بہارِ انقلاب سے انقلابِ مہدی تک

271

موت ہے وہ زندگی جسمیں نہ ہو انقلاب
کشمکشِ انقلاب روحِ امم کی حیات (علامہ اقبال)
اس تیز رفتار اور ہنگامہ خیز دور میں جمادات کو بھی جمود زیب نہیں دیتا ہے۔ چہ جائے کہ انسان اور اس کی زندگی کے مختلف نظام۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں جمود نے سر اٹھایا وہاں جاکے موت نے اپنا ڈھیرا جمایا۔ مردہ انسانوں اور نظاموں کی لاشوں کو ظلم و جبر کے سرد خانوں میں ٹھونس کر ان کے تئیں یہ باور کرانا سراسر خودفریبی ہے۔ کہ یہ ابھی صحیح و سالم ہیں لیکن جب عوام میں جوشِ انقلاب انگڑائیاں لینے لگے تو یہ سرد خانے اس کی زد میں آنے سے نہیں بچ پاتے ہیں۔ ن
تیجتاً ان لاشوں کی حقیقت طشت از بام ہوجاتی ہے اور ان کی عفونت سے پوری دنیا الامان و الحفظ کہتی ہے۔ جس کی تازہ مثال مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا کے بہار انقلاب کی صورت میں دیکھنے کو ملتی ہے۔
بدقسمتی سے مسلم دنیا کے بیشتر ممالک بالخصوص عرب دنیا میں ضمیر فروش، خائن، بدکردار، جابر و ظالم، بے ایمان اور گمراہ حکمرانوں نے سالہا سال سے زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے۔ اور وہ جمود کو متاع حیات جان کر ہر قسم کے تغیر اور ارتقا کو اپنی موت تصور کرتے ہیں۔ لہٰذا مدت سے اسی کوشش میں ہیں کہ عوام پر غفلت و بے خبری کا عالم طاری رہے۔ اس جمود کو بر قراررکھنے کیلئے ان جارح حاکموں نے ہر طرح کے جتن کئے۔ انہوں نے اپنے فرسودہ نظام کو دوام بخشنے کی خاطر کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔
کوئی ایسا ہتھکنڈہ نہیں ہے جس کو انہوں نے استعمال میں نہ لایا ہو۔ کوئی ایسی منافقانہ چال نہیں جس سے انہوں نے استفادہ نہ کیا ہو۔ اس پر مستزاد یہ کہ مغرب بالخصوص استعماری طاقتوں کی غلامی کے پھندے کو انہوں نے کسی اعزازی میڈل سے کم تر نہیں جانا۔ حرمِ پاک کے قرب وجوار میں رہ رہے ان حاکم نما استعماری غلاموں نے وائٹ ہاؤس کو ہی مرکز امید گردانا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ماسوائے اپنی ذات اور مٹھی بھر پیروکاروں کے تمام مسلمانوں کو بت پرست اور مشرک تصور کرتے ہیں۔ بقول کسے بت پرستی کے (ظاہراً) زبردست مخالف مگر ‘بش پرستی‘‘ اور ‘اوباما نوازی‘‘ میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔
 
خدا سے نا امیدی بتوں سے امیدیہ کافری نہیں تو پھر کیا ہے
 
قرآنِ مجید میں ایک مومن کیلئے جو Code of Conduct (یا ضابطۂ اخلاق) محبت و نفرت کے تعلق سے مقرر ہوا ہے اس کے مطابق ایک مومن ہرگز ہرگز دوسرے مومن سے دشمنی کرکے استعمار سے سانٹھ گانٹھ نہیں کرسکتا ہے اگر اس نے ایسا کچھ کیا تو جان لینا چاہیئے خدا کے ساتھ اس کا کوئی علاقہ نہیں ہے۔ لیکن استعمار کے ان کاسہ برداروں کی دوستی و دشمنی کا معیار قرآنی ہدایات کے بالکل برعکس ہے۔ انہیں حماس اور حزب اللہ جیسی تحریکوں کے ساتھ خدا لگی بیر ہے۔
انقلابِ اسلامی ان کی آنکھوں میں گذشتہ تین دہائیوں سے کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ یہ اسی آگ میں جلے بُھنے جارہے ہیں کہ اگر ان تحریکوں کا جذبہ ان کی ریاستوں میں بھی نفوذ کرجائے تو ان کے اقتدار کی خیر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اسرائیل کو ہی اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں۔ اور امریکی چھتر چھایا کو اپنے تئیں واحد محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں۔ ان عقل کے اندھوں کو کیا معلوم کہ حق و حقیقت بالآخر ظاہر ہوکر ہی رہتا ہے۔ اس کے اثرونفوذ کو روکنے کیلئے جس قدر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔ اُسی قدر اُس میں اضافہ ہوا جاتا ہے۔ غالب نے بھی اسی کلیہ کی جانب بڑے ہی بلیغ اندازمیں اشارہ کیا ہے:
 
پاتے نہیں جب راہ تو، تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رُکتی ہے میری طبع، تو ہوتی ہے رواں اور
 
اگر ان کی آنکھوں کو حقیقت بینی ذرہ برابر بھی راس آجاتی تو یہ طولِ تاریخ نیز معاصر عالمی منظر نامے میں اس بات کا ضرور مطالعہ اور مشاہدہ کرپاتے کہ حق پرستوں کی جماعت بڑی سخت جان ہوا کرتی ہے۔ یہ موت کی پیٹھ پر سوار ہوکر اپنی منزل ِمقصود پر خیمہ زن ہو جاتی ہے۔ جتنا اسے دبایا جائے اتنا ہی ابھرتی ہے۔ ہر چند عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے حکمران بھی ظلم و تعدی پر اُترآئیں۔ اس جماعت سے وابستہ جیالے کبھی پست ہمت اور بد دل نہیں ہوتے۔
دنیائے عرب کے حکمرانوں کی جمود زدگی، زراندوزی، سامراج پرستی اور حق دشمنی کا تلخ ترین پہلو یہ ہے کہ بیشتر مذہبی رہنما اس حوالے سے یا تو سکوت میں ہی اپنی عافیت جانتے ہیں۔ یا ان ظالم و جابر ڈکٹیٹروں کی ہمنوائی میں اپنے مفادات کی تکمیل پاتے ہیں۔
کسی قوم و ملت کے لیے اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ارباب دین و مذہب اربابِ اقتدار کی پسند و ناپسند کے پیش نظر فتوے صادر کرتے ہوں۔ عالمِ اسلام سے تعلق رکھنے والے ارباب دانش نہ جانے کس طرح یہ زہریلے گھونٹ پی کر اُف تک نہیں کرپاتے ہیں کہ حرمِ پاک کے خرچے پر پلنے والے مفتیانِ عظام وقتاً فوقتاً قبلۂ اول کے غصبی قابض کی سلامتی کا اہتمام اپنے فتؤوں کے ذریعے کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایسے فتوے بارہا ارضِ مقدس مکہ معظمہ سے صادر ہوئے ہیں۔ جن کے مطابق اسرائیل کے دشمن نمبر ایک کے حق میں خیر کی دعا کرنا حرام قرار پاتا ہے۔ جس کا بالواسطہ مقصد اور کیا ہوسکتا ہے کہ اسرائیل سلامت رہے پائندہ رہے۔ قبلۂ اول پر اس کا قبضہ برقرار رہے۔ اور فلسطینیوں اور لبنانیوں کے خون کی ہولی کھیلتا رہے۔ ان مفتیوں کو تیونس، لیبیا، یمن، مصر بحرین میں کلمہ گو مسلمانوں پر ہورہی ظلم و زیادتی اور اس کے ردِ عمل میں عوامی خروج کی بھنک بھی جیسے نہیں پڑی ہے۔
 
بہر کیف دنیائے عرب کے عام انسان نے اپنے عیاش طبیعت حکمرانوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا ہے۔ انقلاب کے فلک شگاف نعروںسے قصر ہائے امارت لرزہ براندام ہو گئے ہیں۔ تیونس کے زین العابدین اور یمن کے علی عبداللہ صالح ڈکٹیٹر شپ کے مبداء سے جاملے ہیں۔ حسنی مبارک کی بد انجامی دیکھ کر اسی قماش کے دیگر عرب حکمراں سکتے میں آگئے ہیں اور انہیں اپنے انجام کی فکر ستارہی ہے۔ مصر میں اخوان المسلمین کے رہنما نے صدارتی الیکشن کا میدان مار لیا ہے اس انقلابی صورتِ حال کے متعلق یہ کہنا کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ جوانانِ عرب اتفاقاً اسی انداز سے اٹھ کھڑے ہوئے جیسے کوئی شخص گہری نیند سے اپنے آپ ہی جاگ جائے۔ اس طرح کے تجزیے دراصل صہیونیت زدہ عالمی میڈیا کی ریشہ دوانیوں کا حصّہ ہے جس کا ہمیشہ سے اولین کاز یہی رہا ہے کہ دینِ محمدی کے تحریکی و انقلابی قوتوں کی مقبولیت اور کارناموں پر پردہ ڈال دیا جائے۔ تاکہ امریکی اسلام کے شجر کو برگ و بار ملے۔
 
اس کلیہ کو تسلیم کرنے میں شاید ہی کوئی صاحبِ فہم و فراست پس و پیش کرے کہ کسی انقلاب کے پشت پر برسوں کی محنت شاقہ کار فرماہوتی ہے۔ جہاں تک عرب میں عوامی بیداری کے ماخذ و مبداء کا تعلق ہے اس کے نشانات مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا کی تاریخی اور عصری حالات میں بآسانی مل سکتے ہیں لیکن ایک منطقی طریقہ کا ر اپنا کر ہم اس کے مآ خذ کی نشاندہی مزید آسان تر ہوگی۔ ا
س منطقی طریقہ کار کے تحت یہ دیکھنا ہوگا کہ عرب عوام کے انقلابی ریلے کا ہدف کیا تھا؟ کون سے عوامل ومحرکات تھے جن سے دبے کچلے عام لوگوں کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا؟ یہ ریلا بنیادی طور عربی آمریت، اسرائیل صہیونیت اور امریکی سامراجیت پر مبنی غیر فطری تثلیث کے خلاف فطری ردِ عمل ہے کیونکہ اس تثلیث نے سالہاسال سے ان کا جینا حرام کررکھا ہے۔ اس تثلیث کے خفیہ وآشکار منصوبے جب ہی طشت از بام ہوئے ،جب سالہاسال سے اسلامی انقلاب، تحریک انتفاضہ فلسطین، اور حزب اللہ لبنان پر مبنی باطل مخالف مثلث، مذکورہ تثلیث کے خلاف ڈٹا رہا۔ یہ مثلث ہی ہے جس نے وقتاً فوقتاً اسرائیل صہیونیت، امریکی سامراجیت، اور عرب کی آمریت کی روبائی کا سدِِّ باب کیا۔ اس طرح کے تجزیہ و تحلیل کی روشنی میں بلا خوف تردید ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی بیداری کا مظاہرہ ایک لہلہاتی فصل ہے جس کی تخم ریزی تیس سال قبل ایک مردِ بزرگ خمینی (رحمۃاللہ علیہ) نے کی تھی۔ نیز اس فصل کی نگہبانی گزشتہ تین دہایئوں سے ایران کی اعلیٰ روحانی قیادت کر رہی ہے۔اور اس وقت بھی عربی انقلاب کو صحیح سمت دینے کے لئے کوشان ہے۔
 
مسلم دنیا علی الخصوص عرب ریاستوں میں یہ سیاسی تغیر ملتِ اسلامیہ کے لئے کسی نیک شگون سے کم نہیں۔ البتہ جو بات ہر صاحب فکر مسلمان کو اس سلسلے میں بے چین کئے دیتی ہے وہ یہ ہے کہ عوامی سطح پر تو اسلامی بیداری کا جومظاہرہ دیکھنے کو ملا اُس میں قیادت کا فقدان صاف طور دکھائی پڑتا ہے۔ در اصل ان سرکش آمروں نے تمام اسلام پسندوں اور جمہوریت نوازوں پر ایسا شکنجہ کسا تھا کہ ان کے بدون متبادل قیادت پنپ نہ سکی۔
عوام کا جذبۂ قربانی اور جوشِ انقلاب اپنی جگہ اس طرح کی تحریکیں قد آور قائدوں پر بھی صدفی صدنہ سہی بہت حد تک انحصار رکھتی ہیں۔ جذبۂ حریت کے تئیں عوام کا لہو اُس صورت میں رائیگان ہوسکتا ہے اگر اس بہتے خون کو کوئی دیدہ ور رہنماء قصرِ ظلم وجود کی طرف رخ نہ پھیردے۔ قیادت کی عدمِ موجودگی اور مسلم امت کا “آمادۂ پیکار بہ باطل” ہونا اس امر کی صریح نشاندہی ہے کہ اس طرح کی تمام تحریکیں ولی الامر کی طرف راجع ہونی چاہئے۔ تاکہ صاحبِ امر کے ظہور کی راہیں ہموار ہوں۔ کلمۂ لااِلہ الا اللہ کے جھنڈے تلے جتنی بھی صالح تحریکیں معاصر دنیا میں ابھری ہیں۔ ان تحریکوں کا مدعا و مقصد یہی ہے کہ ضمیر انسانیت سے مہدئ موعود کی تحریک کا نقش محو نہ ہو نے پائے۔
صدرِ اسلام کے بعد جتنے بھی انقلابات، اسلامی اصول و افکار کے احیاء کی خاطر وقوع پذیر ہوئے ، انہیں انقلابِ مہدی کی تمہید کہاجا سکتا ہے۔ ان تمام صالح انقلابات کی تکمیل اسی وقت ہوگی جب حضرت ولی عصر اپنی تجلی سے عالمِ وجود و امکان کا نقشہ بدل کر رکھ دیں گے۔ نہ صرف نظامِ جہاں بانی کی ظاہری ہیئت کی کایا پلٹ ہو گی بلکہ ضمیر و وجدان بھی اس انقلاب سے متا ثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائیں گے۔ ہر مثبت انقلاب بجائے خود اسی نعرے کی ترویج ہے ۔
 
دنیا کو ہے اس مہدی بر حق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلہ عالم افکار
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.