تنقید جعفریہ

416

نظریہ عناصر اربعہ پر تنقید جعفریہ
امام محمد باقر کے حلقہ درس میں جو علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں ایک فزکس بھی تھا ۔ اگرچہ جعفر صادق کے طبی علوم کے مبانی کے بارے میں ہمیں تصیلا علم نہیں ہے ۔ لیکن اس کے عوض میں ان کے فزکس کے مبانی یعنی فزکس کے مضمون کے بارے میں انکی معلومات سے نسل در نسل تفصیلا مطلع ہیں ۔

محمد باقر کے درس میں ارسطو کی فزکس پڑھائی جاتی تھی اور کسی پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ارسطو کی فزکس چند علوم پر مشتمل تھی آج کوئی بھی حیوانات ‘نباتات اور جیالوجی کو فزکس کا حصہ شمار نہیں کرتا کیونکہ ان میں ہر ایک علم جداگانہ ہے لیکن ارسطو کی فزکس میں ان علوم پر بحث کی گئی ہے اسی طرح جس طرح میکینکس بھی ارسطو کی فزکس میں داخل ہے اگر ہم فزکس کو علم الاشیاء سمجھیں تو ارسطو کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ اوپر کی بحث اپنی فزکس میں لائے کیونکہ یہ ساری بحث علم الاشیاء میں شامل ہے اس بات کا قوی احتمال ہے کہ ارسطو کی فزکس بھی اسی راستے سے محمد باقر کے حلقہ درس تک پہنچی جس راستے سے جغرافیہ اور ہندسہ کے علوم ان کے درس میں شامل ہوئے یعنی مصری قبطیوں کے ذریعے محمد باقر کے حلقہ درس میں شامل ہوئے ۔

فرید وجدی دائرة المعارف جیسی مشہور عربی کتاب کا حامل لکھتا ہے کہ علم طب اسکندریہ کے مکتب کے ذریعے جعفر صادق تک پہنچا اور یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ جس وقت امام جعفر صادق علم کے حصول میں مشغول تھے اسکندریہ کا علمی مدرسہ موجود نہیں تھا کہ علم طب آپ تک وہاں سے پہنچتا ۔

اسکندریہ کا علمی مکتب اس کتا خانے سے مربوط تھا جو عربوں کے مصر پر قبضے کے بعد تباہ ہو گیا تھا شاید وہ لوگ جنہوں نے اسکندریہ کے کتاب خانے کی کتابوں سے اپنے لئے نسخے تیار کئے ہوئے تھے ان کے پاس اس کتاب خانے کی کتابوں کے نسخے باقی تھے لیکن اسکندریہ کا علمی مکتب کتاب خانے کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا لیکن وہ لوگ جنہوں نے اسکندریہ کے علمی مکتب میں پرورش پائی تھی انہوں نے اس مکتب کے نظریات کو خصوصا اس تھیوری کو جسے جدید افلاطونوں کا فلسفہ کہا جاتا ہے اسے اپنے شاگردوں یا مریدوں کو سکھایا اور ان کے بعد نسل در نسل ہم تک پہنچی ۔

اس بات کا امکان ہے کہ وہ کتاب یا کتابیں جن کی نقول کتابخانہ (اسکندریہ کی کتابوں ) سے تیار کی گئی تھیں مصر سے امام جعفر صادق تک پہنچیں ۔

شاید فرید وجدی کی اسکندریہ کے مکتب سے مراد وہ مرکزی کتابخانہ اسکندریہ نہ ہو بلکہ اس کے کہنے کا مطلب یہ ہو کہ وہ کتاب یا کتابیں جو اسکندریہ کے مکتب کی یاد گار شمار کی جاتی تھیں امام جعفر صادق تک پہنچیں المختصر امام جعفر صادق اپنے والد گرامی کے حلقہ درس میں فزکس سے واقف ہوئے ۔

اور جس طرح علم جغرافیہ میں سورج کے زمین کے گرد چکر لگانے پر تنقید کی اسی طرح ارسطو کی فزکس کے کچھ حصوں پر بھی تنقید کی جب کہ اس وقت آپ کی عمر بارہ سال بھی نہیں تھی ایک دن جب وہ والد گرامی کے درس میں ارسطو کی فزکس پڑھنے کے دوران فزکس کے اس حصے تک پہنچے کہ دنیا چار عناصر پر مشتمل ہے یعنی خاک ‘ پانی ‘ ہوا اور آگ امام جعفر صادق نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ارسطو جیسے انسان نے اس پر غور کیوں نہیں کیا کہ خاک ایک عنصر نہیں ہے بلکہ اس خاک میں متعدد عناصر پائے جاتے ہیں اور زمین میں پائی جانے والی ہر دھات ایک علیحدہ عنصر شمار ہوتی ہے ۔

ارسطو کے زمانے سے جعفر صادق کے زمانے تک تقریبا ہزار سال کی مدت گزری ہو گی اور اس طویل مدت میں جیسا کہ ارسطو نے کہا تھا چار عناصر علم الاشیاء شمار ہوتے تھے اور کوئی ایسا شخص نہیں تھا جس کا یہ عقیدہ نہ ہو اور کسی کو فکر نہیں ہوئی کہ اس کی مخالفت کرے ہزار سال کے بعد ایک ایسا لڑکا پیدا ہو اجو ابھی بارہ سال کا نہیں ہوا تھا کہ اس نے کہا یہ خاک ایک عنصر نہیں ہے بلکہ کئی عناصر کا مجموعہ ہے ۔

جعفر صادق نے یورپ کے اٹھارویں صدی عیسوی کے علماء سے ہزار سال پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا کہ ہوا ایک عنصر نہیں ہے بلکہ چند عناصر کا مجموعہ ہے یاد رہے کہ اٹھارویں صدی عیسوی کے سائنس دانوں نے ہوا کے اجزاء کو دریافت کرنے کے بعد علیحدہ علیحدہ کیا ۔

اگر کافی غور و خوض کے بعد سائنس دان اس بات کو قبول کر لیتے ہیں کہ خاک ایک عنصر نہیں ہے بلکہ چند عناصر کا مجموعہ ہے پھر بھی ہوا کے ایک عنصر ہونے پر کسی کو اعتراض نہ ہو تا ارسطو کے بعد قابل ترین فزکس دان بھی نہیں جانتے تھے کہ ہوا ایک عنصر نہیں ہے حتی کہ اٹھارویں صدی عیسوی میں جو علمی لحاظ سے تابناک صدیوں میں سے ایک صدی شمار ہوتی ہے لا دوازیہ کے فرانسیسی سائنس دانوں کے زامنے تک چند علماء ہوا کو ایک بڑا عنصر سمجھتے تھے اور انہوں نے یہ فکر نہیں کی کہ ہوا چند عناصر کا مرکب ہے اور جب بعد میں لا دوازیہ نے آکسیجن کو ہوا میں شامل دوسری گیسوں سے علیحدہ کیا اور بتایا کہ آکسیجن سانس لینے اور جلانے میں کتنی موثر ہے ؟

اس بات کو اکثر علما نے قبول کیا کہ ہوا غیر مرکب یا عنصر نہیں ہے بلکہ چند گیسوں پر مشتمل ہے اور ۱۷۹۲ ء عیسوی میں سر لادوازیہ کا سر سا طور گیوٹین کے ہمراہ تن سے جدا کر دیا گیا اور یہ بابائے جدید کیمیا اگر زندہ رہتا تو شاید مزید دریافتیں کرتا لیکن افسوس اسے دوسرے جہاں بھیج دیا گیا ۔

امام جعفر صادق نے ایک ہزار ایک سو سال پہلے یہ جان لیا تھا کہ ہوا ایک عنصر نہیں شیعوں کا اور تمام گیسیں جو ہوا میں بہت کم مقدار میں پائی جاتی ہیں میں سانس لینے میں مفید ہیں مثال کے طور پر اور زون گیس کو لے لیں جس کی کیمیائی خصوصیات آکسیجن کی مانند ہیں اور اس کا ہر مالیکیول آکسیجن کے تین یٹموں سے مل کر بنا ہے بظاہر وہ عمل تنفس میں اتنی اہم نہیں لیکن جب آکسیجن خون سے ملتی ہے تو اسے اس دوران واپس باہر نہیں نکلنے دیتی یہی وجہ ہے کہ جعفر صادق کا نظریہ کہ "ہو ا کے تمام اجزاء عمل تنفس کیلئے ضروری ہیں " انیسویں صدی کے وسط سے لے کر آج تک تائید کیا گیا ہے ۔

ہوا میں موجود گیسوں کے خواص میں سے یہ بھی ہے کہ وہ آکسیجن کو تہہ میں نہیں بیٹھنے دیتیں اگر اس طرح ہوتا تو آکسیجن ‘ سطح زمین سے ایک بلندی کی حد تک چھائی رہتی ۔

اور دوسری گیسیں جو ہوا میں پائی جاتی ہیں آکسیجن سے اوپر ہوتیں جس کے نتیجے میں تمام جانوروں کا نظام تنفس جل جاتا اور جانداروں کی نسل نابود ہو جاتی دوسرا یہ کہ پودے پیدا نہ ہوتے کیونکہا گرچہ پودے کے زندہ رہنے کیلئے دوسرے جانداروں کی مانند آکسیجن ضروری ہوتی ہے لیکن اسے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور اگر آکسیجن کچھ بلندی تک زمین کو ڈھک لیتی تو کاربن کی سطح زمین تک رسائی نہ ہو سکتی جس کی وجہ سے حیوانی اور جماداتی زندگی باقی ہے ۔

جعفر صادق وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے عناصر اربعہ کے عقیدے کو جو ایک ہزار سال کی مدت تک نا قابل متزلزل سمجھا جاتا تھا قابل اصلاح قرار دیا وہ بھی اس وقت جب وہ نوجوان تھے بلکہ لڑکے شمار ہوتے تھے لیکن ہوا کے بارے میں نظریئے کو وہ اس وقت زبان پر لائے جب وہ بالغ ہو چکے تھے اور انہوں نے درس پڑھانا شروع کر دیا تھا ۔

آج ہمیں یہ عام سا موضوع لگتا ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری آج کی دنیا میں ایک سو دو عناصر دریافت ہو چکے ہیں لیکن ساتویں صدی عیسوی اور پہلی صدی ہجری میں یہ ایک برا انقلابی نظریہ تھا اور اس زمانے میں انسانی عقل قبول نہیں کر سکتی تھی کہ ہوا ایک وسیع عنصر نہیں ہے اور ہم ایک بار پھر اور اس زمانے میں انسانی عقل قبول نہیں کر سکتی تھی کہ ہوا ایک وسیع عنصر نہیں ہے اور ہم ایک بار پھر کہتے کہ اس زمانے میں اور اس کے بعد آنے والے زمانوں میں اٹھارھویں صدی عیسوی تک اس علمی انقلابی عقیدے اور ان دوسری باتوں کو جو جعفر صادق نے فرمائی تھیں ۔ اور ان کا ذکر آگے آئے گا یورپ میں برداشت کرنے کی گنجائش نہ تھی ۔

عقیدہ یہ ہے کہ جعفر صادق نے یہ اور دوسرے علمی حقائق ‘ علم لدنی یعنی علم امامت کے ذریعے استنباط کر لئے تھے مورخ کہتا ہے اگر یہ استنباط اور دوسرے علمی استنباط جعفر صادق کے علم امامت کی وجہ سے تھے تو وہ مادے کے توانائی میں تبدیل ہونے کے قانون کو جسے آئن سٹائن نے اس صدی میں دریافت کیا اسے بھی بیان فرماتے کیونکہ ان کے پاس علم امامت ہے وہ ہر چیز کو جانتے ہیں اور کوئی بھی علمی قانون ان سے پوشیدہ نہیں اور چونکہ علمی قوانین کا ایک حضہ اٹھارویں انیسویں اور بیسویں صدی میں دریافت ہوا جعفر صادق نے ان کے متعلق کچھ نہیں کہا یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے علم بشر کے ذریعے یہ معلوم کیا کہ خاک و ہوا کوئی وسیع و عریض عنصر ہے ۔

جعفر صادق نے فرمایا ہوا میں چند اجزاء ہوتے ہیں سانس لینے کیلئے جن کی موجودگی اشد ضروری ہے جب لادوازیہ نے آکسیجن کو ہوا کی دوسری گیسوں سے جدا کیا اور بتایا کہ جو چیز جانداروں کے زندہ رہنے کیلئے ضروری ہے وہ آکسیجن ہے سائنس دانوں نے ہوا کی دوسری گیسوں کو زندگی کیلئے بے فائدہ جانا اور یہ نظریہ صادق کے خلاف ہے جنہوں نے فرمایا ہوا کے تمام اجزاء سانس لینے کیلئے ضروری ہیں ۔

لیکن انیسویں صدی کے نصف میں سائنس دانوں نے سانس لینے کے لحاظ سے آکسیجن کے بارے میں اپنے نظریئے کی تصحیح کی ۔

کیونکہ یہ تسلیم کر لیا گیا کہ اگرچہ آکسیجن جانداروں کی زندگی کیلئے لازمی ہے اور ہوا کی دوسری تمام گیسوں کے درمیان تنہا گیس ہے جو خون کو بدن میں صاف کرتی ہے لیکن جاندار خالص آکسیجن میں زیادہ عرصہ کیلئے سانس نہیں لے سکتے کیونکہ ان کے نظام تنفس کے خلیات کی آکسیڈیشن شروع ہو جاتی ہے یعنی وہ آکسیجن کے ساتھ مل کر مرکب بنا دیتے ہیں اور سادہ لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نظام تنفس کے خللیات جلتے ہیں ۔

آکسیجن خود نہیں جلتی بلکہ جلنے میں مدد دیتی ہے اور ایسے جسم کے ساتھ جو جلنے کے قابل ہوتا ہے جب عمل کرتی ہے تو وہ جسم جلنے لگتا ہے اور جب کبھی انسان یا جانوروں کے بھیپھڑوں کے خلیات ایک مدت تک خالص آکسیجن میں سانس لیتے ہیں ۔

چونکہ گیسوں کا ان کے ساتھ ری ایکشن ہوتا ہے اس لئے پھیپھڑوں کے خلیات جلنے لگتے ہیں اور کوئی انسان یا جانور جس کے پھیپھڑے جل جائیں تو وہ مر جاتا ہے اس لئے چاہیے کہ آخسیجن کے ہمراہ دوسری گیسیں بھی انسان یا جانوروں کے پھیپھڑوں میں داخل ہوں تاکہ جانداروں کے پھیپھڑے خالص آکسیجن میں سانس لینے کی وجہ سے نہ جلیں جب علماء نے آکسیجن کے متعلق سانس لینے کے لحاظ سے اپنے نظریہ کی تصحیح کی تو پتہ چلا کہ جعفر صادق کا نظریہ صحیح ہے ۔

لیکن مشرقی ممالک میں حتی کہ پیغمبر اسلام کے شہر مدینہ میں بھی اس طرح کے علمی نظریات کو زبان پر لایا جا سکتا تھا کیونکہ وہاں اس پر کوئی

۵۷

کفر کا فتوی نہ لگاتا تھا ۔

اگر دین اسلام میں کوئی یہ کہتا کہ ہوا وسیع نہیں ہے تو اسے کافی قرار نہیں دیتے تھے لیکن بعض قدیم ادیان میں ایسا کہنا ‘ کہنے والے کے کفر کی دلیل شمار ہوتی تھی کیونکہ ان ادیان کے پروکار ہوا کی طارت کا عقیدہ رکھتے تھے اور اس طہارت کو ہوا کے وسیع ہونے کی وجہ سے سمجھتے تھے جس طرح پانی کا مطہر ہونا بھی ان مذاہب کے پروکاروں کی نظر میں اس کے وسیع ہونے کی بنا پر تھا ۔

جب ہم کیمیا کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ ایک انگریز جوزف پر یسٹلے نے جو ۱۷۳۳ء میں پیدا ہوا اور ۱۸۰۴ء میں فوت ہوا آکسیجن گیس دریافت کی لیکن وہ اس کی خصوصیات کو نہ پہچان سکا اور جس نے اس گیس کے خوص کو پہچانا وہ لوازیہ تھا علم کیمای کی تاریخ میں اس طرح بتایا گیا ہے کہ آکسیجن کا نام بھی پریسٹلی نے رکھا تھا جب کہ آکسیجن کا مفہوم پریسٹلی سیپہلے موجود تھا آکسیجن یونانی کلمہ ہے جو دو اجزاء سے مل کر بنایا گیا ہے دوسرے جزو کے معنی پیدوار کرنے والے اور پہلے جزو کے معنی ترشی کے ہیں اس لئے آکسیجن کو ترشی پیدا کرنے والی گیس کہتے ہیں آکسیجن کا نام شاید انگریز پریسٹلی نے رکھا ہو گا (کیونکہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ واقعا اس نے یہ نام رکھا ہے ) لیکن " ترشی پیدا کرنے والا " مفہوم پہلے سے موجود ہے ہمیں پریسٹلے کی خدمات سے سر موانحراف نہیں ہے اور ہماری اس سے مراد یہ نہیں کہ پریسٹلے کو حقیر بنا کر پیش کریں اور اس پادر کو جس نے مذہبی لباس کو اتار کر لیبارٹری میں کام کیا اور آکسیجن کو دریافت کیا اس کے باوجود کہ وہ ایک قابل ترین انسان تھا اس نے کبھی اپنی دریافت پر فخر نہیں کیا ۔

اگر وہ سیاست میں حضہ نہ لیتا تو وہ آکسیجن کے بارے میں اپنی تحقیق کو جاری رکھ سکتا تھا پھر اسے سمجھ آتی کہ اس نے کتنی بڑی دریافت کی ہے لیکن سیاست نے اسے لیبارٹری سے دور کر دیا اور وہ انگلستان میں فرانسیسی انقلابیوں کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوا اور لوگ اس سے اس قدر نفرت کرنے لگے کہ اس کا اپنے ملک میں جینا دوبھر ہو گیا مجبور اس نے امریکہ ہجرت کیا ور وہاں قیام کے دوران آکسیجن کے علاوہ کسی دوسرے موضوع پر چند کتابیں لکھیں ۔

وہ انسان جس نے سب سے پہلے ترشی پیدا کرنے والی آکسیجن کو پہچانا وہ جعفر صادق تھے یہ تصور نہیں کرتے کہ انہوں نے والد گرامی کے حلقہ درس میں اس موضوع کو سمجھا ہو گا کیونکہ ہم نے کہا کہ انہوں نے جب پڑھانا شروع کیا تو کہا کہ ہوا ایک وسیع عنصر نہیں ہے اور قوی احتمال ہے کہ اسی موقع پر انہوں نے اخذ کر لیا کہ آکسیجن ترشی پیدا کرنے والی ہے تاکہ اس کی مماثل چیز پیدا نہ ہو ہمارا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ترشی پیدا کرنے والی کا نام جعفر صادق کے منہ سے نہیں نکلا لیکن انہوں نے اپنے حلقہ درس میں فرمایا ہوا چند اجزا پر مشتمل ہے اور ہوا کے اجزا میں سے یہی وہ جزو ہے جو جلنے والی چیزوں کے جلنے میں مدد دیتا ہے یہ نہ ہو تو ہر گز نہ جلیں اور جعفر صادق نے اس موضوع کی مزید وضاحت کیا ور اپنے درس میں فرمایا ہوا کہ وہ جزو جو اجسام کے جلنے میں مدد دیتا ہے اگر ہوا سے جدا ہو جائے اور خالص حالت میں ہاتھ آئے تو وہ اجسام کو جلانے میں اتنا زبردست ہے کہ اس سے لوہا بھی جلایا جا سکتا ہے ۔

اس بنا پر پریسٹلی اور لادوازیہ سے ہزار سال پہلے ہی آکسیجن کی تعریف کر دی تھی اور صرف اس کا نام آکسیجن یا مولد الموضہ (ترشی پیدا کرنے والی ) نہیں رکھا تھا پریسٹلے نے جب آکسیجن دریافت کی تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ لوہے کو جلایا جائے لادوازیہ جس نے اکسیجن کے کچھ خواص لیبارٹری میں جان لئے تھے نہ سمجھ سکا کہ وہ گیس لوہے کو جلانے والی ہے لیکن جعفر صادق ہزار سال پہلے اس بات سے آگاہ تھے ۔

آج ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر لوہے کے ایک ٹکڑے کو اتنا گرم کیا جائے کہ وہ سرخ ہو جائے اور پھر اسے خالص آکسیجن میں ڈبو دیں تو وہ روشن شعلے کے ساتھ جلنے لگتا ہے جس طرح گھی یا تیل کے چراغوں میں ان کے فتیلے کو گھی یا تیل میں بھگو دیتے تھے اور اس کی روشنی میں ساری رات بسر کرتے تھے ایک ایسا چراغ بھی بنایا جا سکتا ہے جس کا فتیلہ لوہے کا ہو اور وہ مائع آکسیجن میں ڈبو دیا جائے اور اگر فتیلے کو اس طرح جلائیں کہ سرخ ہو جائے تو وہ نہایت چمکدار روشنی کے ساتھ رات کو روشن رکھے گا ۔

روایت ہے کہ ایک دن محمد باقر جعفر صادق کے والد گرامی نے اپنے درس میں کہا پانی جو آگ کو بجھا دیتا ہے علم کے ذریعے اس سے آگ بھی جلائی جا سکتی ہے اگرچہ اس بات سے کوئی شاعرانہ تعبیر نہیں لی گئی مگر یہ بات اس وقت بے معنی نظر آئی تھی اور ایک عرصے تک جن لوگوں نے بھی یہ روایت سنی انہوں نے سمجھا کہ محمد باقر کوئی شاعرانہ تعبیر زبان پر لائے ہیں لیکن اٹھارویں صدی کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ علم کی مدد سے پانیس ے بھی آگ جلائی جا سکتی ہے۔

وہ بھی ایک ایسی آگ کہ جو کوئلے یا لکڑی کی آگ سے زیادہ گرم ہو کیونکہ ہائیڈروجن جس کے دو حصے پانی میں ہوتے ہیں آکسیجن کے ساتھ ۶۶۶۴ڈگری تک پہنچتی ہے اور آکسیجن کے ذریعے ہائیڈروجن کے جلنے کے عمل کو اکسیڈروجن کہتے ہیں اور یہ صنعتوں میں دھاتوں کو پگھلانے یا دھاتوں کے ٹکڑوں میں سوراخ کرنے کے کام آتی ہے ۔

ہمیں معلوم ہے کہ محمد باقر نے فرمایا علم کی مدد سے پانی سے آگ جلائی جا سکتی ہے لیکن انہوں نے ہائیڈروجن کو دریافت نہیں کیا تھا اور ہمارے پاس اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ان کے بیٹے جعفر صادق نے ہائیڈروجن کو خالصتا دریافت کیا اسی طرح جس طرح ہمارے پاس کوئی دستاویزی ثبوت نہیں جس کی بنا پر ہم کہہ سکیں کہ جعفر صادق نے آکسیجن کو دریافت کیا ۔

لیکن بغیر کسی شک و تردد کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام جعفر صادق نے آکسیجن کو خالصتا دریافت کیا اور ہمارے پاس اس کی دلیل ان کے کیمیائی کارنامے ہیں ۔

جعفر صادق کے کیمیائی کارناموں کا کچھ حصہ آکسیجن کی مدد سے انجام پایا ہے اور اس عنصر کی مداخلت کے بغیر امام جعفر صادق ان کارناموں کو انجام نہیں دے سکتے تھے لہذا انہوں نے آکسیجن کو دریافت کیا لیکن خالصتا نہیں بلکہ دوسرے عناصر کے ساتھ مرکبات شکل میں ملی ہوئی یہاں پر یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ انہوں نے کوئی تھیوری پیش نہیں کی انہوں نے جو نتائج حاصل کئے ان سے دو فارمولے بنائے پہلے یہ کہ ہوا کا ایک جزو ایسا ہے جو دوسرے اجزا کی نسبت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور یہی جزو زندگی کے لئے نہایت اہم ہے دوسرا یہی وہ جزو ہے جس کی وجہ سے وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ چیزوں کی شکل میں تبدیلی آتی ہے یا وہ باسی ہو جاتی ہیں اس مفہوم کو زیادہ یاد رکھنا چاہیے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام جعفر صادق نے آکسیجن کو دریافت کرکے کتنی باریک بینی کا ثبوت دیا ۔

جس کے بعد فرانسیسی لاووازیہ نے پریسٹلے انگریز کے بعد آکسیجن کے ابرے میں تحقیق کی اور اس کے تحقیقی کام کا کھوج لگایا ‘ سائنس دان اس بات کے قائل ہو گئے کہ اجسام میں تبدیلی جو وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ آتی ہے آکسیجن کی وجہ سے آتی ہے حتی کہ ایک فرانسیسی " پاستور " نے خلایہ دریافت کیا اور اس نے کہا کہ بعض چیزوں کا باسی ہو جانا آکسیجن کی وجہ سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے جراثیموں کی وجہ سے ہے (مثلا غذا وغیرہ جو وقت کے ساتھ ساتھ باسی ہو جاتی ہے ) اور یہ چھوٹے چھوٹے جراثیم مردہ جانداروں کے جسم اور غذا پر حملہ کرکے اسے باری کر دیتے ہیں لیکن پاستور کو غور کرنا چاہیے تھا کہ جو چیز ان جراثیموں کو زندہ رکھنے کا سبب ہے وہ آکسیجن ہے کیونکہ آکسیجن کے بغیر ان کی زندگی نا ممکن ہے لہذا جیسا کہ جعفر صادق نے فرمایا آکسیجن اشیاء میں تبدیلی لانے کا موثر ذریعہ ہے بلکہ بعض اوقات دھاتوں سے براہ راست مل کر ایک مرکب وجود میں لاتی ہے اور اس عمل کو کیمیا کی اصطلاح میں اوکسیڈیشن کہتے ہیں ۔

اتنا گہرا اظہار نظر امام جعفر صادق کی طرف سے بغیر عملی تجربات کے ناممکن تھا ۔ جعفر صادق کا زمانہ ایسا تھا کہ وہ آکسیجن کی پہچان پر مزید تحقیق نہیں کر سکے لیکن انہوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ہوا کو وہ جزو جو زندہ رہنے کیلئے اشد ضروری ہے اور چیزوں کی اصلی حالت میں تبدیلی لاتا ہے وہ بھاری بھی ہے اور انسان کو ابھی مزید ایک ہزار سال لاووازیہ کے دنیا میں آنے تک صبر کرنا تھا ۔

جس نے کہا وزن کے لحاظ سے ہر نو کلو گرام پانی میں آٹھ کلو گرام آکسیجن ہوتی ہے لیکن حجم کے لحاظ سے ہائیڈروجن آکسیجن کی نسبت دو گنا زیادہ ہوتی ہے لاووازیہ آکسیجن کو پہچاننے میں اس قدر آگے نکل گیا کہ اس گیس کو مائع میں تبدیل نہ کر سکا وہ اس فکر میں تھا کہ آکسیجن کو مائع میں تبدیل کرے لیکن دو چیزیں اس کے آڑے آئیں ۔

پہلی یہ کہ اس کے دور میں جو اٹھارویں صدی کا آکری دور تھا صنعت اور ٹیکنالوجی نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی کہ وہ محقق انسان اپنے مقصد کو حاصل کر سکے ۔ دوسرا یہ کہ اس سے پہلے کہ وہ مزید تحقیق کرتا ۔ اسے مار دیا گیا ۔

اس کے بعد ایک عرصے تک سائنسدان کہتے رہے کہ آکسیجن کو مائع میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا حتی کہ ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی کہ وہ چیزوں کو کافی مقدار میں سرد کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن انیسویں صدی عیسوی تک وہ آکسیجن کو صنعتی استعمال کیلئے بڑے پیمانے پر مائع حالت میں تیار نہیں کر سکے ۔

بیسویں صدی عیسوی میں زیادہ سرد درجہ وجود میں لانے کی ٹیکنیک انیسویں صدی کی نسبت زیادہ کامیاب ہوئی اور صفر سے نیچے ۱۸۴ درجہ تک آکسیجن کو (بغیر زیادہ دباؤ کے ‘ نہیات ہی کم دباؤ کے ذریعے )ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہوئے ۔

آج آکسیجن کو صنعتی پیمانے پر تیار کیا اور استعمال میں لایا جاتا ہے اور ۱۸۳ درجہ صفر کی سردی کو کم سرد نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ صرف ۹۰ درجہ کا یہ مطلق صفر درجہ سے کافی فاصلہ ہے اور یہ مطلق صفر درجہ ۱۶ء۲۷۲۔( منفی دو سو بہتر عشاریہ ایک چھ درجے ) صفر سے نیچے کا درجہ ہے اور اتنے کم درجہ حرارت پر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مادے کی اندرونی حرکت ساکن ہو جاتی ہے ۔

جعفر صادق کا زمانہ سائنسی نقطہ نگاہ سے ایسا زمانہ نہ تھا کہ جعفر صادق سائنس کے بارے میں مزید پیشرفت کرتے لیکن جہاں تک آکسیجن کی پہچان کا تعلق ہے وہ اس لحاظ سے سب سائنس دانوں پر سبقت لے گئے ۔

اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ فزکس کے اس حصے میں وہ اپنے معاصروں سے ہزار سال آگے تھے ۔

بعض روایات میں ملتا ہے کہ امام جعفر صادق کے شاگردوں نے ان کے بعد کہا کہ ہوا یا آکسیجن کو مائع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن جو کچھ امام جعفر صادق کے شاگردوں نے کہا وہ ایک عام نظریہ ہے قدیم زمانوں سے حتی کہ ارسطو سے بھی پہلے یہ معلوم کر لیا گیا تھا کہ بخارات کو مائع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن وہ گیسوں کو مائع میں تبدیل کرنے کا وسیلہ نہ رکھتے تھے ۔ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ قدیم زمانے سیآج کے علوم کا کچھ حصہ تھیوری کی شکل میں پیش کیا جا چکا تھا کمی صرف اس بات کی تھی کہ اس زمانے میں وسائل موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے ان تیھوریز کو عملی جامہ پہنانا مشکل تھا ۔ یونانی دھو کریت نے عیسی کی ولادت سے پانچ سو سال پہلے ایٹمی نظریئے کو اسی طرح جسطرح آج ہمارے پاس موجود ہے ۔

پیش کیا اور کہا مادہ ایٹموں سے مل کر بنا ہے اور ہر ایٹم کے اندر تیز حرکات پائی جاتی ہیں اگر ہم الیکٹرون ‘ پروٹون اور نیوٹرون اور ایٹم کے دوسرے تمام حصوے کے ناموں کو درمیان میں نہ لائیں کیونکہ ان کا تعلق انیسویں صدی عیسوی سے ہے تو ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ دھو کر یت کی ایٹمی تھیوری اور موجودہ ایٹمی تھیوری میں ذرہ برابر فرق نہیں ہے۔

البتہ بنی نو ع انسان نے اس ایٹمی توانائی سے کافی دیر بعد فائدہ اٹھایا اور اگر دوسری جنگ عظیم پیش نہ آتی اور جرمن سائنسدان ایٹمی توانائی سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں غورو فکر نہ کرتے اور امریکہ جرمنی کے ترقی کر جانے کے خوف سے ایٹمی توانائی سے فائدہ نہ اٹھاتا تو شاید اس صدی کے آخر تک بھی ایٹمی توانائی بروئے کار نہ لائی جاتی ۔

اگرچہ جعفر صادق کے شاگردوں نے ہوا یا آکسیجن کو مائع میں تبدیل کرنے کے امکانات کے بارے میں جو کچھ کہا وہ پہلے سے موجود تھا لیکن خود جعفر صادق نے جو کچھ آکسیجن کے متعلق کہا ہے وہ تیھوری کی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور اسی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ آکسیجن کی پہچان کے بارے میں عملی مرحلہ میں داخل ہو چکے تھے۔

۶۱

جعفر صادق بانی مکتب عرفان

کچھ مسلمان عرفا اور مورخین کا کہنا ہے کہ امام جعفر صادق نے اپنے والد گرامی محمد باقر کے حلقہ درس میں عرفان کی تعلیم بھی حاصل کی تھی ۔

" تذکرة الاولیا ء " کا مصنف شیخ عطار اسی گرو کے لوگوں سے ہے جب کہ پہلی صدی ہجری میں عرفان کا وجود ہی نہ تھا اور اگر تھا بھی تو اس نے مکتب کی شکل اختیار نہیں کی تھی شاید عرفانی تفکرات اس زمانے میں موجود ہوں اور بعض اسلامی مفکرین اسے زبان پر لائے ہوں ۔

لیکن پہلی صدی ہجری میں کوئی عرفانی مکتب موجود نہ تھا جس میں خاص طور پر عرفان کی قسم پر بحث کی جائے اور ایک پیریا مرشد یا غوث ایسا پایا جاتا ہو جو اپنے مریدوں کو اردگرد جمع کرے اور انہیں عرفان کی تعلیم دے ۔ دوسرا یہ کہ عرفان افکار کی تجلی کی ایک قسم ہے جس میں کلاس کی مانند نہیں پڑھا جاتا ۔ اور مرشد یا قطب اپنے مریدوں کو درس نہیں دیتا بلکہ ان سے عمل چاہتا ہے اور کہتے ہیں کہ درس عشق کو قلم ‘ کاغذ اور نوٹ بک کے ذریعے نہیں سیکھا جا سکتا ۔ (بشوئی اوراق اگر ہمدرس مائی ۔ کہ درس عشق در دفتر نباشد ) عرفان دوسری صدی سے وجود میں آیا یا اس زمانے میں مکتب کی صورت اختیار کر گیا اور اس سے قبل مکتب نہ تھا جیسا کہ ہمیں معلوم ہے تذکرة الاولیا چند مشہور کتابوں میں سے ایک ہے اور بعض فضال کے نزدیک اسلامی دنیا کی معتبر کتابوں میں سے ایک ہے لیکن اس کتاب میں بعض ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں جن کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔

مثلا یہ بات کہ با یزید بسطامی ‘ جو ایک مشہور عارف ہو گزرا ہے اس نے امام جعفر صادق کے حضور میں درس تلمذ تہہ کیا ہے ۔ یعنی ان کا شاگرد ہو گزرا ہے اس نے امام جعفر صادق سے عرفان بھی سیکھا تھا ۔ تذکرة الاولیاء کے مطابق جب وہ علوم حاصل کر چکا اور عرفان میں داخل ہوا تو اس نے عارف کامل بننے کیلئے ضروری سمجھا کہ دنیا کے بڑے عرفا کی خدمت میں پہنچے ۔ لہذا وہ بسطام سے نکل پڑا اور تیس سال تک بھوک کو برداشت کرنے اور دوسری تکالیف اٹھانے کے بعد دنیا کے بڑے عرفا کی خدمت میں حاضر ہوا ۔

اس دوران میں اس نے ایک سو تیرہ عرفا کا قرب حاصل کیا جس میں سب سے آخری جعفر صادق تھے با یزید بسطامی ہر روز جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوتا اور ان کی باتیں غور سے سنتا ان کے نصائح پلے باندھتا اور پوری دل جمعی کے ساتھ ان کی تعلیم سنتا ۔ ایک دن جعفر صادق نے اسے کہا " اے یزید ‘ وہ کتاب جو تمہارے سر کے اوپر طاق میں ہے مجھے لا کر دو " بایزید نے کہا آپ کس طاق کے بارے میں فرماتے ہیں ۔

جعفر صادق نے فرمایا ایک زمانہ ہو گیا ہے تم یہاں آئے ہو اور ابھی تک تم نے طاق نہیں دیکھا با یزید بسطامی نے کہا میں نے آپ کے علاوہ یہاں کسی کو نہیں دیکھا کیونکہ صرف آپکو دیکھنے کیلئے آتا ہوں جعفر صادق نے یہ بات سن کر فرمایا اے با یزید تمہاری تعلیم کا عرصہ پورا ہو گیا ہے اور اب تم بسطام واپس جا سکتے ہو وہاں جا کر لوگوں کو تعلیم دو ۔ با یزید اپنی جگہ سے اٹھا اور واپس بسطام پہنچ کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے میں مشغول ہو گیا شاید تذکرة الاولیاء کے مصنف نے اس روایت کو درست مجھ کر لکھا ہے لیکن بائیو کرونولوجی یعنی واقعہ کا تاریخ کے لحاظ درست ہونا ) کی رو سے صحیح نہیں ہے اور اگر تذکر‘ الاولیا ء کے مصنف نے اسے خود نہیں گھڑا تو صرور یہ کسی دوسرے مصنف کی جعلی روایت ہے جس نے اسے بغیر تحقیقی کے نقل کیا ہے کیونکہ امام جعفر صادق دوسری صدی ہجری کے پہلے نصف حصے میں پڑھاتے تھے اور ا

ن کی تاریخ وفات بھی ۱۴۸ ہجری ہے جبکہ با یزید بسطامی تیسری صدی ہجر میں گزرے ہیں اور ان کی تاریخ وفات ۲۶۱ہجری لکھی گئی ہے

بایزید بسطامی کی تاریخ وفات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ تیسری صدی ہجری میں ہو گزرے ہیں ۔ اور اسی وجہ سے وہ امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے لیکن عرفانی تعلیمات کی امام جعفر صادق کے دروس میں موجودگی سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ۔

امام جعفر صادق کے دروس میں عرفان کے وجود سے ان کی روحانی شخصیت ہمارے لئے پر کشش بن جاتی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ذوق کے لحاظ سے آپ گو نا گوں تجلیات کے مالک تھے جس عرفان کی ۔۔۔۔۔ دوسری صدی ہجری میں مشرق میں ابتداء ہوئیا ور اب تک موجود ہے وہ ایک ایسی چیز ہے جو تخیل فکر اور اپنے آپ میں گم ہونے سے زیادہ آگے نہیں بڑھتا ۔

اگرچہ عرفان کے اثرات عارف پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اسے خوش اخلاقی و مہربان بنا دیتے ہیں لیکن خود عرفان ایک روحانی خلیہ ہے جسکا مادی اور سائنسی علوم سے کوئی تعلق نہیں ہے ایی صورت میں جبکہ امام جعفر صادق ایک سائنس دان تھے اور مسلمانوں میں پہلے انسان تھے جنہوں نے تیھوری کو عملی صورت دی اور کسی بھی فزکس اور کیمیاء کے نظریہ کو جب تک خود پرکھ نہ لیا ۔ قبول نہیں کیا اس طرح انہوں نے ٹیسٹ کے ذریعے کسی بھی نظریئے کے درست ہونے پر یقین کیا آج کے فزکس دان یا کیمیا دن جن میں سے ایک جعفر صادق بھی تھے کو عرفان سے کوئی دلچسپی نہ ہونا چاہیے تھیکیونکہ فزکس اور کیمیا کے تجربات کے ذریعی اسے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ عرفان اپنے نفس کو کنٹرول کرنے کے بڑی مشق کے بعد حاصل ہوتا ہے جعفر صادق جو مسلمانوں میں پہلے فزکس دان اور کیمیا دان تھے اصولا انہیں عرفان سے رغبت نہیں ہونا چاہیے تھی لیکن وہ اس قدر عرفان سے دل چسپی رکھتے تھے کہ زمحشری جو ایک مشحور عالم تھا اپنی کتاب " ربیع الابرار " میں امام جعفر صادق کے علمی درجے کی غیر معمولی توصیف کرنے کے بعد آپ کو عرفان میں سب سے آگے سمجھتا ہے ۔

تذکرة الاولیاء کا مصنف " عطار " جو خود مشہور عارف ہے جعفر صادق کو عرفان کی ابتداء کرنے والوں میں سے قرار دیتا ہے " تذکرة الاولایاء ‘ ‘کی بعض روایات تاریخی لحاظ سے مرتب نہیں اور کتاب کا مصنف تصنیف کے جذبے سے سر شار اور عرفا کا عاشق تھا لہذا اس نے بعض کے بارے میں نا دانستہ طور پر مبالغے سے کام لیا ہے اگر وہ غور کرتا تو ہر گز مبالغے سے کام نہ لیتا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مبالغے سے کلام کی وقعت کم ہو جاتی ہے اور اگر تاریخ میں مبالغے سے کام لیا جائے تو اسے تاریخ نہیں کہا جائے گا جو قلم ز محشری کے ہاتھ میں تھا ہم اسے ایک مورخ کا قلم کہہ سکتے ہیں اور جو قلم تذکرة الاولیاء کے مصنف کے ہاتھ میں ہے اسے ایک عاشق کا قلم شمار کر سکتے ہیں ۔

بہر حال اسلامی عرفا اور مورخین میں سے بعض کا عقیدہ ہے کہ جعفر صادق اسلامی دنیا کے پہلے عارف یا پہلے عرفا میں سے ایک ہیں اگر ایسا ہے تو کیا جعفر صادق جیسا عارف ایسے طلباء کو جو مسلمان نہ تھے اپنے درس میں بیٹھنے اور درس حاصل کرنے کی اجازت دے سکتا ہے کیونکہ چند کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ کچھ ایسے طلباء بھی امام جعفر صادق کے درس میں شریک ہوتے تھے جو صابئی تھے ۔ صابئین ایک ایسی قوم تھے جن کا مذہب یہودی اور عیسائی مذہب کی درمیانی صورت تھی اور توحید پرست شمار ہوتے تھے ۔

کچھ صابئین مشرک بھی تھے اور جب اسلام پھیلا تو وہ گروہ جو مشرک تھا اپنے آپ کو توحید پرست کہلانے لگا تاکہ مسلمانوں کے ہمراہ زندگی گزار سکیں کیونکہ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے مسلمان ان فرقوں کے لوگوں کو جو توحید پرست ہوتے تھے اہل کتاب کہتے تھے ان کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچاتے تھے ۔

۶۳

صابئین کی سکونت صران میں تھی جو جنوبی بین النہرین کے مغرب میں واقع ہے قدیم یورپی تاریخ میں جس کا نام "کارہ " ہے صابئین کا وہ گروہ جو موحد تھا انکے ہاں رواج تھا کہ بچے کو پیدائش کے بعد غسل دیتے اور اس کا نام رکھتیتھے ان کی اصطلاح میں اس عمل کو تعمید کہا جاتا ہے ۔

بعض یورپی محققین جن کا نظریہ دائرةالمعارف الاسلامی کتاب میں منعکس ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ صبائی ‘ صبع سے مشتق ہے (یعنی صاد ۔ با ۔ عین ) جس کے معنی پانی میں غوطہ لگانا یا غسل کرنا ہے کیونکہ صبائی پادری کے پروکار ‘ نومولود کو تعمید کے دوران پانی میں غوطہ دیتے تھے ۔ زمانے کے ساتھ ساتھ لفظ صابئی سے عین گر گیا اور اس کی موجودہ شکل بن گئی ۔

وہی یورپی محققین کہتے ہیں ‘ صبائین ‘ یحیی کو جو معمد (یعنی غسل دینے والا کے نام سے مشہور ہے اپنا پیغمبر جانتے ہیں ۔

تذکرة الاولیاء کا مصنف کہتا ہے کہ تمام فرقے امام جعفر صادق کے در س میں حاضر ہوتے تھے ۔ شیخ ابوالحسن خرقانی کہتا ہے مسلمان اور کافر جعفر صادق کے درس میں حاضر ہوتے تھے ان کے علم و فضل کے دستر خوان سے بہرہ مند ہوتے تھے ۔

ہمیں نہیں معلوم کہ کس طرح جعفر صادق جیسا عارف انسان غیر مسلم طلباء کو اپنے درس میں حاضر ہونے کی اجازت دے سکتا تھا ۔ یا یہ کہ چونکہ وہ ایک وسیع النظر انسان تھے اور علم کو سب کیلئے چاہتے تھے ۔ اس لئے انہوں نے موافقت کی کہ جو کوئی بھی علم دوست ہو ان کے حلقہ درس میں حاضر ہو سکتا تھا اگرچہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو یہ بات تسلیم شدہ ہے جعفر صادق کے شاگردوں میں سے بعض ایسے بھے تھے جو صابئی تھے اور بعض یورپی محققین جن کے نظریات دائرة المعارف الاسلامی میں ثبت ہیں ۔ نے لکھا ہے کہ جابر بن حیان جو جعفر صادق کے مشہور شاگردوں میں سے ایک تھا وہ صابئی قوم سے تعلق رکھتا تھا ۔ صابئی طلباء جو جعفر صادق کے حلقہ درس میں حاضر ہوتے تھے۔ نہایت ذی فہم ہوتے اور تحصیل علم کیلئے کافی تکالیف اٹھاتے تھے انہوں نے علمی میدان میں خاصی پیش رفت کی ‘ گویا جعفر صادق کا حلقہ درس ان کیلئے ایک ایسی یونیورسٹی بن گیا تھا جس نے صابئی لوگوں کے علم و ثقافت کی بنیاد ڈالی ۔

جب ہم صابئی قوم کی جعفر صادق سے پہلے اور بعد کے دور کی تاریخ کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ موازنہ گویا ظلمت کے ساتھ نور کا موازنہ ہے ۔

امام جعفر صادق سے پہلے صابئی ایک بدوی اور پسماندہ قوم تھے جن کی معلومات بدوؤں کیمعلومات سے زیادہ نہیں ہوتی تھیں ۔ حتی کہ وہ صابئی جو موحد شمار ہوتے تھے ان کی معلومات بھی صحرانشین قبائل سے زیادہ نہیں ہوتی تھیں ۔ لیکن جعفر صادق کے دور کے بعد صابئی قوم ایک ثقافت کی وارث بن گئی اور اس قوم میں اتنے قابل سائنس دان پیدا ہوئے جنہوں نے طب ‘ فزکس و کیمیاء ‘ انجینئرنگ میں ساری دنیا میں نام پیدا کیا اور آج ہم ان کے نام دائرة المعارف جیسی کتابوں میں پڑھتے ہیں ۔

جعفر صادق کی یونیورسٹی کے سبب صابئی پسماندہ قوم ایک متمدن قوم بن گئی اور اس متمدن معاشرے سے ایسے سائنس دان اور ادیب پیدا ہوئے جن کے کارناموں سے دنیا مستفید ہوئی اس کے ساتھ جعفر صادق کی یونیورسآٹی صابئی قوم کے باقی رہنے کا موجب بنی جو قوم اپنے آپ کو نہیں پہچانتی اور اپنی تاریخ سے مطلع نہیں ہوتی اگرچہ اس قوم میں قابل لوگ ہوں لیکن ان کی اپنی ثقافت نہ ہو تو وہ قوم مٹ جاتی ہے ۔

مگر وہ قوم جو تاریخ رکھتی ہو اور اپنے آپ کو پہچانتی ہو اور اس میں قابل افراد بھی پائے جاتے ہوں اور اس کے ساتھ وہ اپنی ثقافت بھی رکھتی ہو تو وہ قوم نہیں مٹتی جس طرح صابئی نہیں مٹے اور ابھی تک باقی ہیں اگرچہ ان کی تعداد پہلے کی مانند نہیں ہے لیکن ابھی تک ان کا کچھ حصہ اپنے قدیم رہائشی قطعات پر زندگی بسر کر رہا ہے۔

شیخ ابوالحسن خرقانی بھی زمحشری اور عطار نیشا پوری کی مانند جعفر صادق کا بہت احترام کرتا ہے اور انہیں اسلامی دنیا میں عرفا کا پیشوا سمجھتا ہے شیخ ابوالحسن خرقانی کو ایک تاریخی محقق بھی تسلیم کر سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے عرفان کی بجیاد کے بارے میں تحقیق کی اور اس بات کا کھوج لگایا کہ عرفان اسلام سے قبل بھی مشرق میں موجود تھا ۔ لیکن وہ اسلام سے قبل ایران میں عرفان کی جڑوں کو نہیں ڈھونڈ سکے ۔

کیونکہ شیخ ابوالحسن خرقانی نے زرد شتی مذہب کے بارے میں زیادہ تحقیق نہیں کی ۔ انہیں ایران میں عرفان کی بنیادیں تلاش کرنے کیلئے زردشتی مذہب کو مد نظر رکھنا چاہیے تھا ۔

آج ہمیں معلوم ہے کہ عرفان اسلام سے پہلے ایران میں چند بنیادوں پر استوار تھا اور ان میں سے دو بنیادیں دوسروں سے زیادہ اہمیت کی حامل تھیں ایک وہ عرفان جو زردشتی مذہب سے وجود میں آیا اور دوسرا وہ عرفان جو مکتب اسکندریہ سے ایران میں پہنچا ۔

شیخ ابوالحسن خرقانی زردشتی مذہب کی بنیاد کے بارے میں زیادہ تحقیق نہیں کر سکے کیونکہ انہوں نے اس مذہب کو درخوراعتنا نہیں سمجھا جبکہ چوتھی صپدی کے دوسرے نصف حصے اور پانچویں صدی ہجری کے نصف حصے کے دوران جو شیخ خرقانی کی زندگی کا حصہ ہے اب تک ایران کے بعض خطوں کے لوگ پہلوی ساسانی زبان میں گفتگو کرتے تھے لیکن مسلمان تھے اور کچھ لوگ جو پہلوی زبان میں گفتگو کرتے تھے اور شیخ کی پیدائش کی جگہ کے نزدیک رہتے تھے یہ محال ہے کہ شیخ نے انہیں نہ دیکھا ہو اور انکی زبان نہ سنی ہو ۔ وہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہب کو اچھی طرح جانتا تھا ۔ لیکن زردشتی مذہب کی ماہیت سے مطلع نہیں تھا ۔ بہر حال اسلام سے قبل عرفان کے بارے میں اس کی تحقیق قابل توجہ ہے ۔

فرانسیسی مستشرقین کی وسیع تحقیقات جو سترھویں صدی عیسوی سے لیکر موجودہ دور تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ ہندوستان کی قدیم کتابوں کا ترجمہ اور خاص طور پر ادویہ کی کتابیں ثابت کرتی ہیں کہ قدیم ادوار میں ہندوستان اور ایران کے درمیان گہرے فکری اور ثقافتی روابط تھے ۔ اور ہر دو ممالک کی ثقافت پر ان روابط کا گہرا اثر تھا ۔ سترھویں صدی عیسوی کے بعد یورپی مستشرقین نے جان لیا کہ زردشتی مذہب میں ہندی افکار بھی پائے جاتے ہیں اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ زردشتی عرفان نسبتا کچھ زیادہ ہی ہندی افکار سے ملتا جلتا ہے ۔

البتہ زردشتی مذہب اور ہندوؤں کا مذہب دو مختلف چیزیں ہیں ۔زردشتی مذہب میں دو خداؤں اور ہندوؤں میں تین کا وجود ان دو میں فرق ڈالتا ہے زردشت مذہب والوں نے جب ہندوؤں کے افکار کو جانلیا تو وہ جہاں بھی ہوتے ہندوؤں کے تین کے تصور سے پرہیز کرتے ۔ انہوں نے اپنے مذہب کی بنیاد دو کے تصور پر رکھی کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ دنیا کی بنیاد اضداد پر رکھی گئی ہے اور ہر چیز کے دو قطب یعنی منفی اور مثبت ہیں ۔

اگر شیخ ابوالحسن خرقانی اسلام سے قبل کے ادوار کے زردشتی اور مکتب اسکندریہ کے عرفان میں فرق کر سکتے تو وہ آسانی سے سمجھ سکتے تھے کہ زردشتی عرفان تین کے تصور سے وجود میں آیا ہے لیکن وہ عرفان جس کی بنیاد امام جعفر صادق نے رکھی وہ توحیدی عرفان ہے اور اس میں دو یا تین کا ذرا بھی تصور نہیں پایا جتا ‘ اور گہرائی میں جائے بغیر ہی یہ عرفان انسان کو تزکیہ نفس اور روح کی بالیدگی کی جانب لے جاتا

ہے یہ اس قدر بلند ہے کہ نہ تو جعفر صادق کے زمانے میں اور نہ از کے بعد عام لوگوں کی اس تک رسائی ہو سکی ہے جبکہ بعد کے ادوار میں عرفان چند مکاتب کا حامل بن گیا لیکن اس کے باوجود بھی جس عرفان کی جعفر صادق نے بنیاد ڈالی تھی وہ عام لوگوں کی دسترس سے باہر رہا ۔

جعفر صادق کا عرفان نہ تو ہندوؤں اور عیسائیوں جیسا تین خدئاوں کا تصور رکھتا ہے نہ ہی زردشتیوں کی مانند دو خداؤں کے تصور پر مبنی ہے اور نہ ہی بعد کے ادوار میں عرفان میں مبالغہ آرائی کی کیفیت سے دو چار ہے۔

بعد میں جب عرفان مکاتب وجود میں آئے تو ان مکاتب کے بعض بانیوں نے عرفانی فکر میں اس قدر مبالغہ سے کام لیا کہ ان پر کفر کے فتوے لگائے گئے اور یہ بھی دیکھا گیا کہ ان کی مبالغہ آرائی کے نتیجے میں ان کے پیروکار تک بھی ان سے منحرف ہو گئے بعض عرفا تو اپنے آپ کو خداوند کے برابر سمجھنے لگے ۔

از زمحشری کی ان سے نفرت بیجا نہیں تھی البتہ زمحشری ‘ امام جعفر صادق اور انکے پیروکاروں کے علاوہ دوسرے عرفاء سیبھی نفرت کرتا تھا ۔ مرتضی فرہنگ جو ایران کے دانشوروں میں سے ایک ہے ۔ کا کہنا ہے کہ بعض کا عرفان میں نے ایک ایسے پتھر سے زیادہ پایا جو کسی کو نقصان نہ پہنچا سکے ۔ لیکن خود مرتضی فرہنگ بھی عرفانی ذوق رکھتا تھا اس نے اپنی بعض تصانیف میں عرفان کا دفاع بھی کیا ہے لیکن جعفر صادق کا عرفان مبالغے سے مبرا تھا نہ صرف یہ کہ شیعہ مذہب کے عرفا نے اس کی پیروی کی بلکہ اہل سنت و جماعت کے عرفا کے ایک گروہ نے جعفر صادق سے عرفان کا درس حاصل کیا حتی کہ جعفر صادق کے دو سو سال گزر جانے کے بعد عباسی خلفاء کے مرکز بغداد میں سنی المذہب جعفر صادق کی پیروی کرتے تھے ۔اسلام میں عرفان کا یہ بانی ایک عباسی خلیفہ کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا ۔

جعفر صادق کا عرفان ‘ خداوند تعالی پر توکل اور اس کے احکامات کی پروی ہے آپ نے اس کے ساتھ ساتھ دنیوی امور میں بھی غفلت نہیں برتی تاکہ زندگی کا نظم و ضبط تعطل کا شکار نہ ہو ۔ " عطار نیشا پوری " تذکرة الاولیاء میں لکھتا ہے کہ با یزید بسطامی تیس سال تک بڑے بڑے عرفا کی حضور میں حاضری کیلئے بیابانوں میں ٹھوکریں کھاتا اور بھوک برداشت کرتا رہا ۔ آخر کار وہ جعفر صادق کے حضور میں حاضر ہوا اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ جعفر صادق با یزید کے ترک دنیا پر اور تیس سال بیابان میں بھوک برداشت کرنے پر خوش نہیں ہیں اگر با یزید بسطامی کی جعفر صادق کے حضور میں حاضر ہونے کی روایت صحیح ہے تو عرفان کے بانی نے اسے ضرور تنبیہہ کی ہو گیاور کہا ہو گا کہ کیوں تیس سال زندگی بیابانوں میں بسر کی اور بیوی فرزندوں کے بارے میں اپنے فرائض سے غافل رہے کیونکہ جعفر صادق عرفان دنیا کے ترک کرنے کے حق میں نہیں اور کہتا ہے کہ ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے دنیوی امور کو اخروی امور کے ساتھ منظم کرے ۔

جعفر صادق کے بعد عرفانی مکاتب نے انا للہ و انا الیہ راجعون سے یہ مراد لیا ہے کہ آدمی مرنے کے بعد خدا سے وابستہ ہو جاتا ہیا ور خدا بن جاتا ہے وہ زندگی کے دوران خدا کیوں نہیں بن سکتا مرنے کے بعد آدمی کے خدا بن جانے کے عقیدے سے یہ نظریہ پیدا ہوا کہ چونکہ آدمی خدا بن کر زندہ جاوید اور تمام چیزوں سے آگاہ ہو جاتا ہے لہذا اس دنیا کے حالات کو اچھی طرح دیکھ سکتا ہے وہ اپنے قرابت داروں کو دیکھتا اور انکی مشکلات کو حل کر سکتا ہے ۔ مرنے کے بعد زندگی کا عقیدہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ یہ عقیدہ تمام قدیم مذاہب میں پایا جاتا ہے ہم گذشتہ مذاہب میں سے دو مذاہب کے عالوہ کسی تیسری مذہب کو نہیں پاتے جس میں مرنے کے بعد زندگی کا تصور نہ ہو ۔ حتی کہ وہ مذاہب جن میں مردے کو جلاتے اور اس کے باقیات دریا میں بہاد دیتے تھے ۔ ان کا بھی عقیدہ تھا کہ وہ مردہ دوسری دنیا میں زندہ ہے صرف مانوی مذہب اور باطنی فرقہ جو اسماعیلی فرقے کی ایک شاخ ہے ان دو کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد آدمی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جاتا ہے ان دونوں کے پیروکار آخرت پر بھی ایمان نہیں رکھتے تھے ۔

لیکن حسن بن صباح کے بعد باطنی فرقے کے پیشوا متوجہ ہوئے کہ ان کے پیروکاروں کو مرنے کے بعد معاد کی زندگی جزا اور سزا کا معتقد ہونا چاہیے ۔ تاکہ وہ ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک پولیس ہو جو اسے برے کاموں کے ارتکاب سے منع کرے ان دونوں فرقوں کے علاوہ تمام ادیان میں وحدانی یا باطنی پولیس کا وجود موجود تھا اور وہ معاد کے قائل تھے ۔

ان میں سے بعض میں مثلا قدیم مصر میں عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد انسان کے اعمال کی جزاو سزا ملنا شروع ہو جاتی ہے اور بعض میں ان کی زندگی کی موت اور اس دوسری دنیا میں اعمال کی سزا و جزا میں فاصلہ پایا جاتا ہے یہاں تک کہ وحشی قبائل میں بھی مرنے کے بعد کی زندگی کا عقیدہ موجود ہے ۔ اور وہ بھی اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہوتا ۔

ڈاکٹر لای وینک اسٹون جو دریائے نیل کے منابع کا دریافت کرنے والا ہے جس نے انیسویں صدی عیسوی میں اپنے سیاحت نامیا ور انکشافات کے مجموعے کو انگلستان کی شاہی حکومت کی جغرافیہ کی تنظم کو تحفتہ پیش کیا جتنے عرصہ وہ مرکزی افریقہ میں رہا ‘ وہ ہر قبیلہ میں گیا اور اس نے مشاہدہ کیا کہ قبائل کے لوگ اپنے مردہ اجداد کی زندگی کے معتقد ہیں اور ان میں بعض قبیلے امور زندگی میں اپنے مردہ اجداد کے ارادہ کو موثر سمجھتے ہیں ۔ اور افریقہ کے قابل میں سے کچھ لای وینک اسٹون نے مرکزی افریقہ میں دیکھا اور سنا اور اسی طرح دوسری لوگوں نے دوسری علاقوں میں مشاہدہ کیا کہ کوئی قبیلہ جتنا پسماندہ ہو گا اس کا عقیدہ مرنے کے بعد کی زندگی کے بارے میں اتنا ہی پختہ ہو گا اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جو قومیں ترقی یافتہ اور متمدن ہیں ان میں موت کے بعد کی زندگی کا نظریہ نہیں پایا جاتا بلکہ آج ایک امریکی اور فرانسیسی بھی موت کے بعد زندگی کا قائل ہے لیکن اس کا عقیدہ سیاہ فام سے مختلف ہے ۔

سیام فام اس بات کا قائل ہے کہ موت کے بعد کی زندگی اور اس دنیا کی زندگی میں ذرا بھی فرق نہیں ہو گا جبکہ ایک امریکی یا فرانسیسی یہ گمان کرتا ہے کہ موت کے بعد کی زندگی میں بھی وہ اسی طرح غذا کھائے گا ‘ لباس پہنے گا اور پکچر دیکھنے کیلئے سینما جائے گا اسی لئے بعض مفکرین کہتے ہیں کہ موت کے بعد زندگی کا عقیدہ انسان کے فطری عقائد میں سے ایک ہے اگرچہ بیالوجی کے مظاہر اور اعضائے انسانی کے ٹائم ٹیبل کے نظام سے اس کا کوئی تعلق نہین مثلا جیسا کہ بھوک اور پیاس جانداروں کی زندگی کا خاصہ ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.