حضرت علی علیہ السلام کی مشکلات

245

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ ربّ العالمین‘ باریٴ الخلائق اجمعین‘ والصلوة والسلام علٰی عبداللہ ورسولہ وحبیبہ وصفّیہ وحافظ سرہ و مبلّغ رسالاتہ سیِدّنا ونبینا مولانا ابی القاسم محمد وآلہ الطیّبین الطاھرینِ المعصومینِ۔
ومن کَلاَمٍ لَہ‘ عَلَیْہ السَّلاُمُ دَعَوْنیِ وَاْلَتَمِسُوْا غَيرِیْ‘ فَانَّا مُسْتَقْبِلُوْنَ اَمْراً لَہ‘ وْجُوْہ’‘ وَاَلْواَن’‘ لاَ تَقُوْمُ لَہ‘ اْلقُلُوْبُ وَلاَ َثْبُتْ عَلَیْہ اْلعُقُوّل وَاِنَّ اْلاَفَاقَ قَدْ اَغَامَتْ وُاْلمُحَّجة قَدتنَکَّرَتْ وَاعْلَمُواْ اِنّیْ اِنْ اَجَبْتُکُمْ رَکِبَتْ بِکُمْ مَا اَعْلَمُ
(نہج البلاغہ خطبہ۹۲)
”یعنی مجھے چھوڑ دو اور (اس خلافت کے لیئے) میرے علاوہ کوئی اور ڈھونڈ لو، ہمارے سامنے اب معاملہ ہے جس کے کئی رخ اور کئی رنگ ہیں جسے نہ دل برداشت کر سکتے ہیں اور نہ عقلیں اسے مان سکتی میں‘ دیکھو افق عالم پر گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں‘ راستہ پہچاننے میں نہیں آتا، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر تمہاری خواہش کو مان لوں تو تمہیں اس راستے پر لے چلوں جو میرے علم میں ہے۔“
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام دوسرے خلفاء کی موجودگی اور ان کے بعد بہت زیادہ مشکلات میں تھے آپ کو کسی لحاظ سے بھی چین سے رہنے نہ دیا گیا‘ طرح طرح کی شورشیں اور سازشیں آپ کے ارد گرد خطرہ بن کر منڈ لاتی رہیں۔ حضرت عثمان کے قتل کے بعد لوگوں کا ایک انبوہ آپ کے در دولت پر حاضر ہوا اور اصرار کیا کہ وہ امام ؑوقت کے طور پر زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لیں لیکن امام علیہ السلام خاموش رہے اور انتہائی دکھی انداز میں فرمایا۔
”دَعَوِنی وَالتَمسِواْ غَیِرْیْ“
”مجھے چھوڑ دو خلامت کے لئے میرے علاوہ کوئی اور ڈھونڈ لو۔“
اس سے یہ مقصد نہیں ہے کہ معاذاللہ حضرت اپنے آپ کو خلافت رسول کا اہل نہیں سمجھتے تھے بلکہ آپ تو مسند رسول ؑپر بیٹھنے کے لیے سب سے زیادہ مستحق و سزا وار تھے‘ پھر فرمایا:
” فَاِنَّا مُسْتَقْبلُوْنَ اَمْراًلَّہ‘وُجُوْہ وَاَلْواَن“
”یعنی ہمارے سامنے ایک اور معاملہ ہے جس کے کئی رخ اور کئی رنگ ہیں۔“
اس جملے کی وضاحت کرتے ہوئے امام علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
”وان الافاق قد اغامت “
”کہ دیکھو افق عالم پر گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں“
” والمحجة قد تنکرت “
”کہ راستے پہچانے نہیں جاتے“
آپ اسی خطبہ میں مزید فرماتے ہیں :۔
” واعلموا انی ان اجبتکم رکبت بکم ما اعلم “
”تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر میں تمھاری اس خواہش کو مان لوں تو تمہیں اس راستے پہ لے چلوں گا جو میرے علم میں ہے۔“
اور اس کے متعلق کسی کہنے والے کی بات اور کسی ملامت کرنے والی کی سرزنش پہ کان نہیں دھروں گا اور اگر تم میرا پیچھا چھوڑ دو تو پھر جیسے تم ہو ویسے میں ہوں‘ اور ہو سکتا ہے کہ جسے تم اپنا امیر بناؤ اس کی میں تم سے زیادہ سنوں ا ور مانوں ا ور میرا(تمہارے دینوی مفاد کے لیے) امیر ہونے سے وزیر ہونا بہتر ہے۔
امام علیہ السلام کے اس قول سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کس قدر مشکل حالات میں گھرے ہوئے تھے۔ میں ایک نشست میں ان تمام مشکلات کے بارے میں تفصیل سے گفتگونہیں کر سکتا ۔فی الحا ل حضرت علی علیہ السلام کی ایک”مشکل“ بتاتا ہوں کہ جو آپ کے لیے پوری سوسائٹی کے لیے اور مسلمانوں کے لیے بہت زیادہ مشکل تھی۔ 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.