ام المصائب۔۔۔ بي بي زينب سلام اللہ عليہا
آسماني نام:جس دن عليٴ اور فاطمہٴ کے گلستان ميں تيسرا پھول کھلا اس وقت رسول اللہ ۰ سفر ميں تھے۔ چنانچہ ماں باپ نے صبر کيا اور ان کے آنے کا انتظار کرتے رہے تاکہ حسنٴ و حسينٴ کي طرح اس پھول کا نام بھي عالمِ ملکوت سے لے کر آئيں۔اللہ کے رسول۰ کچھ عرصہ بعد تشريف لے آئے اور اپني بيٹي بي بي فاطمہٴ کے گھر تشريف لے گئے۔ عليٴ نے بيٹي کو آغوشِ رسول۰ ميں ديا اور نزولِ وحي کا انتظار کرنے لگے۔ چنانچہ جبرئيلٴ نازل ہوئے اور فرمايا: اس کا نام زينب رکھو۔ اس کے بعد اس بچي کے مستقبل کي خبر دي۔نبي اکرم ۰ نے زينب کو بوسہ ديا اور اپنا چہرہ بچي کے چہرے پر رکھ ديا اور پھر آنسو بہانے لگے۔ عرض کيا: ”يارسول اللہ! کيوں گريہ فرما رہے ہيں؟‘‘ جواب ديا: ”يہ بيٹي مصيبتوں ميں ميرے حسينٴ کي شريک ہوگي۔‘‘
بھائي سے محبت:زينبٴ کو بھائي سے ايسي محبت تھي کہ دن ميں ايک مرتبہ ضرور امام حسينٴ کي زيارت کرتي تھيں اور اس طرح بھائي کا ديدار کر کے اپني آتش شوق کو مزيد شعلہ ور کرديتي تھيں۔ قلبِ زينبٴ کي کلي ہر روز بھائي کي زيارت کر کے کھل جاتي تھي۔ اور يہ بھائي کي نگاہيں تھيں جو گل زينبي کي آبيار ي کرتي تھي۔خدايا! بھائي کي شہادت کے بعد زينبٴ پر کيا گذري ہوگي؟!
شادي کے لئے دو شرطيں:جب عبد اللہ بن جعفر طيار۱ بي بي زينبٴ کا رشتہ لے کر گئے تو امير المومنينٴ نے وہي مہر قرار ديا جو بي بي زہراٴ کا تھا، اور شادي کے لئے دو شرطيں رکھيں۔ پہلي شرط يہ کہ حضرت زينبٴ روزانہ اپنے بھائي حسينٴ سے ملنے کے لئے آئيں گي اور دوسري يہ کہ جب کبھي حسينٴ سفر کے لئے جائيں گے تو عبداللہ بي بي زينبٴ کو بھي ان کے ساتھ جانے کي اجازت ديں گے اور روکيں گے نہيں۔ عبد اللہ نے يہ شرائط قبول کرليں اور عليٴ کي بيٹي اپنے چچازاد کے گھر چلي گئيں۔
القاب اور کنيت:جناب زينب سلام اللہ عليہا کي کنيت ام المصائب، ام الرزايا اور امِ النوائب ہے۔ اس لئے کہ آپٴ نے اپني زندگي ميں طرح طرح کي مصيبتيں اور بلائيں ديکھيں اور صبر کيا۔ نيز آپٴ کے القاب صديقہ صغريٰ اور عقيلہ بني ہاشم ہيں۔ عقيلہ ايسي محترم خاتون کو کہتے ہيں جو اپنے عزيزوں اور رشتہ داروں ميں بہت عزت اور احترام کي مالک ہو اور اپنے خاندان ميں اہميت رکھتي ہو۔ (رياحين الشريعہ ج ٣)
زينبٴ۔۔ مظلوموں کي فرياد:زينبٴ دنيا ميں صبر دکھانے کے لئے آئي تھيں ۔۔ وہ اس لئے تشريف لائي تھيں کہ عشق کو پسينہ آجائے ۔۔ وہ آئي تھيں تاکہ صداقت اور وفا کي حقيقت سے دنيا واقف ہو جائے اور بردباري اور وقار کا مظاہرہ دنيا والے ديکھ سکيں ۔۔ وہ اپني ذمہ دارياں ادا کرنے آئي تھيں؛ يعني انہيں بھائي کي مونس و غم خوار، قافلہ حسيني کي سالار اور اسيروں کي نگہبان بننا تھا۔آپٴ مظلوموں کي عظيم فرياد بن کر آئي تھيں کہ جس کي بازگشت حق کے متلاشي انسانوں کو آج بھي تاريخ کے اوراق سے آتي ہوئي محسوس ہوتي ہے۔
بھائي کي تحريک کا تسلسل:اسيروں کا قافلہ حسينٴ کے غم ميں نڈھال تھا۔ وہ حسينٴ کے ساتھ آئے تھے، ليکن اب حسينٴ کے بغير واپس جارہے تھے، اور زينبٴ قافلہ سالار تھيں۔ کمر خم اور دل شکستہ تھيں ليکن حق کي پاسداري کے لئے مضبوطي سے کھڑي ہوئي تھيں تاکہ بھائي کے مقصد کو آگے بڑھائيں۔ بھائي کي وصيت تھي کہ : ”بہن زينب! مبادا ميرے غم ميں چہرے پر خراشيں ڈال دو اور گريبان چاک کردو اور فرياد و فغان کرنے لگو۔‘‘ لہذا زينبٴ کسي غم زدہ پھول کي مانند ايک عظيم درد دل ميں چھپائے قافلہ کے ساتھ تھيں۔
صبر کي انتہا:زينبٴ خانہ امامت کي پرورش يافتہ تھيں، زبانِ وحي سے تعليم حاصل کي تھي اور پاکيزہ دامن ميں تربيت پائي تھي۔ (رياحين الشريعہ ج٣) پاکيزگي و تقويٰ کے لباس اور آداب و اخلاقِ اسلامي سے آراستہ تھيں۔ زينبٴ نے فصاحت و بلاغت کو عليٴ سے، نجابت کو فاطمہٴ سے، صبر و شکيبائي کو بھائي حسنٴ سے اور مظلوميت کے باوجود سر اٹھانے کي ادا کو حسينٴ سے سيکھا تھا۔ وہ صبر و رضا کا عظيم پيکر تھيں۔
خاندانِ امامت کي وارث:روايات ميں آيا ہے کہ بي بي کا قد بلند تھا اور چہرہ سورج کي طرح تابناک۔ آپٴ سکون و وقار ميں خديجہٴ کي مانند، عصمت و حيا ميں فاطمہ زہراٴ کا اثر، فصاحت و بلاغت ميں عليٴ کا انداز، حلم و بردباري ميں حسنٴ کي مثل اور شجاعت و قوتِ قلب ميں سيد الشہدائ کي مثال تھيں۔ (رياحين الشريعہ ج٣)
عابدہ شب زندہ دار:بي بي زينبٴ خضوع و خشوع اور عبادت و بندگي ميں ماں باپ کي وارث تھيں۔ آپٴ اکثر راتوں کو عبادت و بندگي ميں جاگ کر گذارتيں اور تلاوتِ قرآن ميں مشغول رہتيں۔ ساري زندگي آپٴ کي شب زندہ داري اور نمازِ تہجد ترک نہ ہوئي، يہاں تک کہ گيارہوں محرم کي رات ، تمام تر سختيوں، رنج و غم اور اپني آنکھوں سے تمام مصائب کا مشاہدہ کرنے کے باوجود خدا کي عبادت ميں مصروف ہوگئيں۔ امام زين العابدينٴ فرماتے ہيں:”ميں نے اس رات ديکھا کہ پھوپھي زينبٴ، مصليٰ پر تشريف فرما ہيں اور نمازِ شب بجا لارہي ہيں۔‘‘نيز آپٴ سے يہ بھي منقول ہے کہ”پھوپھي زينبٴ نے کربلا سے شام تک کي تمام مشکلات کے باوجود اپني مستحب نمازيں بھي ترک نہيں کيں۔‘‘اور يہ بھي روايت ہے کہ”جب امام حسينٴ بہن زينبٴ کے ساتھ وداع کرنے کے لئے آئے تو فرمايا: ”بہن! مجھے نمازِ شب ميں فراموش نہ کرنا۔‘‘(رياحين الشريعہ ج٣)عطيہ الہي:زينب! آپ خدا کي جانب سے ايک عطيہ تھيں۔ آپ صرف باپ کے لئے نہيں بلکہ ماں اور پورے خاندانِ نبوت و امامت کے لئے باعثِ زينت تھيں۔ صبر وہ عظيم ترين کلمہ ہے جو آپ کے وجود ميں بطورِ امانت رکھ ديا گيا تھا۔ دنيا کي کونسي مصيبت آپ کے مصائب کي برابري کر سکتي ہے اور دنيا کا کونسا دل، غم کا بوجھ اٹھانے ميں آپ کے غمزدہ دل کي مانند ہو سکتا ہے؟! کوئي دل آپ کے دل کي طرح غم سے نڈھال نہيں ہوا اور کوئي آنکھ ايسي نہيں ہے جس نے آپ کي آنکھوں کي طرح مصائبِ کربلا کو ديکھ کر اسے اچھا قرار ديا ہو۔
بھائي کي مونس:زينبٴ کو بچپن ميں اپنے بھائي سے عجيب الفت و محبت تھي۔ انہيں بھائي کے پاس سکون ملتا تھا اور جب ديکھتي تھيں تو ہر وقت ديکھتي رہتي تھيں اور آپٴ سے دور نہيں ہوتي تھيں۔ايک دن بي بي فاطمہٴ اپنے بابا، رسول اللہ کے پاس گئيں اور عرض کيا: ”بابا، زينب اور حسين کے درميان اتني شديد محبت ديکھ کر حيرت زدہ ہو جاتي ہوں۔ يہ بچي بھائي کے ديدار سے سير نہيں ہوتي۔‘‘يہ سُن کر اللہ کے رسول۰ نے ايک کربناک آہ بھري اور چہرہ مبارک آنسووں سے تر ہوگيا۔ فرمايا:”اے ميري نورِ چشم! يہ بچي حسينٴ کے ساتھ کربلا جائے گي اور طرح طرح کے رنج و مصائب ميں مبتلا ہوگي۔‘‘(سرور المومنين)
وفات:بي بي زينبٴ نے ٥٦ سال تک امانت الہي کو سنبھالا۔ منقول ہے کہ آپٴ کي عمر مبارک کے آخري ايام ميں مدينہ منورہ ميں قحط پڑ گيا تھا۔ جناب عبد اللہ بن جعفر کي شام ميں ايک زمين تھي، لہذا مجبوراً بي بي زينبٴ اپنے شوہر کے ساتھ وہاں تشريف لے گئيں۔ (زندگاني فاطمہ زہرا و زينب کبريٰ) بي بي وہاں جاکر بيمار ہوئيں اور اپني جان‘ جان آفرين کے سپرد کردي اور زمانے کے نشيب و فراز سے خستہ تن اور لوگوں کے ظلم و ستم سے زخمي دل کے ساتھ رخصت ہوگئيں۔ مشہور قول کے مطابق آپ کي وفات ١٥ رجب سن ٦٢ ہجري کو ہوئي۔ اس وقت آپٴ کا روضہ محبانِ خاندانِ عصمت و طہارت کے لئے قبلہ عشق و ايثار ہے۔
عبادت و اطاعت کا پيکر:بي بي زينب کي پوري عمرِ بابرکت عبادت و اطاعت الہي ميں بسر ہوئي۔ آپٴ نے سخت ترين اور مشکل ترين حالات ميں بھي ايسي کوئي بات بھي منہ سے نہ نکالي جو خدا کو ناپسند ہو۔ امام زين العابدينٴ سے منقول ہے کہ”ميري پھوپھي زينبٴ نے کربلا سے شام تک کے سفر ميں بھي تمام تر مصائب کے باوجود مستحب نمازيں بھي ترک نہ کيں ليکن ايک منزل پر ميں نے ديکھا کہ آپ بيٹھ کر نماز ادا کر رہي ہيں ۔ميں نے گھبرا کر سبب پوچھا تو بتايا: تين راتوں سے ميں اپنے حصے کي غذا بچوں کو دے ديتي ہوں۔ آج رات بھوک کي شدت کي وجہ سے مجھ ميں کھڑے ہونے کي طاقت نہيں ہے۔‘‘(رياحين الشريعہ ج٣)
بنواميہ کے مظالم کو فاش کرنا:اے زينب! جب آپ تشريف لائيں تو فرشتوں نے آپ کے قدموں پر نور کي برسات کي اور جس روز آپ تشريف لے گئيں تو فرشتوں نے آنسو بہاتے ہوئے آپ کے قدموں ميں اپنے پروں کو فرشِ راہ کرديا۔ بھائي کي زيارت کي تمنا نے آپ کے دل ميں آتشِ شوق بھڑکائي ہوئي تھي۔ آپ نے ايک سال سے زيادہ عرصہ تک بھائي کے فراق ميں خون کے آنسو بہائے اور اس دوران ايک لمحہ کے لئے بھي بنواميہ کے ظلم و ستم کے افشائ سے دستبردار نہ ہوئيں۔اے زينب! آپ راہِ حسيني کي پاسدار اور يزيديوں کے فساد کو فاش کرنے والي تھيں۔
فصاحت و بلاغت:اے زينب! حسينٴ کي روح آپ کے بدن ميں اور عليٴ کي فصاحت و بلاغت آپ کي زبان پر جاري تھي۔ اس وقت کہ جب راستے کي سختيوں سے پريشان حال تھيں، ليکن صبر و استقامت کے ساتھ دنيا کے پليد ترين انسان کے سامنے کھڑے ہوکر فرما رہي تھيں:”اے يزيد! کيا تو يہ سمجھتا ہے کہ زمين و آسمان کو ہم پر تنگ کر کے اور ہميں اسيروں کي طرح شہر بہ شہر پھرا کر تو نے ہماري منزلت کو گرا ديا ہے اور اپني عزت و حيثيت ميں اضافہ کر ليا ہے ۔۔۔ تو يکايک خوش ہوگيا ہے کہ دنيا تيرے گرد جمع ہوگئي ہے۔۔ نہيں ايسا نہيں ہے۔اے يزيد! ذرا اپنے آپ ميں آجا! کيا تو نے خدا کا يہ قول بھلا ديا ہے کہ فرمايا: جنہوں نے کفر اختيار کيا ہے وہ يہ گمان نہ کريں کہ ہمارا ان کا مہلت دينا ان کے لئے بہتر ہے۔ بے شک ہم نے ان کو مہلت دي ہے تاکہ ان کے گناہوں ميں اضافہ ہو اور دردناک عذاب ان کے انتظار ميں ہے ۔ (منتہي الآمال)
يادوں کا زخم:اے صبر و ايثار کا پيکر! ميں آپ کو کس نام سے پکاروں کہ آپ کا نام عاشورائ کا عظيم انقلاب اوراسيري و يتيموں کي بے کسي ياد دلاديتا ہے۔ ميں کس نام سے آپ کو بلاوں کہ آپ کا نام مصائب و مشکلات کے ساتھ ہم معني ہوچکا ہے۔اے ام المصائب! آخري سفر ميں آپ پر کيا گذري؟ايک سال سے کچھ زيادہ عرصہ گذرا تھا کہ آپ نے مدينہ کے قحط کي وجہ سے شام کا سفر اختيار کيا۔ ايک طويل سفر کيا اور اس دوران يادوں کي خون آلود کتاب کے صفحات پلٹے۔ راستے کے تمام نشيب و فراز پر آپ کو بھائي کي خوشبو اور ہر پيچ و خم پر يتيموں کي فرياديں محسوس ہوئيں۔ سکينہ کي آہ و زارياں بھي سنائي دي ہوں گي جو راستہ ميں بابا کے لئے بے قرار تھي اور اسے کسي پل چين نہ تھا۔ يادوں کے زخموں نے آپ کي روح کو بے کل کيا ہوا تھا۔ وہ اب اس جسمِ نحيف ميں ٹھہرنے پر تيار نہ تھي اور بھائي سے ملحق ہو جانا چاہتي تھي۔ آپ جانتي تھيں کہ اس سفر ميں آپ کو بھائي سے مل جانا ہے۔ لہذا آپ نے آنکھيں موند ليں اور بھائي کے وصال سے بہرہ مند ہوگئيں۔
مظلوميت جاري:جب حسينٴ کا لٹا ہوا قافلہ چلا تو آپ کے نحيف بدن کے نيچے زمين ايک مصليٰ بن گئي جس کي وسعت کربلا سے شام تک پھيلي ہوئي تھي۔اس سفر ميں آپ کي ايک ايک حرکت عبادت تھي۔ يہ آپ کي زندگي ميں ايک نيا موڑ آيا تھا اور اب حقيقي ذمہ داري کا آغاز ہوا تھا۔ آپ ايک ايسي عظيم مظلوميت کي وارث تھيں جو آپ کے پاکيزہ خاندان ميں نسل در نسل چلي آرہي تھي۔سلام ہو آپ پر جب آپ نے اس دنيا سے ناطہ توڑا!سلام ہو آپ کے خاندانِ پاک پر!