بحرین، 2 سالہ انقلابی تحریک کی خصوصیات
14 فروری 2013ء کو بحرین کی انقلابی تحریک کے دو سال مکمل ہوگئے۔ اس روز بحرین کے دارالحکومت منامہ اور تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عوام اپنے مطالبات کے حق میں شاہراہؤں پر نکل آئے۔
14 فروری 2013ء کو بحرین کی انقلابی تحریک کے دو سال مکمل ہوگئے۔ اس روز بحرین کے دارالحکومت منامہ اور تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عوام اپنے مطالبات کے حق میں شاہراہؤں پر نکل آئے۔ ان میں عورتیں، بچے اور مرد سبھی شامل تھے۔ لاکھوں عوام نے اپنے جمہوری مطالبات کے حق میں آواز بلند کرکے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ وہ اپنے انسانی اور جمہوری حقوق سے دستبردار ہونے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ حکومت کی طرف سے ان مظاہرین کا استقبال لاٹھیوں، گولیوں، زہریلی گیس اور خوف و وحشت کی فضا قائم کرکے کیا گیا۔ دو نوجوان بحرینی فوج کی گولیاں لگنے سے شہید ہوگئے۔ بہت سے بچے، عورتیں اور مرد زخمی ہوئے علاوہ ازیں پس دیوار زنداں پہلے سے موجود ہزاروں بے گناہ قیدیوں میں مزید سینکڑوں کا اضافہ ہوگیا۔ جب ہم بحرین میں ہزاروں کی بات کرتے ہیں تو یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ وہاں کی کل آبادی 13 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، جن میں سے اصل بحرینی تقریباً 6 لاکھ ہیں، باقی آبادی اصل بحرینیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حکمرانوں نے کئی برسوں کے اندر برآمد کی ہے، تاکہ اصل آبادی کا تناسب زیر و زبر کیا جاسکے۔
بحرین کی انقلابی تحریک کی بعض خصوصیات اسے مشرق وسطٰی اور شمالی افریقا میں اٹھنے والی دیگر تحریکوں سے اسے ممتاز کرتی ہیں۔ ہم ذیل میں ان کا جائزہ لیتے ہیں۔(1) بحرین ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، جس میں پانچواں امریکی بحری بیڑا موجود ہے، جو اس پورے خطے میں امریکی مفادات کی نگرانی پر مامور ہے۔ بحرین اور خطے کی دیگر امریکہ نواز حکومتوں اور ملکوں میں کسی تبدیلی سے یہ امریکی لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ خاص طور پر سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے امور پر ان کی گہری نظر ہے۔ یہی بحری بیڑا اسرائیلی مفادات کی حفاظت کرتا ہے۔ خلیجی ممالک جن کے پاس تمام تر اسلحہ بنیادی طور پر امریکہ سے حاصل کردہ ہے، ان میں سے حساس اسلحہ کے استعمال پر بہت سے مقامات پر خود امریکی مامور ہیں۔ یہاں تک کہ سعودیہ کو دیئے گئے اواکس طیارے امریکی پائلٹ اڑاتے ہیں۔ (2) بحرین خلیجی ممالک کی واحد ریاست ہے جہاں کی اکثریت شیعوں پر مشتمل ہے۔ لہٰذا اگر وہاں کوئی انقلابی تحریک اٹھے گی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ شیعوں کی تعداد اس تحریک میں زیادہ ہوگی، جیسا کہ مصر میں اہل سنت کی تعداد زیادہ ہے، وہاں کی تحریک میں اہل سنت ہی زیادہ نمایاں رہے ہیں۔ تاہم بحرین میں شیعہ سنی دونوں اس تحریک میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شیعوں کی تعداد یہاں زیادہ ہونے کی وجہ سے مخالفین کے لیے یہ بہت آسان ہے کہ وہ یہ پراپیگنڈا کرسکیں کہ اس تحریک کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے اور یہی کچھ کیا گیا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ مزیدبرآں حکمران پہلے دن سے فرقہ وارانہ مسائل پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ (3) سعودی عرب اور بحرین کے مابین ایک پُل تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ واحد راستہ ہے جو بحرین کو کسی ملک سے زمینی طور پر متصل کرتا ہے۔ بحرین میں آنے والی کوئی تبدیلی براہ راست سعودی عرب کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہاں انقلابی تحریک کا ابھی آغاز ہی تھا تو سعودی وزیر داخلہ نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ ضرورت پڑنے پر سعودی افواج بحرین میں داخل کر دی جائیں گی اور یہی ہوا کہ ابھی تحریک کا آغاز ہوئے ایک مہینے ہی گزرا تھا کہ سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی افواج بحرین میں داخل کر دی گئیں، جنھوں نے بحرینی عوام پر بےپناہ ظلم ڈھائے اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ کوئی شخص جو علاقے پر ایک سرسری نگاہ بھی رکھتا ہے، اسے یہ یقین کرنے میں وقت نہیں لگے گا کہ یہ افواج امریکی تائید و حمایت کے بغیر بلکہ امریکی انگیخت کے بغیر بحرین میں داخل نہیں ہوسکتی تھیں۔
سعودی افواج جو ایک خاص مسلک کی بھی حامل ہیں اور ان افواج کی ورثہ دار ہیں جنھوں نے نبی کریم (ص) کے صحابہ کرام (ر)، ازواج مطہرات اور اہل بیت اطہار (ع) کی قبور کو پامال کیا تھا، لہٰذا انھوں نے اپنا یہی وطیرہ بحرین میں بھی دہرایا۔ صحابہ کرام (ر) اور بزرگان دین کے مزارات پامال اور منہدم کئے اور مظاہرین کو مختلف مسلک رکھنے کی بنا پر بے تحاشا اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے مسجدوں اور امام بارگاہوں کو بھی نہیں بخشا اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کیا۔ یاد رہے کہ جب سے خلیج تعاون کونسل معرض وجود میں آئی ہے، یہ اس کی پہلی فوجی خدمت ہے، جو اس نے انجام دی ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں یہ وہ فوج ہے جس نے اس سے پہلے خلیج تعاون کونسل کے عنوان سے کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ سعودی عرب اور اس کی ساتھی افواج میں سے کبھی کسی نے اسرائیل کے خلاف کوئی ایک گولی بھی نہیں چلائی اور ان سے آئندہ بھی اس کی کوئی توقع نہیں۔ (4) دیگر ممالک میں چلنے والی تحریکوں کو مغربی میڈیا نے اپنے حساب سے کوریج دی، لیکن بحرین کی یہ واحد تحریک ہے جسے آج تک مغربی میڈیا نظرانداز کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک کا میڈیا جو دراصل مغربی میڈیا سے خبریں لیتا ہے اور اسی سے متاثر ہے، نے بھی ایک طرح سے بحرین کی تحریک کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ یہی میڈیا شام کے حوالے سے مسلسل خبریں دے رہا ہے، جب کہ یہ خبریں مغربی میڈیا اپنے مفادات کے مطابق جاری کرتا ہے۔ ہمارے میڈیا کو یہ بھی توفیق نہیں کہ وہ شام کے اصل حالات کا کھوج لگا کر اپنے عوام کو ان سے آگاہ کرے۔ ایسے میں بحرین کے بارے میں اس میڈیا سے کیا توقع کی جاسکتی ہے، جبکہ سعودی عرب اس سارے قضیے میں ایک بڑا حصے دار بھی ہو۔ ہمارے ہاں سعودی عرب کے خلاف عام طور پر میڈیا خبر دینے سے احتراز کرتا ہے اور اسے عوام کے سامنے تقدس کے حالے میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ (5) تمام تر حکومتی مظالم کے باوجود یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ بحرینی عوام کی تحریک مسلسل پرامن ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی افواج کے داخلے سے پہلے بھی بحرینی انقلابیوں نے نہ کہیں کوئی آگ لگائی اور نہ کوئی ایک گولی چلائی۔ آج تک کوئی بحرینی یا سعودی فوجی قتل ہوا نہ زخمی ہوا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بحرینی عوام کی تحریک کس قدر پرامن ہے۔ وہ گولیاں کھاتے ہیں، ظلم سہتے ہیں، اپنے حق میں آواز اٹھاتے ہیں، لیکن تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرتے۔ دنیا بھر کے انقلابیوں کے لیے بحرینی آج ایک عظیم ماڈل کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ سعودی عرب نے بحرین کے اندر اتنی جلدی فوجیں داخل کرنے کا فیصلہ کیوں کیا، اور اس کی اس کارروائی کو مغربی دنیا خاص طور پر امریکہ اور علاقے کی بادشاہتوں اور ملوکیتوں کی حمایت کیوں حاصل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سوال کا جواب بہت سادہ اور واضح ہے اور وہ یہ کہ بحرین میں اگر تبدیلی واقع ہوجاتی ہے اور عوام کی نمائندہ جمہوری حکومت قائم ہوجاتی ہے تو اس کے فوری اثرات سعودی عرب پر مرتب ہوں گے۔ وہاں کے عوام میں اگرچہ بیداری کی لہر موجود ہے اور مختلف علاقوں میں اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے، لیکن اگر ہمسائے میں واقع ایک بادشاہت شکست کھا جائے اور عوام کی نمائندہ حکومت قائم ہو جائے تو سعودی عرب کے عوام کے اندر امید اور حوصلے کی فضا قائم ہوگی۔ جس سے سعودی حکمران خاندان خوفزدہ ہے۔ یہ شاہی خاندان چونکہ امریکی اور اسرائیلی مفادات کی حفاظت کے لیے ضروری ہے اور فوری طور پر امریکہ کی نظر میں اس کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے، اس لیے اس کی حفاظت نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں بحرین میں اگر جمہوریت قائم ہوجاتی ہے تو پھر علاقے کی دیگر ریاستیں بھی اس سے متاثر ہوں گی، اس لیے تمام خلیجی حکومتیں سعودی عرب کے ساتھ اس فوجی کارروائی کے لیے متفق ہیں۔ اس سب کے باوجود یہ بات حوصلہ افزا سمجھی جانی چاہیے کہ تحریک کے دو سال مکمل ہونے کے باوجود اور تمام تر مصائب اور مشکلات میں سے گزرنے کے باوجود بحرین کے عوام آج بھی اپنے جمہوری حقوق کے لیے متفق اور پرعزم ہیں۔ اس کا اظہار انھوں نے 14 فروری 2013ء کے ملک گیر مظاہروں میں کیا ہے اور آج (15فروری) جب کہ ہم یہ سطور قلم بند کر رہے ہیں، عوام پھر سے بحرین کی شاہراہؤں پر موجود ہیں۔ انھوں نے پہلے مرحلے میں آئینی بادشاہت کے تصور کو قبول کر لیا تھا اور ان کا یہ کہنا تھا کہ شاہی خاندان عوام کو جمہوری حقوق دے دے اور آئینی حدود کو قبول کرلے تو وہ اسے علامتی طور پر ریاست کی سربراہی کے لیے تسلیم کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس خاندان نے گذشتہ دو برسوں میں اپنے عوام پر جس طرح سے ظلم ڈھایا ہے اور جو طرز عمل اختیار کیا ہے، اس کے بعد اب عوام بحرین میں ایک مکمل جمہوریت کے لیے یکسو ہوچکے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بحرین کے عوام ایک آدمی ایک ووٹ کا حق مانگ رہے ہیں۔ بحرین کے عوام کے مطالبات مغربی تصور جمہوریت سے 100 فیصد ہم آہنگ ہیں، لیکن اس کے باوجود جمہوریت کے لیے شب و روز راگ الاپنے والی حکومتیں بحرین کے عوام کی مظلومیت کو دیکھتی ہیں اور خاموش ہیں۔ اس سے ان کی جمہوریت کے ساتھ دلچسپی کی ماہیت سمجھی جاسکتی ہے۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کی جمہوریت پسندی اور انسانی حقوق کی حمایت ایک منافقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔