احمد ابن تیمیہ حرانی اور اس پر کئے گئے اعتراضات

237

 چنانچہ علماء مکہ کے بقول جیسا کہ کتاب ” سیف الجبار المسلول علی اعداء الا برار،، طبع ترکیہ ۱۹۷۹ءء کے ص ۲۴ پر ھے کہ : بدبخت ابن تیمیہ کے دور کے علما نے اس کی گمراھی اور اس کے قید کر نے پر اجماع کیا ھے اور اعلان کیا گیا ھے کہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدوں پر ھو گا اس کا مال اور خون مباح ھے ۔”کشف الظنون ،،ج۱ ص ۲۲۰ پر ھے کہ علماء نے اس کی رد میں بھت مبالغہ کیا ھے یھاں تک کہ تصریح کی ھے کہ یہ شخص (ابن تیمیہ ) جسے شیخ الاسلام کھا گیا ھے ، کافر ھے ، اس کی کتاب کی جلد ۲ ص ۱۴۳۸ پر ھے :ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ” العرش وصفتہ ،، میں ذکر کیا ھے کہ خداوند عالم کرسی پر بیٹھتا ھے اور ایک جگہ خالی چھوڑ کر رکھی ھے جھاں رسول صلی الله علیہ و آلہ وسلم بیٹھیں گے۔ اس کو ابو حیان نے کتاب ” النھر،، میں قول خدا “وسع کرسیہ السمٰوات والارض ،،کے ذیل میں لکھا ھے : میں نے احمد ابن تیمیہ کی کتاب ” العرش ،، میں اسی طرح پڑھاھے ۔ انتھی
اور اسی کتاب کے ص ۱۰۷۸ پر احمد ابن تیمیہ جنبلی کی ایک کتاب بنام “الصراط المستقیم والرد علی اھل الجحیم ،، کا ذکر کیا ھے اور اسی میں ایسی باتیں لکھی ھیں جن کا تذکرہ کرنا مناسب نھیں ھے مثلا عبد الله ابن عباس کو کافر قرار دینا ۔حصینی نے اپنی کتاب میں اس کی رد لکھی ھے ۔ جامعہ ا زھر کے ایک عالم شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی نے اپنی کتاب ” تطھیر الفواد من دنس الا عتقاد ،،میںص۹ پر ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا ھے کہ اس نے اپنی کتاب “الواسطہ ،، وغیرہ کی تالیف کی تو ایسی باتیں گڑھیں جن سے مسلمانوں کے اجماع کو پارہ کر دیا ۔اس نے کتاب خدا ، صریح سنت اور سلف صالح کی مخالفت کی ھے۔ اپنی فاسد عقل کا مطیع ھوا ھے اور جان بوجہ کر گمراہ ھواھے ۔اس کا معبود اس کی ھوائے نفس ھے۔ اسے یہ گمان ھوا ھے کہ جو کچہ اس نے بیان کیا ھے حق ھے حالانکہ وہ حق نھیں ھے بلکہ یہ جھوٹ اور قول منکر ھے ،اور اسی کتاب کے ص۱۳پر ھے :یہ کتاب ابن تیمیہ کی بھت سی من گڑھت باتوں پر مشتمل ھے جوکتاب و سنّت اور جماعت مسلمین کے مخالف ھے ۔
اور صفحھ۱۰ /۱۱پر ھے:وہ برابر اکابر کے پیچھے پڑا رھا یھاں تک کہ اس کے زمانے والے اس کے خلاف مجتمع ھوئے اسے فاسق قرار دیا اور بدعتی ٹھھرایا بلکہ ان میں سے زیا دہ لوگوں نے اسے کافر قرار دیا ۔
اور صفحہ ۱۷پر ھے :اپنے زمانے میں ابن تیمیہ کا وتیرہ ادب اورھر زمانے میں اس کے پیروٴوں کا یھی طریقہ رھا ھے کھ:
“یقولون آمنّا بالله و بالیوم الاخروما ھم بمومنین ،یخادعون اللهوالذین آمنوا وما یخدعون الاانفسھم وما یشعرون ،،یہ لوگ کھتے ھیں کہ ھم الله اور روز قیامت پر ایمان لائے ھیں حالانکہ یہ مومن نھیں ھیں ۔یہ الله کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ھیں حالانکہ یہ خود اپنے کو دھوکہ دے رھے ھیں اور انھیں اس کا احساس نھیں ھے ۔،،
موٴلف کھتا ھے :یہ منافقیں کی صفت ھے جسے خدا وند عالم نے اپنی کتاب قرآن کریم میں بیان کیا ھے ۔
اور یافعی نے “مرآةالجنان ،،ج۴/ص۲۴۰طبع حیدرآباد دکن ۱۳۳۹ھئمطبع دائرةالمعارف النظامیہ میں ابن تیمیہ کے بعض مھمل اقوال کا ذکر کیا ھے مثلاًلکھا ھے:خدا حقیقتاًعرش پر بیٹھا ھے اور الفاظ وآواز سے گفتگو کرتا ھے پھرلکھا ھے کہ دمشق میںیہ اعلا ن کردیا گیا کہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدہ پر ھوگا اس کی جان اور اس کا مال مباح ھے ۔
اور صفحھ۲۷۸پر۷۲۸ ئکے واقعات کے سلسلہ میں ھے :اس (ابن تیمیہ )کے عجیب وغریب مسائل ھیں جن کے بارے میں اس پر طعن وتشنیع کی گئی ھے اورجن کے سبب مذھب اھل سنّت ترک کرنے کی خاطر اسے قید کیا گیا ۔پھر اس کی بھت سی برائیوں کو شمار کراتے ھوئے لکھا ھے کھ:اس کی قبیح ترین برائی یہ تھی کہ اس نے پیغبر اسلام صلّی الله علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے منع کر دیا تھا ۔آپ پر اور دوسرے اولیاء خدا اور اس کے برگزیدہ بندوں پر طعن و تشنیع کی تھی اور اسی طرح مسٴلہ طلاق وغیرہ کے سلسلہ میں اس کا مسلک اور جھت کے بارے میں اس کا عقیدہ اور اس بارے میں جوباطل اقوال اس سے نقل ھوئے ھیں یہ سب اور اس کے علاوہ اور بھی بھت سی باتیں اس کے قبائح میں سے ھیں ۔
شیخ ابن حجر ھیتمی نے “تحفہ ،،میں لکھا ھے :خدا کی جسمیت یا اس کے جھت میں ھونے کا دعویٰ ایساھے کہ اگر کوئی اس کا عقیدہ رکھے تو کافر ھے ۔سفینةالراغب ص۴۴ طبع بولاق مصر ۱۲۵۵ ئ
شیخ یوسف نبھانی نے اپنی کتاب “شواھدالحق ،،کے صفحہ ۱۷۷پر لکھا ھے :چوتھا باب ،ابن تیمیہ کے اوپرعلماء مذاھب اربعہ کے اعتراضات کی عبارتیں اور اس کی کتابوں پر کئے گئے ایرادات اور بعض اھم مسائل جیسے خدا وندعالم کا ایک خاص جھت وسمت میں ھونا ،کے بارے میں اھل سنّت کی مخالفت کے بیان میں ۔پھر ایک جماعت کا ذکر کیا ھے جنھوں نے اس پر طعن کیاھے لکھا ھے :
“انھیں طعن کرنے والوں میں سے امام ابوحیان ھیںجو ابن تیمیہ کے دوست تھے ۔جب اس کی بدعتوں سے با خبر ھوئے تو اس کو بالکل چھوڑ دیا اور لوگوں کو اس سے دور رھنے کی تاکید کی ۔اور انھیں میں سے امام عزالدین ابن جماعةھیں انھوں نے اس کی رد کی ھے اور اسے برا کھا ھے ۔،،
انھیں میں سے ملا علی قاری حنفی ھیں انھوں نے شفاء کی شرح میں لکھا ھے : حنبلیوں میں سے ابن تیمیہ نے افراط سے کام لیا چنانچہ اس نے زیارت نبی کے لئے سفر کرنے کو حرام قرار دیا ھے ۔اسی طرح اس کے مقابل والے نے بھی افراط سے کام لیا ھے چنانچہ کھا ھے :زیارت کا باعث تقرب خدا ھونا ضرویات دین میں سے ھے اور اس کا انکار کرنے والا کافر ھے ۔اور شاید یہ دوسرا قول حق سے قریب ھے کیونکہ جس کے مستحب ھونے پر اجماع ھو اس کا حرام قراردینا کفر ھوگاکیونکہ یہ مباح متفق علیہ کے حرام قرار دینے سے بڑہ کر ھے۔
اور انھیں میں سے شباب الدین خفاجی حنفی ھیں جن کے کلام کو اس طرح ذکر کیا ھے :ابن تیمیہ نے ایسی خرافات باتیں لکھی ھیں جن کا ذکر کرنا مناسب نھیں کیونکہ یہ باتیں کسی عقلمند انسان کی ھو ھی نھیں سکتیںچہ جائیکہ ایک پڑھے لکھے آدمی کی زبان اورقلم سے صادر ھو ں ۔چنانچہ ابن تیمیہ کا یہ کھنا کہ “قبر پیغمبر اسلام کی زیارت حرام کام ھے ،،کذب محض،لغو ھے اوربکواس ھے ۔ اس کا یہ کھنا “اس کے بارے مےں کوئی نقل موجود نھیں ھے ،،باطل ھے کیونکہ امام مالک ،امام احمد ،اور امام شافعی رضی اللهعنھم کا مذھب یہ ھے کہ سلام ودعا میںقبر شریف کی طرف رخ کرنا مستحب ھے اور یہ بات ان بزرگوں کی کتابوںمیں درج ھے۔
اور انھیںمیں سے امام محمدزرقانی مالکی ھیں ۔(بنھانی نے ان کے کچہ کلام کو مواھب لدنیہ کی شرح میں نقل کیا ھے جسے ھم یھاںپیش کررھے ھیں:
“لیکن ابن تیمیہ نے اپنے لئے ایک جدید مذھب ایجاد کیا ھے اور وہ ھے قبروں کی تعظیم نہ کرنا ۰۰۰ کیا یہ شخص جس بات کا علم نھیں رکھتا اس کے جھٹلانے سے شرماتاھے ؟اور ابن تیمیہ کی طعن وتشنیع کے سلسلے میں اپنی پھلی والی بات دھرائی ھے ۔
اور انھیں میں سے امام کمال الدین ز ملکانی شافعی متوفی۷۲۷ھئنے کشف الظنون میں ان کی ایک کتاب”الذرةالمضیہ فی الرد علی ابن تیمیہ ،،کا ذکر کیا ھے انھوں نے ان مسائل میں اس سے مناظرہ کیا ھے جن میں وہ مذاھب اربعہ سے منحرف ھوگیا ھے اور ان میں قبیح ترین مسئلہ اس کا انبیاء وصالحین خصوصاًسیدالمرسلین کی قبروں کی زیارت اور آپ کے وسیلہ سے خدا سے مانگنے کو منع کرنا ھے ۔
اور انھیں میں سے امام کبیرشھیر تقی الدین سبکی شافعی ھیں(ابن تیمیہ پر اعتراضات کو ان کی کتاب شفاء السقام فی زیارت خیر الانام علیہ السلا م سے نقل کیا ھے) اس کتاب میں انھوں نے اسے بدعتی کھا ھے ۔ اور انھیں میں سے حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی ھیں(انھوں نے اپنی کتاب فتح الباری فی شرح البخاری میں اس پر رد کی ھے )اور انھیں میں سے امام عبد الروٴوف منادی شافعی ھیں انھوں نے شرح شمائل میں کھا ھے :اور ابن قیّم کا اپنے شیخ ابن تیمیہ کے حوالے سے یہ کھناکہ “مصطفی صلّی الله علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنے پرور دگارکو اپنے دونوں شانوں کے درمیان اپنے ھاتہ رکہ کر دکھائے تو خدااس جگہ کو بالوں کو نوازا ۔اس کی ردشارح یعنی ابن حجرمکّی نے اس طرح کی بات ان دو نوں (ابن تیمیہ وابن قیم)کی بد ترین گمراھی ھے اور یہ ان دونوں کے اس عقیدہ پر مبنی ھے کہ خدا جھت اور جسم رکھتا ھے۔خدا وند عالم ظالموں کے اس قول سے کھیں بزرگ وبرتر ھے اس کے بعد منادی نے لکھا ھے :اب میں کھتا ھوں ان دونوںکا بدعتیوں میں سے ھونا مسلّم ھے۔
اور انھیں میں سے ھمارے دوست عالم با عمل ،فاضل کامل ، شیخ مصطفی ابن احمد سطی جنبلی دمشقی حفظ الله وجزا ہ الله احسن الجزا ء ھیں ۔ مو صوف نے ایک مخصوص رسالہ تالیف کیا ھے جس کا نام ( النقول الشرعیہ فی الرد علی الو ھابیة ) ھے۔انھیں میں سے امام شھاب الدین احمد بن حجر ھیثمی مکی شافعی ھیں انھوں نے ابن تیمیہ پر بھت سخت ردو تنقید کی ھے ۔
اور نبھانی نے شواھدالحق کے ص ۱۹۱ پر پھلے تو ان لوگوں کے نام نقل کئے ھیں جنھوں نے ابن تیمہ کو طعن و تشنیع کی اور جن کا ذکر ابھی گزرا ھے ۔ اس کے بعد کھتے ھیں : لھذا ثابت ھوا اور آفتاب نصف النھار کی طرح روشن ھوا کہ علماء مذ ھب اربعہ نے ابن تیمیہ کی بد عتوں کے رد کرنے پر اتفاق کیا ھے اور کچہ علماء نے اس کی نقل کی صحت پر طعن کیا ھے تو بھلا جن مسائل میں دین سے انحراف کیا ھے اور اجماع مسلمین کی مخالفت کی ھے خاص کر ان مسائل میں جو سید المر سلین سے متعلق ھیں اس کی کھلی ھوئی غلطی پر سخت طعن وتشنیع کیوں نہ کرتے ۔
حنفیوں میں سے جنھوں نے اس کی نقل کے صحیح ھونے پر طعن کیا ھے شھاب الدین خفاجی شارح الشفا ء ھیں جن کا ذکر گزر چکا ھے ۔ اور مالکیوں میں سے امام زرقانی ھیں شرح مواھب میں ، یہ تذ کرہ بھی گزر چکا ھے ۔ اور شافیوں میں سے امام سبکی ھیں جیسا کہ ان کی کتاب شفاء السقام میں مذ کور ھے اس میں انھوں نے یہ واضح کیا ھے کہ نہ صرف یہ کہ ابن تیمیہ کی رائے غلط ھے بلکہ اس کے نقل کئے ھوئے وہ احکام شرعیہ بھی صحیح نھیں ھیں جس کے ذریعہ اس نے اپنی بدعت کی تقویت پر استدلال کیا ھے اور انھیں مذاھب اربعہ کی طرف منسوب کیا ھے حالانکہ ائمہ مذا ھب اربعہ نے وہ احکام نھیں بیان کئے ھیں ۔اسی طرح اس کے نقل کی عدم صحت کا ذکر امام ابن حجر ھیثمی نے بھی اس کے اوپر اپنے اعترا ضات میں کیا ھے اور یہ بات پو شیدہ نھیں ھے کہ یہ چیز ایک عالم کے اندر بھت بڑاعیب اور بھت بڑا اخلاقی جرم ھے جو اس پر اعتماد کو ضعیف کر دیتا ھے اور اس کے منقولات کے اعتبار کو ساقط کر دیتا ھے چاھے وہ احفظ حفاظ اورا علم علماء میں سے ھو اور ابن تیمیہ کے منقو لات کے معتبر نہ ھونے کی تقویت اس قول سے بھی ھوتی ھے جو اس کے بارے میں حافظ عراقی نے کھا ھے۔ کلام نھبانی تمام ھوا ۔شواھد الحق ص ۱۷۷تا ۱۹۱
ابن تیمیہ کا ذکر ڈاکٹر حامد حفنی داوؤد حنفی نے بھی اپنی کتاب ( نظرات فی الکتب الخالدة) ص ۳۱ مطبوعہ مصر ۱۳۹۹ء دارالمعلم للطباعة میں کیا ھے اور اسے بدعتی قرار دیا ھے اور حاشیہ میں اس کلمہ پر نوٹ لگایا ھے کہ : اکثر علماء اھل سنّت نے اس کے بد عتی ھونے کا قول اختیار کیا ھے رہ گئے صوفیہ تو انھوں نے اس پر اجماع کیا ھے ، امام تقی الدین سبکی اور ابن تیمیہ کے درمیان فقہ وعقیدہ کے اکثر گوشوں کے بارے میں خط وکتابت ھوتی ھے ۔دیکھئے ھماری کتاب (التشریع الا سلامی فی مصر ) انتھی ۔
عبدالغنی حمادہ اپنی کتاب ( فضل الذاکرین والرد علی المنکر ین ) طبع سوریہ اَدْلَبْ ۹۱ ۱۳ء ص ۲۳ پر اس طرح وھابیت پر طعن کر تے ھیں :
شیخ وھابیت ابن تیمیہ کے بارے میں علامہ مصر علاء الدین بخاری نے لکھاھے کہ : ابن تیمیہ کافر ھے جیسا کہ اس کے زمانے کے بزر گ عالم زین الدین حنبلی نے کھا ھے کہ میرا اعتقاد یہ ھے کہ ابن تیمیہ کافر ھے اور کھتے تھے کہ امام سبکی رضی الله عنہ ابن تیمیہ کی تکفیر سے معذور ھیں کیونکہ اس نے امت اسلامیہ کو کافرقرار دیا ھے اور اسے قول خدا :”اتخذ وااحبار ھم ورھبانھم ار بابا من دون الله ،،کی تفسیر کر تے ھوئے یھودو نصاریٰ سے تشبیہ دی ھے۔ علماء مذاھب نے لکھا ھے کہ : ابن تیمیہ زندیق ھے کیونکہ وہ پیغمبر اسلام اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی توھین کرتا تھا اور اس کی کتابیں خدا وند عالم کی تشبیہ اور اسے صاحب جسم قرار دینے سے بھری ھوئی ھیں ۔
اور اس کے زمانے کے علامہ ابن حجر رضی الله عنہ نے کھا ھے ۔ ابن تیمیہ ایک ایسا بندہ ھے جسے خدا نے رسوا ، گمراھ، اندھا ، بھرا اور ذلیل کیا ھے ۔اس کے خلاف مذاھب اربعہ میں سے اس کے دور کے علماء اٹہ کھڑے ھوئے اور اکثر نے اس کو فاسق اور کافر قرار دیا ھے ۔علماء نے کھا ھے کہ ابن تیمیہ نے صحابہ کرام رضی الله عنھم کو کافر قرار دینے میں خوارج کے مذ ھب کا اتباع کیا ھے ۔
اور ائمہ حفاظ نے کھا ھے کہ ابن تیمیہ خوارج میں سے ھے ،جھوٹا ھے ، شریر ھے ، افترا پر داز ھے ۔”فضل الذا کرین ،،میں لفظ بہ لفظ مو جود ھے ۔
اور ابو حامد مرزوق شامی نے اپنی کتاب ۔” التوسل بالنّبی وبا لصالحین ،،مطبوعہ تر کیہ طبع آفسٹ ۸۴ ۱۹ ءء کے ص ۴ پر لکھا ھے:
” ایک بار ابن تیمیہ نے دمشق کے ممبر پر جانے کے بعد کھا : ” خدا وند عالم اسی طرح عرش سے اتر تا ھے جیسے میں ممبر سے اتر رھا ھوں اور ایک زینہ نیچے اتر کر دکھایا ھے ، ، اس کے بعد ابو حامد نے لکھا ھے کہ اس واقعہ کو دیکھنے والوں میں فقیہ سیاح ابن بطوطہ مغری بھی ھیں اور ” التوسل بالنّبی وبالصالحین ،،کے ص ۶ پر ابن تیمیہ سے نقل کیا ھے کہ ابن تیمیہ نے لکھا ھے کھ” خدا حق تعالیٰ عرش کے اوپر ھے ،، اور اسی کتاب کے ص ۲۱۶ پر کتاب ” دفع شبہ من شبّہ وتمرّد ،،طبع مصر ۵۰ ۱۳ء ہ مطبع عیسیٰ حلبی ، تصنیف ابو بکر حصنی دمشقی متوفی ۸۲۹ ء سے نقل کر تے ھوئے لکھا ھے کہ مصنف مذکور نے ابن تیمیہ کے بارے میں کھا ھے :” میں نے اس خبیث (ابن تیمیہ ) کے کلام کو دیکھا جس کے دل میں انحراف کا مرض ھے جو فتنہ پیدا کر نے کے لئے متشابہ آیات و احادیث کا اتباع کر تا ھے اور عوام و غیر عوام میں سے ان لوگوں نے اس کی پیروی کی جس کے ھلاک کر نے کا خدا نے ارادہ کیا تھا ، میں نے اس میں ایسی باتیں پائیں جن کو ادا کر نے کی مجھ میں قدرت نھیں ھے اور نہ میری انگلیوں اورقلم میں انھیں تحریر کر نے کی جراٴت ھے کیو نکہ اس نے پر وردگار عالم کی اس بات پر تکذیب کی ھے کہ اس نے کتاب مبین میں اپنے کو منزہ قرار دیا ھے ۔اسی طرح اس کے بر گزیدہ اور منتخب افراد خلفاء راشدین اور ان کے صالح پیروکاروں کی توھین اور عیب جوئی کی ھے لھذا میں نے ان کا ذکر کرنا مناسب نہ جانا اور صرف ان باتوں کو ذکر کیا جنھیں ائمہ متقین نے ذکر کیا تھا اور جن پر ان کا اتفاق ھے وہ یہ کی ابن تیمیہ بد عتی اور دین سے خارج ھے ۔
حافظ ابن حجر نے ” الفتاوی الحدیثیہ ،، ص ۸۶ پر لکھا ھے کہ ” ابن تیمیہ ایسا بندہ ھے جسے خدا نے رسوا ، گمراہ ، اندھا ، بھرہ ، اور ذلیل بنا دیا ھے اور اسی بات کی تصریح ان اماموں نے بھی کی ھے جنھوں نے اس کے فاسد ھونے اور اس کی باتوں کو جھوٹ ھونے کا بیان کیا ھے اور جو شخص اسے جاننا چاھتا ھو وہ امام مجتھد ابوالحسن سبکی جن کی ،امامت ، جلالت ، شان اور مرتبہ اجتھاد تک پھنچنے پر اتفاق ھے ان کے اور ان کے فرزند تاج اور شیخ امام عزّ بن جماعہ اور شافعیہ ، مالکیہ ، حنفیہ ، میں سے ان کے ھم عصر علماء کے کلام کو ملا حظہ کریں ، ابن تیمیہ نے صرف متاخرین صوفیہ کے اوپر اعتراض کرنے پر اکتفاء نھیں کی ھے بلکہ عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی طالب رضی الله عنھما ،، جیسے حضرات پر بھی اعتراض کیا ھے۔
خلاصہ یہ کہ اس کے کلام کی کوئی قدرو قیمت نھیں ھے اور چاھئے کہ اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بد عتی گمراہ ،گمراہ کن ، جاھل اور غلو کر نے والا ھے ، خدا اس کے ساتھ اپنے عدل سے معاملہ کرے اور ھمیں اس کے طریقہ ، عقیدہ ، اور عمل سے محفوظ رکھے ۔ آمین ۔
کلام ابن حجر تمام ھوا اسے ھم نے تطھیر الفواد من دنس الا عتقاد ص ۹ طبع مصر ۱۳۱۸ ء ہ تصنیف شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی سے نقل کیا ھے۔
اس کے بعد کھا کہ وہ خدا کے لئے سمت کا قائل ھے جس کا لازمی نتیجہ یہ ھے کہ وہ خدا کے لئے جسمیت ، محاذات ،اور استقرار کا قائل ھے ۔
کتاب “التوسل با لنّبی وبا لصالحین ،، میں ابن تیمیہ پر اور بھی بھت سے طعن ھیں جن کو چند عناوین کے تحت ذکر کیا ھے ، جو حسب ذیل ھیں ۔
۰ علّامہ شھاب الدین احمد بن یحییٰ حلبی کی جھت کے بارے میں ابن تیمیہ پر رد۔
۰ ابن تیمیہ کے اس زعم کا ابطال کہ خدا حق تعالیٰ عرش کے اوپر ھے ۔
۰ عقیدہ ابن تیمیہ جس کے سبب اس نے جماعت مسلمین سے مخالفت کی ھے اور انھیں برا کھا ھے جسے قر آن میں طعن کر نے والے او باش ملحدین سے حاصل کیا ھے ۔
۰ ابن تیمیہ کی تمام علماء اسلام سے مخالفت ۔
ابن تیمیہ کے فتوٴوں کے نمو نے
عالم کبیر شیخ محمد بخیت حنفی عالم جامعہ ا زھرنے اپنی کتاب “تطھر الفواد من دنس الا عتقاد ،،طبع مصر مطبو عہ ۱۳۱۸ئکے ص ۱۲ پر اس شخص کے کچہ فتوؤں کا ذکر کیا ھے جن میں سے بعض نمو نے ھم یھاں پر پیش کر رھے ھیں تا کہ ایک غیر جانبدارقاری کو اس کے انحراف ، فاسد عقیدے اور منحرف فتوؤں میں علماء اسلام سے اس کی مخالفت کا زیا دہ سے زیا دہ علم ھو سکے ۔
(۰) ” اگر کو ئی شخص جان بو جہ کر نماز تر ک کر دے تو اس کی قضا وا جب نھیں ھے۔”
(۰) ” حیض والی عورت کے لئے خانہ ء کعبہ کا طواف کرنا جائز ھے اور اس پر کوئی کفارہ نھیں ھے۔”
(۰)” تین طلاق ایک طلاق کی طرف پلٹایا جائے گا” اور اس بات کا دعویٰ کر نے سے پھلے خود اسی نے نقل کیا ھے کہ اجماع مسلمین اس کے بر خلاف ھے ۔
(۰) ” جس اونٹ کے پیر کی موٹی والی نسیں کاٹ دی گئی ھوں وہ کاٹنے والے کے لئے حلال ھے اور وہ جب تاجروں سے لے لیا جائے تو زکوٰة کے عوض کافی ھے اگر چہ زکوٰة کے نام سے نہ لیا گیا ھو ۔،،
(۰)” بھنے والی چیزوں میں اگر جاندار مثلا چوھا مر جائے تو یہ چیزیں نجس نھیں ھو تیں”
(۰)” جنب کو چاھئے کہ حالت جنا بت میں نافلہ شب پڑھے اور تا خیر نہ کرے کہ فجر سے پھلے غسل کر کے پڑھے گا اگر چہ اپنے ھی شھر میں ھو ۔”
(۰) ” وقف کرنے والے کی شرط کا کوئی اعتبار نھیں ھے بلکہ اگر اس نے شا فعیہ پر وقف کیا ھے تو حنفیہ پر صرف کیا جائے گا اور بر عکس ،اور قاضیوں پر وقف کیا ھے تو صو فیہ پر صرف کیا جائے گا ۔،،
اسی طرح عقائد اور اصول دین کے مسائل میں بھی انحراف کا مر تکب ھوا ھے۔
(۰)” ْ خدا وند عالم محل حوا دث ھے”تعالیٰ عن ذالک علوا کبیرا
(۰)”خدا مرکب ھے اس کی ذات ویسے ھی محتاج ھے جیسے کل اپنے جزء کا محتاج ھوتا ھے “تَعَا لیٰ عَنْ ذَالِکَ،،
(۰)”خدا جسم رکھتا ھے،وہ خاص سمت میں ھے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ھوتا ھے ،وہ ٹھیک عرش کے برابر ھے نہ چھوٹا نہ بڑا”(خدا وندعالم اس قبح وبد ترین افترا ء اور صریحی کفر سے کھیں بالا تر ھے ۔خدا اس کے پیروٴوں کو رسوا کرے اور اس کے معتقدین کا شیرازہ منتشر کرے )
(۰)”جھنم فنا ھوجائے گی ،انبیاء معصوم نھیں ھیں۔”
(۰)”رسول اللهصلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی کوئی وقعت نھیں ھے ۔ان سے توسل نہ کیا جائے۔”
(۰)”پیغمبر اسلام کی زیا رت کے لئے سفر کرنا معصیت ھے اس سفر میں نمازقصر نھیں ھوگی۔”

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.