آفاقی انقلاب میں سنت الٰہی کاکردار

251

آفاقی انقلاب میں سنت الٰہی اور غیبی امداد کاکردار

ظالموں ،کافروں اور لوگوں کی گردنوں پر مسلط جاہلی حکومتوں اور نظاموں کے مقابلہ میں ایسا انقلاب غیبی امدا داور خدا وندعالم کی تائید کے بغیر کسی طرح بھی کامیاب نہیں ہو سکتاچنانچہ روایات میں اس الٰہی امداداور اس کے انداز کا واضح تذکرہ موجود ہے۔
البتہ الٰہی امدا دتصویر کا صرف ایک رخ ہے جب کہ اس کا دوسرا رخ تاریخ میں ایسے ہمہ گیر انقلاب کے آغاز، نشوونما اور اس کے تکمیل تک پہنچنے میں الٰہی سنتوں کیا کردار ہے؟اور الٰہی سنتوں میں کوئی تغیر وتبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
< سُنَّةَ اللهِ فِی الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِیلًا > ( ۱)
سنت الٰہی اورامدادکے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے ۔اس انقلاب کی حیثیت اور اہمیت وہی ہے جو رسول اللہ کی دعوت توحید کی حیثیت اور اہمیت تھی ،کیونکہ آنحضرت نے جو تحریک شروع کی تھی اس کا مقصد لوگوں کو توحید کے راستہ پر لگانا تھا یہی وجہ تھی کہ اس تحریک کو ہر مرحلہ پر غیبی تائید اورا مداد الٰہی حاصل رہی۔حتی کہ خداوندعالم نے بہادری کا نشان لئے ہوئے صف بستہ ملائکہ ،ہوااور نہ دکھائی دینے والے لشکر نیزدشمن کے دل میں رعب ودبدبہ کے ذریعہ آپ کی نصرت کی ہے لیکن اس کے باوجود خداوندعالم نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا ہے کہ اس دائمی معرکہ آرائی کے لئے آپ خود بھی قوت وطاقت اور افراد فراہم کریں :< وَاٴَعِدُّوا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ>(۲)
اور یہ معرکہ تاریخ او ر سماج میں قائم الٰہی سنتوں کے مطابق پورا ہوا جس کی وجہ سے کبھی رسول اللہکو اپنے دشمنوں پر فتح حاصل ہوئی اور کبھی کبھی اس کے برعکس آپ کے لشکر کو ہزیمت کاسامنا کرنا پڑا ۔آپ اس معرکہ آرائی میں فوج ،مال اور اسلحوں کا باقاعدہ استعمال کرتے تھے اورباقاعدہ جنگی حکمت عملی تیارکرتے تھے اور جنگ کے نئے نئے طریقوں کا اچانک استعمال کر کے دشمن کو حیرت زدہ کردیتے تھے اسی طرح وقت اور جگہ کے اعتبار سے بھی دشمن کو غیر متوقع ہنگامی صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔بلا شبہہ خدا نے اپنے رسول کی مدد کی لیکن ان تمام چیز وں اور خدا کی طرف سے اپنے رسول کی غیبی نصرت وامداد کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اور یہ ایک ہی تصویر کے دورخ ہیں۔
آپ کے فرزند کا عالمی انقلاب آپ کی دعوت توحید اورانقلاب سے جدا نہیں ہے جس کی قیادت آپ نے خداوندعالم کے حکم سے کی تھی۔
وہ الٰہی سنیتیں جن کاوجوداس عالمی انقلاب کے لئے ضروری ہے ان میں سے ایک، ظہور امام سے پہلے اس ظہورکی تیاری اور اس کے لئے زمین ہموار کرنا ہے اور جب آپ کا ظہور ہوتو اس وقت ناصروں و مددگاروں کا وجوداور آپ کی نصرت اس میں شامل ہے۔کیونکہ جب تک ایسی تیاری نہ ہوگی اور اس کے لئے زمین ہموارنہیں ہوگی تب تک تاریخ انسانیت کا اتنا عظیم انقلاب کامیاب نہیں ہو سکتا ہے۔
لہٰذا اب ہم ان دونوں قسموں کی روایتوں کا تذکرہ کرتے ہیں جن میں سے پہلی قسم ”ظہور کی تیاری اور اس کی راہ ہموار“کرنے کے بارے میں اور دوسرے قسم کی روایات ”انصار اور نصرت“کے بارے میں ہیں اور اس کے بعد ان کے بارے میں غوروفکر کریں گے ،انشاء اللہ ۔
پہلی قسم کی روایتیں ظہور امام کی راہ ہموار کرنے والوں کے بارے میں ہیں اور یہ وہ جماعت ہے کہ جو ظہور امام کے لئے اقوام عالم اور کائنات کو آپ کی عالمی حکومت کے لئے تیار کرے گی۔لہٰذا یہ جماعت فطری طور پر امام کے ظہور سے پہلے ہوگی۔
جب کہ دوسری قسم کی روایات ”انصار “ کے بارے میں ہیں او ریہ وہ جماعت ہے جن کو ساتھ لے کر امام قیام فرمائیں گے اور ان کے ہمراہ ظالموں کے خلاف انقلاب برپا کریں گے اس طرح ہمارے سامنے دو قسم کی جماعتیں ہیں:
(۱) ظہور کی”راہ ہموار کرنے والوں کی جماعت“جو ظہور امام کے لئے حالات استوار کریں گے۔
(۲) ”انصار کی جماعت“جن لوگوں کے ساتھ امام قیام فرمائیں گے اور ان ہی کے تعاون سے ظالموں کے خلاف انقلاب برپا کریں گے ۔اب ہم ان دونوں قسم کی روایات کا جائزہ لیتے ہیں ۔
روایات میں ظہور کی راہ ہموارکرنے والی جماعت کا تذکرہ
شیعہ و سنی دونوں مکاتب فکر کے یہاں ایسی روایات بکثرت موجود ہیں جن میں امام کے ظہور کی راہ ہموار کرنے والی جماعتوں کا تذکرہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان روایتوں میں صراحت کے ساتھ ان جماعتوں کے علاقوں کا تذکرہ بھی موجود ہے جن میں سے کچھ اہم علاقے یہ ہیں:مشرق وخراسان(بظاہر مشرق سے مراد خراسان ہی ہے) قم ، رے،یمن،اب ان جماعتوں اور ان کے علاقوں کی نشاندہی کرنے والی روایات ملاحظہ فرمائیں:
۱۔مشرق میں ظہور کی راہ ہموار کرنے والی جماعت
حاکم نے مستدرک میں عبداللہ بن مسعو د سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ان کا بیان ہے:رسول خدا ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوا تھا اور لبوں پر تبسم موجود تھا۔اس وقت ہم نے آپ سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا آپ نے ہمیں اس کا جواب دیا اوراگر ہم خاموش نہیں ہوتے تو آپ خود گفتگو شروع کر دیتے تھے یہاں تک کہ بنی ہاشم کے کچھ بچے ہمارے سامنے سے گذرے جن کے درمیان حسن اور حسین بھی تھے جب آنحضرت کی نگاہ ان دونوں پڑی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو چھلکنے لگے اور ہم نے کہا:یا رسول اللہ کیا بات ہے ہم آپ کے چہرہ سے ناگواری کا مشاہدہ کر رہے ہیں؟
تو آپ نے فرمایا:”انّا اٴھل بیت اختار اللّٰہ لنا الآخرةعلیٰ الدنیا، وانّہ سیلقیٰ اٴہل بیتی من بعدی تطریداًوتشریداًفی البلاد حتیٰ ترتفع رایات سودفی المشرق،فیساٴلون الحقّ لایعطونہ،ثمّ یساٴلونہ فلایعطونہ،ثمّ یساٴلونہ فلایعطونہ فیقاتلون فینصرون،فمن اٴدرکہ منکم ومن اٴعقابکم فلیاٴت امام اٴہل بیتی ولوحبواًعلیٰ الثلج ،فانّھا رایات ھدیٰ، یدفعونھا الیٰ رجل من اٴہل بیتی“(۳)
”ہم اہل بیت کے لئے خدا وندعالم نے دنیا کے بجائے آخرت کومنتخب کیا ہے میرے بعد میرے اہل بیت کو جلا وطن اور شہر بدر کیاجائے گا یہاں تک کہ مشرق میں سیاہ پر چم بلند ہوجائیں گے اور وہ حق کا مطالبہ کریں گے لیکن ان کا مطالبہ پورا نہ ہوگا وہ پھر مطالبہ کریں گے مگر پھر نامراد رہیں گے پھر مطالبہ کریں گے مگر ان کا حق ادا نہیں کیا جائے گا۔تب وہ جنگ کریں گے۔ تو ان کی نصرت کی جائے گی۔لہٰذا تم لوگوں یا تمہاری نسل میں جو کوئی اس وقت موجودرہے وہ میرے اہل بیت٪ میں آنے والے امام کا ساتھ دے چاہے برف پر گھسٹتے ہوئے آنا پڑے کیونکہ یہ ہدایت کے پر چم ہوں گے اور وہ انہیں میرے اہل بیت میں موجود شخص کے حوالے کر دیں گے۔“
امام جعفر صادق -سے روایت :”کاٴنی بقوم قدخرجوابالمشرق یطلبون الحقّ فلایعطونہ ثمّ یطلبونہ فاذاراٴ واذلک وضعواسیوفھم علیٰ عواتقھم فیعطون ماشاوٴوافلایقبلونہ حتیّٰ یقوموا ولایدفعونھاالّا الیٰ صاحبکم (ای الامام المھدی)قتلاھم شہداء․․“(۴)
”گویا کہ میں ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جومشرق کی جانب سے خروج کرے گی وہ حق کا مطالبہ کر یں گے اور انہیں حق نہیں ملے گا وہ پھر مطالبہ کریں گے مگر نہ ملے گا۔جب وہ یہ صورتحال دیکھیں گے تو اپنی تلواروں کو اپنے کاندھوں پر رکھ لیں گے تب تو وہ جس چیز کا مطالبہ کریں گے وہ انہیں دےد یا جائے گالیکن وہ اسے قبول نہیں کریں گے بلکہ اٹھ کھڑے ہوں گے،اور وہ اسے تمہارے آقا(امام مہدی ) کے علاوہ کسی اور کے حوالے نہیں کریں گے ان کے متقولین شہیدواقع ہوں گے․“
۲۔خراسان میں راہ ہموار کرنے والے
جناب محمد حنفیہ سے روایت ہے لیکن بظاہر یہ روایت مولائے کائنات سے منقول ہے:”ثمّ تخرج رایة من خراسان یھزمون اٴصحاب السفیانی حتیّ تنزل بیت المقدس توطیء للمھدی سلطانہ“(۵)
”پھر خراسان سے ایک پر چم ظاہر ہو گا، یہ لوگ سفیان کے ساتھیوں کو شکست دے دیں گے۔یہاں تک کہ یہ لوگ بیت المقدس تک پہنچ جائیں گے اور مہدی کی حکومت کے لئے زمین ہموارکریں گے۔“
۳۔”قم “اور ”رے“ میں زمین ہموار کرنے والے
علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں روایت نقل کی ہے:”رجل من قم ید عوالناس الیٰ الحق یجتمع معہ قوم قلوبھم کزبرالحدید،لاتزلّھم الریاح العواصف ، لایملّون من الحرب ولایجبنون و علیٰ اللّٰہ یتوکّلون والعاقبة للمتقین ‘ ‘ (۶)
”قم والوں میں سے ایک شخص لوگوں کو حق کی طرف دعوت دے گا۔اس کے گرد ایک قوم جمع ہوجائے گی۔ان کے دل آہنی چٹانوں کی طرح مضبوط ہوں گے انہیں بڑی سے بڑی آندھی نہیں ہلاپائے گی وہ جنگ سے ملول خاطر نہ ہوں گے ان کے اندربزدلی کا نام ونشان بھی نہ ہوگا،اور ان کا اعتماد خدا پر ہوگا،اور انجام (عاقبت) متقین کے لئے ہے۔“
۴۔یمن میں زمین ہموار کرنے والے
امام کے ظہور سے پہلے یمن کی قیادت کے بارے میں امام محمد باقر -نے یہ ارشاد فرمایا:ان پر چموں کے درمیان یمانی کے پرچم سے زیادہ برحق کوئی پرچم نہ ہوگا،وہ ہدایت کا پر چم ہے کیونکہ وہ تمہارے آقاکی طرف دعوت دے گا۔(۷)
راہ ہموارکرنے والوں کے خصوصیات
۱۔سیسہ پلائی ہوئی جماعت
سب سے پہلے ان جماعتوں کی جس خصوصیت پرنظر پڑتی ہے وہ ان کی قوت وصلابت ،صلاحیت واستحکام ہے۔اس مضبوط جماعت کے افراد،نہایت تجربہ کار اور مشاق ہوں گے اور زمین کو امام کے ظہور کے لئے آمادہ کریں گے اور تن تنہا زمین پر قابض طاغوتوں کا مقابلہ کریں گے جیسا کہ جناب شیخ کلینیۺ کی روایت کے مطابق امام جعفر صادق – نے آیہٴ:<فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ اٴُولَاہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَنَا اٴُولِی بَاٴْسٍ شَدِید>(۸)کی تفسیر اسی جماعت سے کی ہے۔جب کہ روایت نے ان کی یہی عجیب وغریب صفت بیان کی ہے”قلوبھم کزبر الحدید لاتزلھم الریاح العواصف“ان کے دل آ ہنی چٹانوں کی مانند ہوں گے جنہیں تیزو تند ہوائیں نہ ہلاسکیں گی۔
بیشک وہ دل ایسے ہیں جب کہ دلوں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ نرم ہوتے ہیں لیکن ان کے دل طاغوتوں اور ظالموں کے مقابلہ میں آ ہنی چٹان کی طرح مضبوط ہوجائیں گے جو نہ نرم پڑیں گے اور نہ ہی پگھل سکیں گے لہٰذا استحکام اور مضبوطی ان جماعتوں کی خصوصیات میں شامل ہے جن کو خدا وندعالم عالمی انقلاب اور دنیاکو تبدیل کرنے کی ذمہ داری عطا کرے گاا سی طرح جس جماعت کو خدا وندعالم عظیم تاریخ کا رخ موڑنے اور لوگوں کو ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ کی طرف منتقل کرنے کے لئے منتخب کرتاہے ان کی تمام خصوصیات اس جماعت میںموجود ہوں گی۔
۲۔چیلنج بننے والی جماعت
اس جماعت کامشن”عالمی نظام کو چیلنج کرنااور اس کے خلاف بغاوت اورسرکشی ہے۔اور کسی کو کیا معلوم کے یہ عالمی نظام کیسا ہوگااور یہ اتنی عظیم خدمت کے لئے کیسے آمادہ ہوگااور اسے صحیح رخ پر کون لگائے گا اور اس کے لئے دنیا کے مختلف علاقوں میں طاقتوں اور حکمت عملی تیارکرنے والے اہم مراکز کی حفاظت کون کرے گا ؟یہ بیحد نازک اور نہایت سخت ذمہ داری ہے جسے وہ پوری دنیا کے نظام کو چلانے کے لئے اپنے کاندھوں پراٹھائیں گے اور اس کا تعلق کسی خاص علاقہ یا ملک سے نہیں ہوگا۔
یہ نظام مختلف قسم کے سیاسی ،اقتصادی ،عسکری اور اطلاعاتی تعادل وتوازن برقرار رکھنے والے مختلف اداروں اور حکومت چلانے والے نظاموں سے جڑے ہوئے نظاموں اور ان نظاموں کے درمیان مختلف قسم کے سرخ ہرے اور پیلے خطوط (حدود) ہوں گے میرا خیال یہ ہے:ایک دوسرے سے مربوط جڑے ہوئے ان اداروں اور نظاموں میں عالمی سطح پر غلبہ حاصل کرنے کی عظیم طاقت اور صلاحیت موجود ہوگی بالکل اسی طرح جیسے ایک چھوٹی گاڑی(لوہے کا ایک بٹن یاہتھوڑا بڑی بڑی عمارتوں کو منہدم کرنے میں استعمال ہوتا ہے )یعنی انسان معمولی اشاروں سے بڑے بڑے کام انجام دے گا یہی وجہ ہے کہ عالمی نظام سوویت یو نین کے نظام کا شیرازہ بکھرنے سے پہلے اور اس کے بعد بھی ہر ایک کے لئے قابل احترام ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنی ظرفیت کے مطابق اس سے استفادہ کر رہا ہے۔جب کہ ظہور کی راہ ہموار کرنے والے ان جوانوں کی جماعت اس نظام کی بساط لپیٹ دے گی۔یہ لوگ ان حکومتی اور غیر حکومتی اداروں کے نظم وضبط تعادل اور شان و شوکت کا جنازہ نکال دیں گے اور ان جوانوں کے اوپر ان لوگوں کا کچھ بس نہیں چلے گا نہ وہ انہیں برداشت کر سکیں گے اور نہ ہی انہیں دور کر سکیں گے کیونکہ ان تمام حکومتوں اور ان سے متعلق اداروں اور مشینریوں کا کل زور اور شان وشوکت اپنے جیسے اداروں اور مشینریوں کے مقابلہ میں دکھائی دیتی ہے اور ان کے پاس سب سے بڑا اسلحہ قتل کرنا اور جیل میں ڈال دینا یا طرح طرح کے شکنجے دینایا جلاوطن کر دینا ہے۔
جبکہ ان جوانوں کو ان چیزوں کا ذرہ برابر خوف نہیں ہے۔جیسا کہ روایت میں ان کی یہ صفت سے بیان کی گئی ہے:” لاتزلّھم الریاح العواصف،لایملّون من الحرب ولایجبنون وعلی اللّٰہ یتوکّلون والعاقبة للمتقین‘”انہیں تندوتیز ہوائیں ان کی جگہ سے نہیں ہلاسکتیں یہ جنگ سے کبیدہ خاطر نہ ہوں گے اور نہ بزدل ہیں ،اللہ پر توکل رکھنے والے اور عاقبت تو متقین کے لئے ہے۔“
یہ طے ہے کہ جو بزدل نہ ہو اور جنگ سے کبیدہ خاطر نہ ہوتا ہو اور اسے تیز وتند ہوا ئیں اس کی جگہ سے نہیں ہلاسکتیں،یہی ان کی اصل طاقت اور ان کا امتیاز ہے کہ ان کے یہاں بزدلی کا نام ونشان نہ ہوگا اور اسی صفت سے سپر پاورکہے جانے والے ممالک کے سامنے بڑی مشکل کھڑی ہوجائے گی۔
امریکہ میں جب کبھی صدارت کا انتخاب ہوتا ہے تو عوام کے جوش وجذبہ کو بڑھا نے کے لئے صدارت کے امیدوار ٹی وی مکالمہ میں شرکت کرتے ہیں ایسا ہی ایک مباحثہ ومکالمہ امریکہ کے سابق صدر کا ر ٹر اور ان کے مدمقابل امیدوار کے درمیان ہوا تھا ۔ جس میں مخالف امیدوار نے کارٹرسے یہ سوال کیا تھاکہ بیروت میں امریکی بحریہ کے ہیڈ کواٹر پر حملہ اور دھماکہ کے باعث امریکہ کی ساکھ کوزبردست نقصان پہنچا ہے اور امریکہ کے صدر ہونے کی بنا پر آپ براہ راست اس نقصان کے ذمہ دارہیں۔تو اس وقت کے امریکی صدر کار ٹر نے اس کاجواب یہ دیا:تم ہی بتاوٴ میں اس شخص کے مقابلہ میں کیا کر سکتا ہوں جو موت کے منہ میں کودنے کے لئے تیار ہو؟ہمارے بس میں زیادہ سے زیادہ اتنا ہے کہ ہم لوگوں کو خوفزدہ کرکے ایسے واقعات سے دور رکھیں ۔لیکن جو شخص ایسا دھماکہ کرنے کے لئے خود موت کے منہ میں کودنے کے لئے تیار ہو تو ہم اسے کیسے روک سکتے ہیں؟آپ ہی بتائیے کہ اگر اس وقت میری جگہ آپ ہوتے توکیا کرتے ؟
مختصر یہ کہ عراق،ایران،افغانستان ،لبنان ،فلسطین ،الجزائز ،مصر ،سوڈان اور اب بوسنیا میں سپر پاور اور بڑی طاقتوں کو چیلنج کرنے والی جماعتوں کے نمونے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
ان جماعتوں کی عجیب بات یہ ہے کہ ان کے بہادر، ظالموں اور جلادوں نیز سپر پاور کو برا بھلا کہتے ہیں جب کہ وہ ان کے قبضہ میں ہیں یا ان کی حکومت میں ان ہی کے زیر نظر رہتے ہیں اور ان کو طرح طرح کی سزائیں اور شکنجے دئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود اس کام سے باز نہیں آتے اور نہ ہی ان کے سامنے جھکتے ہیں نہ کراہتے ہیں اور نہ کسی قسم کی آہ وفریاد کرتے ہیں بلکہ ان کا ایک بہادرجسے خدا جانے وہ کس کس طرح سے تکلیفیں پہنچا رہے تھے اور اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے:تمہارے دل میں یہ حسرت باقی چھوڑ جاوٴں گا کہ تم صرف ایک بار ہی سہی میرے کراہنے ،رونے یا آہ وفریاد کی آواز سن لو!
۳۔عالمی رد عمل
جیسا کہ روایتوں میں بھی اشارہ موجود ہے کہ عالمی پیمانے پر اس جماعت کی مخالفت میں غصہ اور ناراضگی کا رد عمل سامنے آئے گا کیونکہ یہ جماعت ان کے کاروبار اور نظام حیات میں واقعاً اتھل پتھل کرکے کھلبلی مچا دے گا۔جس سے ان کا ناراض ہونا لازمی ہے۔
جناب ابان بن تغلب نے امام جعفر صادق -سے یہ روایت نقل کی ہے : ”اذا ظھرت رایة الحق لعنھا اھل الشرق واھل الغرب،اٴتدری لم ذٰلک؟قلت: لا،قال:للذی یلقی الناس من اٴھل بیتہ قبل ظھورہ“(۹)
”جب حق کا پرچم ظاہر ہوگا تواس پر مشرق اور مغرب والے لعنت کریں گے (برا بھلا کہیں گے) کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایسا کیوں ہوگا ؟میں نے عرض کی نہیں ۔
توآپ نے فرمایا : ظہور سے قبل اہل بیت کی طرف سے لوگوں کوجن (حالات)کا سامنا کرنا پڑے گا۔“
اور یہ طے شدہ ہے کہ ظہور سے پہلے ان کے اہل بیت سے مراد وہی افراد ہوں گے جو ظہور کی راہ ہموار کریں گے اور عالمی حکومتوں کی ناک میں دم کرکے ان کا جینا دوبھر کر دیں گے۔
شیخ کلینی ۺنے اپنی کتاب (روضہ )الکافی میں خداوندعالم کے اس قول :
<بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَنَا اٴُولِی بَاٴْسٍ شَدِید․․>(۱۰)کی تفسیر کے سلسلہ میں امام جعفر صادق -کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:
”قال:قوم یبعثھم اللّٰہ قبل خروج القائم فلایدعون لآل محمد مبغضاً الاَّقتلوہ“
امام جعفر صادق -نے فرمایا :”اس سے مراد وہ قوم ہے جسے خداوندعالم قائم کے ظہو ر سے پہلے بھیجے گا ،اور وہ آل محمد سے کشیدگی اختیار کرنے اور دور رہنے والے کو نہیں بلائیں گے مگر یہ کہ اسے قتل کر دیں گے۔“
تیاری کی منصوبہ بندی
امام زمانہ کے انقلاب کے لئے زمین کو آمادہ کرنا بے حد وسیع وعریض اور اہم مرحلہ ہے اوراس مرحلہ کوسر کرنے کے لئے مومنین کی یہ جماعت دنیا کے ظالموں ،استکباری اور طاغوتی طاقتوں کے سامنے اٹھ کھڑی ہوگی جب کہ تمام طاغوتی طاقتیں اپنے تمام اختلافات کو بھلا کر ان کے مقابلہ میں ایک وسیع وعریض متحدہ سیاسی پلیٹ فارم تیارکرلیں گی اور اس پلیٹ فارم کے قبضہ میں ہر طرح کے مال ودولت ،حکومتی اور سیاسی ہتھکنڈے ،فوجی طاقت اورذرائع ابلاغ،روابط اور نظم ونسق جیسے طاقت وقوت کے وسائل ہوں گے۔
یہ تمام وسائل اسلامی بیداری کو نیست ونابود اور ناکام بنانے کے لئے استعمال کئے جائیں گے ۔لہٰذا جو جماعتیں دنیا کو امام کے ظہور کے لئے آمادہ کرنے کا منصوبہ لے کر اٹھ کھڑی ہوں گی ان کے پاس بھی اسی قسم کے آلات ووسائل موجود ہونا ضروری ہیں بلکہ اس کے علاوہ ان کے پاس ایمانی جذبہ اور جہادی تربیت اور سیاسی شعور بھی تا حد کافی ہونا ضروری ہے کیونکہ تیاری کے اس منصوبہ کے دو حصہ ہوں گے:
پہلا حصہ
ایمانی جذبہ اور جہادی تربیت نیز سیاسی شعور ،یہ چیزیں ان کے مد مقابل کے یہاں مفقود ہوں گی۔
دوسرا حصہ
وہ تمام سیاسی ،فوجی، اقتصادی ،انتظامی اورمیڈیا اور ذرائع ابلاغ کے وسائل کی فراہمی جوایسے معرکہ کے لئے ضروری ہیں۔
اس میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہے کہ جو مومن جماعت دنیا کو امام کے ظہور کے لئے تیار کرے گی اس کے لئے ان تمام چیزوں اورقوتوں کی فراہمی ضروری ہے چاہے وہ اس میں اپنے مدمقابل عالمی اتحاد کی برابری نہ کر سکے نیز یہ بھی طے ہے کہ ایک سیاسی نظام اور باقاعدہ کسی حکومت کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہے۔اوروہ حکومت جس کی بشارت احادیث میں کثرت کے ساتھ دی گئی ہے وہ ظہور کی تیاری کرنے والی جماعت کی ہی حکومت ہوگی اس کے بغیر امام کے ظہور کے فطری اسباب فراہم نہ ہوں گے لہٰذا اس کا وجود امام کے ظہور سے پہلے یقینی ہے اور یہ بھی طے ہے اس قسم کی قدرت حاصل کر نے کے لئے واقعاًجد وجہدکی ضرورت ہے اور صرف تماشائی بنے رہنے یا” انتظار“ سے کام چلنے والا نہیں ہے۔
روایات میں انصار کا تذکرہ
ظہور امام کی تیاری کرنے والی جماعت انصار کی جماعت سے پہلے ہوگی اور اس جماعت کے افرادگذشتہ جماعت کے شاگرد ہوں گے اور یہ لوگ ان سے مختلف خصوصیات اورممتاز صفات کے حامل ہوں گے۔
اس مقام پر ہم اس جماعت کے بارے میں وارد ہونے والی روایتوں میں سے صرف ایک روایت کو بطور نمونہ ذکر کر رہے ہیں یہ روایات شیعہ اور سنی دونوں طرق سے مروی ہیں اس روایت میں ”طالقان “کے جوانوں کا تذکرہ ہے:
طالقان کے جوان مرد
متقی ہندی نے ”کنزالعمال “میں ،سیوطی نے اپنی کتاب”حاوی“میں امام مہدی کے ان انصار کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے جن کا تعلق ”طالقان “ سے ہوگا :
”ویحاً للطالقان فان للّٰہ عزّوجلّ بھا کنوزاً لیست من ذھب ولافضة، ولکن بھا رجال عرفوا اللّہ حق معرفتہ وھم اٴنصار المھدی“(۱۱)
”قابل رشک ہے طالقان کیونکہ بے شک وہاں خداوندعالم کے ایسے خزانے ہیں جو نہ سونا ہے اور نہ چاندی بلکہ وہ ایسے مردہیں جن کے پاس خداوندعالم کی کامل معرفت ہے یہی کامل المعرفت افراد مہدی کے انصار ہیں۔“
ینابیع المودة قندوزی میں ہے:”بخٍ بخٍ للطالقان“(۱۲)’
علامہ مجلسیۺ نے بحار الانوار میں یہ روایت نقل کی ہے:
”کنزبالطالقان ما ھوبذھب ولا فضة ،رایة تنشر مذ طویت،ورجال قلوبھم زبر الحدید لایشوبھا شک فی ذات اللّٰہ اشد من الجمر ،لو حملواعلیٰ الجبال لاٴزالوھا ،لایقصدون برایاتھم بلدة الاَّخربوھا کاٴنّ خیولھم العقبان، یتمسحون بسرج الامام یطلبون بذٰلک البرکة ویحفون بہ ویقونة باٴ نفسھم فی الحروب،یبیتون قیاماً علیٰ اٴطرافھم ویصبحون علیٰ خیولھم“رھبان باللیل لیوث بالنھار،ھم اطوع من الامة لسیدھا، کالمصابیح فی قلوبھم القنادیل وھم من خشیتہ مشفقون ،
یدعون بالشھادة ویتمنون اٴن یقتلوا فی سبیل اللّہ شعارھم:یا لثارات الحسین،اذا ساروایسیر الرعب اٴمامھم مسیرة شھر،یمشون الیٰ المولیٰ ارسالاً،بھم ینصر اللہ امام الحق“
”طالقان میں ایسا خزانہ ہے جو سونا اور چاندی نہیں ہے اور ایک ایسا پرچم ہے جسے جب سے لپیٹا گیا ہے وہ کھلا نہیں ہے اور ایسے مرد میداں ہیں کہ ان کے دل آہنی چٹان کے مانند ہیں، جن کے اندر ذات خدا کے بارے میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ، یہ پتھروں سے زیادہ مضبوط ہیں،اگریہ پہاڑوں پر (حملہ کر دیں )تو اسے اس کی جگہ سے ہٹا دیں گے۔ اپنے پرچم کوکسی شہر کی طرف لے کر نہیں بڑھیں گے مگر یہ کہ اسے ویران کر ڈالیں گے ۔گویا ان کے گھوڑے پر ندوں کی طرح ہوں گے ،امام کی زین کو مسح کر کے وہ اس سے برکت حاصل کریں گے اور جنگ میں اس سے انہیں طاقت وقوت ملے گی،رات بھر خدا کی عبادت میں جاگ کر گذارنے والے اورصبح ہونے پر اپنے گھوڑوں پر سوار ہونے والے ہیں ۔
راتوں کو راہب (صفت)دن میں شیرنر ،اپنے آقا کے لئے کنیز سے زیادہ فرمانبردار ،چراغوں کی طرح ،جیسے ان کے دلوں میں قندیلیں روشن ہوں ،خداوندعالم کی خشیت سے خائف ،انہیں شہادت کے لئے دعوت دی جائے گی ،ان کی تمنا راہ خدامیں شہید ہونا ہے ان کا نعرہ” یا لثارات الحسین“جب وہ آگے بڑھیں گے تو ان کا رعب ودبدبہ ان سے ایک مہینہ کے فاصلہ پر آگے آگے چلے گا،اپنے مولیٰ کی طرف بڑھیں گے ان کے ذریعہ خداوندعالم امام حق کی نصرت کرے گا۔“(۱۳)
امام کے اصحاب جوان ہوں گے
روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام کے اکثر اصحاب بھر پور جوان ہوں گے اور
ان میں بوڑھے اور ضعیف افراد بالکل نادر ونایاب ہوں گے۔
علامہ مجلسی ۺ نے بحار الانوار میں یہ روایت نقل کی ہے :”اٴصحاب المہدی شباب لاکہول فیھم الّا کمثل کحل العین “(۱)”مہدی کے اصحاب جوان ہوں گے ان کے درمیان کوئی بوڑھانہ ہوگا مگر اتنی ہی تعداد (مقدار )میں جتنا آنکھ میں سرمہ ہوتا ہے۔“
امام کے انصار کی تعداد
علامہ مجلسی ۺ نے بحارالانوار میں یہ روایت کی ہے:”فیجمع اللّٰہ علیہ اصحابہ،ھم ثلاثمئة وثلاثة عشر رجلاً ویجمعھم علیہ علیٰ غیر میعاد فیبایعونہ بین الرکن والمقام، ومعہ عھد من رسول اللّٰہ قد توارثتة الابناء عن الآباء “(۱۵)
” خداوندعالم ان کے گرد ان کے اصحاب کو جمع کر دے گا ان کی تعدا د ۳۱۳ ہوگی اور خداوندعالم انہیں کسی میعاد کے بغیر جمع کردے گا ،پھروہ رکن ومقام کے درمیان اس کی بیعت کریں گے آپ کے ہمراہ رسول خدا کاوہ عہد ہوگا جو اولاد کو اپنے آباء واجداد سے میراث میں ملتا ہے۔“
اکثر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رکن ومقام کے درمیان جو تعداد امام کی بیعت کرے گی یہی لشکرِ امام کے سپہ سالاروں کی تعداد بھی ہوگی ۔
امام کے انصار کے صفات
سب سے پہلے ہم تذکرہ ضروری سمجھتے ہیں کہ اس دور میں جو زبان استعمال ہوسکتی تھی وہ رمزی اور علامتی زبان ہے جس میں تلواروں سے مراد اسلحہ اور گھوڑوں سے مرادجنگی سواری ہے بالکل اسی طرح جیسے ”رھبان باللیل لیوث بالنھار “(راہبان شب اور دن کو شیرنر) بھی ایک طرح کی مجازی تعبیر ہے جس سے رات میں کثرت عبادت وتہجد اور دن کے وقت جراٴت وہمت مراد ہے۔
جو شخص روایتوں کے لب ولہجہ سے مانوس ہو اس کے لئے اس قسم کے جملات عام بات ہیں۔اب ہم روایتوں کے مضامین پر غور وفکر کرکے امام کے انصار کی صفات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
۱۔ایسے خزانے جن کے اندر نہ سونا ہوگا نہ چاندی
امام کے انصار” خزانے “ہیں اور خزانہ پوشیدہ دولت کو کہا جاتا ہے ،جو کبھی انسان کے گھر میں ہی ہوتا ہے،کبھی اس کے قدموں کے نیچے (زمین میں) ہوتا ہے ،کبھی گھر کے آس پاس یا شہر کے اطراف میں ہوتاہے لیکن انسان کو اس کا علم نہیں ہوتا ہے اسی طرح امام کے انصار بھی چھپا ہوا خزانہ ہیں لہٰذا عین ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی ہمارے گھر کے اندر یا پڑوس میں یا شہر میں موجود ہو اور ہم اسے نہ پہچانتے ہوں بلکہ بسا اوقات اسے حقیر بھی سمجھتے ہوں اورایسے لوگوں کی نظروں میں بھی وہ حقیر ہوں جن کی نظر میں وہ گہرائی نہ ہوجس سے انہیں اس خزانہ کا علم نہ ہو سکے گا۔بے شک یہ بصیرت ویقین،خدا سے قلبی رابطہ، شجاعت،جراٴت اور ذات خدا میں اپنے کو غرق کر دینا ان کے اندرایسے خصوصیات اچانک اور یک بہ یک پیدا نہیں جائیں گے بلکہ یہ صفات ان جوانوں کے نفوس میں پہلے سے موجود ہوں گے مگریہ خصوصیات لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوں گے ،بالکل اسی طرح جیسے لوگوں کی نگاہوں سے خزانہ پوشیدہ رہتا ہے۔
۲۔طاقت وقوت
خداوندعالم نے اپنے صالح بندوں ابراہیم واسحاق ویعقوب کی تعریف اس انداز سے کی ہے:
وَاذْکُرْ عِبَادَنَا إبْرَاہِیمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ اٴُوْلِی الْاٴَیْدِی وَالْاٴَبْصَارِ (۴۵) إِنَّا اٴَخْلَصْنَاہُمْ بِخَالِصَةٍ ذِکْرَی الدَّارِ وَإِنَّہُمْ عِنْدَنَا لَمِنْ الْمُصْطَفَیْنَ الْاٴَخْیَار“(۱۶) کسی بھی شخص کی تعریف کی یہ بہترین مثال ہے۔
بے شک بصیرت کے لئے قوت وطاقت ضروری ہے ورنہ اس کے بغیر بصیرت ضائع ہو جائے گی اور اس پر جمودطاری ہو جائے گا اور بصیرت صرف مضبوط اور مستحکم ایمان والے مومن کے اندر ہی پیدا ہو سکتی ہے لہٰذا اگر مومن کمزور ہوا تو اس کی بصیرت بھی ختم ہو جائے گی قوت کے لئے بھی بصیرت ضروری ہے کیونکہ بصیرت کے بغیر طاقت ،ہٹ دھرمی ،دشمنی اور تکبر میں تبدیل ہو جاتی ہے اور خداوندوعالم نے جناب ابراہیم واسحاق یعقوب کی یوں تعریف کی ہے”اولیٰ الایدی والابصار“ہمارے بندے صاحبان قوت بھی تھے اور صاحبان بصیرت بھی۔
ابھی آپ نے جو روایات ملاحظہ فرمائیں ان میں یہ اشارہ موجود ہے کہ امام مہدی کے انصار صا حب قوت بھی ہوں گے ا ور اہل بصیرت بھی ۔
۳۔شعور اور بصیرت
روایت میں امام کے انصار کے شعور اور بصیرت کا تذکرہ نہایت حسین انداز سے کیا گیا ہے ۔”کالمصابیح کان فی قلوبھم القنادیل“”چراغوں کی مانند جیسے ان کے دلوں میں قندیلیں روشن ہوں۔“بھلا یہ ممکن ہے کہ تاریکی چراغ کو توڑ ڈالے ؟ہاں یہ تو ممکن ہے کہ اندھیرا چاروں طرف سے چراغ کو گھیر لے لیکن وہ اسے گل نہیں سکتا ہے۔
چاہے جتنی زیادہ تاریکی پھیل جائے اورفتنوں کا راج ہو مگر امام زمانہ کے انصار کے دلوں میں شک وشبہہ کا گذر نہ ہوگا اسی لئے وہ شک وشبہہ کا شکار نہ ہوں گے نہ ہی واپس پلٹیں گے اورنہ ہی راستہ چلتے وقت اپنے پیچھے مڑکر دیکھیں گے ان کی اس صفت کے لئے روایت میں یہ جملہ ہے ”لا یشوبھا شک فی ذات اللہ“ذات خدا کے بارے میں ان کے یہاں شک کی آمیزش بھی نہ ہوگی چنانچہ شک کی آمیزش کا مطلب شک اور یقین کا مجموعہ ہے ۔ بعض اوقات شک یقین کو پارہ پارہ کر دیتا ہے اور شک کو شکست دینے والے یقین کو ثبات حاصل نہیں ہوتا۔اس صورت حال سے اکثر مومنین دوچار ہوتے رہتے ہیں لیکن امام کے انصار ایسے ہوں گے کہ ان کے یقین میں شک کی آمیزش بھی نہ ہوگی ایسا خالص یقین ہوگا جہاں دور دور تک شک کا شائبہ بھی نہ ہوگا۔
۴۔ عزم محکم
اس بصیرت کے نتیجے میں ان کے اندر ایسا مضبوط عزم وحوصلہ پیداہو جائے گا جس میں کسی قسم کا شک وترددیا بازگشت کا سوال نہ ہوگا۔ان کی اس استحکام کو روایت میں ”الجمر“کہا گیا ہے جو ایک شاندار مثال ہے کیونکہ شعلہ جب تک روشن رہتا ہے وہ چیز کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے اور روایت کے الفاظ یہ ہیں ”اشد من الجمر“کہ وہ شعلے سے زیادہ شدید ہوں گے یہ ان کے عزم وحوصلہ کے استحکام کے بہترین مثال ہے۔ہمیں نہیں معلوم کہ خداوندعالم نے طالقان کے جوانوں کے اندر شعور وآگہی ،عزم ویقین اور قدرت وطاقت کی کون سی طاقت ودیعت فرمادی ہے؟کیونکہ اس روایت میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ عام طور سے سننے میں نہیں آتے ہیں گویا کہ یہ حدیث ان کی محبت اور شدت عشق کی ترجمانی کر رہی ہے:”زبرالحدید،کالمصابیح ،کاٴنَّ فی قلوبھم القنادیل،اشد من الجمر، رھبان باللیل لیوث بالنھار“
گویا کہ الفاظ کے دامن میں جتنی وسعت تھی حدیث نے ان جوانوں کے شعور وآگہی ، قوت وبصیرت اورعزم وحوصلہ کے نفوذ کی عکاسی کے لئے زبان وبیان کی تمام توانائیوں کو صرف کر دیا ہے۔
۵۔قوت وطاقت
روایت میں طالقان کے جوانوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اتنے زیادہ طاقتور ہوں گے کہ اپنے زمانے میں جن جوانوں کوجانتے ہیں ان کے یہاں ایسی شجاعت کا کوئی نام ونشان نہیں ملتا ذرا اس جملہ پر غور کیجئے:”کاٴنَّ قلوبھم زبر الحدید“گویا کہ ان کے دل آہنی چٹان ہیں۔
کیا آپ نے دیکھا ہے کہ کوئی شخص ہاتھ میں لوہے کا ٹکڑا لے کر اسے پگھلا دے اسے توڑدے یا نرم کر دے؟اس کے بعد ارشاد ہوتاہے:اگر یہ پہاڑ پر حملہ کر دیں تو اسے اس کی جگہ سے ہٹا دیں گے ،اپنے پرچموں کے ساتھ کسی شہر کارخ نہیں کریں گے مگر یہ کہ اسے ویران کرکے رکھ دیں گے گویا کہ وہ ہوا پر اڑنے والے اپنے گھوڑوں پر سوار ہوں گے۔“
ان عجیب وغریب تعبیروں سے ان کی عظیم قدر ت وطاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ طاقت دنیا پر قابض ظالموں اور جابروں کے پاس موجود نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ صرف عزم وارادہ اور یقین کی طاقت ہے۔
۶۔موت کی آرزو اور شوق شہادت
”یدعون بالشھادة ویتمنون اٴن یقتلوا فی سبیل اللّٰہ “بے شک موت نوے اور سوسال کے ضعیف العمر اور بوڑھے افراد کو بھی خوفزدہ کر دیتی ہے جب کہ ان کے پاس دنیا کی کوئی لذت اور خواہشات باقی نہیں رہ جاتی ہیں۔
میرا خیال یہ ہے کہ جس موت کے نام سے بڑے بوڑھے لرزجاتے ہیں یہ جوان عنفوان شباب سے ہی اس کے عاشق اور دیوانے ہوں گے اور شہادت کی محبت دوچیزوں سے پیدا ہو تی ہے اور انسانی زندگی میں اس سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیںشہادت کی محبت کی وجہ دنیا سے چشم پوشی اور خدا سے وابستگی اوراسی کی طرف رخ کر لیناہے ۔لہٰذا جب انسان اپنے دل میں پائی جانے والی دنیا کی محبت سے نبردآزما ہے اور اس سے بالکل قطع تعلق کر لیتا ہے اور اس کے فریب میں نہیں آتا تو اس راستہ کی پہلی منزل طے ہوجاتی ہے اور یہ منز ل دوسری منزل سے بے حد دشوار ہے۔جب کہ اس کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ انسان کے دل میںخدا کی محبت جاگزیں ہو جائے انسان اس کے ذکر اور محبت کا ہی دلدادہ بن جائے اور ایسے دل کامالک انسان اپنے قلب بلکہ پورے وجود کے ساتھ خدا کی طرف رخ کر لیتاہے جس کے بعد ایسے افراد کی نظر میں دنیا کی کسی چیزکی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی یہ لوگ دوسروں کے ساتھ دنیامیں زندگی گذارتے رہتے ہیں اور ان کے ساتھ بازاروں اور اجتماعات میں دکھائی دیتے ہیں مگر یہ قلبی اعتبار سے دنیا سے غائب رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کو ”حاضرغائب“کہا جا سکتا ہے یہ موت کے عاشق ہوتے ہیں موت سے محبت کرتے ہیں جب کہ اکثر لوگ موت کے نام ہی سے لرزجاتے ہیں ،یہ شہادت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس میں انہیں اپنے رب سے ملاقات کا سامان نظر آتاہے اور ان کے دل میں شہادت راہ خدا کا ایسا ہی شوق ہوتا ہے جیسے عام لوگوں کو دنیا کی رنگینیوں کا شوق ہوتا ہے بلکہ ان کا شوق شہادت لوگو ں کے شوق دنیا سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
بہت کم لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو ان کی معرفت رکھتے ہوں ،خاص طور سے اہل مغرب تو ان کی معرفت اور انہیں سمجھنے سے ہی قاصر ہیں اہل مغرب کبھی انہیں خودکشی کرنے والا کہتے ہیں حالانکہ خود کشی کرنے والا اسے کہا جاتا ہے جو دنیا سے آزردہ خاطر ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں جب کہ ان جوانوں کے سامنے دنیا کے راستے بالکل کھلے ہوتے ہیں دنیا ان کے ساتھ دل لگی کرے گی اور وہ اپنی تمام زینتوں اور آرائشوں کے ساتھ ان کے سروں پر سایہ فگن ہوتی ہے انھیں اپنے فریب میں پھنسانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے تو پھر وہ دنیا سے کس طرح آزردہ خاطر ہو سکتے ہیں جب کہ ان کے سامنے دروازے بند نہیں ہوں گے بلکہ وہ اس سے منہ پھیر لیں گے کیونکہ ان کے دل میں خدا کی ملاقات کاشوق ہوگا۔اہل مغرب کبھی ان لوگوں کو دہشت گر دکہتے ہیں جب کہ یہ دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ دہشت گردی سے نہیں ڈرتے ہیں تو یہ حقیقت سے قریب تر ہے۔
مختصر یہ کہ یہ دونوں چیزیں خدا کی راہ میں شہادت کی بنیاد ہیں لیکن جو چیز شہادت کی محبت سے پیدا ہو تی ہے وہ عزم وارادہ اور قوت وطاقت ہے کیونکہ موت کا وہ خواہشمند انسان جو اپنے کودنیا سے آزاد کر سکتا ہے اس کے اندر وہ عزم وحوصلہ پایا جاتا ہے جو دوسروں کے یہاں یکسر مفقود ہوتا ہے۔
اور اس عزم وارادہ سے ان لوگوں کا کوئی تعلق نہیں ہوسکتا جو مادی وسائل پر بھروسہ کرنے والے ہیں۔
۷۔متوازن شخصیت
”رھبان باللیل لیوث بالنھار“اس جماعت کی ایک واضح صفت اور علامت یہ ہے کہ یہ لوگ متوازن شخصیت کے مالک ہوں گے اور یہی ان کی قوت اور نفوذ کا راز ہے ،یعنی دنیاو آخرت اور قوت و بصیرت کے درمیان توازن قائم رکھنا اور خداوندعالم اسی توازن اوراعتدال قائم کرنے کو پسند کرتا ہے اور افراط وتفریط یا دائیں بائیں جھکاوٴ کو ناپسند کرتا ہے جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:< وَابْتَغِ فِیمَا آتَاکَ اللهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلاَتَنسَ نَصِیبَکَ مِنْ الدُّنْیَا>(۱۷)
”اور جو کچھ خدا نے دیا ہے اس سے آخرت کے گھر کا انتظام کرو اور دنیا میں اپنا حصہ بھول نہ جاوٴ۔“
یا خداوندعالم نے ہمیں اس دعاکی تعلیم دی :<ُ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً >(۱۸)
”پروردگار ہمیں دنیا اور آخرت میں نیکی عطافرما۔“
دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے:<وَلاَتَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُولَةً إِلَی عُنُقِکَ وَلاَتَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًاً>(۱۹)
”اور خبردارنہ اپنے ہاتھوں کو گردنوں سے بندھا ہوا قرار دواور نہ بالکل پھیلا دو کہ (آخرت میں )قابل ملامت اور خالی ہاتھ بیٹھے رہ جاوٴ۔“
اسی توازن اوراعتدال میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان اللہ کی عبودیت وبندگی اور مومنین کے سامنے انکساری اور کافرین کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی مستحکم دیوار دکھائی دے : <ُ اٴَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ اٴَعِزَّةٍ عَلَی الْکَافِرِینَ>(۲۰)
”مومنین کے سامنے خاکسار اور کفار کے سامنے صا حب قوت ہوگی۔“
اسی توازن واعتدال میں یہ بھی شامل ہے کہ خدا پرتوکل اورمستقبل کی منصوبہ بندی کے ساتھ محنت ومشقت اور جہد مسلسل کے درمیان توازن قائم رکھے جیسا کہ امیر المومنین نے خطبہ ٴ ہمام میں متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے اس توازن واعتدال کو اس انداز سے بیان فرمایا ہے:”فمن علامة اٴحدھم اٴنک تری لہ قوة فی دین ،و حزماً فی لین ،وعلماً فی حلم،وقصداً فی غنی،وتجمّلاً فی فاقة،وصبراً فی شدّة،یعمل الاٴعمال الصالحة وھو علیٰ وجل ،یبیت حذراًویصبح فرحاً،یمزج الحلم بالعلم،والقول بالعمل،فی الزلازل وقور،وفی الرخاء شکور،نفسہ منہ فی عناء والناس منہ فی راحة“(۲۱)
”ان کی ایک علامت یہ بھی ہے ان کے پاس دین میں قوت، نرمی میں شدت احتیاط،یقین میں ایمان، علم کے بارے میں طمع، حلم کی منزل میں علم ،مالداری میںمیانہ روی،فاقہ میں خودداری، سختیوں میں صبر،وہ نیک اعمال بھی انجام دیتے ہیں تو لرزتے ہوئے انجام دیتے ہیں،خوف زدہ عالم میںرات کرتے ہیں فرح و سرورمیں صبح،یہ حلم کو علم سے اور قول کو عمل سے ملا ئے ہوئے ہیں، زلزلوں میں باوقار ۔ دشواریوں میں صابر ۔ آسانیوں میں شکر گزار ۔دشمن پر ظلم نہیں کرتے ہیں۔ان کا اپنا نفس ہمیشہ رنج میں رہتا ہے اور لوگ ان کی طرف سے ہمیشہ مطمئن رہتے ہےں۔“
یہ اعتدال، امام کے انصار کی واضح صفت اور پہچان ہے۔
۸۔رھبان باللیل لیوث بالنھار
اس توازن کی طرف روایت کا یہ جملہ اشارہ کر رہا ہے”رھبا ن باللیل لیوث بالنھار“ ”راہبان شب اور دن میں شیر نر “۔واضح رہے کہ دن اور رات انسان کی شخصیت سازی میں دو الگ الگ کردار ادا کرتے ہیں لیکن ان دونوں کے ملنے کے بعد ہی ان کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ دونوں ہی ایک مبلغ اور مجاہد مومن کی شخصیت کے لئے بنیادی اعتبار سے ضروری ہیں یہی وجہ ہے کہ اگر رات کی عبادتیں نہ ہوں گی تو انسان دن میں مشکلات کامقابلہ نہیں کر سکے گا۔اور اس کے اندرخاردارراستوں پرسفرجاری رکھنے کی طاقت پیدانہیں ہوگی اور اگر یہ دن کی جد وجہد نہ ہوگی تو پھر رات بھی قائم باللیل کے لئے سماج میں دین الٰہی کی تبلیغ کے راستے میں مانع ہو جائے گی۔
اور اس طرح انسان دنیاوی زندگی کے دوسرے مرحلہ یعنی عبادت الٰہی کے بعد اپنی زندگی کے اہم حصہ سے ہاتھ دھو بیٹھے گا جس کا نام بندگی خدا کی طرف دعوت دیناہے۔
قرآن مجید میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دین خدا کی تبلیغ میں نماز شب اہم کردار ادا کرتی ہے تبلیغ اسلام کے ابتدائی دور میں ہی رسول اکرم پر سورہ ٴ مزمل نازل ہوا تھا جس میں پروردگار عالم نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ دن کے بھاری اور مشقت آور کاموں کوانجام دینے کے لئے اپنے نفس کو رات کی عبادتوں کے ذریعہ تیار کریں جیسا کہ ارشادہوتا ہے:
<یَااٴَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ قُمْ اللَّیْلَ إِلاَّ قَلِیلاً نِصْفَہُ اٴَوْ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیلاً اٴَوْ زِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلْ الْقُرْآنَ تَرْتِیلاً إِنَّا سَنُلْقِی عَلَیْکَ قَوْلاً ثَقِیلا إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّیْلِ ہِیَ اٴَشَدُّ وَطْئًا وَاٴَقْوَمُ قِیلاً إِنَّ لَکَ فِی اَلنَّہَارِ سَبْحًا طَوِیلا>(۲۲)
”اے میرے چادر لپیٹنے والے ،رات کو اٹھو مگر ذرا کم ،آدھی رات یااس سے بھی کچھ کم کردو،یا کچھ زیادہ کردواور قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر باقاعدہ پڑھو،ہم عنقریب
تمہارے اوپر ایک سنگین حکم نازل کرنے والے ہیں،بے شک رات کا اٹھنا نفس کی پامالی کے لئے بہترین ذریعہ اور ذکر خدا کا بہترین وقت ہے ،بے شک آپ کے لئے دن میں بہت سے مشغولیات ہیں۔“
اس آیت میں” ناشئة اللیل “(رات کا اٹھنا )کی جو تعبیر استعمال ہوئی ہے یہ انتہائی دقیق اور پر معنی ہے کیونکہ جو انسان اہم اور مشکل کاموں کے لئے اپنے کو تیار کرتا ہے اور رات بھر عبادت میں مشغول رہتا ہے وہی دن کے طاقت فرسا کاموں کو انجام دے سکتا ہے۔
اورخطبہ ٴ متقین میں امیر المومنین – نے جناب ہمام کے لئے متقین کی زندگی کے ان دونوں حصوں یعنی رات اور دن کی توصیف اس انداز سے کی ہے:
”اٴما اللّیل فصافون اٴقدامھم ،تالین لاجزاء القرآن یرتلونہ ترتیلاً،
یحزّنون بہ اٴنفسھم و یستثیرون بہ دواء دائھم،فاذا مروا بآیة تشویق رکنوا الیھا طمعاً وتطلّعت نفوسھم الیھا شوقاً،وظنوا انھانصب اٴعینھم،واذا مروابآیة فیھا تخویف اٴصغوا الیھا مسامع قلوبھم اما النھار فحلماء علماء اٴبرار اٴتقیاء قد براھم الخوف بری القداح ،ینظر الیھم الناظر فیحسبھم مرضی وما بالقوم من مرض “
”راتوں کے وقت مصلے پر کھڑے رہتے ہیں۔خوش الحانی کے ساتھ تلاوت قرآن کرتے رہتے ہیں ۔اپنے نفس کو محزون رکھتے ہیں اور اسی طرح اپنی بیماری دل کا علاج کرتے ہیں۔جب کسی آیت تر غیب سے گذرتے ہیںتو دل کے کانوں کو اس کی طرف یوں مصروف کر دیتے ہیں جیسے جہنم کے شعلوں کی آواز اوروہاں کی چیخ پکار مسلسل ان کے کانوں تک پہنچ رہی ہو۔ اس کے بعد دن کے وقت تک یہ بردبارعلما ء اور دانشمند۔نیک کردار اور پر ہیز گار ہوتے ہیں جیسے انھیں تیر انداز کے تیر کی طرح خوف خدا نے تراشا ہو دیکھنے والا انھیں دیکھ کر بیمار تصور کرتا ہے حالا نکہ یہ بیمار نہیں ہیں۔ “
بے شک رات اور دن انسانی زندگی کے دو حصے ہیں جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے رہتے ہیں رات کے کچھ لوگ اور مخصوص حصے ہوتے ہیں،اسی طرح دن کے حصے اور اس کے اپنے لوگ ہوتے ہیں ۔جو دن والے افراد ہوتے ہیں وہ رات کے حصے سے محروم رہ جاتے ہیں اور جو اہل شب ہیں انہیں دن کے حصے خدا کی طرف تبلیغ،اقامہ ٴ حق، اور لوگوں کو بندگی خدا کی طرف دعوت دینے سے مانع ہو جاتے ہیں لیکن امام زمانہ کے ساتھی اہل شب بھی ہوں گے اور مردان روز بھی ہوں گے جنہیں خداوندعالم دن اور رات دونوں کے حصوں سے مالا مال کرے گا ۔
سمة العبید من الخشوع علیھم
للّٰہ ان ضمّتھم الاٴسحار
فاذا ترجّلت الضحیٰ شھدت لھم
بیض القواضب انّھم اٴحرار
اگر ان لوگوں کے پاس رات کی دولت نہ ہو تو یہ تن تنہا زمین پر قابض طاغوتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور اگر یہ اہل روز نہ ہوں تو زمین کوشرک کی گندگی سے پاک کرکے اس پر توحید الٰہی او رعدل کا پرچم نہیں لہرا سکتے ۔اور اگر یہ اہل شب نہ ہوں گے تو غرور کا شکار ہو کر صراط مستقیم سے بہک جائیں گے۔
دو مرحلے یا دو جماعتیں
ہمارے سامنے دو جماعتیں موجود ہیں:ایک ہم عصر جماعت ہے جس نے مارکسی اشتراکیت اور سرماداری نیز کمےونزم کی شکست اور ان کا جنازہ نکلتے ہوئے دیکھا ہے اس سے زمین امام زمانہ کے ظہور کے لئے تیار ہو رہی ہے ”یہ ظہورکے لئے تیاری کرنے والی جماعت ہے“اور دوسرا گروہ”انصار“کا ہے ۔لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ صرف دو جماعتیں ہیں یا تاریخ کے دو مرحلے ہیں؟مجھے نہیں معلوم۔لیکن بعید نظر آتاہے کہ یہ عظیم اقدام ایک ہم عصرجماعت کے ذریعہ پورا ہو جائے۔
(۱)احزاب/۶۲
(2)انفال/۶۰
(۳)مستدرک صحیحین،ج/۴،ص/۴۶۴
(۴)بحارالانوار،ج/۵۲،ص/۲۴۳،اس حدیث میں تلواروں سے اسلحہ مراد ہے۔
(۵)عصر الظہوار/۲۰۶
(۶)بحارالانوار،ج/۶۰،ص/۲۱۶
(۷)گذشتہ حوالہ،ج/۵۲،ص/۲۳۲
(۸)الاسراء/۵
(۹)بحار الانوار،/۵۲،ص/۶۳
(۱۰)اسراء/۵
(۱۱)کنزالعمال،/۷،ص/۲۶
(۱۲)ینابیع المودة،ص/۴۴۹
(۱۳)بحار الانوار،ج/۵۲،ص/۳۰۷
(۱۴)بحار الانوار،ج/۵۲،ص/۳۳۴
(۱۵)بحار الانوار،ج/۵۲،ص/۲۳۸،۲۳۹

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.