خديجہ(ع) كى دولت اور على (ع) كى تلوار

167

اس كا جواب يہ ہے كہ مذكورہ طرز عمل كا مطلب يہ نہيں كہ (نعوذ بالله ) يہ لوگ قبول اسلام كيلئے رشوت ليتے تھے_ بلكہ اسلام تو بس يہ چاہتا ہے كہ يہ لوگ اسلامى ما حول سے آشنا اور مربوط رہيں _نيز ہر قسم كے تعصب يا نفسياتي، سياسى اور معاشرتى ركاوٹوں سے بالاتر ہو كر اس كى طرف نگاہ كريں_بنابريں ان كو ديا جانے والا مال مذكورہ موہوم ركاوٹوں كو اكثر موقعوں پر ہٹانے اور انہيں اسلامى ما حول سے آشنا اور مربوط ركھنے، نيز اسلام كے اہداف وخصوصيات سے آشنا كرنے ميں مدد ديتا تھا تاكہ نتيجتاً وہ اسلام كى حفاظت اور اس كے عظيم اہداف كے سامنے قلبى اور فكرى طور پر سر تسليم خم كريں_چنانچہ ان ميں سے بعض لوگ يہ سمجھتے ہيں كہ اسلام نے ان كو مال ودولت اور ہر قسم كى ان مراعات سے محروم كرديا ہے ، جن كو وہ فطرى طور پر چاہتے تھے _بنابريں طبيعى بات ہے كہ وہ پوشيدہ طور پراپنے مفادات كے لئے مضر، اس گھٹن كى فضا سے نجات حاصل كرنے كى كوشش كريں گے _ليكن جب ان كى مالى اعانت كى جائے اور انہيں يہ سمجھايا جائے كہ اسلام مال ودولت كا دشمن نہيں، جيساكہ ارشاد ربانى ہے (قل من حرم زينة الله التى اخرج لعبادہ والطيبات من الرزق) يعنى اے رسول(ص) كہہ ديجئے، كس نے الله كى حلال كردہ زينتوں اور پاك روزيوں كو حرام قرار ديا ہے_ نتيجتاً وہ سمجھ جائيں گے كہ اسلام كا مقصد انسان كى انسانيت كو پروان چڑھانا، نيز مال، طاقت، حسن اور اقتدار وغيرہ كى بجائے انسانيت كو حقيقى معيار قرار ديناہے اور اسى پيمانے پر نظام زندگى كو استوار كرنا ہے تاكہ انسان دنيا و آخرت دونوں ميں منزل سعادت تك پہنچ سكے_حضرت خديجہ كے اموال كے حوالے سے واضح ہے كہ يہ اموال لوگوں كو مسلمان بنانے كيلئے بطور رشوت نہيں ديئے جاتے تھے اور نہ ہى مؤلفة القلوب كيلئے تھے _حضرت خديجہ(ع) كے مال سے تو بس ان مسلمانوںكيلئے قوت لايموت كا بندوبست ہوتا تھا جو اپنے دين اور عقيدے كى راہ ميں عظيم ترين مصائب ومشكلات جھيل رہے تھے_ اورجن كا مقابلہ كرنے كيلئے قريش ہر قسم كے غير اخلاقى وغير انسانى حربوں حتى كہ انہيں فقر وفاقے پر مجبور كرنے كے حربے سے كام لے رہے تھے _ يہ ہے وہ حقيقت جس كى بنا پر يہ مقولہ مشہور ہوگيا كہ اسلام حضرت خديجہ(ع) كے مال اور حضرت علي(ع) كى تلوار سے كامياب ہوا_يہ واضح ہے كہ بنى ہاشم كے بائيكاٹ كے دوران حضرت خديجہ كى دولت صرف بھوكوںكو زندہ ركھنے والے اناج اور برہنہ كو لباس فراہم كرنے ميں خرچ ہوئي _ديگر امور ميں ان اموال سے چندان، استفادہ نہيں ہوا كيونكہ وہ غالباً خريد وفروش سے معذور تھے_آخر ميں يہ بتا دينا ضرورى ہے كہ مكہ ميں اموال كى جس قدر بھى كثرت ہوتى ليكن پھر بھى اس كے وسائل محدود تھے كيونكہ مكہ كوئي غيرمعمولى يابہت بڑا شہر نہ تھا _ البتہ بستى يا گاؤں كے مقابلے ميں بڑا تھا، اسى لئے قرآن نے اسے ام القرى (بستيوں كى ماں يعنى مركزى بستي) كا نام ديا ہے _بنابريں اس قسم كے چھوٹے شہروں كے مالى وسائل بھى محدود ہى ہوتے ہيں_———————-1_ البداية و النہاية ج 3ص 84 _2_ شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 13ص 256 _3_ شرح نہج البلاغہ معتزلى ج 13ص 256و ج 14ص 65نيز الغدير ج 7ص 357_358از كتاب الحجة ( ابن معد)، ابن كثير نے اسے البداية و النہاية ج 3ص 84ميں نام كا ذكر كئے بغير نقل كيا ہے نيز تيسير المطالب ص 49 _
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.