شخصیت امام علی علیہ السلام خلفاء کی نظرمیں

202

یوں تو انسانی زندگی کی تاریخ میں بے نظیر شخصیتیں گذری ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کو ساحل نجات تک پہنچایا ہے جس طرح سمندر کی موجیں سمندر کی حیات کا ذریعہ ہیں اسی طرح یہ شخصیتیں انسانی زندگی کو بقاء و دوام عطا کرتی ہیں ،انہی افراد نے انسانوں کو علم وتہذیب،نظم وطریقہ اور سربلندی کے ساتھ زندگی گذارنے کا سلیقہ بخشا ہے ۔ایسی شخصیات کے لئے زندگی اور موت کوئی معنی نہیں رکھتی ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی یہ افراد دنیا والوں کی سر بلندی و کامیابی کے لئے مشعل راہ ہیں ۔انہی شخصیات میں کچھ خاص افراد ایسے ہیں جن سے لوگوں کوزیادہ محبت اور لگائو ہے ،اس لئے کہ انہوں نے انسانوں کو سعادت کی راہ دکھائی تاکہ دنیا میں کامیابی انسان کے قدم چومے اور آخرت میں اپنے خالق کے سامنے سر خرو ہوسکے ۔انہی افراد میں ایک شخصیت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی ہے کہ جن کا مثل تاریخ بشر میں ناممکن ہے۔عام طور سے زمانے کے گذرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی شخصیت بھی فراموشی کی نذر ہو جاتی ہے لیکن چودہ سو سال بعد بھی آپ کی شخصیت بدر کامل کی طرح روشن ومنور ہے ۔اس سے بلند شخصیت اور کیا ہوگی کہ اپنے پرائے سب آپ کی عظمت کے سامنے سر بسجود نظر آتے ہیں۔ ‘شبلی شمیل ‘اس کے با وجود کے اس کا شمار خدا کی وحدانیت کا انکار کرنے والوں میں ہوتا ہے لیکن علی علیہ السلا م کی شخصیت سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ اس نے اپنے احساسات کواس طرح قلم بند کیا: امام علی ابن ابی طالب علیہما السلام سب سے عظیم بزرگ اورمشرق ومغرب میں تنہا فرد ہیں جو پیغمبر اسلام ۖکے مشابہ ہیں ،نہ ان کے جیسا کوئی آیا ہے اور نہ آئے گا ۔(١)’ جرج جرداق’ جوایک مسیحی مذہب ہے جب اس نے علی کی حیات کا مطالعہ کیا تو محسوس کیا کہ علی ہر دور کی ضرورت ہے ،اور اسی احساس نے اسے اس اقرار پر مجبور کیا کہ :’ما ذاعلیک یا دنیا ……الخ’اے دنیا تجھے کیا ہو گیا ہے تو اپنی تمام قدرت کے ذریعہ ہر زمانے میں ایک انسان پیدا کرتی جو عقل ،روح ،بیان اور قدرت وشجاعت میں علی جیساہو۔(٢)علی علیہ السلام کی فضیلت وکرامت کو تحریرکرنا کسی کے لئے ممکن نہیں باوجود اس کے کہ علی علیہ السلام کے فضائل وکرامات پر مورخین نے بہت قلم فرسائی کی خواہ وہ جس مذہب کے بھی ہوں،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ جتنا شیعہ ،علی علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں اگر غیر شیعہ علی سے اتنی محبت کرتے تو علی علیہ السلام کے کرامات و افتخارات مزید قلم بند کئے جاتے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ صرف پیغمبرۖکے ایک قول پر’حفناوی’نے ابوسفیان کی فضیلت پر ایک مستقل کتاب تحریر کر دی کہ نبیۖ نے روز فتح مکہ فرمایا :’مَنْ دَخَلَ دَارَ اَبِیْ سُفْیَانَ فَھُوَآمِن’جو بھی ابو سفیان کے گھر داخل ہوگا وہ امان میں رہے گا ۔شیخ خضروی اس حدیث کے ذیل میں تحریر کرتے ہیں کہ نبی ۖ کا یہ کہنا کہ :جو بھی ابو سفیان کے گھر داخل ہوگا وہ امان میں رہے گا ‘یہ اتنا عظیم شرف ہے جو کسی کو بھی حاصل نہ ہوسکا ۔جب کہ پیغمبر ۖ نے فرمایاتھا کہ :’جو ابو سفیان کے یا حکیم بن حزام کے گھرمیں داخل ہوجائے یا پھر اپنی تلوار کو غلاف میں رکھ لے تو وہ امان میں رہے گا ‘ یعنی اگر کوئی کسی کے گھر داخل نہ ہو صرف تلوار کو غلاف میں رکھ لے توبھی امان میں رہے گا لیکن اس کے باوجود جناب’ خضروی وحفناوی ‘نے فضیلت ابو سفیان کو اس منزل پر پہنچا دیا کہ روز اول سے آج تک کوئی بھی مقابلہ کے قابل نہیں ہے حتی ٰ علی کہ جن کو رسول ۖ نے اپنے کاندھوں پر اٹھا یا تاکہ بتوں کو توڑیں جس کی پرستش خود ابو سفیان نے بھی کی ہے ۔(3)
شخصیت اما م علی علیہ السلام خلفا ء اہل سنت کی نظر میںخلیفۂ اول کے اعترافاتابوحامد غزالی کا بیان ہے کہ ایک دن خلیفۂ اول منبر پر تشریف فرما تھے اور انہوں نے کہا :’اَقِیْلُوْنِی وَلَسْتُ بِخَیْرِکُمْ وَعَلِیّ فِیْکُمْ ‘ہمیں چھوڑو میں خیر پر نہیں ہوں درانحالیکہ علی تمہارے درمیان موجود ہیں یعنی علی کے ہوتے ہوئے میں مسندخلافت کے لائق نہیں ہوں۔(4)خلیفہ ٔ اول ابو بکر کی خلافت کے دوران لوگوں نے ایک شخص کو شراب پینے کے جرم میں گرفتار کیا،اور خلیفہ کے پاس لائے ،خلیفہ نے حکم دیا کہ اس پر حد شرعی جاری کی جائے، اس شخص نے کہا کہ میں شراب پینے کی حرمت سے بے خبر تھا ورنہ میں شراب نہ پیتا ،خلیفہ یہ سن کر حیرت زدہ رہ گئے اور مسئلہ کا حل تلاش نہ کر سکے ،آخر میں علی کو دربار میں بلا بھیجا اور مسئلہ کا حل دریافت کیا،مو لا علی نے فرمایاکہ اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے تمام مہاجر وانصار کو جمع کرو اور ان سے دریافت کرو کہ ان میں سے کسی نے اس شخص کو شراب پینے کی حرمت کے بارے میں بتایا ہے یا نہیں ؟اگر دو شخص گواہی دیں تو اس پر حد جاری کرو،ورنہ اسے چھوڑ دو،چنانچہ خلیفہ نے ایسا ہی کیااور کسی نے بھی اس بات کی گواہی نہ دی لہٰذا اس شخص کو آزاد کردیا۔ (5)
خلیفۂ دوم کے اعترافاتایک شخص خلیفہ ثانی کے دربار میںآیا اور اس نے سوال کیا کہ روئے زمین پر کون سی شی ہے جو روئے زمین پرہمارے لئے ہے اور آسمان پر خدا کے لئے نہیں ہے ؟خلیفہ ثانی یہ سن کر حیران وسرگردان رہ گئے اور مشکل کشا کو مشکل کشائی کے لئے بلا یا،علی علیہ السلام نے فرمایا کہ ماجرا کیا ہے خلیفہ نے عرض کیا :یہ شخص کہتا ہے کہ وہ کون سی شی ہے جو روئے زمین پرہمارے لئے ہے اور آسمان پر خدا کے لئے نہیں ہے؟علی علیہ السلام نے مسکرا کر جواب دیا کہ یہ شخص صحیح کہتاہے کہ روئے زمین پر اس کے لئے بیوی اور بچے ہیں اور خداکی ذات اس سے منزہ ہے ،یہ سن کر عمرنے کہا :’کَاْدَ یَھْلِکُ ابْنُ الْخَطَّاب لَوْلَا عَلِیُّ ابْنُ اَبِیْ طَالَبٍ ‘ اگر علی نہ ہوتے توفرزند خطاب ہلاک ہو جاتا۔اس حدیث کے بارے میں ‘گنجی شافعی’:لکھتے ہیں کہ یہ حدیث اہل سنت کے نزدیک ثابت ہے اور بہت سے مورخین نے اسے نقل کیاہے۔(6)اسی طرح ایک عورت کو خلیفۂ ثانی کے پاس لایا گیا کہ جس نے زنا کا اعتراف کیا تھا عمر نے حکم دیا کہ اس کو سنگسار کیا جائے علی علیہ السلام نے فرمایا کہ رک جائو ،تم اس عورت پرحق تسلط رکھتے ہو لیکن جو بچہ اس کے شکم میں ہے اس پر تمہارا کیا تسلط ہے ؟شاید تم لوگو ں نے اسے ڈرایا ہوتاکہ وہ اقرار کر لے عمر نے کہاہاں ایسا ہی ہے،علی علیہ السلام نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ پیغمبر اکرم ۖنے فرمایا :اس شخص پر حد نہیں ہے جسکو ڈرا دھمکا کراقرار لیا گیا ہو،عمر نے اس عورت کو رہا کر دیا اور کہا : ‘عَجَزَتِ النِّسَا ئُ اَنْ تَلِدْنَ مِثْلَ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالَب ،لَوْ لَاعَلِیّ لَھَلَکَ عُمَرَ’تمام عورتیں عاجز ہیں کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام جیسا شخص دنیا کے حوالے کریں ،اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجا تا۔(7)ایک دوسرے مقام پر خلیفہ ثانی نے واضح طورپر اعتراف کرتے ہوئے کہا :’عَلِی اَقْضَانَا’علی امور قضاوت میں ہم سب سے بہتر وبرتر ہیں۔ (8)ابن عباس کا بیان ہے کہ کچھ لوگ عمر کے پا س آئے اورسوا ل کیا کہ سب سے پہلا مسلمان کو ن ہے؟میں نے عمر کو کہتے ہوئے سنا ‘.. . اَمَا عَلِی فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ یَقُوْلُ فِیْہِ ثَلاَثُ خِصَالٍ:لَوَدَدْتُ اَنْ تَکُوْنَ لِیْ وَاحِدَة مِنْھُنَّ ،وَکَانَتْ اَحَبُّ اِلیٰ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ ،وَکُنْتُ اَنَا وَاَبُوْ عُبَیْدَہ وَاَبُوْبَکَرٍ وَجَمَاعَة مِنْ اَصْحَابِہ اِذَا ضَرَبَ النَّبِیُّ عَلٰی مِنْکَبِ عَلیٍ فَقَالَ لَہ:یَا عَلِیُّ !اَنْتَ اُوَّلُ الْمُؤمِنِیْنَ اِیْمَاناً اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اِسْلاَماً وَاَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسی ٰ’….لیکن علی ،میں نے خود پیغمبر اکرم ۖ سے سنا کہ انہوں نے علی کے بارے میں فرمایا:علی کے اند ر تین خصوصیتیں پائی جاتی ہیں۔میں (عمر)آرزو رکھتا ہوں کہ اے کاش !مجھ میں ان میں سے کوئی ایک خصوصیت پائی جاتی تو میرے لئے پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہوتی،ایک دن میں (عمر)ابو عبیدہ اور ابوبکر اور پیغمبر ۖکے کچھ صحابہ نبیۖ کی خدمت میں موجود تھے کہ نبی اکرم ۖ نے اپنے ہاتھ کو علی کے شانو ں پر رکھا اور فرمایا:اے علی !تم مومنین میں سب سے پہلے ایمان لانے والے ہو ،تم سب سے پہلے مسلمان ہو اور تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو موسیٰ کو ہارون سے تھی۔ (9)عمر نے اس روایت میں واضح طور سے قبول کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے اندر ایسی خصوصیتیں پائی جاتی تھیں جسکی تمام مسلمان آرزو کرتے تھے اور یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ علی علیہ السلام سب سے افضل وبرتر تھے۔
خلیفۂ سوم کے اعترافاتجب لوگوں نے عثمان کے گھر کا محاصرہ کیاتا کہ انھیںقتل کر دیں اور معاویہ کے لشکر والے منتظر تھے کہ عثمان قتل کر دیئے جائیں اور یہ لوگ عثمان کے قتل کا بہانہ لے کر سیاسی فائدہ اٹھا ئیں ایسے ماحول میں جب کہ امداد اور نجات کا کوئی راستہ نہیں تھا صرف علی اور فرزندان علی نے خلیفۂ سوم کی مدد کیا کہ جس کا اظہار خلیفۂ سوم کے اس شعر سے ہوتا ہے ۔
فان کنت ماکولاً فکن انت
اکلولا فادر کنی ولما امزقاس شعر کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے سوا چارہ نہیں کہ میں مارا جاؤں تو آپ مجھے ماریں کہ آپ علی ابن ابی طالب ہیں ورنہ آپ ہماری مدد کریں تا کہ طلحہ ہمیں قتل نہ کر سکے۔ (10)ایک دوسرے مقام پر خلیفہ ٔ سوم نے حضرت علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :خدا کی قسم میں نہیں چاہتا کہ آپ کے بعد اس دنیا میں زندہ رہوں اس لئے کہ آپ کے جیسا جانشین نہیں مل سکتا اور اگر آ پ زندہ رہے تو کوئی بھی آپ کو بعنوان وسیلہ وپناہ گاہ انتخاب نہیں کرے گا، میری نسبت آپ سے اس فرزند کے مثل ہے کہ جس کو اس کے باپ نے عاق کر دیا ہو۔(11)اس کے علاوہ تاریخ میں بے شمار واقعات موجود ہیں جن سے خلفاء ثلاثہ کی زبانی علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی شخصیت وعظمت اجاگر ہوتی ہے ،ا س مختصر سے مقالہ میں ان سب کا ذکر کرنا ممکن نہیں ہے،اہل ذوق تفصیلی کتابوں کے مطالعہ کے ذریعہ اس حقیقت سے آشنا ہیں ۔
ام المومنین (عائشہ)کے اعترافاتحضرت علی کی فضیلت کے متعلق عائشہ سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا :’وَاللّٰہِ مَا رَائَیْتُ اَحَداً احبُّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ۖمِنِ عَلِیٍّ ‘خدا کی قسم رسول اکرم ۖکے نزدیک علی سے زیادہ محبوب کوئی نہیںہے(12)جمیع بن عمیر کہتے ہیں: ‘دخلت علی عمتی فسالت:ای الناس احب الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟قَالَتْ فَاطِمَةُ ،فقیل:مِنَ الرِّجَالِ؟قَالَتْ :زَوْجُھا،اِنْ کَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّاماًقِوَّاماً’۔میں اپنی پھوپھی عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے سوال کیاکہ پیغمبر اکرم ۖکے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کو ن ہے؟انہوں نے جواب دیا فاطمہ زہرا (س)میں نے سوال کیا اورمردوں میں سب سے محبوب کون ہے ؟انہوں نے جواب دیا :ہمسر فاطمہ ،جہاں تک میں جانتی ہوں وہ صائم الدھر اور قائم اللیل تھے۔(13)ایک دوسری روایت میں عائشہ سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا ‘عَلِی اَعْلَمُ النَّاسِ بِالسُّنَّةِ’ لوگوں میں علی سب سے زیادہ سنت پیغمبرۖ کو جاننے والے ہیں۔ (14)حضرت عائشہ کے غلام ابی عبد الرحمٰن سے کہا گیا : ‘حدثنا بمناقب علی، قال: ما احدثک و ھی اکثر من ان تحصیٰ’۔ ہمارے لئے مناقب علی علیہ السلام نقل کرو، غلام عائشہ نے کہا: میں کچھ بھی بیان نہیں کر سکتا، کیونکہ علی علیہ السلام کے فضائل قابل شمارش نہیں ہے۔(15)*******١۔ پژوہشی عمیق پیرامون زندگی علی ،ص٦٢۔ صوت العدالة الانسانیہ ،ج١،ص٤٩3۔ فضیلت ہائے امام علی ،جواد مغنیہ ،ص١٦4۔ ابوحامد،غزالی،سرالعالمین،نجف،بی تا۔ص٢٨٩5۔ علی کیست ؟فضل اللہ کمپانی ص١٠٢6۔ کفایة الطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب ،ص٢١٨7۔ ریاض النضرة،ج٣،ص١٤٣8۔ حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیائ،ج١ص٦٥9۔ مناقب خوارزمی ،ص٥٥10۔ الفتوح ،ص٣٢٨11۔ امام علی بن ابی طالب روز گار عثمان ،ص٢٠٢ ،عبدالفتاح عبدالمقصود12۔ مستدرک حاکم، ج٣،ص١٦٧،ح٤٧٣١13۔ جامع ترمذی،ج٥ ،ص٦٥٨،ح٣٨٧٤14۔ ریاض النضرہ،ج٣،ص١٤١15۔ شواہد التنزیل، جلد١، صفحہ١٧قطعہیہ جود و سخا حاتم طائی میں نہیںمثل ان کے کوئی عقدہ کشائی میں نہیںمعبود کے ہیں عبد نصیری کے خدابندہ کوئی حیدر سا خدائی میں نہیں(میر انیس)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.