اسلامی اقتصاد میں اعتدال

480

اسلامی اقتصاد میں اعتدال

         ہماری اقتصاد کے متعلق عدالت اجتماعی کے حوالہ سے بحث جاری تھی ، میں اب تک تین بنیادی مسائل بیان کر چکا ہوں۔
اسلام کے اقتصاد میں اعتدال کے بارے میں متعدد پہلو ہیں میں اس کے ہر پہلو پر مختصر روشنی ڈالوںگا،میںنے عرض کیا تھاکہ اسلام زیادہ سے زیادہ تولید کے حق میں ہے البتہ فقر اور زیادہ مال ودلت کو پسند نہیں کرتا، اسلام یہ چاہتاہے کہ ہمار ے پاس اپنی ضروریات کے مطابق مال ودولت ہونا چاہئیے ۔
زیادہ تولید اور مصرف میں اعتدال
میری تیسری فصل کی بحث مصرف کے متعلق تھی ،میں نے ذکر کیا تھا کہ اسلام میںنہ ریاضت مطلوب ہے اور نہ اسراف و فضول خرچی کو اسلام پسند کرتا ہے۔آج کے خطبہ میںان تین فصلوں کی جمع بندی کے ساتھ ساتھ ،مصرف کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں آئندہ ہفتہ ایک دوسری بحث شروع کروںگا کہ معاشرے کو اقتصادی لحاظ سے کس طرح کنٹرول کیا جائے،ا س طرح ہم اس بحث کے اختتام تک پہنچ جائیں گے۔اسلام کے اقتصادی معاشرہ میں ہمارا اصلی ہدف یہ ہے کہ ہم تولید میں اضافہ کریں اور اپنے مصار ف میں اعتدال سے کام لیں یہی معاشرے کے لئے اسلام کا اقتصادی ہدف ہے ۔
تولید ،توزیع ،اور خدمات میں ہمارا ہدف
        یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ مختلف اقتصادی پہلوؤں کی تلاش کی جائے اگر ہم نے صحیح راہ تلاش کر لی تو یہ تمام کوشش مفید ثابت ہوگی اور اگرغلط ہدف کی طرف چل دیئے تو اقتصادی اقدامات کا نتیجہ الٹ ہو جائے گا۔ہماری ریاضت بے کار ہو جائے گی تولیدی ا و ر توزیعی کوشش بھی ناکام ہو جائے گی،ہم ایک ناکام راہ کے مسافر ہوں گے اور انفرادی طور پر بھی ہمیں کامیابی نصیب نہ ہوگی اور معاشرہ بھی ایک نامکمل اقتصادی نظام کا شکار ہو جائے گا۔
اسلام کی نظر میں دنیا اور آخرت
  ہمارے پاس دنیا اور آخرت کے متعلق روایات کی خاصی تعداد موجود ہے جس میں دنیا کی مذمت اور آخرت کی مدح کی گئی ہے یہ روایات اجتماعی اورانفرادی کوششوں کا خلاصہ ہیں۔آسمانی نشانیوں میں تمل کے ساتھ ،اسلامی معارف کے ذریعہ،ہم واضح طور پر جہت دار اقتصاد کو تلاش کر سکتے ہیں،البتہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا دنیا کی مذمت، اور کام کرنے کا شوق دلانے والی روایات کے درمیان کوئی تعارض تو نہیں ہے ۔
           ان باتوں کو اچھی طرح بیان نہیں کیا جاتا ، بعض کہنے اور لکھنے والے صرف ایک پہلو کو لیتے ہیں،شائد ان کی بات تصوف اور ریاضت کی حد تک ہو۔ ان باتوں پر عمل کوتاہ نظری کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ،اسی طرح آخرت کے متعلق ان کی باتیں بھی اس طرح ہیں کہ دنیا اور آخرت کا آپس میں کوئی ربط اور تعلق نہیں ہے ۔
          میرے خیال میں( البتہ یہ میرا ذاتی خیال نہیں ہے ، میں نے تو اسلام کے بزرگ دانشوروں سے استفادہ کیا ہے ) اسلام میں دنیا اور آخرت آپس میں جدا، جدا نہیں ہیںانسان پیدائش سے لے کر موت تک ایک زندگی کا مالک ہے اصولی طور پر زندگی اور موت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھنا چاہے ۔
  دنیا کی بدی ہماری روح میںہے
دنیا کی حقارت ہماری روح میں مضمر ہے انسان ایک اچھے ہدف کا انتخاب کرے، خدا اور حقیقت کو ہدف سمجھے تو جو قدم بھی اٹھاے گا وہ آخرت کے لئے ہو گادنیا سے اس کا کوئی ربط نہیں ہو گا ۔
          آیا دنیا کا معنی ( دنو ) سے لیا گیا ہے جس کا معنی قرب ہے اور یہ ہماری زندگی کا پہلا حصہ ہے یا لفظ دنیا (دنی ) سے ماخوذ ہے جس کا معنی پستی ہے دونوں معانی کے لئے دو اعتبار ممکن ہیں۔بہت سے کاموں کا دنیاوی مشکلات کے ساتھ آخرت کے لئے انجام دیناممکن ہے کئی کام اس دنیا کے لئے پست ہیں ،لیکن انہیں آخرت کے لئے انجام دیا جاتا ہے۔
          ایسا شخص جو خدا کے لئے کام کرتا ہے ، اب اگروہ دن رات کارخانے میں رہ کر کام کرتا ہے ،کافی مال بھی کما لیتا ہے اب اگر دنیا کی اقتصادی طاقت بھی اس کے ہاتھ لگ جائے تو بھی اسے دنیا دارنہیں کہیںگے بلکہ یہ آخرت کا طالب ہے۔
           اس کے مقابلہ میں وہ شخص جو خود خواہ اور خودفروش ہے وہ دن رات مسجد کا بن کر ہی کیوں نہ بیٹھ جائے اور اس قدر ریاضت میں مشغول ہو جائے کہ اس کا تمام بدن آنسوؤں کی صورت میں آنکھوں سے بہہ جائے اور چل پھر بھی نہ سکے تب بھی وہ دنیا پرست ہے اور وہ روز بروز اللہ سے دور ہوتا جائے گا۔
          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ایک صحابی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ میرے وجود میں دنیاوی کاموں کی محبت موجود ہے ، میں یہ چاہتاہوںکہ ہمیشہ کام کر کے پیسہ کماتا رہوں۔
          امام علیہ السلام نے پوچھا، اتنا مال کیوں کمانا چاہتے ہو؟
         اس نے کہا ، میںچاہتا ہوں کہ ہم اچھی زندگی گزاریں، ہمارے بچے آرام و سکون کی زندگی بسرکرسکیں ،ہم اپنے ہمسایوں اور فقرا کی مدد کرنا چاہتے ہیں،اور میں مکہ عمرہ کے لئے جانا چاہتا ہوں۔
        حضرت نے ارشاد فرمایا
        ھذا لیس طلب الدنیا ،ھذا طلب الاخرة۔
       تم تو آخرت کے متلاشی ہو۔
 اس کے مقابلے میں ایسے لوگ ہیں جنھوں نے اپنی زندگی گرجا گھروں میں گزاردی۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنھوںنے اپنی پیشانیاںسجدہ گاہ پر رگڑ رگڑ کر سیاہ کر لی ہیںتاکہ انہیں اس دنیا کا مخالف تصور کیا جائے ،ایسا کام نہ دنیا ہے اور نہ آخرت ہے ۔
   معصوم علیہ السلام کا فرمان ہے
  من طلب الدنیا استعفافامن الناس و سیبا علی جارہ۔
   ایک اور روایت اس طرح ہے
    تعطفا علی جارہ،و سیبا علی اھلہ۔
  تیسری روایت کا مضمون اس طرح ہے
    لقی اللہ تعالی یوم القیمة و وجھہ لیلة البدر۔
     جو شخص اپنے اور اپنے خاندان کے لئے مال ودولت جمع کرے کہ اس سے اچھی زندگی بسر کر سکے ،اپنے ہمسائیوں کی مدد کر سکے ، ایسا شخص جب قیامت والے دن اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہا ہو گا،اس طرح کی زندگی دنیاداری نہیں ہے بلکہ یہ آخرت ہے۔جس شخص کا کوئی ہدف ہے وہ دنیادار نہیں ہے امام خمینی نے اس روایت پر بہت زور دیا تھا
   حب الدنیا راس کل خطیئة۔
      دنیا کی محبت ہر گناہ کی بنیاد ہے، یعنی بدبختی کا موجب بننے والی ہر چیز دنیا کی محبت ہے ۔
نامناسب ہدف
         مادی مسائل سے دل لگانے والا شخص نا مناسب ہدف کی طرف چل رہا ہے جو دنیا کو اس دنیا کے لئے چاہے اورمال ودولت کو مال ودولت کی چاہت میں جمع کرے نیز دنیا کو طاقت کے بل بوتے پر حاصل کرنے والا سب سے بد ترین شخص ہے۔
        دنیا کے بڑے ممالک کا یہی سب سے بڑا ہدف ہے لہذاہمیں تولید اور دوسرے اہم کاموں میںصحیح راہ کا انتخاب کرناچاہئیے کیونکہ اسی ہدف سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ۔
         اسی بد بختیمیں بنی صدر،رجوی ،بختیار، اویسی اوران جیسے دوسرے لوگ مبتلا ہوئے،یہ اس غلط راستہ کا نتیجہ ہے جس کاانہوں نے خود انتخاب کیا تھا۔ مسلمانوں نے جو یہ صحیح راہ کا انتخاب کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عرصہ جنگ میں تھے ۔
انسان کے عمل کا اصلی نقطہ
  مشہور روایت ہے ۔
          نیت المومن خیر من عملہ
           اس روایت کے متعلق بحث ہوگی کہ کس طرح مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے اس مقام پر صرف اتنا کہنا کافی ہے ،چو نکہ مومن کے عمل کی ایک اہمیت ہے، روح روایت یہ ہے کہ عمل کا مرکزی نقطہ وہ نیت ہے جس کی وجہ سے اس نے عمل انجام دیا ہے ۔
          انسان کے عمل کا اصلی نقطہ اس کی نیت ہے اس وقت عمل ہی بہت سی چیزوں کا وسیلہ بن جاتا ہے اچھے کاموں کا تعین اسکی نیت اورعمدہ ہدف سے ہوتی ہے اسلام بھی ہم سے اسی کا مطالبہ کرتا ہے لیکن اسلام کی نظر اس سے کہیں وسیع ہے ۔
          من لا معاش لہ لا معاد لہ۔
          جس کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے اس کے لئے قیامت میں کوئی اجر نہیں ہے ۔اور فرمایا
          کن فی الدنیا کانک تعیش ابدا و کن للاخرةکانک تموت غدا لیس منا من ترک الدنیا لاخرتہ او اخرتہ لدنیا۔
          تمہاری دنیا اس طرح ہو کہ تمہیں ایک لمبے عرصے کے لئے یہاں رہنا ہے اور آخرت اس طرح ہو ،گویا کل ہی تمہیں رخت سفر باندھنا ہے ،جس نے دنیا کو آخرت کے لئے چھوڑ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ اسی طرح جس نے آخرت کودنیا کے لئے ترک کر دیا اس کا بھی ہم سے کوئی واسطہ نہیں ہے ، اگر انسان کی زندگی ایک مناسب انداز میں ہو تو اس کی ابتدا اور انتہا معین ہو جاتی ہے ۔
اسلام، دین زندگی 
          اسلام ،زندگی کا دین ہے ، موت کا دین نہیں ہے اب وہ زمانہ نہیں رہا جب یہ گمان کیا جاتا تھا کہ قرآن صرف قبرستان ، بچوںکی پیدائش ا ور شادی بیاہ کے لئے ہے حالانکہ قرآن زندگی کے تمام اصول لے کر آیا ہے ۔
           اسلام ہر چیز کو اپنی جگہ ضروری سمجھتاہے جہاد،تولید،درس و تدریس ،کام،تفریح ا ور ہر وہ چیز جو اللہ نے انسان کے لئے خلق فرمائی ہے سب کو اسلامی معاشرے کالازمی جزو شمار کرتا ہے۔
          حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی جنگ کے موقع پر اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے اصحاب نے دور سے ایک طاقتور شخص کو آتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے۔
          حبذا لو کان جلدہ فی سبیل اللہ۔
          کیا ہی خوب ہوتا کہ یہ جنگ میں شریک ہو تا۔
          اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ جنگ تھا ،اس وقت جنگ بھی بازئوئوں کے زور پر تلواروں اور نیزوں کے ساتھ لڑی جاتی تھی حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔
          لو کان جلدہ فی استغناء نفسہ ولو کان جلدہ فی سیب اھلہ۔
          اگر کوئی شخص اپنی طاقت کو اپنے خاندان کی بہتری ،تولید میں اضافہ، اور ہمسائیوںسے اچھے سلوک میں استعمال کرے یہ سب اللہ کی راہ میں جہاد ہے یعنی حضرت کی نظر میں ہر وہ کام جو معاشرے کی اصلاح کے لئے ہوتا ہے وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے ایک فوجی کی نظر میں سب سے اہم مقام میدان جنگ ہے۔
فنون کا سیکھنا واجب ہے
          کتاب مکاسب کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ایسے تمام فنون جو معاشرے کے لئے ضروری ہیں ان کا سیکھنا واجب کفائی ہے ،لہذا ہر وہ کام جس کی ہمارے ملک کو ضرورت ہے ان تمام کاموں کاسیکھنا ہمارے لئے واجب ہے اور انہیںنہ سیکھنا گناہ ہے البتہ اگر کوئی ایک شخص اس فن کو سیکھ لے تو باقی لوگوںکی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔

          اگر آج ہمیںکسی مشینری کی ضرورت ہے تو ہمارے انجینئروںپر ایک مسلمان ہونے کے ناطے واجب ہے کہ اس کے متعلق فکر کریں تاجروں کے لئے ضروری ہے کہ اس کے لوازمات مہیا کر یںاور ہمارے مزدوروںپر لازم ہے کہ وہ کام کریں اور حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ سرمایہ فراہم کرے۔

           اگر ہمارے پاس گندم نہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی زمینوں کو آباد کریں ہر وہ شے یا فن جس کی اس ملک کو ضرورت ہے اسے انجام دینا واجب کفائی ہے اور علماء کا فتویٰ بھی یہی ہے،واجب کفائی کی تعریف بھی یہی ہے کہ یہ کام ہم سب لوگوںکی ذمہ داری میں شامل ہیں البتہ جب بعض لوگ یہ کام شروع کر دیں تو باقی لوگوں پر واجب نہیں رہتا ۔

فن اور ہدف

          حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرح ایک مجاہد کو دوست رکھتے ہیں اسی طرح کام کرنے والے کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں   

          ان اللہ یحب العبد المحترف۔
         خدا وند عالم کام کرنے والے انسان کو دوست رکھتا ہے ۔
 حتی ٰکہ کراٹے سیکھنا بھی ایک کام ہے (اگرچہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ درست نہیں ہے )اللہ اس کے کام کرنے والے کو بھی دوست رکھتا ہے ۔
          خدا وند متعال مجاہد ،متقی ،اور ہر محسن انسان کو دوست رکھتا ہے کیونکہ یہ افراد اسلامی معاشرے میں مختلف دردوں کی دوا ہیں لیکن ہر فن کے لئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی نیک ہدف ہوناچاہئیے۔

           اگر کسی کے پاس کوئی فن ہے اور وہ اسے غلط کاموں میں استعمال کرتا ہے ،اس کی وجہ سے اسراف ،شہوت اور اس جیسے دوسرے غلط کاموں میں اپنی توانائیاں صرف کرتا ہے تو وہ شخص گناہ گار ہے اور اگر یہی کام دفاعی اور نیک کاموں میں شامل کرے تو وہ ایک عظیم کام شمار ہوگا۔

          جو انسان اس بلند مقام تک پہنچ جائے اسے یہ سب کچھ مد نظر رکھناچاہئیے میانہ روی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے،یہ نہ ہو کہ ایک طرف حد سے بڑھ جائے اور دوسری طرف حد سے گر جائے اسلام حقائق، ضروریات زندگی اور مفید کاموں پر بہت زور دیتا ہے ۔
درخت لگانا
   یہ شجر کاری کا ہفتہ ہے اس سلسلے میں بہت سی روایات بھی وارد ہوئی ہیں حضرت امیر المؤ منین علی ابن ابی طالب علیہ السلام مدینہ میں سب سے زیادہ درخت لگانے والی ہستی ہیں اس وقت بھی آپ کے ہاتھوں سے لگائے کھجور کے درخت موجود ہیں ان کے علاوہ بہت سے درخت کاٹ دیئے گئے ہیں اور ان کی جگہ پر اور درخت لگائے گئے ہیں۔
          آپ بہت سے چشموں کو بھی وجود میں لائے،جن پچیس سالوں میں آپ کو ظاہری حکومت سے دور رکھا گیا ،آپ نے اس عرصہ میں مسلسل کام کیا راوی کہتا ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ سامان اٹھا کر لے جا رہے ہیں،اس وقت میں نے عرض کی آقا یہ کیا ہے ۔آپ نے فرمایا یہ ایک لاکھ کھجور ہیں اس کے بعد آپ نے ان تمام کو کاشت کیا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد ہم نے دیکھا کہ یہ سب سر سبز پودوں میں بدل گئے ہیں ۔
      حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کے لوگوں سے ارشاد فرماتے ہیں۔
          من سقا طلحة او سدرة فکانما سقا مؤمنا ظلمائ۔
          جو شخص کسی درخت کو پانی دے وہ اس طرح ہے کہ اس نے کسی تشنئہ مومن کو سیراب کیا ہے ۔
          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔

          الفلاحون(الزراعون) ھم کنوزاللہ فی ارضہ۔
          کاشتکاری کرو ،یہ تو زمین میں پوشیدہ اللہ کے خزانے ہیں۔
          اس کے ساتھ ہی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی زراعت کے علاوہ کسی او رپیشہ کو دوست نہیں رکھتا،جب تک زندہ ہوںکاشتکاری کرتا رہوں گا۔
درخت باعث برکت ہیں
           یقینا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کس قدر پانی ضائع ہوتا ہے ،کئی کئی کلو میٹر تک پانی زمین کو گھیرے رکھتا ہے اگر ہم فقط لکڑیاں پیدا کرنے کے لئے ہی درخت کاشت کر لیتے تو ہمارے پاس اس کا بہت بڑا ذخیرہ محفوظ ہو جاتا،یہی وجہ ہے کہ درخت کا وجود سراسر خیر وبرکت ہے ۔
          ہر درخت ،دن مہینے ،اور سال میں ترقی کرتا ہے ،ہر سال اس کاوزن پانچ کلو بڑھ جاتا ہے ، جس قدر درخت ہمارے پاس زیادہ ہوںگے ہم اسی قدر زیادہ پیدا وار حاصل کر سکیں گے،اس کے پتے ،پھول، اور سایہ وغیرہ یعنی درخت مکمل طور پر فائدہ مند ہیں۔
          انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ایران جیسا ملک جس کے پاس پانی جیسی دولت موجود ہو اور وہ اس سے بہرہ مند نہ ہو، میں بہت سے ایسے دیہاتوں میں گیا ہوں جہاں مجھے ایک درخت بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔
          اگر ہر شخص ایک ایک درخت لگا لے تو نہ معلوم کتنی بڑی دولت ہاتھ لگ جائے نجانے ہم اتنی اہم عبادت کیوں انجام نہیں دیتے؟۔ہمیںچاہیے کہ ایک درخت ہی کاشت کر لیں ہر روز وہ جتنا بڑا ہو گا ہمارے معاشرے کے لئے اتنا خیر وبرکت کا موجب بنے گا،ہم ہوںیا نہ ہوںیہ اپنی برکتیں بانٹتا رہے گا ۔
          ہمارے پاس سولہ ملین ایکڑ جنگل موجود ہیں کہ جن میں سے تین چار ملین تجاری اور باقی آزاد ہیں،آزاد جنگل جتنی زیادہ لکڑی پیدا کریں گے، ہمارے لئے خیروبرکت ہے تجارتی جنگل بھی معاشرے کے لئے مفید ہیں۔
ایک ملین ایکڑ زمینوںکی بربادی
          شاہ کے آخری دور میں تقریبا ایک ملین ایکڑ جنگل کو ضائع کیا گیا، بہت سی زمینیں فوجی افسروںمیں بانٹ دی گئی تھیںتاکہ وہ اس سے استفادہ کریں،یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی لہذا ان درختوںکو کاٹنے کی اجازت دینا کوئی عقل مندی بھی نہیں ہے کیونکہ ان درختوں کی ہر ہر چیز خیر وبرکت کا پیش خیمہ ہے ،اس کے پتے محیط زیست کو زندگی فراہم کرتے ہیں۔
          اگر ہم بامقصدزندگی بسرکریں، عبادت سمجھ کر اس کام کو آگے بڑھائیں تو ہم کسی کے محتاج نہیں رہیںگے ۔
           اگرہم اسلامی روایات پر ہی عمل کر لیتے تب بھی ہم اس کے محتاج نہ رہتے کہ غذائی مواد کسی اور ملک سے منگواتے،جبکہ ہمارے پاس ایسے علاقے موجود ہیں جہاں غربت ہے جیسے جیرفت ایک غریب علاقہ ہے کہ جسے چھوٹابھارت کہہ سکتے ہیں،اسی طرح کھنوج جیسی جگہ بھی موجود ہے جو تنہا پورے ملک کو غلہ فراہم کر سکتی ہے ۔
          میںنے جب صوبہ خوزستان کا دورہ کیا تو وہاں کے ماہرین نے بتایاکہ ہم اس علاقہ میں دس ملین ٹن چینی پیداکر سکتے ہیںیعنی ملکی ضرورت کے دس برابرچینی ہم صرف اسی علاقے سے حاصل کر سکتے ہیں۔
          یہ کتنی بڑی نعمت ہے اور کام کرنے کے بہت سے مواقع بھی اس سے فراھم ہوتے ہیں اسی طرح کاغذ کی صنعت ،حیوانات کی خوراک ،اور بہت سی لکڑیاں جنگل کی وجہ سے ہمیں میسر ہوتی ہیں ۔
اسلامی راستہ ہی بہترین زندگی ہے۔
          اگر لوگ اسلامی روح کو مد نظر رکھ کر غورو فکر کریں ،عبادت سمجھ کراس راستے پرچل پڑیں اور آخرت کیلئے کام کریں تو یہی    ان کے تمام مسائل کاحل ہے۔افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری اس طرح تربیت نہیں ہوئی۔
           گذشتہ دور میں مسلمان صوفیانہ طرز تفکر سے زندگی گذارتے تھے ان کے خیال میں دنیا آخرت سے جدا تھی اور بعض لوگ دنیا دار تھے یہ لوگ دنیا کی طلب میں لگے ہوئے تھے۔ یہ لوگ اجنبی ، عیاش ، اور غلط قسم کے لوگوں کیلئے بہت مفید تھے    ان کے ذریعے تولید بھی ہو جا یا کرتی تھی لیکن یہ معاشرہ کے لئے صحیح راستہ نہ تھا، اسلامی طرز تفکر کوان کی روش نے ہی صحیح راہ پرنہ چلنے دیا۔
          اگر ہما ر ی زندگی میں اسلامی اعتقادات حاکم ہوں تو ہم مفید زندگی گذار سکتے ہیں اور ہماری وضع قطع بھی اچھی ہو سکتی ہے یہ انتہائی غلط روش ہے کہ ہم صرف ریاضت میں مصروف رہ جائیں اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسلام ایسی چیزوں کو پسند نہیں کرتا ۔جب شارع مسلمانوں کو حالت فقر میں اورغیر مسلموں کو خوش حالی میں دیکھتا ہے اس کا دل خون ہو جاتا ہے ۔اس خطبہ کے آغاز میں ، سورہ فرقان کی جس آیت کی تلاوت کی گئی ہے وہ بھی مصرف میں اعتدال کو بیان کر رہی ہے ارشاد رب العزت ہے
          والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذلک قواما۔(١)
         اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں، تو وہ نہ فضول خرچ ہیں اور نہ بخیل۔بلکہ وہ اوسط درجے کا خرچ کرتے ہیں۔
(١)فرقان:٦٧

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.