ابدی اور جاوداں شخصیت و کردار
13 رجب المرجب کی مبارک تاریخ مولائے متقیان حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت سے منصوب ہے، آپ نے آج ہی کے دن اللہ کے گھر یعنی خانہ کعبہ کے اندر دنیا کو نور امامت سے منور فرمایا اور آنکھ کھولی تو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آغوش مبارک میں اور یوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ختم رسالت اور آغاز امامت کی نوید دے کر کفر و شرک و نفاق کے خلاف اس عظیم تحریک میں شامل ہونے کا گویا اعلان کر دیا کہ جس کا آغاز حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سرزمین حجاز پر شروع کر چکے تھے اور پھر دنیا نے دیکھ لیا کہ پیغمبر اسلام (ص) کی آغوش مبارک میں پلنے والا بچہ ہی تھا کہ جس نے بھرے مجمع میں آپ کی رسالت کی تصدیق کی اور تبلیغ رسالت کے ہر مرحلے میں آپ کا ساتھ دینے کا عزم ظاہر کیا اور جواب میں آنحضرت (ص) نے بھی آپ کو اپنا وصی وزیر اور جانشین مقرر فرمایا۔ چنانچہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے عہد کو بخوبی نبھایا اور آپ کے بعد آپ کی اولاد نے کار رسالت کو آگے بڑھانے کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سیرت اور فضیلت کے بیان میں علم و حلم شجاعت دلیری، شفقت و رحمدلی اور انہی جیسی انگنت صفات کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور ان موضوعات پر نہ جانے اب تک کتنی ہی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور تا قیام قیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا، لیکن اس کے باوجود آپ کی شخصیت کے مکمل ادراک کا دعویٰ شاید ہی کوئی کرسکے، چنانچہ آنحضرت (ص) کی ایک حدیث یوں بیان کی جاتی ہے کہ مجھے کسی نے نہیں پہچانا سوائے علی اور علی کو کسی نے نہیں پہچانا سوائے میرے۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای آپ کی سبرت کے بیان میں فرماتے ہیں:امیرالمومنین (ع) ایسے مقدس اور نورانی صفات و خصوصیات کے حامل انسان ہیں کہ ہم انھیں سمجھنے سے بھی قاصر ہیں، آپ کی علمی منزلت آپ کا نورانی مرتبہ، آپ کی عصمت و طہارت وہ حقائق ہیں جو آپ کی ذات پاک اور آپ کے قلب منور میں موجزن تھے اور علم وحکمت کی شکل میں آپ کی زبان مبارک پر جاری رہتے تھے، وہ تقرب الہی اور وہ ذکر الہی جو ہمیشہ اور ہر حال میں آپ کے کردار سے نمایاں اور زبان پر جاری رہتا تھا، ایسی چیزیں ہیں جو آپ کی نورانی فطرت کی مانند ہمارے فہم و ادراک سے باہر ہیں، لیکن ہم ان پر یقین و عقیدہ رکھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں۔
امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سیرت و کردار کے لحاظ سے آنحضرت (ص) سے مطابقت رکھتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے آغوش رسالت میں پرورش پائی اور آنحضرت (ص) نے آپ کی تربیت اس انداز میں کی تھی کہ علم و حلم کا کوئی گوشہ ایسا نہیں تھا جو آپ نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات میں منتقل نہ کیا ہو۔ چنانچہ ایسی بہت سی معتبر احادیث اور روایات موجود ہیں جن کا ذکر تواتر کے ساتھ شیعہ اور سنی دونوں علماء نے کیا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر حاجیوں کے مجمع میں آپ کا یہ فرمانا “من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ” کہ جس کا میں مولا ہوں، اس کے یہ علی مولا ہیں۔ اس ارشاد کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی فضیلت میں پھر کوئی حدیث اور روایت بیان کرنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ غدیر خم کے مقام پر حجاج کرام کے مجمع میں آنحضرت (ص) کا معروف خطبہ اور اس کے بعد آیہ بلغ کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کو بحیثیت مولا و آقا قرار دینا اور پھر جبرئیل امین کی طرف سے “انّ دین عند اللہ الاسلام” کی بشارت ایسے مبارک اور تاریخ ساز واقعات ہیں کہ جس پر جتنا جشن منایا جائے کم ہے۔
امیر المومنین (ع) کی دوسری خصوصیات وہ ہیں جو آپ کی ذات مقدس کو ہر دور کے تمام انسانوں کیلۓ معیار اور نمونہ عمل بناتی ہیں اور وہ اتباع اور پیروی کرنے کیلۓ ہیں۔ معیار اور نمونہ عمل ان کاموں کو مطابقت دینے کیلۓ ایک میزان اور وسیلہ ہوتا ہے جو انسان انجام دینا چاہتا ہے۔ یہ نمونہ عمل کسی خاص گروہ وطبقے سے مخصوص نہیں ہے، حتٰی صرف مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہے۔ ہم جو یہ دیکھتے ہیں کہ تاریخ میں امیرالمومنین (ع) کی شخصیت اتنی پرکشش ہے اس کی وجہ یہی خصوصیات ہیں۔ لہذا جو لوگ مسلمان نہیں ہیں یا انہوں نے آپ کی امامت کی تصدیق بھی نہیں کی ہے، وہ بھی ان خصوصیات کی عظمتوں کے سامنے سرتسلیم خم کر لیتے ہيں اور نہ چاہتے ہوئے بھی مدح وستائش کرنے لگتے ہیں۔
بنابرایں یہ خصوصیات سب کیلۓ نمونہ عمل اور مثالی ہیں۔ عالم اسلام بلکہ عالم بشریت کی مفتخر ترین ہستیوں میں مرسل اعظم، نبی رحمت حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد سب سے پہلا نام امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب کا آتا ہے، لیکن آپ سے متعلق محبت و معرفت کی تاریخ میں بہت سے لوگ عمداً یا سہواً افراط و تفریط کا بھی شکار ہوئے ہیں اور شاید اسی لئے ایک دنیا دوستی اور دشمنیوں کی بنیاد پر مختلف گـروہوں اور جماعتوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ خود امیرالمومنین (ع) نے نہج البلاغہ کے خطبہ ایک سو ستائیس میں ایک جگہ خبردار کیا ہے کہ : “جلد ہی میرے سلسلے میں دو گروہ ہلاک ہوں گے، ایک وہ دوست جو افراط سے کام لیں گے اور ناحق باتیں میری طرف منسوب کریں گے اور دوسرے وہ دشمن جو تفریط سے کام لے کر کینہ و دشمنی میں آگے بڑھ جائیں گے اور باطل کی راہ اپنا لیں گے۔ میرے سلسلے میں بہترین افراد وہ ہیں جو میانہ رو ہیں اور راہ حق و اعتدال سے تجاوز نہیں کرتے۔” وہ سچے مسلمان جو اہلبیت رسول (ص) سے محبت کرتے ہیں اور ان کو اپنے لئے “اسوہ” اور “نمونۂ عمل” سمجھتے ہیں، صرف اس لئے ایسا نہیں کرتے کہ وہ ہمارے نبی (ص) کی اولاد ہیں اور ان کی نسل اور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، بلکہ اس لئے محبت و اطاعت کرتے ہیں کہ وہ خدا کی نگاہ میں عزیز و محترم ہیں اور ان کو اللہ نے اپنا نمائندہ اور عالم بشریت کا امام و پیشوا قرار دیا ہے۔ البتہ جن کو اہلبیت (ع) کی صحیح معرفت نہیں ہے وہ ان کو یا تو اولاد رسول (ص) سمجھ کر مانتے اور احترام کرتے ہیں یا پھر ایسے بھی لوگ ہیں جو ایک اچھا انسان سمجھ کر ان کی تعریف و ستائش کرتے اور عقیدت و ارادت کا اظہار کرتے ہيں۔ لیکن مسلمانوں کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ خدا نے ان کو امام و رہنما بنایا ہے اور اسوہ و نمونہ قرار دے کر ان کی اطاعت و پیروی واجب قرار دی ہے۔ ان کی سیرت سے سبق حاصل کرنا اور ان کے آئینۂ کردار میں خود کو ڈھالنا ہمارا فریضہ ہے۔ چنانچہ حضرت علی (ع) کی محبت اور معرفت میں اس پہلو کو سامنے رکھنا بے حد ضروری ہے۔ مسلمانوں کو دراصل اپنی رفتار و گفتار کے ذریعہ ثابت کرنا چاہئے کہ جب ہم “علی ع کی پیروی ” کی بات کرتے ہيں تو یہ اوروں کی پیروی سے الگ، خدا و رسول (ص) کی پیروی کے مترادف ہے۔ ایک مسلمان حضرت علی (ع) سے محبت و اطاعت عبادت سمجھ کر انجام دیتا ہے۔ جس طرح قرآن کی تلاوت رسول اسلام (ص) کی پیروی، نماز و روزہ کی ادائیگی، حج کے اعمال اور راہ خدا میں جہاد و سرفروشی عبادت ہے، علی ابن ابی طالب (ع) کی محبت اور پیروی بھی عبادت ہے۔ ظاہر ہے محبت و اطاعت اسی وقت کارساز ہے جب ان کی امامت و رہبری کی معرفت کے ساتھ ہو۔ ورنہ محبت کی ایک وہ صورت بھی ہے جو درویشوں اور فقیروں کے یہاں پائی جاتی ہے وہ بھی حضرت علی (ع) کو اپنا قطب اور پیشوا مانتے ہیں، مگر حضرت علی (ع) کی عملی زندگی سے خود کو دور کئے ہوئے ہیں۔ عیسائي دانشور جارج جرداق ادعا کرتے ہیں کہ “میں خداؤں کی پرستش کرتا ہوں، میرے لئے علی ابن ابی طالب کمال اور عدالت و شجاعت کے پروردگار ہیں۔” ظاہر ہے اس عیسائي دانشور کی محبت اور اس کا اظہار الگ عنوان رکھتا ہے، وہ عیسائي تھے اور عیسائي رہے ہیں، انہوں نے”انسانی عدل و انصاف کی آواز” کے عنوان سے حضرت علی (ع) کی مدح و ستائش میں ایک پوری کتاب کئی جلدوں میں لکھ دی، مگر ان کی محبت اسلام کی نظر میں کسی دینی معیار پر پوری نہیں اترتی۔
اسلام میں وہی محبت کارساز ہے، جو معرفت کے ساتھ ہو، ورنہ محبت میں ہی سہی، اگر کوئی حضرت علی (ع) کو الوہیت یا نبوت و رسالت کی منزل تک پہنچانے کی کوشش کرے تو یہ غلو اور شرک ہے۔ جس کی طرف حدیث میں آیا ہے: “ہلک فیہ رجلان مبغض قال و محب غال” “مبغض قال” سے مراد وہ کینہ توز دشمن ہیں جو جان بوجھ کر علی (ع) کے فضائل چھپاتے یا انکار کرتے ہیں، اور ” محب غال ” سے مراد محبت کے وہ جھوٹے دعویدار ہیں جو حضرت علی (ع) کو خدا کی منزل تک پہنچا دیتے ہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے جب ہم علی ابن ابی طالب (ع) کی سیرت اور کردار کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ خدا کی بندگی رسول اسلام (ص) کی جانشینی اور مسلمانوں کی امامت و پیشوائی کے لحاظ سے بہتریں مسلمان اور کامل ترین انسان نظر آتے ہیں۔ اسی لئے ان کی شخصیت اور کردار ابدی اور جاوداں ہے۔