جبر و اختیار
”جبر واختیار“ كا مسئلہ ایك طولانی بحث كا حامل ھے چند صفحات میں اس كو بیان نھیں كیا جاسكتا اور نہ ھی اس كتاب میں اس كی تفصیل بیان هوسكتی ھے۔
اور چونكہ مسئلہ ”جبر“ ایك سیاسی حربہ ھے یہ صرف غیر مذھبی حكام نے اپنے افعال واعمال كو صحیح كرنے كا ایك ذریعہ نكالا ھے، ان كا مقصد صرف اسلام كے مخالف اعمال كو غیر اختیاری (جبری) كہہ كر عذر پیش كرنا ھے ۔
یہ موضوع بہت سے شعبے اور مختلف پھلو ركھتا ھے اسی وجہ سے علم كلام كے اھم مسائل میں شمار هوتا ھے اور عقائد كے باب میں اھم باب ھے اور دینی مسائل كا ایك مشكل مسئلہ ھے۔
مسئلہ ”جبر“ یااس كے مثل دوسرے مسائل جن پر بعض مسلمانوں كا عقیدہ ھے ان كی بنیاد یہ ھے كہ انسان كے افعال واعمال صرف اس كے ارادہ واختیار سے انجام نھیں پاتے بلكہ وہ خداوندعالم كے ارادہ اور اس كے حكم سے انجام پاتے ھیں اور ان كے انجام دینے میں انسان كا كوئی كردار نھیں هوتا، اس نظریہ كو ”جبر“ كھا جاتا ھے جس كے نتیجہ میں انسان كو مجبور ماننا پڑتا ھے، چاھے وہ اطاعت هو یا معصیت یعنی ان كے انجام پر مجبور هوتا ھے چاھے ان كا ارادہ كرے یا نہ كرے۔
چنانچہ جبر كے قائل لوگوں نے اپنے گمان كے مطابق قرآن كریم كی بعض وہ آیات جن میں اس بات كا ایك ھلكا سا اشارہ پایا جاتا ھے، پیش كی ھیں جیسا كہ ارشاد خداوندی ھے:<قُلْ لَنْ یُصِیْبَنَا اِلاّٰ مَا كَتَبَ اللّٰہُ لَنَا>1
”(اے رسول) تم كہہ دو كہ ھم پر ھر گز كوئی مصیبت نھیں پڑسكتی مگر وھی جو خدا نے (ھماری تقدیر میں) لكھ دیا ھے۔“
<قُل كُلُّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ>2
”(اے رسول) تم كہہ دو كہ سب خدا كی طرف سے ھے“
لہٰذا ان آیات كے پیش نظر ان لوگوں نے یہ گمان كرلیا كہ ان آیات كے ذیل میں انسان كے افعال واعمال بھی آتے ھیں۔
جبكہ بعض مسلمانوں كا عقیدہ یہ ھے (كیونكہ وہ مذكورہ نظریہ كو باطل جانتے ھیں) كہ انسان او ر خداوندعالم میں سوائے خلق اول كے كوئی رابطہ نھیں ھے، یعنی خداوندعالم نے ان كو خلق كرنے كے بعد مكمل آزاد كردیا ھے اور تمام چیزوں كو انھیں پر چھوڑ دیا ھے، ان كا خدا سے كوئی ربط نھیں ھے، ان كا ماننا یہ ھے كہ علت محدثہ معلول كی بقا كے لئے كافی ھے، اس حیثیت سے كہ معلول اپنے وجود كے بعد اپنی علت سے بے نیاز هوجاتا ھے كیونكہ وہ فقط پھلی علت حدوث كا محتاج هوتا ھے، چنانچہ علماء علم كلام اس نظریہ كو” تفویض“ كہتے ھیں یعنی خداوندعالم نے تمام كاموں كو انسان پر چھوڑ دیا ھے اور اب اس سے كوئی مطلب نھیں۔
جبكہ حقیقت میں صحیح نظریہ ان دونوں نظریات كا درمیانی راستہ ھے، اس سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام كا بیان بہترین او ر دقیق ھے، آپ نے اپنی مشهور حدیث میں فرمایا:
”لا جبر ولا تفویض، بل منزلة بین المنزلتین“ 3
(نہ جبر اور نہ تفویض بلكہ دونوں كا درمیانی راستہ صحیح ھے)
وضاحت
ھرانسان فطری طور پر اس بات كو سمجھتا ھے كہ وہ بہت سے كاموں پر قادر ھے اور وہ جن كاموں كا ارادہ كرے ان كو انجام دے سكتا ھے اور جن كاموں كو انجام نہ دینا چاھے ان كو چھوڑ سكتا ھے اور ھمارے لحاظ سے كوئی بھی ایسا انسان نھیں هوگا جو اس بات میں شك كرے، جو اس بات كی بہترین دلیل ھے كہ انسان مكمل طور پر آزاد ھے۔
اسی طرح ھر انسان یہ بات بھی اچھی طرح سمجھتا ھے كہ تمام صاحبان عقل اس بات پر متفق ھیں كہ جو شخص اچھے كام كرتا ھے اس كی مدح وتعریف كرتے ھیں اور جو شخص برے كام كرتا ھے اس كی مذمت كرتے ھیں، اور یہ بھی اس بات كی بہترین دلیل ھے كہ انسان اپنے افعال میں مكمل آزاد ھے اور (اگر اختیار نہ هو) تو صاحبان عقل كا مدح ومذمت كرنا صحیح نہ هوگا۔
اسی طرح انسان فطری طور پر اس بات كا بھی احساس كرتا ھے كہ انسان كے كسی بلندی سے سیڑھی كے ذریعہ نیچے اترنے اور بلندی سے زمین كی طرف كودنے میں فرق ھے كیونكہ انسان پھلی صورت پر قادر ھے اور دوسری صورت میں مجبور۔
اسی طرح عقل سلیم كے نزدیك یہ بات بھی مسلم ھے اور كسی كو بھی اس میں كوئی شك نھیں ھے كہ انسان میں ان طاقت وتوانائی كا خلق كرنے والا ان كو ایجادكرنے كے بعد ان سے جدانھیںهوا ھے، بلكہ ان چیزوں كاباقی رہنا ھر لمحہ اس موٴثر كا محتاج ھے، كیونكہ ان اشیاء كا خالق كسی معمار كی طرح نھیںھے كہ مكان بننے كے بعد مكان كو معمار كی ضرورت نھیں هوتی، بلكہ عمارت اپنی جگہ پرباقی رہتی ھے چاھے اس كابنانے والا معمار مرھی كیوں نہ هوجائے، اسی طرح كتاب جو اپنے لكھے جانے میںكاتب كی محتاج ھے، بلكہ اس كائنات اور جوكچھ اس میں موجود ھے؛ كاخالق روشنی كے لئے بجلی كی طرح ھے كہ جب تك بجلی رہتی ھے روشنی باقی رہتی ھے، اورروشنی اپنی بقاء میں ھر لمحہ بجلی كی محتاج رہتی ھے اوراگر بجلی كا تار ایك لمحہ كے لئے ہٹالیاجائے تو روشنی فوراًختم هوجاتی ھے، بالكل اسی طرح اس كائنات كی تمام چیزیں اپنے وجود اور بقاء میںھر لمحہ اپنے مبدع اور مصدر (خالق) كی محتاج ھیں۔
قارئین كرام! ھماری گذشتہ باتوں سے یہ بات واضح هوجاتی ھے كہ انسان كے اعمال وافعال جبر وتفویض كے درمیان هوتے ھیں، اور ان كے لئے دونوں میں حصہ هوتا ھے، لہٰذا فعل یا ترك كو انجام دینے كی طاقت اگرچہ انسان كے اختیار سے ھی هوتی ھے لیكن یہ قدرت خدا كا عطیہ ھے، اور انسان كا فعل ایك لحاظ سے خود انسان كی طرف منسوب هوتاھے، اور ایك لحاظ سے خدا كی طرف منسوب هوتا ھے۔
قرآن كریم كی وہ آیات جن سے ”جبریوں“ نے استدلال كیا ھے وہ اس بات كی طرف اشارہ كرتی ھیں كہ انسان كا اختیار كسی كام كو انجام دینے میں خدا كی قدرت كے نافذ هونے میں مانع نھیں بن سكتا، اس كا مطلب یہ نھیں ھے كہ انسان خدا كی ذات اور اس كی قدرت سے بے نیاز هوگیاھے؟ ! ۔
اس سلسلہ میں ھمارے استاد آیت اللہ العظمیٰ امام خوئی رحمةاللہ علیہ نے اپنے درس میں ”المنزلة بین المنزلتین“ كی تفسیر كرتے هوئے درج ذیل بہترین مثال پیش كی:
”اگر كسی انسان كا ھاتھ اس طرح شَل هوجائے كہ وہ اس كو نہ چلا سكے، اور كوئی ڈاكٹر اس كے كوئی ایسا آلہ لگائے جس كی وجہ سے اس كا ھاتھ حركت كرنے لگے، اس طرح كہ جب وہ آلہ لگا هوا هو تو انسان اپنے ھاتھ كو حركت دے سكے، تو جب تك وہ آلہ لگا هوا ھے اس كا ھاتھ كام كرتا ھے اور جب اس كو الگ كردیا جائے تو اس كا ھاتھ اپنی پھلی حالت پر پلٹ جائے، تو جب اس كے وہ آلہ لگا هوا ھے اور وہ اپنے ھاتھ كو حركت دینے پر قادر ھے اور اپنے معمولی كاموں كو انجام دے رھا ھے تو اس كی یہ حركت دونوں چیزوں كی سبب هوگی ایك لحاظ سے صاحب دست كی طرف مستند ھے كیونكہ وہ اپنا ھاتھ خودچلا رھا ھے، دوسری طرف وہ حركت اس آلہ كی طرف بھی منسوب ھے كیونكہ وہ اس آلہ كے ذریعہ اپنا ھاتھ چلانے پر قادر ھے۔“
قارئین كرام! یھی گذشتہ مثال مسئلہ ”جبر وتفویض“ كو اچھی طرح واضح كردیتی ھے كیونكہ ایك انسان حیات وقدرت كے عطا كرنے والے كا محتاج ھے جو ھر حال میں خدا كی طرف سے عطا هوتی ھے لہٰذا ”تفویض“ بھی نھیں اوردوسری طرف انسان اپنے اعمال میں مجبوربھی نھیں ھے اور اس كے افعال بغیر اس كے ارادہ كے انجام نھیں پارھے ھیں لہٰذا ”جبر“ بھی نھیں ھے۔
لہٰذا مذكورہ مطلب كے پیش نظر ھم پر یہ بات واضح هوجاتی ھے كہ انسان فعل وترك پر مكمل اختیار ركھتا ھے اور اس میں شك وشبہ كی كوئی گنجائش نھیں رہتی۔
اس سلسلہ میں مزید وضاحت كے لئے یعنی انسان كے مختار هونے كے سلسلہ میں كچھ دلائل پیش كرتے ھیں اور اس سلسلہ میں هوئے اعتراضات كے جوابات بھی پیش كرتے ھیں:
1۔ اختیاری اور اضطراری افعال میں فرق
ھم نے اس بات كی طرف پھلے بھی اشارہ كیا ھے كہ انسان كے وہ افعال جواس كے قصد وارادہ سے انجام پاتے ھیں اور ان افعال میں جو اس كے اراداہ كے بغیر انجام پاتے ھیں ان دونوں میں واضح فرق ھے مثلاً كسی كے ھاتھ میں رعشہ پیدا هوجائے اور اس كا ھاتھ ھلتا رھے، تو یہ اس كے مرض كی وجہ سے ھے اور انسان اس كو روكنے پر قادر نھیں ھے كیونكہ اسكے اختیار اورطاقت سے باھر ھے اور كبھی اس كاكام اختیاری هوتاھے اوروہ اپنے اختیارسے انجام دیتاھے۔
اسی طرح انسان دوسرے افعال میں بھی فرق محسوس كرتاھے كہ كچھ كام اس كے اختیار سے هوتے ھیں اور كچھ كام بغیر اختیار كے۔
او رجب ھمارے تمام افعال (ایك گمان كے مطابق) خداوندعالم كی مخلوق ھیں اور ان میں ھمیں ذرہ برابر بھی اختیار نھیں ھے تو پھر اختیاری و اضطراری كاموں میں فرق كااحساس كیسے كرسكتے ھیں؟!
اس سلسلہ میں بعض متكلمین نے فلسفہ تراشی كی ھے اور دونوں (اختیاری واضطراری) میں فرق بیان كیا ھے، ان كا كہنا ھے كہ فعل اضطراری وہ افعال ھیں جو خدا كے ارادہ سے انجام پاتے ھیں انسان كی قدرت او ر اس كے ارادہ كا كوئی دخل نھیں هوتا، او ر فعل اختیاری وہ هوتے ھیں جن كو خداوندعالم انسان كے ارادہ كے ساتھ ساتھ ایجاد كرتا ھے۔ لیكن ان كا یہ قول بالكل واضح البطلان ھے۔
كیونكہ اگرقدرت سے مراد، مشهور لغوی معنی هوںكہ” اگر چاھے انجام دے اورنہ چاھے تو انجام نہ دے“ تو یہ مذكورہ جبر كے معنی كے خلاف ھیں بلكہ یہ تو اختیار پر دلیل ھے اور اگر اس قدرت سے كوئی دوسرے معنی مراد هوں، تو پھر یہ اكراہ كے خلاف نھیں ھے، اور اس كو كبھی بھی قدرت نھیں كھا جاسكتا۔
لیكن اگر ارادہ كے معنی مذكورہ فلسفی لحاظ سے لئے جائیں تواسكے معنی بھی اختیار كے هوں گے۔ (جیسا كہ صحیح بھی ھے) كیونكہ قائل كے گمان كے مطابق یھاںپر اختیار ھے ھی نھیں۔ كیونكہ (دعوی كے مطابق) فعل انسان كے ارادے واختیارسے نھیں ھے، او ر اگر قائل كے نزدیك ارادہ كے معنی فعل كوانجام دینے میں رغبت مراد هو تو یہ رغبت فعل كا ایجاد كرنانھیں ھے جیسا كہ ھماری عقل بھی یھی كہتی ھے، كیونكہ ایسے بہت سے كام ھیں جن میں انسان رغبت ركھتاھے لیكن صرف رغبت سے وہ كام نھیںهوپاتے، جبكہ رغبت عین فعل نھیں ھے (جیساكہ ھم پھلے كہہ چكے) تو پھراختیار واضطرار میں مذكورہ فرق لاحاصل هوجاتاھے۔
2۔ اختیاركے سلسلہ میں قرآن مجید كی وضاحت
قرآن مجید میں ایسی بہت سی آیات موجودھیں جو اختیار كو بہترین طریقہ سے ثابت كرتی ھیں، اور واضح طور پر اس بات كی طرف اشارہ كرتی ھےں كہ انسان اپنے افعال واعمال میں مكمل طور پر مختارھے اوراگر ھر فعل اس انسان كی طرف منسوب ھے جس میں كسی بھی طرح كی تاویل وتفسیرنھیں كی جاسكتی۔
ارشادخداوندی هوتاھے:
<كُلُّ امْرِیٴٍ بِمَا كَسَبَ رَہِیْنٌ>4
”ھرشخص اپنے اعمال كے بدلے میں گرو ھے“
<مَنْ یَّعْمَلُ سُوْء اً یُجْزَ بِہِ >5
”اور جو بھی برام كام كرے گا بھر حال اس كو سزا ملے گی“
<اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ وَاِنْ اٴَسَاٴتُمْ فَلَہَا>6
”اگر تم لوگ اچھے كام كروگے تو اپنے فائدہ كے لئے كرو گے اور اگر برے كام كرو گے تو(بھی) اپنے لئے۔“
<فَمَنْ شَاءَ فَلْیُوٴمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَكْفُرْ>7
”بس جو چاھے ایمان لائے اور جو چاھے كفر اختیار كرے“
<فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَرَہُ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَہُ>8
”جس شخص نے ذرہ برابر نیكی كی ھے وہ اسے دیكھ لے گا اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی كی ھے تو اسے (بھی) دیكھ لے گا“
<وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَہَدَیْنَاہُمْ فَاسْتَحَبُّوْا الْعَمٰی عَلَی الْہُدیٰ>9
”اور رھے ثمود تو ھم نے ان كو سیدھا رستہ دكھادیا مگر ان لوگوںنے ہدایت كے مقابلہ میں گمراھی كو پسند كیا“
<اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ>10
”جو كچھ تم كرتے تھے تمھیں اس كی سزا دی جائے گی“
<وَاَنِّی لاٰ اُضِیْعُ عَمَلَ عَاْمِلٍ مِنْكُمْ>11
”ھم تم میں سے كسی كے عمل كو ضایع نھیں كرتے“
اسی طرح قرآن كریم میں دیگر آیات بھی موجود ھیں جو تمام كی تمام اس بات كی واضح دلیل ھیں كہ فعل كی نسبت اس كے اختیار كی وجہ سے خود انسان كی طرف ھے، لیكن كوئی فعل خدا كی مشیت اور اس كے ارداہ كے بغیر انجام نھیں پاتا۔
لیكن بعض لوگوں نے اس نظریہ كو نھیں مانا اور كھا كہ خداوندعالم كا یہ قول:
<اَللّٰہُ خَالِقُ كُلِّ شَیٴٍ> 12
”اللہ ھر چیز كا خالق ھے“
اس بات كی دلیل ھے كہ تمام افعالِ انسان، خدا كی مخلوق ھیں كیونكہ ”كُلِّ شَیٴٍ“ میں افعال انسان بھی آتے ھیں اور یہ افعال صرف انسان كی تخلیق نھیں ھیں، لہٰذا یہ ”جبر“ ھے۔
جبكہ حقیقت یہ ھے كہ یہ آیت انسان كے افعال واعمال كے سلسلہ میں نھیں ھے بلكہ اس آیت میں ان لوگوں كے نظریہ كی رد ھے جو متعدد خالق مانتے تھے مثلاً زمین كا خالق، افلاك كا خالق، انسانوں كا خالق وغیرہ وغیرہ، لہٰذا یہ آیت ان لوگوں كی ردّ میں نازل هوئی ھے اور یہ كہتی ھے كہ اللہ كے علاوہ كوئی خالق نھیں ھے اور تمام اشیاء كا خالق اللہ تعالیٰ ھی ھے۔
لفظ ”خالق“ كا خداوندعالم سے مخصوص هونا اس بات كی دلیل نھیں ھے كہ ھم اس كی خلقت كو تمام چیزوں میں عمومیت دیدیں یھاں تك انسان كے افعال بھی خدا كی مخلوق میں شمار هونے لگےں، كیونكہ قرآن مجید میں تو خلق كی نسبت انسان كی طرف بھی دی گئی ھے جیسا كہ ارشاد الٰھی هوتا ھے:
<وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَھَیْئَةِ الطَّیْرِبِاِذْنِی فَتَنْفَخُ فِیْہَا فَتَكُوْنُ طَیْراً بِاِذْنِی>13
”اور جب تم میرے حكم سے مٹی سے چڑیا كی مورت بناتے پھر اس پر (كچھ) دم كردیتے تو میرے حكم سے (سچ مچ) چڑیا بن جاتی۔“
< اٴَنِّیْ اَخْلُقُ لَكُم مِنَ الطِّیْنِ كَھَیْئَةِ الطَّیْرِبِاِذْنِی فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَكُوْنُ طَیْراً بِاِذْنِ الله۔>14
”میں گندھی هوئی مٹی سے ایك پرندہ كی مورت بناؤں گا پھر اس پر (كچھ) دم كرونگا تو وہ حكم خدا سے اڑنے لگے گا“
<وَتَخْلُقُوْنَ اِفْكاً>: 15
”تم ان كو گھڑتے هو۔“
<فَتَبَارَكَ اللّٰہُ اٴَحْسَنُ الْخَاْلِقِیْنَ>16
”(سبحان اللہ) خدا بابركت ھے سب بنانے والوں سے بہتر ھے“
<وَتَذَرُوْنَ اٴَحْسَنَ الْخَاْلِقِیْنَ >17
”اور خدا كو چھوڑ بیٹھے هو جو سب سے بہتر پیدا كرنےوالا ھے“
قارئین كرام! مذكورہ آیات اس بات پر دلالت كرتی ھیں كہ انسان بھی خالق ھے لیكن خداوندعالم احسن الخالقین ھے۔ لیكن قرآن مجید كی درج ذیل آیت سے یہ استدلال كرنا كہ افعالِ انسان، خداوندعالم كی ایجاد ھے:
<اَللّٰہُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ > 18
” خدا تمھارا خالق ھے اور جو كچھ تم انجام دیتے هو“19
كیونكہ آیت اس بات كی وضاحت كرتی ھے كہ جو كچھ انسان انجام دیتا ھے وہ خداوندعالم كی خلقت ھے تو نتیجہ باطل ھے كیونكہ یہ آیہٴ شریفہ پھلی آیت كا نتیجہ ھے ارشاد هوتا ھے:
<قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ >20
(جناب ابراھیم نے كھا كہ افسوس) تم اس كی پرستش كرتے هو جسے تم لوگ خود تراش كر بناتے هو“
لہٰذا اس سوال كے جواب میں یہ مذكورہ آیت نازل هوئی:
<اَللّٰہُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ > 21
اگر انسان ان دونوں آیات كوسامنے ركھے تو نتیجہ یہ نكلے گا كہ یہ آیہ كریمہ ان لوگوں كی ردّ میں نازل هوئی جو لكڑی اور پتھر سے بت بناكر ان كی عبادت كیاكرتے تھے اور ان سے قربت حاصل كرتے تھے، لہٰذا خداوندعالم نے اس آیت كے ذریعہ یہ ظاھر كردیا كہ ھم ھی نے ان مشركین كو پیدا كیا ھے اور ان چیزوں كو پیدا كیا جن كے ذریعہ سے مشركین بت بناتے ھیں۔
لہٰذا اس آیت میں بندوں كے افعال واعمال كے متعلق كوئی بات نھیں ھے۔
3۔ عذاب، خود اختیا رپر دلیل ھے
قارئین كرام! خداوندعالم كا گناہكاروں پر عذاب كرنا، انسان كے مختار هونے پر بہترین دلیل ھے، اس سلسلہ میں قرآن مجید میںموجودہ آیات كو ملاحظہ فرمائیں:
<لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ >22
”اگر (كھیں) شرك كیا تو یقیناً تمھارے سارے اعمال اكارت هوجائیں گے اور ضرور تم گھاٹے میں آجاؤگے“
<فَلاَیُجْزَی الَّذِینَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ إِلاَّ مَا كَانُوا یَعْمَلُونَ >23
”اور برائی كرنے والوں كو اتنی ھی سزا دی جائے گی جیسے وہ اعمال كرتے رھے ھیں“
< یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اٴَلْسِنَتُہُمْ وَاٴَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ>24
”جس دن ان كے خلاف ان كی زبانیں اور ان كے ھاتھ اور پیر ان كی كارستانیوں كی گواھی دیں گے“
<وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ>25
”اور جیسی جیسی تمھاری كرتوتیں تھیں (ان كے بدلے) اب ھمیشہ عذاب كے مزے چكھو“
<وَقِیْلَ لِلظَّالِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ>26
”اور ظالموں سے كھا جائے گا كہ تم دنیا میں جو كچھ كرتے تھے اب اس كے مزے چكھو۔“
<فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اٴَمِرِہِ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَةٌ>27
”جو لوگ اس كے حكم كی مخالفت كرتے ان كو اس بات سے ڈرتے رہنا چاہئے كہ (مبادا) ان پر كوئی مصیبت آپڑے“
<وَمَنْ یَزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اٴَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ>28
”اور جس نے ھمارے حكم سے انحراف كیا اسے ھم (قیامت میں) جہنم كے عذاب كا مزا چھكائیں گے“
كیونكہ اگر خداوندعالم اپنے بندوں كے افعال كا خالق هو اور پھر ان كاموں پر ان كو عذاب میں بھی مبتلا كرے تو یہ محال ھے كیونكہ یہ تو كھلم كھلا ظلم ھے، (كہ افعال كو خود انجام دے اور سزا بندوں كو دے) اور خداوندعالم ھر ظلم سے پاك وپاكیزہ ھے:
<وَمَارَبُّكَ بِظَلاّٰمٍ لِلْعَبِیْدِ>29
”اور تمھارا پروردگا ر بندوں پر (كبھی) ظلم كرنے والا نھیں ھے“
<وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْس بِظَلاّٰمٍ لِلْعَبِیْدِ>30
” خدا تو كبھی بندوں پر ظلم كرنے والا نھیں“
<وَمَا اٴَنَابِظَلاّٰمٍ لِلْعَبِیْدِ>31
”اور میں اپنے بندوں پر (ذرہ برابر بھی) ظلم كرنے والا نھیں هوں“
<وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْماً لِلْعَالَمِیْنَ>32
”اور خدا سارے جھان كے لوگوں (میںسے كسی) پر ظلم كرنا نھیں چاہتا“
<وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْماً لِلْعِبَادِ>33
”اور خدا تو اپنے بندوں پر ظلم كرنا چاہتا ھی نھیں“
<اِنَّ اللّٰہَ لاٰ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ>34
”خدا تو ھر گز ذرہ برابر بھی ظلم نھیں كرتا“
<اِنَّ اللّٰہ لاٰ یَظْلِمُ النَّاْسَ شَیْئاً>35
”خدا تو ھر گز لوگوں پر كچھ ظلم نھیں كرتا“
<وَلاٰ یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحداً>36
”اور تیرا پروردگار كسی پر (ذرہ برابر) ظلم نہ كرے گا“
(یہ تھیں وہ آیات جن میں خداوندعالم نے اپنے سے ظلم كی نفی كی ھے۔)
لیكن بعض علماء علم كلام نے خداوندعالم كی طرف ظلم كی نسبت كو صحیح مانا ھے، چنانچہ ان كے نظریہ كا خلاصہ یہ ھے:
”خداوندعالم كے لئے ظلم قبیح نھیں ھے كیونكہ وہ ظلم قبیح ھے جس كو عقل مكروہ جانے، یعنی وہ ظلم قبیح ھے جو دوسرے پر كیا جائے لیكن اگر اپنے پر ظلم كیا جائے چاھے وہ اپنے بدن پر هو یا اپنے مال اور اپنی عزت پر، كیونكہ انسان اپنے مال میں تصرف كرنے میں آزاد ھے اور بغیر كسی قید وشرط كے تصرف كرسكتا ھے اور اس كا یہ تصرف كرنا قبیح نھیں ھے۔
اسی طرح خداوندعالم كو بھی اپنی مخلوقات میں تصرف كرنے كامكمل حق ھے كیونكہ وھی ان كا خالق اور مالك ھے اور چونكہ اس كائنات میں جو كچھ بھی ھے وہ سب اللہ كی ملكیت ھے اور اس كی قدرت وسلطنت كے آگے خاضع ھیں، لہٰذا وہ جس طرح چاھے ان میں تصرف كرسكتا ھے، پس جس كو چاھے عذاب كرے چاھے وہ مومن ھی كیوں نہ هو، اور جس كو چاھے اپنی نعمتوں سے سرفراز كرے چاھے وہ كافر ھی كیوں نہ هو، كیونكہ تمام انسان اس كی ملكیت ھےں:
<وَلاٰ یُسْاٴَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْاٴَلُوْنَ >37
”جو كچھ وہ كرتا ھے اس كی پوچھ گچھ نھیں هوسكتی (ھاں) اور لوگوں سے باز پرس هوگی۔“
لہٰذا انسان كو یہ حق نھیں ھے كہ خدا كی عظمت كے سامنے اپنی قابلیت دھائے اور كھے كہ خداوندعالم كا یہ فعل حسن ھے اور یہ فعل قبیح۔
قارئین كرام! یہ اعتراض چند وجوھات سے مردود اور باطل ھے:
1۔ كیونكہ خداوندعالم كے بارے میں حكمِ عقل كے فرض كی گفتگو نھیں ھے بلكہ اس چیز كا بیان ھے جس سے بندوں كے معاملات میں فضل ولطف كی امید هو، كیونكہ ھم اس بات كو مكمل طور پر قبول كرتے ھیں كہ محال پر تكلیف كرنا یا جس كام كے انجام دھی كی قدرت نہ هو، اس كا حكم دینا یا گناہكار كوجنت میں داخل كرنا یا مطیع اور فرمانبردار كو جہنم میں داخل كرنا، ان تمام چیزوں پر خداوندعالم مكمل قدرت ركھتا ھے، اور ھر طریقہ كا تصرف كرسكتا ھے اور كوئی بھی حكم كرسكتا ھے، اور ھم یہ بھی یقین ركھتے ھیں كہ وہ اس طرح كے كام انجام نھیں دیتا لیكن اس كا ان كاموں كو انجام نہ دینا اس كے لطف وكرم كی وجہ سے ھے نہ یہ كہ وہ ان كاموں كو انجام دینے سے قاصر اور عاجز ھے۔
2۔ اگر ھم ظلم كو قبیح نہ مانیں تو پھر انسان خداوندعالم كے احكامات كی پیروی نھیں كرے گا كیونكہ ان احكامات اور ان كے نتائج كے درست هونے پر یقین نہ هوگا، اور اسی طرح اس كو خدا كے وعدہ وفا كرنے پر بھی اطمینان نہ هو گا۔
جبكہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
<اِنَّ اللّٰہَ لاٰ یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ>38
”بے شك خدا اپنے وعدہ كے خلاف نھیں كرتا“
كیونكہ یہ سب كچھ اس اعتبار سے ھے كہ ظلم، كذب اور خلف وعدہ قبیح ھے، لیكن اگر مسئلہ قبح وقباحت كو ہٹالیا جائے جیسا بعض لوگوں كا گمان ھے تو پھر انسان، خدا كی اطاعت، خواہشات نفس كی مخالفت هوا اور نفس امارہ سے جنگ پر اطمینان اور اعتماد نھیں كرے گا۔
3۔ ظلم كسی غیر پر تعدی كرنے سے مخصوص نھیں ھے بلكہ درمیانی راستہ سے افراط وتفریط كرنا بھی ظلم ھے، اسی وجہ سے كھا جاتا ھے كہ فلاں شخص نے اپنے اوپر ظلم كیا، جبكہ اس سے مراد یہ هوتی ھے كہ وہ شخص اپنے تصرف، لباس، طعام، اور خرچ میں راہ اعتدال سے خارج هوگیا ھے، درحالیكہ یہ سب كچھ اس كی ملكیت میں هوتے ھیں، اور وہ اپنے مال میں تصرف كرنے میں بھی مكمل آزاد هوتا ھے لیكن مذكورہ طریقہ كو عرف عام میں ظلم شمار كیا جاتا ھے۔
مثلاً اگر كوئی انسان كسی حیوان كو مارے جبكہ وہ حیوان اس كی ملكیت بھی هو، اور اس كا فرمانبردار، اور اس كو اذیت نہ دینے والا هو تو كیا اس كو مارنے پر یہ عذر پیش كرسكتا ھے كہ میں تو اس كا مالك هوں؟!
4۔ ظلم قبیح ھے۔
اگر انسان اپنے افعال كے انجام دینے پر قادر اور مختار نہ هو، اور صرف اس كے ارادہ سے ایجاد هوجائے تو پھر خداوندعالم (معاذ اللہ) ”اظلم الظالمین“ هوجائےگا، كیونكہ گناہگار شخص كو عذاب دیا جانا ضروری ھے اور چونكہ معصیت انسان كے اپنے اختیار سے نھیں ھے، لہٰذا اس كو عذاب كرنا كئی گنا ظلم سے بھی بُرا ھے۔
قارئین كرام! ”جبر“ كا عقیدہ ركھنے والے اس سلسلہ میں دو جواب پیش كرتے ھیں:
عذاب كسی فعل كی بنا پر نھیں ھے بلكہ ”كسب “كی بنا پر ھے۔
لیكن ھم ان كے جواب میں كہتے ھیں كہ:
جو بات ”كسب“ كے لغوی معنی اور قرآن كریم میں استعمالات سے سمجھی جاتی ھے وہ یہ ھے كہ كسب اختیار كے ذریعہ انجام شدہ فعل كو كہتے ھیں، جیسا كہ ارشاد هوتا ھے:
<وَمَنْ یَكْسِبْ اِثْماً فَاِنَّمَا یَكْسِبُہُ عَلیٰ نَفْسِہِ>39
”اور جو شخص كوئی گناہ كرتا ھے تو اس سے كچھ اپنا ھی نقصان كرتا ھے“
<لَہَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَااكْتَسَبَتْ>40
”اس (انسان) نے اچھا كام كیا تو اپنے نفع كے لئے اور برا كام كیا تو اس كا (وبال) اسی پر پڑے گا“
<وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْا اٴَیْدِیَہُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا>41
”اور چور خواہ مرد هو یا عورت تم ان كے كرتوت كی سزا میں ان كا (داہنا) ھاتھ كاٹ ڈالو“
<وَالَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّئَاٰتِ جَزَاءُ سَیِّئَةٍ بِمِثْلِہَا>42
”اور جن لوگوں نے برے كام كئے ھیں تو گناہ كی سزا ان كے برابر ھے “
<اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ>43
”جو لوگ گناہ كرتے ھیں انھیں اپنے اعمال كا عنقریب ھی بدلا دیا جائے گا“
اسی طرح قرآن كریم میں دیگر آیات بھی موجود ھیں جو تما م اس بات پر دلالت كرتی ھیں كہ ارادہ واختیار كے ذریعہ جو فعل انجام پائے اس كو ”كسب“ كہتے ھیں لیكن اختیار كی ایك شرط قدرتِ انسان ھے۔
لہٰذا ان كو جب خود اپنا دعویٰ ناقص دكھائی دیا تو انھوں نے یہ كھا كہ وہ كسب جو عذاب كا سبب بنتا ھے وہ ایسا فعل ھے جو خدا سے صادر هوتا ھے لیكن انسان كے ارادہ كے ساتھ یعنی اس فعل كے وجود كے لئے انسان كا ارادہ اور خدا كا اس كام كوكردینا ضروری ھے۔
لیكن ھم اس كا جواب یوں دیتے ھیں:
1۔اگر یہ مقارن هونا (ارادہ انسان اور فعل خدا كا ایك ساتھ ملنا) اختیار سے خارج هو تو انسان پر عذاب كرنا صحیح نھیں ھے كیونكہ ان كے گمان كے مطابق انسان تو صرف اس فعل سے رغبت ركھتا تھا، لیكن اس فعل كو خداوندعالم نے ایجاد كیا (ان كے گمان كے مطابق)
پس در حقیقت رغبتِ انسان اور ایجاد خدا میں مقارنت پائی گئی، اور یہ مقارنت بھی خدا كے ارادہ اور اس كی قدرت كے ذریعہ پیدا هوئی كیونكہ ان كے گمان كے مطابق وھی فاعل حقیقی ھے، تو پھر یہ كس طرح صحیح هوگا كہ خداوندعالم اس بندہ پر عذاب كرے جس نے فعل ھی انجام نہ دیا هو، یا اس مقارنت كی بنا پر جس پر اُسے ذرا بھی اختیار نھیں۔
2۔ خداوندعالم كا اپنے بندوں پر ظلم كرنا قبیح نھیں ھے كیونكہ یہ تو مالك كے تصرف كا ایك حصہ ھے اور وہ جو چاھے كرسكتا ھے، (ھم نے اس سلسلہ میں وضاحت كردی ھے) كیونكہ خود ذات افعال میں ایسی كوئی چیز نھیں ھے جس كی وجہ سے ان كو حسن یا قبیح كا نام دیا جائے، اور انسان كے كاموں كو حسن وقبیح كہنا شریعت كی بناپر هوتے ھیں كیونكہ جس كام كا شریعت نے حكم دیدیا ھے وہ حسن ھے اور جن كاموں سے روك دیا ھے وہ قبیح ھیں، كیونكہ اگر شارع كی نظر بدل جائے اور جس كام كا امر كیا تھا اس كے بارے میں نھی كردے اور جس چیز كے بارے میں منع فرمایا تھا اس كا حكم دیدے تو پھر قبیح، حسن سے اور حسن، قبیح سے بدل جائے گا، یعنی جو چیز حسن تھی وہ قبیح هوجائے گی اور جو قبیح تھی وہ حسن هوجائے گی۔
اور چونكہ (ان كے گمان كے مطابق) فعل كا حُسن وقبح شریعت مقدس كی وجہ سے ھے نہ كہ حكمِ عقل كی بنا پر، تو پھر خداوندعالم كے فعل كو حسن وقبح كا نام نھیں دیا جاسكتا كیونكہ وہ تو شریعت سے بھی بالاتر ھے، پس نتیجہ یہ هوا كہ ھر وہ كام جو خدا انجام دے (چاھے ظلم پر ھی كیوں نہ منطبق هو) وہ حسن وجمیل اور نیك ھے اور عقلِ انسانی یہ حكم كرنے سے قاصر ھے كہ خداوندعالم سے ظلم صادر هونا قبیح ھے۔
قارئین كرام! صحیح نظریہ بیان كرنے سے پھلے ھم حسن و قبح كے معنی كی طرف اشارہ كرتے ھیں:
پھلے معنی
حسن وقبح كا اطلاق كمال ونقص پر هوتا ھے، لہٰذا علم حسن ھے اور جھل ونادانی قبیح، شجاعت وكرم حسن ھیں اور ان كے مقابلہ میں بزدلی اور بخل قبیح ھیں، اور ان میں كسی بھی مفكر اور دانشمند نے كوئی اختلاف نھیں كیا ھے كیونكہ یہ ایسے یقینی مسائل ھیں جن كو انسان اپنی آنكھوں سے دیكھتا ھے۔
دوسرے معنی
حسن اس كو كہتے ھیں جو طبیعت كو اچھا لگے، اور قبیح اس كو كہتے ھیں جس سے طبیعت نفرت كرے، مثلاً یہ منظر، حسن ھے، یہ آواز حسن ھے یا بھوك كے وقت كھانا كھانا حسن ھے، اسی طرح یہ بھی كھا جاتا ھے كہ یہ منظر قبیح ھے یہ آواز قبیح ھے، اور اس معنی میں بھی كوئی اختلاف نھیں ھے، كیونكہ اس كا فیصلہ بھی خود انسانی شعور كرتا ھے اور اس میں شرع كا كوئی دخل نھیں ھے۔
تیسرے معنی
حسن وقبح كا اس چیز پر اطلاق كرنا جو مستحق مدح وذم هو، لہٰذا اسی بناپر یہ دونوں اختیاری افعال كی صفت قرار پاتے ھیں، اس حیثیت سے كہ عقلاء كے نزدیك حسن كے فاعل كو مستحق مدح وثواب سمجھا جاتا ھے اور تمام ھی لوگوں كے نزدیك قبیح كے فاعل كو مستحق ذم وعذاب سمجھا جاتا ھے، اور یھی تیسرے معنی موضوع بحث ھیں۔
چنانچہ اشاعرہ كا عقیدہ ھے كہ افعال كے حُسن وقُبح پر عقل كوئی حكم نھیں كرتی، بلكہ حسن وہ ھے جس كو شریعت حسن قرار دے اور قبیح وہ جس كو شریعت مقدس قبیح قرار دے، اور ان چیزوں میں عقل كی كوئی دخالت نھیں ھے۔
لیكن شیعہ امامیہ اور معتزلہ مذكورہ نظریہ كو قبول نھیں كرتے بلكہ ان كا عقیدہ یہ ھے كہ عقل كی نظر میں خود افعال كی ارزش واھمیت ھے بغیر اس كے شریعت كا اس میں كوئی دخل هو، اور انھی افعال میں سے بعض وہ افعال ھیں جو بذات خود حسن ھیں اور بعض بذات خود قبیح ھیں اور بعض ایسے افعال ھیں جن كو ان دونوں صفات میں سے كسی بھی صفت سے متصف نھیں كیا جاسكتا، شریعت مقدس انھی چیزوں كا حكم كرتی ھے جو حسن هوتی ھیں اور ان چیزوں سے منع كرتی ھے جو قبیح هوتی ھیں اور چونكہ صدق بذات خود حسن ھے اسی حسن كی وجہ سے خداوندعالم نے صدق كے لئے حكم كیا ھے اور جھوٹ چونكہ بذات خود قبیح ھے، اسی قبح كی وجہ سے خداوندعالم نے اس سے روكا ھے، نہ یہ كہ خدا نے منع كرنے كے بعد جھوٹ كو قبیح قرار دیا هو۔
اس مطلب پر ھماری دلیل یہ ھے كہ جو لوگ دین اسلام كو نھیں مانتے اور مختلف نظریات كے حامل ھیں وہ بھی صدق كو حسن اور جھوٹ كو قبیح مانتے ھیںجبكہ ان كو شریعت نے حسن وقبح كی تعلیم نھیں دی ھے۔
لہٰذا ان تمام باتوں سے ثابت یہ هواكہ حسن وقبح ذاتی دونوں شرعی هونے سے پھلے عقلی ھیں، عدل حسن ھے كیونكہ عدل ھے اور ظلم قبیح كیونكہ وہ ظلم ھے، بغیر اس كے كہ ان كے حسن وقبح میں كوئی شرعی اور دینی حكم هو۔ لہٰذا عقلی لحاظ سے خداوندعالم كا عادل هونا ضروری ھے كیونكہ عدل حسن ھے، اسی طرح عقلی لحاظ سے خداوندعالم كا ظالم هونا محال ھے كیونكہ ظلم قبیح ھے۔
خلاصہ بحث
عقلی اور قرآنی دلائل كے پیش نظر انسان اپنے فعل میں صاحب اختیار ھے اور اپنے تصرفات میں مكمل آزاد ھے اور كوئی جبر اكراہ نھیںھے، اور جو باتیں جبر كو ثابت كرنے كے لئے لوگوں نے بیان كی ھیں وہ ھماری بیان كردہ محكم نصوص ودلائل كے سامنے بے كار ھیں۔(لہٰذا نظریہ جبر باطل وبے بنیاد ھے)
خداوندعالم كا فرمان صادق اور سچا ھے:
ارشاد هوتا ھے:
<وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہٰا فَاٴَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوَاہَا قَدْ اٴَفْلَحَ مَنْ زَكَّاہَا وَقَدْ خَاْبَ مَنْ دَسَّا ہَا> 44
”(اور قسم ھے) جان كی جس نے اسے درست كیا پھر اس كی بدكاری اور پرھیزگاری كو اسے سمجھادیا، (قسم ھے) جس نے اس جان كو(گناہ سے) پاك ركھا وہ تو كامیاب هوا، اور جس نے گناہ كركے اسے دبادیا، وہ نامراد رھا“
———-
1. سورہ توبہ آیت ۵۱۔
2. سورہ نساء آیت ۷۸۔
3. عیون اخبار الرضا(ع) تالیف شیخ صدوق، ج ۲ ص ۱۱۴، روضة الواعظین تالیف فتال نیشاپوری، ص۳۸، احجاج طبرسی، ص ۱۹۸، بحار ا لانوار ج ۷۵ ۳۵۴، (تحقیق مترجم)
4. سورہ طور آیت ۲۱۔
5. سورہ نساء آیت ۱۲۳۔
6. سورہ نساء آیت ۱۲۳۔
7. سورہ كہف آیت ۲۹۔
8. سورہ زلزلة آیت ۷، ۸۔
9. سورہ فصلت( حم سجدہ) آیت ۱۷۔ (۶) سورہ تحریم آیت ۷۔
10. سورہ آل عمران آیت ۱۹۵۔
11. سورہ زمر آیت ۲۶۔
12. سورہ مائدہ آیت ۱۱۰۔
13. سورہ آل عمران آیت ۴۹۔
14. vسورہ عنكبوت آیت ۱۷۔
15. سورہ مومنون آیت ۱۴۔
16. سوره مومنون، آیت 14.
17. سورہ صافات آیت ۱۲۵۔
18. سورہ صافات آیت ۹۶۔
19. ترجمہ معترض كے لحا ظ سے ھے۔ مترجم)
20. سورہ صافات آیت ۹۵۔
21. سورہ صافات آیت ۹۶۔
22. سورہ زمر آیت ۶۵۔
23. سورہ قصص آیت ۸۴۔
24. سورہ نور آیت ۲۴۔
25. سورہ سجدہ آیت ۱۴۔
26. سورہ زمر آیت ۲۴۔
27. سورہ نور آیت۶۳۔
28. سورہ سبا آیت ۱۲۔
29. سورہ حم سجدہ آیت ۴۶۔
30. سورہ آل عمران آیت ۱۸۲۔
31. سورہ ق آیت ۲۹۔
32. سورہ آل عمران آیت ۱۰۸۔
33. سورہ غافر آیت ۳۱۔
34. سورہ نساء آیت ۴۰۔
35. سورہ یونس آیت ۴۴۔
36. سورہ كہف آیت ۴۹۔
37. سوره انبیاء، آیت ۲۳ ۔
38. سورہ آل عمران آیت ۹۔
39. سورہ نساء آیت ۱۱۱۔
40. سورہ بقرہ آیت ۲۸۶۔
41. سورہ مائدہ آیت ۳۸۔
42. سورہ یونس آیت ۲۷۔
43. سورہ انعام آیت ۱۲۰۔
44. سورہ شمس آیت ۷ تا ۱۰۔