امام مہدی عليہ السلام کے انصار کی صفات
ہم سب مسلمانوں پرضروری ہے کہ امام مہدی عليہ السلام کے انصار کی صفات اور خصوصیات کو آئمہ معصومین عليھم السلام کی احادیث کی روشنی میں پہچانیں تاکہ اس طرح ہم خود کو صحیح طور پرپہچان لیں اور کمی بیشی دور کرکے اپنی اصلاح کی کوشش کریں
۱۔ معرفت اور اطاعت
امام مہدی عليہ السلام کے انصارخداوندعالم اور اپنے امام کی گہری شناخت رکھتے ہیں اورمکمل آگاہی کے ساتھ میدان حق میں وارد ہوتے ہیں حضرت علی عليہ السلام ان کے بارے میں فرماتے ہیں:’وہ ایسے اشخاص ہیں جو خدا کو اس طرح پہچانتے ہیں جو پہچاننے کا حق ہے’۔ ( یوم الخلاص، ص٢٢٣)
امام کی شناخت یعنی امام کے حقِ ولایت اور کائنات میں ان کے بلند مرتبہ کی معرفت ہے اور یہ وہی معرفت ہے جس نے ان کے دلوں کو امامؑ کی محبت سے سرشار کردیاہے اور انہیں ان کا مطیع اورفرمانبردار قرار دیاہے؛ کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ امام عليہ السلام کا حکم، خدا کا حکم ہے اوران کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔پیغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ان کی توصیف میں فرمایا:’وہ لوگ اپنے امام کی اطاعت میں کوشاں رہتے’۔ ( منتخب الاثر ،فصل٨،باب١،ح٢،ص٦١١)۲۔ عبادت اور استحکام
امام مہدی عليہ السلام کے انصار و مددگار عبادت میں اپنے امام کو نمونہ عمل قرار دیتے ہیں اور شب و روز اپنے خدا کے شیریں ذکر میں گزارتے ہیں۔ حضرت امام صادق عليہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا:’رات بھر عبادت کرتے ہیں اور دن میں روزہ رکھتے ہیں’۔ ( یوم الخلاص،ص٢٢٤)
ایک اورجگہ میں فرماتے ہیں:’گھوڑوں (یاسوار ہونے والی چیز)پر سواری کی حالت میں بھی خدا کی تسبیح کرتے ہیں'( بحار الانوار،ج٥٢،ص٣٠٨)
یہی ذکر خدا ہے جس سے فولادی مرد بنتے ہیں، جس کے استحکام اور مضبوطی کو کوئی شیطانی طاقت بھی ختم نہیں کرسکتی۔ حضرت امام صادق عليہ السلام فرماتے ہیں:’وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ گویا ان کا دل لوہے کا ٹکڑا ہے’۔ (بحار الانوار،ج٥٢،ص٣٠٨)۳۔جانثاری اور شہادت کی تمنا
امام مہدی عليہ السلام کے انصار کی آنحضرت کے بارے میں گہری معرفت ان کے دلوں کو اپنے امام کے عشق سے لبریز کرتی ہے۔ لہٰذاوہ جنگ کے میدان میں اپنے امام کو نگینہ کی طرح اپنے درمیان میں لے کر اپنی جان کو ان کے لئے ڈھال قرار دیتے ہیں۔ حضرت امام صادق عليہ السلام نے فرمایا:’امام مہدی کے انصار و مددگارجنگ کے میدان میں آپ کے چاروں طرف حلقہ بنائے ہوں گے اور اپنی جان کو سپر بنا کر اپنے امام کی حفاظت کریں گے'( بحار الانوار،ج٥٢،ص٣٠٨) اور آپ ہی نے فرمایا: ‘وہ راہ خدا میں شہادت پانے کی تمنا کریں گے’۔ ( بحار الانوار،ج٥٢،ص٣٠٨)۴۔ شجاعت اور دلیری
امام مہدی عليہ السلام کے ناصرو مددگار اپنے مولا کی طرح شجاع، بہادر اور فولادی مرد ہوں گے۔حضرت علی عليہ السلام ان کی توصیف میں فرماتے ہیں:’وہ ایسے شیر ہیں جو اپنی بن سے باہر نکل آئے ہیں اور اگر چاہیں تو پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلاسکتے ہیں’۔ (یوم الخلاص،ص٢٢٤)۵۔ صبر وبردباری
واضح ہے کہ عالمی سطح پرظلم و ستم سے مقابلہ کرنے اور عالمی پیمانہ پر عدل و انصاف کی حکومت قائم کرنے میں بہت سی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہوگا اور امام عليہ السلام کے انصارو مددگار اپنے امام کے عالمی مقاصد کوپایہ تکمیل تک پہچانے کے لئے مشکلات اورپریشانیوں کو اپنی جان پر لیں گے لیکن اخلاص اور تواضع کی بنا پر اپنے کام کو معمولی اور ناچیز شمار کریں گے۔حضرت علی عليہ السلامنے فرمایا:’وہ ایسا گروہ ہے جو راہ خدا میں صبر اور بردباری کی وجہ سے خدا پر احسان نہیں جتلاتے اور اپنی جان کو حضرت حق کے حضور میں پیش کرکے خودپر فخر نہیں کرتے اور اس چیز کوزیادہ اہمیت نہیں دیتے’۔ ( یوم الخلاص،ص٢٢٤)۶۔ اتحاد اورہمدلی
حضرت امام علی عليہ السلام ،امام مہدی کے انصار کے باہمی اتحاد اور ہمدلی کے بارے میں فرماتے ہیں:’وہ لوگ ایک دل اور ہم آہنگ (یعنی متحد) ہوں گے’۔( یوم الخلاص، ص٢٢٣)
اس ہمدلی اور اتحاد کا سبب یہ ہے کہ خود پسندی اور ذاتی مفاد ان کے وجود میں نہیں ہو گا۔ وہ صحیح عقیدہ کے ساتھ ایک پرچم کے نیچے اور ایک مقصد کے تحت قیام کریں گے اور یہ خود دشمن کے مقابلے میں ان کی کامیابی کا ایک راز ہے۔۷۔ زہد و تقویٰ
حضرت امام علی عليہ السلام،امام مہدی کے انصار کے بارے میں فرماتے ہیں:’وہ اپنے انصار و مددگاروں سے اس بات پر بیعت لیں گے کہ وہ سونا اور چاندی جمع نہ کریں اور گیہوں اور جو کا ذخیرہ نہ کریں’۔ (منتخب الاثر،فصل٦،باب١١،ح٤،ص٥٨١)
وہ بلند مقاصد رکھتے ہیں اور ایک عظیم مقصد کے لئے قیام کریں گے لہٰذا دنیا کی مادی رنگینی ان کو اس عظیم مقصد سے دور نہیں کرسکتی ،بناء بر ایں جن لوگوں کی آنکھیں دنیا کی زرق و برق دیکھ کر خیرہ ہوجاتی ہیں اور ان کا دل پانی پانی ہوجاتا ہے تو ایسے لوگوں کے لئے امام مہدی عليہ السلام کے خاص انصارو مددگاروں میں کوئی جگہ نہ ہوگی۔ امام مہدی عليہ السلام کے انصار و مددگاروں کی انہی صفات اور خصوصیات کی وجہ سے روایات میں ان کو احترام سے یاد کیا گیا ہے اور معصومین عليھم السلام نے اپنی لسان مبارک پر ان کی مدح و ستائش کے جملات جاری کئے ہیں۔پیغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ان کی توصیف میں فرمایا:
‘اُولَئِکَ ہُم خِیَارُ الاُمَّةِ’ (یوم الخلاص،ص٢٢٤.) یعنی’وہ لوگ (میری) امت کے بہترین افراد ہیں’
ایک اور حدیث میں حضرت امام علی عليہ السلام نے فرمایا:’فَبِاَبِی وَ اُمِّی مِنْ عِدَّةٍ قَلِیْلَةٍ اَسْمَائُہُم فِی الارضِ مَجْھُولَة’
‘ میرے ماں باپ اس چھوٹے گروہ پر قربان جو زمین میں ناشناختہ ہیں’۔(معجم الاحادیث،الامام المہدی،ج٣،ص١٠١.)
البتہ امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے انصار و مددگار اپنی لیاقت اور صلاحیت کے لحاظ سے مختلف درجات میں تقسیم ہوں گے اور روایات میں بیان ہوا ہے کہ امام مہدی عليہ السلام کا ان خاص ٣١٣ ناصر ین (کہ جو اس انقلاب کی خاص فورس ہوں گے) کے علاوہ دس ہزار کا لشکر بھی ہوگا اور ان کے علاوہ انتظار کرنے والے مومنین کی ایک عظیم تعداد آپ کی مدد کر ے گی۔