مھدویت کے موضوع پر ایک گفتگو

298

جناب حجۃ الاسلام و المسلمین سعید معمار منتظرین سے گفتگو
گلستان غیبت میں انتظار كے پھول كھلانے والی جانی پہچانی شخصیت كے مالك قبلہ جناب سعید معمار منتظرین سے ان كے قیمتی اوقات میں سے كچھ وقت لیتے ہیں ۔قبلہ بہت شكریہ آپ نے بہت مصروفیت كے باوجود ہمیں كچھ وقت دیا ،ہم آپ سے پہلا سوال یہ كرتے ہیں كہ فرمائیے ہمارے معاشرے میں امام زمان (عج)كی طرف توجہ كے كیا اثرات ہیں اور یہ ہماری كس ضرورت كو پورا كرسكتی ہے ؟اگر دیكھا جائے تو انسان كی اہم ترین ضرورت سكون اور پر امن مقام ہے اسی لئے انسان ہمیشہ پر امن جگہ كی تلاش میں رہتا ہے اور قرآن مجید كے مطابق امن اس زمانہ میں حاصل ہوگا كہ جب انسان كا وجود شرك سے پاك ہوجائے گا، الذین آمنوا الم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئك لھم الامن (سورہ انعام آیت ۷۲)ترجمہ وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ان كے ایمان نے لباس ظلم نہیں پہنا ان كے لئے امن ہے۔ایك اور آیت میں اللہ تعالی شرك كو ظلم سے تعبیر فرماتا ہے كہ ان الشرك لظلم عظیم (سورہ لقمان آیت ۱۳)تو پھر لم یلبسوا ایمانھم بظلم سے مراد لم یلبسوا ایمانھم بشرك ہوگا اور شرك سے پاك ہونے كی ایك راہ ہے اور وہ یہ ہے كہ ولایت كے راستہ سے توحید لی جائے كیونكہ ولی خدا كے علاوہ كوئی بھی مطھر اور پاك كرنے والا نہیں ہے اور آیت تطھیر صرف اھل بیت كی شان میں نازل ہوئی چونكہ وہ مطھر ہیں كہ اللہ نے ان كو پاك كیا ہے لہذا مطھر بھی ہیں یعنی پاك كرنے والے۔
 
تو ان ہستیوں سے انس ، ان ہستیوں كی تعلیمات كو سمجھنا اور ان كے دائرہ ولایت میں داخل ہونے سے یہ ہستیاں انسان كو آہستہ آہستہ پاك كردیتی ہیں اور جس قدر انسان زیادہ سے زیادہ پاك ہوتا جاتا ہے، مقام امن كے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے اور اس زمانہ میں وہ مكمل پاك ہوگا كہ جب پہلے سے لیكر آخری تك كی ولایت كامل طور پر قبول كرے اور یہ وہ مقام ہے كہ بعض روایات كے مطابق ولایت اپنے عروج تك پہنچے گی اور اس سے لباس ظلم كو كھینچ لے گی، اب اس كا دل ایسا دل ہوگا جو اللہ تعالی كی طرف توجہ سے بھر جائے گا بلكہ عشق الہی سے لبریز ہوجائے گا، لہذا غیر خدا كسی طرح بھی وہاں اپنی جگہ نہیں بنا سكے گا اگر كوئی سارے ائمہ ھدی (ع) كو قبول كرلے لیكن حضرت بقیۃ اللہ ارواحنا لہ الفدا كی ولایت كو قبول نہ كرے تو اس خلا كی بنا پر اس كا ایمان ناقص رہ جائے گا اور اتنی مقدار میں وہ مشرك ہوگا اور اس كا ایمان لباس ظلم میں لپٹا ہوا ہوگا اور اس كا نتیجہ یہ ہوگا كہ وہ سكون و اطمینان اور امن كی نعمت سے محروم ہوجائے گا، پھر وہ اس ضرورت كو پورا كرنے كے لئے پریشان كن خیالات اور گمراہ كن نظریات میں گھر جائے گا ۔حضرت ولی عصر ارواحنا لہ الفداء كی طرف توجہ امن و سكون كے حصول كے لئے بہت بڑا سرمایہ ہے اگرچہ حضرت بقیۃ اللہ كا وجود پر فیض اس جہان اور تمام موجودات كے وجود كا سبب ہے ،كیونكہ بادل ہوا ستارے سورج وغیرہ یہ سب اپنی حركت میں ایك ھدف و مقصد ركھتےہیں ان كا ہدف یہ ہے كہ وہ ایك كامل اور معصوم انسان كی خاطر حركت میں ہیں نہ كہ ناقص خطاكار اور گناہ گار انسان كی خاطر، سب موجودات جہان حضرت بقیۃ اللہ ارواحنا لہ الفداء كی بركت سے قید وجود میں ہیں اور اپنا رزق لے رہے ہیں ،جس طرح كہ دعائے عدیلہ میں آیا ہے و بیمنہ رزق الوری و بوجودہ ثبتت الارض والسماء (دعائے عدیلہ مفاتیح الجنان) یعنی اس كے پربركت وجود كی بنا پر دوسرے سب رزق لے رہے ہیں اور اس كی پربركت وجود كی بنا پر زمین و آسمان قائم ہیں یہ جو حدیث قدسی میں جملہ آیا ہے خلقت الاشیاء لاجلك اسی چیز كو بیان كررہا ہے كہ اشیاء عالم كو تیری خاطر خلق كیا ۔پس ہماری حركت ہمارا كردار اور ہمارا سب كچھ حضرت بقیۃ اللہ كی محبت اور عشق میں ہونا چاہیے خواہ ہم جانیں یا نہ جانیں خواہ ہم چاہیں یا نہ چاہیں خواہ انسان مومن خواہ مشرك، خواہ انسان موحد خواہ منافق، وہ امام مظہر رحمت رحمانیہ حضرت حق ہے اور حضرت حق كی رحمت و رحمانیت سب مخلوقات كے لئے ہے، ہم كہتے ہیں كہ حضرت ولی عصر (ع) اللہ كے ولی ہیں قرآن مجید كو دیكھیں وہ ان لوگوں كے برخلاف كہ جو كسی كا تعارف كرواتے ہوئے اتنے القاب بیان كرتے ہیں قرآن صرف ایك كلمہ كہتا ہے بقیۃ اللہ خیر لكم ان كنتم مومنین (سورہ ھود آیت ۸۶)اگر تم مومنین ہو تو بقیۃ اللہ تمہارے لئے خیر ہے كون وہ كہ جو تمام صفات الہی كا خلاصہ ہے ،اگر ہم یہ كہتے ہیں كہ ھو معكم اینما كنتم (سورہ حدید آیت ۴)یعنی تم جس جگہ پر بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے تو اسی طرح حضرت بقیۃ اللہ (ع) تمام حالات اور لحظات میں ہمارے ساتھ ہیں، جیسا كہ كتاب بصائر الدرجات میں روایت ہے كہ ہمارے وجود كی كوئی چیز امام زمان (عج) سے پوشیدہ نہیں ہے، یہ قانون تو ہم سورہ یس كی اس آیت سے بھی سمجھ سكتے ہیں كہ و كل شی احصیناہ فی امام مبین (سورہ یس آیت ۱۲)معرفت یہ ہے كہ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے كہ امام زمان (عج) ہر لمحہ ہم پر توجہ ركھے ہوئے ہیں اور ہم سب كا مشاہدہ فرمارہے ہیں، امیر المومنین فرماتے ہیں من احب شی لھج بذكرہ جو كسی سے محبت كرتا ہے وہ ہمیشہ اس كا ذكر كرنا چاہتا ہے، لہذا اس كو یاد كرتا رہتا ہے پھر یہ مقام آجاتا ہے كہ ہمیشہ خود كو اپنے دوست و محبوب كے حضور میں پاتا ہے پھر اس كے اور اس كے در میان جدائی نہیں سمھجتا، لہذا سب سے بہتر یہ ہے كہ ہم معرفت حاصل كریں اور معرفت كئی راستوں سے حاصل ہوتی ہے، ایك راستہ یہ ہے كہ ہم ہمیشہ حضرت كے بارے میں مطالعہ ركھیں مثلا مرحوم آیت اللہ اصفہانی كی كتاب مكیال المكارم اور مرحوم علامہ مجلسی كی بحار الانوار كی ۵۱، ۵۲، ۵۳ جلد جو كہ امام مہدی علیہ السلام كے عنوان كے تحت لكھی گئی ہیں مطالعہ كریں ایسی بعض كتابیں جو آج كے دور میں لكھی گئی ہیں مثلا محمد رضا حكمیی كی كتاب خورشید مغرب یا ابراھیم امینی كی كتاب دادگستر جھان وغیرہ، تو ان كتابوں كا مطالعہ ایك طرف ہماری مدد كرے گا اور دوسری طرف امام مہدی علیہ السلام كے فرامین اور ان كی طلب كردہ چیزوں پر عمل آہستہ آہستہ ان كی محبت كو بڑھائے گا اور ساتھ ان كی متعلقہ دعائیں اور زیارات جو كہ مفاتیح الجنان میں ہیں یہ جاری ركھے، یعنی انسان پہلے اپنے دل كو پاكیزہ كرے تاكہ حضرت ولی عصر (عج) كی توجہ پیدا ہو اور پھر وہ بھی عنایت فرمائیں اس صورت میں محبت كئی درجہ بڑھتی رہے گی ۔
امام مہدی علیہ السلام كے مكتب كی ترویج میں مطبوعات اور میڈیا كا كیا كردار ہے؟
میرا خیال ہے كہ اس سے پہلے كہ مطبوعات اور میڈیا اس سلسلہ میں كوئی كردار ادا كرے ،دانشوروں اور صاحب نظر حضرات كو چاہیے كہ وہ پہلے امام مہدی علیہ السلام اور ان كے متعلقہ مسائل میں ہر حوالے سے ایك صحیح تحقیق پیش كریں ،التبہ ایسا نظریہ نہ ہوكہ جو بعض احكام الھی كے مانع ہوجائے تو اس صورت میں مطبوعات اور میڈیا بہترین كردار ادا كرسكتے ہیں اور امید بخش فضا قائم ہوگی كہ جس میں ایك روشن حقیقت كو دیكھنے كے لئے لوگوں كا فكری مطلع صاف و شفاف ہوگا۔
بعض كتابیں جو ا نہی دنوں میں شائع ہوئیں ہیں ان میں حضرت مہدی علیہ السلام كے بارے میں لكھا ہے كہ آپ جب تشریف لائیں گے تو آیا آپ جدید ٹیكنالوجی ، كیمپوٹر اور انٹرنیٹ وغیرہ كو بھی استعمال كریں گے یانہ؟ تو بعض لوگوں نے جواب دیا چونكہ حضرت ولی عصر (عج) علم اور علمی ترقی كے مانع نہیں ہیں لہذا ان سے ضرور فائدہ اٹھایں گے تو اس جواب میں دو نكتوں پر غفلت برتی گئی ہے، جواب دینے والے نے یہ فرض كیا كہ گویا جب امام زمان (عج) تشریف لائیں گے تو انٹر نیٹ كا زمانہ باقی ہوگا یہی پچھلے بیس یا تیس سالوں كا زمانہ دیكھ لیں كتنے دور گذر گئے پرواز كرنے كا دور ، ایٹم كا دور اور آجكل انٹر نیٹ كا دور بشر علمی ترقی میں مشغول رہا ہے اور قدم پر قدم بڑھا رہا ہے ہر روز نئی سے نئی ایجاد سامنے آرہی ہے ۔۔۔۔ (آپ كو كیا معلوم انہوں نے كس دور میں تشریف لانا ہے) دوسری بات یہ كہ امام زمانہ كے انقلاب لانے كا مطلب كیا ہے ؟ آیا اس كا مطلب اسی طرح ہے كہ جس طرح ایران میں انقلاب آیا؟ یا انہوں نے پوری كائنات میں انسانی زندگی كو یكسر بدلنا ہے پوری دنیا كے انسانوں كو ایك نئی زندگی سے آشنا كرنا ہے اگر یہ بات درست ثابت ہوكہ انہوں نے تشریف لا كر صرف لوگوں كی موجودہ وضیعت كی اصلاح كرنی ہے تو ان لوگوں كا جواب صحیح ہے لیكن اگر یہ ہو و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض، (سورہ فتح آیت ۵)
تو پھر اس صورت میں یہ ہے كہ كائنات كی اس زندگی میں ہر حوالے سے تبدیلی اور انقلاب پیدا ہو ادھر ہمارے پاس مسلم روایات میں ہے كہ ائمہ معصومین علیھم السلام نے فرمایا قام قائمنا بالسیف كہ حضرت بقیۃ اللہ تلوار كے ساتھ قیام فرمائیں گے ان روایات كی سند بھی صحیح ہے، تو یہ روایات ان كے اس جواب كے ساتھ جس میں كہا گیا كہ امام زمان كیمپیوٹر اور ایٹمی بمب وغیرہ كو استعمال كریں گے كوئی مطابقت نہیں ركھتیں اگرچہ ائمہ علمی ترقی كے بھی مخالف نہیں ہیں۔
تیسری بات یہ كہ ہم دیكھ رہے ہیں انسانی زندگی كا نظام آہستہ آہستہ جس سمت میں جا رہا ہے تو اس صورت میں مكمل طور پر انسانی زندگی بدل كر رہ جائے گی ممكن ہے آنے والے بیس سالوں میں انسان آج كی زندگی سے مكمل مختلف زندگی گزار رہا ہو مثلا یہ جو كوشش كی جارہی ہے كہ دوسری انرجی كی بجائے سورج كی انرجی سے فائدہ اٹھایا جائے اور یہ بتایا جارہا ہے كہ كتنی مدت میں زمین كی انرجی كے منابع اور تیل جیسے منابع ختم ہوجائیں گے اور زور دیا جارہا ہے كہ ان چیزوں كا كم سے كم استعمال كیا جائے ۔ ۔ ۔ ۔
چوتھی بات یہ كہ روایات میں آیا ہے كہ زمانہ ظہور تك ۲۷ حروف علم میں سے فقط دو حروف روشن ہوں گے تو یہ ایجادات كا سلسلہ كہاں تك پہنچے ہر روز ایك نئی چیز كی ایجاد ہم ملاحظہ كررہے ہیں، تو یہ صرف ان دو حروف كی بركت سے ہے ابھی دوسرے ۲۵ حروف نے امام زمانہ كے ظہور كے بعد كشف ہونا ہے تو ان ۲۵ حروف پر بشری ترقی كسی صورت میں بھی ان دو حروف كی ترقی سے مقایسہ نہیں ہوسكتی جس طرح كہ یان گیٹون نے اپنے انٹرویوں میں كہا كہ بیسویں صدی میں انسانی ترقی كا گذشتہ تین ہزار سالہ انسانی ترقی سے مقایسہ نہیں ہوسكتا ۔
پانچویں بات یہ كہ اللہ تعالی كا ارادہ ہے امام كے زمانہ ظہور میں كائنات كی تمام طاقتیں اور مخلوقات امام مہدی كے حامی و ناصر ہوں گی، زمین و آسمان بلكہ روایات كے مطابق بادل امام كے مطیع ہوں گے، حضرت ایك یہودی كا تعاقب كریں گے وہ ایك پتھر كے پیچھے پوشیدہ ہوگا تو پتھر بول پڑے گا اے مولا ایك یہودی میرے پیچھے مخفی ہے كتاب سفینۃ البحار میں آیا ہے كہ ایك دن متوكل نے چاہا كہ امام نقی علیہ السلام كو مرعوب كرے تو اپنے لشكریوں كو یعنی سواروں پیادوں تیر اندازوں كو تیار ہوكر امام كے سامنے آنے كا حكم دیا تاكہ امام اس كی طاقت سے خوفزدہ ہوں ،جب اس نے ایسا كیا تو امام نے فرمایا اب ہم چاہتے ہیں كہ تجھے اپنی طاقت دكھلائیں ایك لحظہ كے بعد ا امام نے فرمایا دیكھو اس نے دیكھا ملائكہ دو صفوں میں كھڑے ہیں پھر ہر صف میں ایك صف زمین سے لیكر آسمان تك ملائكہ كی لا محدود فوج جمع ہے اور سب امام كی خدمت میں عرض كررہے ہیں كہ ہم تیار ہیں، تو روایت میں آیا كہ جب متوكل نے یہ منظر دیكھا تو ہوش و حواس كھو بیٹھا ۔ ۔ ۔ پس جو ایسی طاقتوں كا مالك ہو میزائلوں ،كیمپیوٹر اور انٹر نیٹ كی كیا ضرورت ہے؟ امام ان چیزوں كا محتاج ہو تو یہ توہین ہے البتہ میں یہ نہیں چاہتا كہ میں ان چیزوں كی افادیت كا انكار كروں ان كی افادیت اپنی جگہ پر مسلم ہے لیكن امام كی عظمت ان سے بالاتر ہے
فرماتے ہیں وللہ جنود السماوات والارض بہرحال یہ غلط بات ہے جو آج كل ہورہی ہے كہ چونكہ وہ علمی ترقی كے مخالف نہیں ہیں، لہذا اس كو استعمال كریں گے اگرچہ وہ علمی ترقی كے مخالف نہیں ہیں یہ درست ہے لیكن زمانہ ظہور میں تو حركت فی الارض ہوگی تمام تر موجودہ وضیعت تبدیل ہوكر رہ جائے گی، لہذا توجہ ركھنی چاہیے كہ اس تبدیلی كا آغاز تو خود انسان كے ہاتھوں میں ہورہا ہے، یہ جو سبز ٹیكنالوجی كی بات ہورہی ہے ممكن ہے آیندہ چند عشروں میں یہ پوری دنیا میں پھیل جائے تو ہم اس طبعی زندگی كی طرف لوٹ سكتے ہیں، تو مطبوعات كا كردار اس صورت میں اہم ہے كہ جب امام كے حوالے سے صحیح تحقیقی رائے دی جائے تو انسان كے اندر نشاط اور امید كے جذبات پیدا ہوں گے اور اس كا اضطراب ختم ہوگا اور وہ اطمینان و سكون كے مقام پر پہنچے گا ۔
احادیث اور زیارات میں ہم دیكھتے ہیں كہ حضرت كو حجت كے نام سے یاد كیا گیا ہے تو اس حوالے سے وضاحت فرمائیں ؟
اصل میں لفظ حجت حج سے ہے اور حج كا معنی قصد ہے۔
جب اللہ كی طرف قصد ہو تو اسے حج كہتے ہیں اور جو قصد الی اللہ كرے وہ حاجی كہلاتا ہے تو حجت وہ دلیل ہے كہ جو آپ كو ہدف تك پہنچائے، اب اگر ھدف و مقصد اللہ ہے تو یہ اس مقصد تك آپ كو پہنچائے گا حجت كا معنی دلیل اور رہنما ہے لہذا تمام آئمہ حجج اللہ البالغہ ہیں كہ یہ تمام موجودات جہان كو ایك اعلی مقصد تك پہنچاتی ہے۔
امام مہدی علیہ السلام كس طرح زمانہ غیبت میں حجت ہیں اور جب كہ لوگوں كے درمیان نہیں ہیں وہ كیسے انہیں مقصد اور ہدف تك پہنچا سكتے ہیں؟
روایت میں ہے كہ معصوم نے فرمایا : زمانہ غیبت میں ہم حضرت ولی عصر (عج) سے اس طرح فیض یاب ہوں گے كہ جس طرح بادل كے پیچھے سے سورج سے فائدہ اٹھایا جاتاہے، یعنی اگر سورج كا نور نہ ہوتا تو بخارات كا عمل نہ ہوتا جس كے نتیجہ میں بادل نہ بنتے یعنی یہ بارش جو كہ باران رحمت ہے اسی سورج كی بركت سے ہے تو ہر الہی فكر جو انسانی ذہن تك آتی ہے وہ خیر ہے بركت ہے اور اللہ كی طرف راستہ كھولنے والی ہے ،دوسرا یہ كہ حضرت ولی عصر (عج) كے وجود مبارك كا اس جہان میں سب سے بڑا نقش یہ ہے كہ وہ مطلق مستفیض ہے یعنی ہمیشہ اللہ تعالی كا فیض لیتے رہتے ہیں پھر وہ مفیض مطلق بھی ہیں یعنی سب كو اللہ كی طرف ہدایت دینے كے لئے فیض بھی دے رہے ہیں، اب ہر كوئی اپنے ظرف اور استعداد كے مطابق فیض لے رہا ہے پس جو بھی خیر پہنچتی ہے حضرت كے پربركت وجود كی بنا پر ہے جس طرح سورج سب كے لئے چمكتا ہے اگر آپ كے كمرے میں روشنی نہیں آرہی آپ نے اس كا راستہ بند كیا ہے مثلا پردہ لگایا ہے كھڑكی بند كی ہے وہ جگہ جہاں اس طرح حجاب نہیں ہے وہ زیادہ سورج كی روشنی سے بہرہ مند ہوتی ہیں۔
آجكل كی دنیا كی ضرورتوں كی طرف توجہ كرتے ہوئے كس طرح بحث مہدویت كو آگے بڑھایا جاسكتا ہے؟
سب سے پہلی بات عرض كرتا ہوں كہ بالكل ضرورت ہی نہیں ہم مہدویت پر ہر روز بحث كریں، كیونكہ یہ خود ہی ہر روز جدید ترین اور تازہ ترین بحث دنیا ہے اور یہ مسئلہ ہر روز شفاف اور سیرس ہوتا جارہا ہے ،ایك روایت میں آیا ہے لایزال یؤید ھذا الدین برجل فاسق لہذا آج دنیا كے فاسق حكمران اپنے طرز عمل سے لوگوں كو امام مہدی (عج) كے حوالے سے بحث پر مجبور كررہے ہیں، جیسا كہ وایٹڈ كہتا ہے دنیا نے دوبارہ اپنی نورانیت كو ختم كردیا ہے چونكہ پروفیسر حضرات پیغمبروں سے سبقت كرنے لگے ہیں اور جب سے پروفیسروں نے پیغمبروں پر سبقت كرنی شروع كی ہے تو اپنی نورانیت وضعیت ضائع كردی جس كے نتیجے میں لوگ واقعیت دیكھنے كی استعداد كھو بیٹھے ہیں، یان یاك روس میں كئی عشروں لكھی كتابوں میں سے ایك كتاب میں لكھتا ہے كہ اس كرہ خاكی انسانی پر زندگی اس قدر مشكل پڑ جائے گی كہ پھر یہ اپنے ذرائع سے اپنی مشكلات دور كرنے سے عاجز ہو جائیں گے تو فقط خداؤں كے ذریعے یہ مشكلات دور ہوں گی۔یہی یہ نكتہ واضح كرنا چاہتا ہوں كہ جدید ٹیكنالوجی نے امام مہدی علیہ السلام كے مسئلہ كو پیش كرنے میں بہت اثر دكھایا ہے، ہم ٹیكنالوجی پر كوئی اعتراض نہیں كررہے میں ان لوگوں كے خلاف ہوں كہ جو یہ كہہ رہے ہیں جدید ٹیكنالوجی ایك پیغام ہے اور اس نے انسان كو مسخر كیا ہوا ہے، نہیں بلكہ میرا عقیدہ یہ ہے یہاں سب سے پہلے دیكھیں كہ كون سا انسان اور كونسا بشر؟ كیونكہ ان باتوں كا یہ نیتجہ ہے كہ انسان كی اپنی كوئی واقعیت نہیں ہے باہر كی كوئی چیز اس سے كھیل سكتی ہے اور اسے جس طرف پہنچانا چاہے لے جاسكتی ہے، حالانكہ معارف اسلامی میں ہم بحث فطرت كی بنیاد پر اعتقاد ركھتے ہیں كہ انسان ایك واقعیت ركھتا ہے ایك حقیقت ہے اور یہ حقیقت اجازت نہیں دیتی ہر بیرونی چیز اس پر تسلط پیدا كرے اس كی شخصیت اور وجود كی لگام اپنے ہاتھ میں لے ا،گر انسان خوب رشد كرے اور صحیح معنوں میں اسلامی اور انسانی مكتب كی فضا میں آئے تو بجائے اس كے ٹیكنالوجی اس سے آگے بڑھے وہ اس كے پیچھے چلے گی بعض تو محض اس كے ہاتھ كا ایك وسیلہ اور آلہ ہوگی البتہ اگر انسان یوں كمال كے مراحل سے نہ گزرے تو رشد نہ كرے تو ممكن ہے ٹیكنالوجی اس سے آگے بڑھ جائے۔
امام مہدی علیہ السلام كا مسئلہ ان بہترین عناصر میں سے ہے كہ فطرت نے اس قدر اسے تقویت بخشی ہے كہ وہ یوں پھول كی مانند كھل چكا ہے كہ اب ہم اطمینان سے اس راہ میں كسی بھی وسیلہ اور آلہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو یہ ٹیكنالوجی ان كے لئے ایك وسیلہ ہے ،مغربی مفكرین كے برخلاف ہم ایسی فضا میں ہیں كہ جس كے بارے میں كہا گیا ہے الاسلام یعلو ولا یعلی علیہ، یعنی ہمارا یہ عقیدہ ہے كہ انسان اس قدر بلند ہے كہ كوئی بھی اس فكر سے بڑھ كر چیز نہیں ہے قرآن مجید كی آیت ہے كہ علیكم انفسكم لایضركم من ضل اذا اھتدیتم (سورہ مائدہ آیت ۱۰۵)
آپ اپنے آپ پر توجہ ركھیں گے تو بیرونی اشیاء آپ كے لئے ضرر دہ نہیں ہوں گی اگر یہ ٹیكنالوجی كچھ لوگوں سے كھیل رہی ہے تو بظاھر بڑے لوگوں كے قالب میں ہیں نہ كہ واقعا ہی بڑے ہیں، اس كی مثال سادہ سی ہے دو سال كی بچی كو دیكھئے ایك گڑیا سے كھیل رہی ہے اور بڑا لطف لے رہی ہے یہی بچی جب پندرہ سال كی ہوجائیگی اسے كھیں كہ گڑیا سے كھیلے تو وہ ایسا كرنے سے شرم محسوس كرے گی كیونكہ اس كی ذات میں بھی بزرگی پیدا ہوئی ہے اور جیسے جیسے یہ بزرگی بڑھے گی اس پر باہر كے اثرات كم ہوں گے اور اس كے بیرونی اشیا پر اثرات بڑھیں گے ۔
تو امام مہدی علیہ السلام سے تمسك یوں شخصیت میں رشد و كمال پیدا كرتا ہے كہ وہ اثر انداز ہوگا نہ كہ اثر لے گ،ا بعض تو اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں كہ ان كا اثر سو فیصد دوسروں پر ہوتا ہے جب كہ وہ كسی سے اثر نہیں لیتے ہمارے دینی تفكر میں انسانی شخصیت كے استقلال كی آخری حد ہے۔
بعض روایات میں آیا ہے كہ حضرت مہدی علیہ السلام ایسے زمانہ میں ظہور كریں گے كہ تمام لوگ مایوس ہوچكے ہوں گے ،ادھر كہا جاتا ہے كہ زمانہ غیبت میں ہماری ذمہ داری ہے كہ ہم تیار رہیں تو روایات میں اس قسم كے تضاد كے بارے میں كیا كہا جاسكتا ہے؟
روایات كے حوالے سے تضاد كی تعبیر كرنا درست نہیں ہے، ہوسكتا ہے بعض اوقات روایات كے مفاھیم آپس میں ٹكرائے ہوں تو بزرگ علماء نے اس چیز كو حل كرنے كے لئے اقدام كئے ہیں، كہ جسے جمع دلالی كہا جاتا ہے یہ روش اصول كی كتابوں میں موجود ہے علماء نے اس مسئلہ كے حوالے سے باقاعدہ تعادل و تراجی كے عنوان سے كتابیں لكھی ہیں، بعض كا تو یہ نظریہ ہے كہ حقیقی مجتھد وہ ہے كہ جو بظاھر ان معارض روایات كو ایك مفہوم میں لاسكے، اگر علماء میں سے دیكھا جائے تو مرحوم محقق صاحب شرایع رحمۃ اللہ علیہ كے پاس یہ فن كمال كی حد تك ہے كہ جس كی تجلی كتاب شرائع میں موجود ہے انہوں نے ایسی روایات كو رد كرنے اور ایك طرف چھوڑنے كی بجائے انہیں آپس میں جمع كیا ہے یعنی ہاہم سازگار كیا ہے اسی لئے شاید بعض كتابیں شرائع كو قرآن الفقہ كہتی ہیں۔
میں نے خود آیت اللہ بہجت كے درس میں خود ان سے سنا كہ فرما رہے تھے اس قسم كی معارض احادیث كو محكم ترین انداز میں صاحب شرائع نے جمع كیا ہے اسی لئے انہیں علماء میں فوق العادہ دقیق و عمیق سمجھا جا سكتا ہے اسی طرح حضرت ولی عصر (عج) كے حوالے سے بہت سی روایات كو جمع كیا جاسكتا ہے۔
1) عمیق مطالعہ كرتے ہوئے تمام روایات كو ایك دوسرے كے ساتھ چیك كیا جاسكتا ہے 2) روایات كے الفاظ میں دقت كی ضرورت ہے اور دوسری طرف روایات كی سند كو بھی چیك كرنا ضروری ہے اسی طرح اسباب ظہور اور علامات ظہور میں فرق واضح ہونا چاہیئے كہ یہ مطلب اپنی جگہ ظریف ہے ۔
ان تمام كاموں كے لئے ضروری ہے كہ محققین كا ایك گروپ بیٹھے اور عمیق انداز سے تحقیق كرے اور اسلامی معاشرے میں زمانہ كے گزرنے كے ساتھ ساتھ اسے پیش كریں یہ كام بالخصوص ہمارا فكری بحران جو خاص طور پر نوجوان نسل كے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں ان كی اصلاح كرسكتا ہے، ایك مثال عرض كرتا ہوں كہ روایات میں آیا ہے كہ ہمارے فرزند مہدی(ع) ایسے زمانے میں ظہور فرمائیں گے كہ جب سعید سعادت كی انتہاء اور شقی شقاوت كی انتہاء پر پہنچے گا، اب كس زمانہ میں یہ صورت قابل تصور ہے ، تو یہ اس صورت میں ہے كہ میدان سعید كے لئے بھی ہموار ہو اور شقی كے لئے بھی ۔ ۔ ۔ یعنی معاشرے میں فساد پھیلے گا كچھ حد تك یہ شقی پھیلائے گا اور سعید اس كے مد مقابل جہاد اكبر كرے گا اور آلودہ نہ ہوگا جس كے نتیجے میں اس كی سعادت كمال میں بڑھتی رہے گی ادھر شقی مزید لجوج اور ہٹ دھرم ہوں گے لہذا وہ بھی شقاوت كی انتہا پر ہوں گے جب سعید روحی اور باطنی طور پر پاك و پاكیزہ ہو گا تو وہ امام كے ظہور كے لئے تیار ہوگا، تو اسی زمانہ میں جب وہ شقی كے فساد كا مقابلہ كرے گا اسی كشمكش میں پاكیزہ لوگوں كے معاشرہ میں ایك الہی رہبر كی تشنگی بڑے گی، البتہ یہاں امر بالمعروف اور نہی عن المنكر بھی ہوگا یہ ان لوگوں كا اپنے دین اور اسلامی كردار كے لئے دفاع یہی امر بالمعروف اور نہی عن المنكر ہے۔
روایات میں ایسی روایات بھی ہیں جو واضح كرتی ہیں كہ وہ آخرالزمان ہیں حضرت لوگوں كے سروں پر ہاتھ پھیریں گے تو لوگوں كی عقول كامل ہوجائیں گی اور دوسری طرف یہ بھی ہے كہ ایك یہودی عورت حضرت كو شہید كرے تو ان میں كیسے مطابقت ہوگی؟
آپ كی بات میں دو جدا مسئلے ہیں یہ جو روایات میں آیا ہے كہ جب حضرت ولی عصر ارواحنا فدا تشریف لائیں گے تو اللہ تعالی لوگوں كی عقول كو كامل فرمائے گا، البتہ ہمارے ہاں ایك جملہ معروف ہے كہ مامن عام الا وقد خص یعنی كوئی بات عام نہیں بلكہ تخصیص ہے، قرآن میں ایسی مثالیں ہیں تو یہ جو بہت زیادہ كہا گیا ہے الا الذین آمنوا یا الا الذین كفروا ادھر قرآن بھی قیامت تك باقی ہے معلوم ہوتا ہے كہ لوگوں كا ایك گروہ پھر بھی عنایت حق كی ناشكری كریں گے، معلوم ہوا ان كے منحرف ہونے كی راہ بھی تھی، یہاں ایك نكتہ عرض كرنا چاہتا ہوں كہ رجعت كے موضوع پر روایات سے معلوم ہوا كہ جو شیطان نے كہا تھا مجھے یوم یبعثون تك مہلت دیں یہاں مراد یوم رجعت ہے، الزام الناصب كی تیسری جلد میں روایت ہے كہ یوم یبعثون سے مراد حضرت امیر ا لمومنین كی رجعت كا دن ہے تو آپ ایك جو كام كریں گے وہ شیطان كو ہلاك كریں گے وہ جب نابود ہوگا تو شقاوت كے تمام اسباب ختم ہوجائیں گے اور عقول رشد كریں گی لیكن پھر خطا كا احتمال تو رہے گا كیونكہ بعض روایات میں آیا ہے حضرت حجت (عج) جب كوئی فیصلہ كریں گے تو انہیں شاھد كی ضرورت نہ ہوگی اپنے علم الہی كے مطابق فیصلہ كریں گے تو جرم اور خطا ہوگا اس كے بارے میں فیصلہ كریں گے ۔
آخر میں آپ قارئین سے كچھ كہنا چاہتے ہیں تو فرمائیں۔
اس سے پہلے عرض كرچكا ہوں كہ یہ جہان ایك معصوم اور كامل انسان كے طفیل حركت میں ہے بالالفاط دیگر یہ جہان اپنی غرض و غایت اور ہدف كے مطابق حركت میں ہے، ان جہان كے مظاہر كو معلوم ہے كہ ایك شخص ہے كہ جو لیاقت و شان ركھتا ہے كہ اس كی خاطر پورا جہان فدا ہو جائے، لہذا وہ حركت میں ہیں ہم اس كی حركت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں سورج چاند حضرت ولی عصر كے مقدس وجود كی خاطر طلوع كرتے ہیں، صبح سے رات تك حضرت ولی عصر (عج) كا جمال ظہور كرتا ہے، ادھر ہم ہر وقت یہی كہتے ہیں كہ اے اللہ ہماری آنكھوں كو حضرت ولی عصر كے ظہور سے منور فرما دے ،معلوم ہے یہ كس مثال كی مانند ہے ؟ یہ یوں ہے كہ ایك شخص دن میں شمع روشن كرے اور صحراؤں بیابانوں میں سورج كی تلاش میں چل پڑے اگر آپ اسے راستے میں دیكھیں تو پوچھیں گے كیا كرر ہے ہو تو وہ كہے كہ شمع روشن كی ہے تاكہ سورج كا تلاش كروں، آپ اسے احمق اور مریض سمجھیں گے، جب حضرت ولی عصر (عج) كے وجود نے تمام جہان كو روشن كیا ہوا ہے ہم كس كی تلاش میں ہیں ؟ ہمیں چاہئے ہم اپنے آپ كو تلاش كریں حضرت كے حضور اپنے آپ كو حاضر كریں وہ تو غائب نہیں ہیں جس طرح ایك خاتون نے كہا تھا ہم غائب ہیں وہ ہمارے آنے كا انتظار كررہے ہیں، ہمیں چاہئے كہ ہم ان كی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ ركھیں، صبح عصر ان كی یاد میں رہیں كسی نے خواب میں رسول اكرم (ص)كی زیارت كی عرض كیا كون سا كام كروں كہ حضرت ولی عصر (عج) كی زیارت حاصل ہو تو آنحضرت نے فرمایا ہر صبح اور عصر ایك ساعت امام حسین علیہ السلام كے لئے گریہ كرو ، یہ ایك سچا خواب ہے چونكہ روایات كے ساتھ مطابقت ركھتا ہے، اس خواب میں ایك اہم نكتہ ہے فرمایا گیا من تشبہ بقوم فھو منھم كہ جب حضرت ولی عصر (عج) كے ساتھ سنخیت پیدا نہیں كرو گے اس وقت تك نہ ان كو درك كرسكتے ہو نہ ان كا مشاھدہ كرسكتے ہو، تو ہمیں چاہیے كہ ہم امام زمان كے كسی ایك كام كے ساتھ سنخیت پیدا كریں تو امام زمان كا ایك كام ہے كہ وہ صبح و عصر اپنے جد غریب امام حسین كے لئے آنسو بہاتے ہیں ، امام حسین علیہ السلام كے ساتھ توسل انتہائی قربت بخش ہے، زیارت عاشورہ میں ہے كہ (انی اتقرب الی اللہ و الی رسولہ و الی امیر المومنین و الی فاطمۃ و الی الحسن و الیك بموالاتك)
ایك اور راہ ان كی سلامتی كی خاطر صدقہ دینا ہے، بعض پوچھتے ہیں كہ كیا امام مہدی كو صدقہ كی ضرورت ہے؟ یہ اس طرح ہے كہ آپ ٹیكسی میں بیٹھے ہوئے ہیں آپ كے ساتھ آپ كا ایك گہرا دوست ہے كہ جو خوب بھی مالدار بھی ہے لیكن كرایہ دیتے وقت آپ جلدی سے اس كا كرایہ ڈرائیور كو دے دیتے ہیں، درحقیقت آپ دوست كو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں كہ میں تم سے محبت كرتا ہوں اگرچہ وہ تمہارے چند پیسوں كا محتاج نہیں ہے، تو امام كی سلامتی كے لئے صدقہ ہم دیتے ہیں گویا ہم یہ كہنا چاہتے ہیں كہ اے مولیٰ ہم آپ سے محبت ركھتے ہیں، یہی فلسفہ ہے تو بہترین راہ امام كی طرف توجہ ہے اہل ریاضت كہتے ہیں كہ ہر وقت كہا كرو یا بن الحسن تاكہ یہ چیز تم میں راسخ ہوجائے چونكہ محبت والوں كے دلوں میں جب محبت بڑھ جائے تو محبوب سامنے بھی نہ ہو و وہ محبوبب كے پاس ہوتے ہیں ۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.