حضرت امام مہدی(علیہ السلام) کے معجزات و کرامات
۱۔حضرت علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپنے فرمایا کہ “حضرت امام مہدی علیہ السلام پرندے کو اشارہ کریں گے وہ آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر آجائے گا،آپ علیہ السلام زمین کے ٹکڑے پر ایک خشک ٹہنی لگائیں گے تو وہ فوراً سرسبز ہو جائے گی ، اس کے پتے نکل آئیں گے”۔ (برہان المتقی ج۶۷حدیث ۴۱)۲۔حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام)سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ “تین پرچم باہمی اختلاف کریں گے”۔۱۔ مغرب میں ایک پرچم۔ ۲۔ ایک پرچم جزیرة میں ۔۳۔ ایک پرچم شام میں،ایک سال تک ان کے درمیان جنگ و فتنہ رہے گا۔پھر آپ علیہ السلام نے سفیانی کا خروج اور اس کے مظالم کو بیان کیا، اسکے بعد آپ علیہ السلام نے حضرت امام مہدی(علیہ السلام) کے خروج رکن اور مقام کے درمیان لوگوں کا آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرنا اور دیگر امور کو بیان کیا ہے، اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ “لشکر لے کر نکلیں گے، وادی القریٰ سے امن و سکون اور آرام سے چلیں گے، اسی حال میں ان کے ابن عم بارہ ہزار کا لشکر لے کر فارس سے انکے ساتھ آ ملے گا (وہ حسنی ہوں گے) وہ آکر کہیں گے اے ابن عم میں زیادہ حق رکھتا ہوں، آپ اس لشکر کی کمان مجھے دے دیں، میں ابن الحسن ہوں، اور میں ہی مہدی ہوں حضرت مہدی ان کے جواب میں کہیں گے کہ نہیں!میں مہدی(علیہ السلام) ہوں، بس حسنی سید انکے جواب میں کہیں گے تو کیا آپکے پاس کوئی دلیل و نشانی اس دعویٰ پر ہے تاکہ میں آپ کی بیعت کرلوں پس مہدی(علیہ السلام) پرندے کی طرف اشارہ کردیں گے، وہ آپ ؑ کے ہاتھ پر آجائے گا خشک ٹہنی زمین میں گاڑھیں گے وہ سرسبز درخت ہو جائے گی، یہ دیکھ کر حسنی کہے گا کہ یابن العم یہ امامت و خلافت آپ کے لئے ہے “۔ (البرھان المتقی ج۶۷ باب۱ حدیث ۵۱)سابقہ بیانات کا خلاصہ اور نتیجہ سابقہ ابحاث سے یہ نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔۱۔ ایک عالمی مصلح کا خروج حتمی اور یقینی ہے اور یہ بات فقط آسمانی ادیان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ غیر دینی، فکری اور فلسفی مکاتب میں بھی یہ نظریہ موجود ہے۔۲۔ یہودیوں اورمسیحی عہدوں کی کتب میں اس مصلح کی فقط بشارت ہی نہیں بلکہ بیان آیا ہے کہ وہ مصلح مہدی(علیہ السلام) ہوں گے اور اسکا تعلق آخری پیغمبر کی اولاد سے ہے اور وہ جناب فاطمہ علیہ السلام بنت رسول اللہ کی نسل سے ہوں گے۔۳۔ اسلامی مذاہب کے علماءنے اپنے مسلکی اختلافات کے باوجود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت ہوچکی ہے اور وہ ۰۶۲ھ سے لے کر آج تک اس قسم کے اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔ ۴۔مسلمانوں کی بنیادی کتب میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے جو روایات موجود ہیں اس سب سے یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ حضرت رسول اکرم سے تواتر کےساتھ حضرت امام مہدی(علیہ السلام) کا نظریہ ثابت ہے، اس میں ذرا برابر شک کی گنجائش نہیں ہے۔اہل سنت کی کتابوں میں اس بات کا تواتر اجمالی طور پر ثات ہے۔(حوالہ ابزاز الوھم المکنون ص۷۳۴)اور کثیر تعداد میں محدثین نے اسے نقل کیا ہے۔استاد محمد علی دخیل نے اپنی کتاب “الامام المہدی (علیہ السلام)”کے ص۹۵۲، ۵۶۳ میں اہل سنت کی تیس کتابوں سے اس تواتر کو نقل کیا ہے ۔۵۔ جن مشہور علماءاہل سنت نے حضرت امام مہدی(علیہ السلام)سے متعلق احادیث کے صحیح ہونے کی تصدیق کی ہے ان میں سے چند مشاہدے درج ذیل ہیں ۔خالترمذی، المتوفی ۷۹۲ھ: سنن الترمذی ج۴خ حافظ ابوجعفر العقیلی، المتوفی ۲۲۳ھ: الضعفاءالکبیر ج۳خ الحاکم نیشاپوری، المتوفی ۵۔۴: مستدرک الحاکم ج۴خ الامام البیہقی، المتوفی ۸۵۴ھ: الاعتقاد والہدایة الی سبیل الرشاد ص۷۲۱خ الامام البضوی، المتوفی ۰۱۵: مصابیح السنة ص۲۹۴،۳۹۴خ ابن الاثیر، المتوفی ۶۰۶ھ : النہایة فی غریب الحدیث والاثر ج۵خ القرطبی المالکی، المتوفی ۱۷۶ھ: التذکرة باب ماجاءفی المہدی خ ابن تیمیہ، المتوفی ۸۲۷ھ: منہاج السنہ ج۴ص۱۱۲خ الحافظ الذہبی، المتوفی ۸۴۷: تلخیص المستدرک ج۴خ الکنجی الشافعی، المتوفی ۸۵۶ھ: البیان فی اخبار صاحب الزمان ص۰۵خ الحافظ ابن القیم، المتوفی ۱۵۷ھ: المنار المنیف، متعدد صفحات پر۶۔ علماءاہل سنت کی ایک بڑی جماعت نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے واردہ احادیث کے متواتر ہونے کو بیان کیاہے، ان علماءمیں سے چند کے نام حسب ذیل ہیں ۔خ البربہاری، المتوفی ۹۲۳ھ: الاحتجاج بالاثر علی من انکر المہدی ؑ خ محمد بن الحسن الابری الشافعی، المتوفی ۳۶۳ھ: اسے القرطبی مالکی نے نقل کیاہے: التذکرة ج۱: المزنی فی تہذیب الکمال ج۵۲۔خ الحافظ المتفق جمال الدین المزنی، المتوفی ۲۴۷ھ: المزنی فی تہذیت الکمال،خ ابن القیم، المتوفی ۱۵۷ھ: التذکرہ ج۱خ ابن الحجر العسقلانی، المتوفی ۲۵۷ھ: المنار اطنیف ۵۳۱مزید برآں جو بات حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے احادیث کے تواتر کو تقویت دیتی ہے وہ احادیثیںجو آپ کے نسب کابیان، آپ علیہ السلام کانام، آپ علیہ السلام کے القاب، آپ علیہ السلام کے شمائل، آپ علیہ السلام کے اوصاف، آپ علیہ السلام کے ماں وباپ کا نام ہے۔۷۔جو احادیث مطلق اور عام طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ذکر کرتی ہیں، انہیں دیگر احادیث کو سامنے رکھ کر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بعینہ شخصیت کا تعارف آسانی سے ہوسکتا ہے جیسےالف: مہدی(علیہ السلام) اولاد عبدالمطلب (علیہ السلام)سے ب: مہدی(علیہ السلام) ابو طالب(علیہ السلام)بن عبدالمطلب(علیہ السلام)کی اولاد سے ج: مہدی(علیہ السلام) اہل بیت(علیہم السلام) سے د: مہدی (علیہ السلام) رسول اللہ کی اولاد سےھ: مہدی(علیہ السلام) فاطمة الزہرائ(سلام اللہ علیہا) بنت رسول اللہ کی اولاد سےد: مہدی(علیہ السلام) حسین (علیہ السلام) بن فاطمہ(سلام اللہ علیہا) کی اولاد سےز: مہدی(علیہ السلام) امام جعفر صادق علیہ السلام بن محمد بن علی بن الحسین علیہ السلام بن فاطمہ علیہ السلام کی اولاد سے ح: مہدی(علیہ السلام)امام علی رضاعلیہ السلامبن موسیٰ علیہ السلام بن جعفرصادق(علیہ السلام) کی اولاد سے۸۔یہ بات بھی ثابت ہے کہ مہدی(علیہ السلام)اللہ کے خلیفہ ہیں، خاتم الائمہ علیہ السلام ہیں، حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) آپ علیہ السلام کے پیچھے نمازپڑھیں گے۔یہ سب احادیث امام مہدی(علیہ السلام) کو معین و مشخص کررہی ہیں،یہ مہدی علیہ السلام موعود امام خلائق ہوں گے، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، رسول اللہ کے بارہویں جانشین ہوں گے، امام معصوم علیہ السلام ہوں گے اور محمد بن الحسن العسکری علیہ السلام بن علی الہادی علیہ السلام بن محمد النقی علیہ السلام بن علی الرضا علیہ السلام بن موسیٰ الکاظم علیہ السلام بن جعفر الصادق علیہ السلام بن محمد الباقرعلیہ السلام بن علی زین العابدین علیہ السلام بن حسین علیہ السلام بن فاطمہ علیہ السلام ( بنت رسول اللہ بن عبداللہ علیہ السلام بن عبدالمطلب علیہ السلام، حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام بن عبدالمطلب علیہ السلام) ہیں۔۹۔ یہ بھی واضح ہوگیا کہ امام مہدی(علیہ السلام) پندرہ شعبان ۵۵۲ھ ق سامرا میں پیدا ہوئے اور اسی میں زندہ ہیں، اسی زمین پر موجود ہیں، ان کی انتظار کی جاری ہے، ان کے ذریعہ اللہ اپنی زمین پر اپنے نظام کا مکمل نفاذ کرے گا۔۰۱۔ احادیث میں حضرت امام مہدی(علیہ السلام)کی بدنی خصوصیات تک کو بیان کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی شخصی کسی پر مشتبہ نہ ہواور مفاد پرست ٹولہ اپنی شخصی اور ذاتی اغراض کے تحت اس عنوان سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔اختتام خداوند سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بقیہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سے محبت کرنے اور انکی نصرت کےلئے تیاری کرنے کی توفیق دے اور ہماری زندگی اتنی بڑھا دے کہ ہم ان خوشحال دنوں کا دیدار کر سکیں، جن میں حضرت ولی عصرعلیہ السلام پرچم اسلام کو پوری دنیا پر لہرائیں گے، دنیا کو آسودہ حال بنا دیں گے، ظلم ختم ہوگا، عدالت کی صبح نورپر طلوع ہوگی، انسان، انسانیت کی شاہراہ پر قدم رکھے گا۔اللہ تعالیٰ میری اس ادنیٰ سی کوشش کو اپنے حضور درجہ قبولیت دے اور اس کا ثواب میرے ماں باپ، اجداد کی روح کو پہنچائے، میری اولاد کو بھی حضرت ولی العصرعلیہ السلام کے ناصران سے بنائے ۔