فلسفہ غيبت

243

سوال کیا جاتا ہے کہ كيا غيبت كبرى كى كوئي حد معين ہے؟ اسکے جواب یوں بیان کریں گے کہ كوئي حد تو معين نہيں ہے _ ليكن احاديث سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ غيبت اتنى طويل ہوگى كہ ايك گروہ شك ميں پڑجائے گا _ مثال كے طور پر ملاحظہ فرمائيں :
امير المؤمنين نے حضرت قائم كے بارے ميں فرمايا:
” ان كى غيبت اتنى طويل ہوگى كہ جاہل كہے گا : خد ا كو رسول (ص) كے اہل بيت كى احتياج نہيںہے ”_ (اثبات الہداة ج 6 ص 393)
امام زين العابدين (ع) فرماتے ہيں :
”قائم (ع) ميں جناب نوح (ع) كى ايك خصوصيت پائي جائيگى اور وہ ہے طول عمر ”(بحارالانوار ج 51 ص 217)
اعتراض کرتے ہیں كہ اگر امام ظاہر ہوتے اور لوگ ضرورت كے وقت آپ كى خدمت ميں پہنچ كر اپنى مشكليں حل كرتے تو يہ ان كے دين اور دنيا كيلئے بہتر ہوتا _ پس غيبت كيوں اختيار كي؟جواب میں عرض کریں گے کہ اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ اگر مانع نہ ہوتا تو آپ كا ظہور زيادہ مفيد و بہتر تھا _ ليكن چونكہ ہم ديكھتے ہيں كہ خداوند عالم نے اس مقدس وجود كو آنكھوں سے پنہاں ركھا ہے اور خدا كے افعال نہايت ہى استحكام اور مصلحت و اقع كے مطابق ہوتے ہيں _ لہذا امام كى غيبت كى بھى يقينا كوئي وجہ ہوگى _ اگر چہ ہميں اس كى تفصيل معلوم نہيں ہے ، درج ذيل حديث سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ غيبت كى بنيادى سبب لوگوں كو نہيں بتايا گياہے ، صرف ائمہ اطہار عليہم السلام كو معلوم ہے _
عبداللہ بن فضل ہاشمى كہتے ہيں كہ امام جعفر صادق (ع) نے فرمايا:
”صاحب الامر كيلئے ايسى غيبت ضرورى ہے كہ گمراہ لوگ شك ميں مبتلا ہوجائيں گے” _ ميں نے عرض كى ، كيوں ؟ فرمايا: ”ہميں اس كى علّت بيان كرنے كى اجازت نہيں ہے” _ اس كا فلسفہ كيا ہے؟ وہى فلسفہ جو گزشتہ حجت خدا كى غيبت ميں تھا _ ليكن اس كى حكمت ظہور كے بعد معلوم ہوگى _ بالكل ايسے ہى جيسے جناب خضر(ع) كى كشتى ميں سوراخ ، بچہ كے قتل اور ديوار كو تعمير كرنے كى جناب موسى كو جدا ہوتے وقت معلو م ہوئي تھى _ اے فضل كے بيٹے غيبت كا موضوع سرّ ى ہے _ يہ خدا كے اسرار اور الہى غيوب ميں سے ايك ہے _ چونكہ ہم خدا كو حكيم تسليم كرتے ہيں _ اس لئے اس بات كا بھى اعتراف كرنا چاہئے كہ اس كے امور حكمت كى روسے انجام پاتے ہيں _ اگر چہ اسكى تفصيل ہم نہيں جانتے ”_ (بحارالانوار ج 52 ص 91)
مذكورہ حديث سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ غيبت كى اصلى علت و سبب اسلئے بيان نہيں ہوئي ہے كہ لوگوں كو بتانے ميں صلاح نہيں تھى يا وہ اس كے سمجھنے كى صلاحيت نہيں ركھتے تھے _
فائدہ اول: امتحان و آزمائشے _ تا كہ جن لوگوں كا ايمان قوى نہيں ہے انكى باطنى حالت ظاہر ہوجائے اور جن لوگوں كے دل كى گہرائيوں ميں ايمان كى جڑيں اتر چكى ہيں ، غيبت پر ايمان ، انتظار فرج اور مصيبتوں پر صبر كے ذريعہ ان كى قدر و قيمت معلوم ہوجائے اور ثواب كے مستحق قرار پائيں ، امام موسى كاظم فرماتے ہيں :
” ساتويں امام كے جب پانچويں بيٹے غائب ہوجائيں ، اس وقت تم اپنے دين كى حفاظت كرنا _ ايسا نہ ہو كہ كوئي تمہيں دين سے خارج كردے _ اے ميرے چھوٹے بيٹے صاحب الامر كے لئے ايسى غيبت ضرورى ہے كہ جسميں مومنين كا ايك گروہ اپنے عقيدے سے منحرف ہوجائے گا _ خدا امام زمانہ كى غيبت كے ذريعہ اپنے بندوں كا امتحان لے گا _( بحار الانوار ج 52 ص 113)
دوسرا فائدہ : غيبت كے ذريعہ ستمگروں كى بيعت سے محفوظ رہيں گے _ حسن بہ فضال كہتے ہيں كہ امام رضا (ع) نے فرمايا:
”گويا ميں اپنے تيسرے بيٹے (امام حسن عسكري(ع) ) كى وفات پر اپنے شيعوں كو ديكھ رہا ہوں كہ وہ اپنے امام كو ہر جگہ تلاش كررہے ہيں ليكن نہيں پارہے ہيں” ميں نے عرض كى : فرزند رسول كيوں؟ فرمايا:” ان كے امام غائب ہوجائيں گے” عرض كى : كيوں غائب ہوں گے ؟ فرمايا: ” تا كہ جب تلوار كے ساتھ قيام كريں تو اس وقت آپ كى گردن پر كسى كى بيعت نہ ہو ”_ (بحار الانوار ج 51 ص 152)
تيسرا فائدہ : غيبت كى وجہ سے قتل سے نجات پائي _
زرارہ كہتے ہيں كہ امام صادق (ع) نے فرمايا:
”قائم كے لئے غيبت ضرور ى ہے ” _ عرض كى كيوں ؟ فرمايا: قتل ہوجانے كا خوف ہے اور اپنے شكم مبارك كى طرف اشارہ كركے فرمايا”_ (اثبات الہداة ج 6 ص 427)
مذكورہ تينوں حكمتيں اہل بيت كى احاديث ميں منصوص ہيں _
(انتخاب از آفتاب عدالت از علامہ امینی رہ)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.