شفاعت امید کا موجب ہے نہ مغرور ہونے کا سبب

305

قلب ِسیاہ پر وعظ و نصیحت کا اثر نہیں ہوتا

یعنی ان کے دل میں گناہوں سے زنگ آلود ہو کر تاریکی چھا گئی ہے۔ حقیقی آنکھ سے محروم ہو کر نہ حق کا چہرہ دیکھ سکتا ہے نہ حق کی پہچان باقی رہتی ہے، نہ نصیحت قبول کرنے اور خیرو خوبی کا راستہ نظر آتا ہے۔ اسی لیے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کا ارشاد ِ گرامی ہے:

"کوئی شخص کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے مگر اس کو عملا ً بنا نہیں لاتا۔ کبھی بندہ گناہ کا کام کرتا ہے اور خدا اُسے دیکھتا ہے اور فرماتا ہے میری عزّت کی قسم اس کے بعد میں تجھے ہر گز نہیں بخشوں گا"۔

بعبارت ِ دیگر وہ اس گناہ کی وجہ سے حق تعالیٰ کے الطاف کے استحقاق اور قابلیت سے کلیّتہ ً محروم رہتا ہے اور نہ اُسے توبہ کرنے کی توفیق ہو تی ہے جس کے نتیجہ میں اُس کا گناہ بخشا نہیں جاتا۔

علّامہ مجلسی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے تمام گناہوں سے ڈرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ ہر گناہ سے یہی گُمان ہوتا ہے کہ شاید یہ درگزر کرنے کے قابل نہ ہو۔

گذ شتہ گناہوں سے ڈرنا

اہلِ ایمان کو اپنے گذشتہ گناہوں سے ڈرتے اور روتے رہنا چاہیئے کیونکہ ہمیں اطمینان و یقین نہیں کہ کونسا گناہ ہماری شامت کا سبب بنے گا۔ چونکہ امام (علیہ السلام) نے ہمیں نشاندہی نہیں فرمائی کہ پروردگار ِ عالم کی نظروں سے گرانے والا وہ کانسا گناہ ہے جس سے ہم مغفرت ِ الٰہی اور اس کے درگذر سے محروم ہو جائیں۔ البتہ اس قسم کے گناہ کی نشاندہی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس گناہ کے سر زد ہو نے کے بعد توبہ نہیں کی اور پشیمان نہیں ہوئے وہی گناہ ہمیں عفو و مغفرت ِ پروردگار سے محروم کرتا ہے۔ اس لیے بارگاہ ِ خداوندی میں تضّرع و زاری کرتے ہوئے توبہ کے دروازے سے داخل ہو جائیں۔ اُن گناہوں سے جو ہمیں یاد ہیں خصوصا ً اور ایسے گناہوں سے جو بھول گئے ہیں عموماً توبہ کر کے ان کی تلافی کریں۔ اور توبہ کرنے کا طریقہ اس کے بعد ذکر کیا جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

شفاعت امید کا موجب ہے نہ مغرور ہونے کا سبب

گذشتہ بیان سے معلوم ہو ا کہ موضوع ِ شفاعت غرور اور نافرمانی کی جرأت کا سبب نہیں بننا چاہیئے بلکہ گناہ گار کے لیے شفاعت مایوسی کے عالم میں اُمید کو تقویّت دیتی ہے اور بندے کو توبہ و انابہ کی طرف شوق اور رغبت پیدا کراتی ہے تاکہ وہ بلند مراتب پر فائز ہو جائے اور ربُّ العالمین کے قرب و جوار کے اعلیٰ مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو جائے۔

پھر بھی خوف و ہراس ہونا چا ہیئے

ایک طرف شفاعت کی امید اور دوسری طرف لا پروائی نہیں ہونا چاہیئے ۔ شفاعت کی امید کے ساتھ دل میں خوف ِ خدا بھی ضروری ہے۔ چونکہ خوف شفاعت کے منافی نہیں یعنی جو شخص پروردگار ِ عالم کے لطف و کرم اور شفاعت کا امیدوار ہے تو ممکن ہے عین اسی حالت میں اُسے خوف و ہراس محسوس ہو جائے ورنہ خدا نہ کرے اپنے آقاؤں کی شفاعت اُسے بہت طویل زمانہ گزر جانے کے بعد حاصل ہو۔ بعبارت ِ دیگر وہ لمبی مدت تک عالم ِ برزخ کے عذاب میں گرفتار رہنے کے بعد اُسے شفاعت نصیب ہو اور اس دوران جو خوف و ترس اُسے حاصل ہو رہا ہے وہی اہل ِ بیت ِ اطہار (علیہم السلام) کی شفاعت حاصل کرنے اور سختی سے اُن کا دامن پکڑنے کا موجب ہو جائے۔

شیعیان ِ اہل ِ بیت علیہم السّلام

شیعوں کے مقام اور اہل ِ بیت (علیہم السلام) کے دوستداروں کی نجات کے بارے میں جو روایتیں ہم تک پہنچی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کو جہنم کی آگ نہیں جلا سکتی۔ پس ایسی روایات ہماری امید کو تقویت بخشنے والی ہیں اور ہمارے آقاؤں کی محبت ہمارے لیے باعث ِ اطمینان ضرور ہے لیکن یہ امید و اطمینان نہ بنادیں نیز معصیّت پر دلیری کا باعث نہ بنیں۔

شیعہ اور محبّ

اس موضوع سے متعلق روایات دو عنوانات پر مشتمل ہیں ۔ پہلی شیعہ اور دوسری محب ِ اہل ِ بیت (علیہم السلام) ۔ تاہم اُن شیعوں کا مقام و مرتبہ بلند ہے کیونکہ انہوں نے علم وعمل کے میدان میں سبقت حاصل کی ہے اور پھر بھی وہ اپنے آپ کو شیعہٴ اہل ِ بیت صلوات اللہ علیہم اجمعین کہنے کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ مثلاً جناب محمد بن مسلم ثقفی ، جو حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادق + کے جلیل القدر اصحاب میں شمار ہوتے تھے ، ان کے متعلق ان دونوں بزرگوں نے شیعوں کو حکم دیا تھا کہ دینی مسائل میں ان کی طرف رجوع کریں۔ اس کے علاوہ علم ِ رجال کی کتب میں لکھا ہو اہے کہ اپنے زمانے میں محمد بن مسلم سے بڑھ کر کوئی فقیہ موجود نہ تھا۔

محمد بن مسلم کی قاضی شریک سے گفتگو

ایک مرتبہ یہ بزرگوار ابو کریبةُالاٰزدی کے ساتھ قاضی شریک کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ شریک نے غصّے سے ان کی طرف دیکھا اور کہا : "یہ دونوں جعفری اور فاطمی ہیں"۔ یعنی اہل ِ بیت اطہار (علیہم السلام) کے شیعہ ہیں۔ یہ سنتے ہی دونوں زاروقطار رونے لگے۔ قاضی نے اُن سے گریہ کا سبب دریافت کیا تو بولے کہ آپ نے ہمیں ایک عظیم شخصیّت (حضرت جعفر بن محمد الصادق ) کی طرف نسبت دی ہے۔ ہم جیسے کم زہد و تقویٰ اور اتنی عظیم نسبت !( چہ نسبت خاک را با عالم پاک)۔ آپ ازراہِ کرم ہماری اس درخواست کی پذیرائی فرمائیں تو ہم آپ کے رہین ِ منّت ہوں گے۔

امام کی پیروی کرنے والے حقیقی شیعہ ہیں

ہاں ہم شیعہ حقیقی کا خطاب اس شخص کو دے سکتے ہیں کہ تمام کردار و گفتار میں اُن کا پیروکار ہو۔ چنانچہ باب الحوائج حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں:

اِنَّمَا شِیْعَتُنَا مَنْ شَیّعَنَا وَاتَبَعَ آثارَنا وَ اقْتَدَیٰ بِاَعْمَالِنَا (بحارالانوار)

"اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ ہمارا شیعہ صرف وہ ہے کہ (تمام حالات میں) ہماری پیروی کرے، ہمارے نقشِ قدم پر چلے اور ہمارے اعمال کی اقتداء کرے"۔

کچھ شیعوں کے ساتھ حضرت علی (علیہ السلام) کی گفتگو

ایک رات حضرت امیر المٴومنین (علیہ السلام) مسجد سے باہر جا رہے تھے ۔ چاندنی کی وجہ سے فضا روشن تھی۔ پلٹ کر دیکھا تو ایک گروہ آپ کے پیچھے آ رہا تھا۔ آ پ نے فرمایا : تم لوگ کون ہو؟، عرض کیا : ہم آپ کے شیعہ ہیں ۔ آنحضرت نے ان کے چہروں کو غور سے دیکھا اور ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تمہارے چہروں پر شیعہ ہونے کی کوئی نشانی نہیں پائی جاتی؟ عرض کی: مولا! شیعوں کی علامت کیا ہے؟ فرمایا:

صَفَرَالْوُجُوْہُ مِنَ الْسَّھَرِ، عَمَشَ الْعُیُوْنُ مِنَ الْبُکَاءِ، حَدَبُ الظُّھُوْرُ مِنَ الْقِیَامِ، خَمَصُ البُطُوْنُ مِنَ الصِّیَامِ ذَبَلَ الشِّفَاةُ مِن الدُّعَاءِ، عَلَیْھِمْ غَبَرَةُ الْخَاشِعِیْنَ۔

(بحارالانوار۔ نقل ازامالی شیخ طوسی وارشاد شیخ مفید علیہا الرحمة)

"عبادت خدا میں زیادہ شب بیداری سے اُن کے چہرے زرد ہوتے ہیں، خوف ِ خدا سے زیادہ رونے کے سبب ان کی آنکھوں سے پانی گرتا ہے، عبادت میں زیادہ مشغول رہنے کے باعث ان کی کمر جھکی ہوئی ہوتی ہے، روزہ زیادہ رکھنے کی بناء پر ان کا پیٹ پیٹھ سے ملا ہوا ہوتا ہے، کثرت ِ دعا سے ان کے ہونٹ خشک ہوتے ہیں اور ان پر خوف ِ الٰہی چھایا ہوتا ہے"۔ قارئین ِ کرام کی مزید اطلاع کے لیے یہاں تین روایتوں پر اکتفا کر رہا ہوں۔

شیعہ ہونے کے لیے دعویٰ کافی نہیں

عَنْ جَابِرٍ عن اَبِی جَعْفَرٍ عَلَیْہِ السَّلاَمُ اَیَکْتَفِیْ مَنْ یَنْتَحِلُ التَشَیُّعَ اَن یَقُوْلَ بِحُبِنَا اَھْلَ الْبَیْتِ۔ فَوَاللّٰہِ مَامِنْ شِیْعَتِنَا اِلاَّ مَنْ اِتَّقِ اللّٰہَ وَاطَاعَہ۔

"جابر حضرت امام محمّد باقر (علیہ السلام) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کیا کسی کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے کو شیعیت کی طرف نسبت دے اور کہے کہ میں اہلِ بیت (علیہم السلام) کا دوستدار ہوں؟ خدا کی قسم ہمارا شیعہ اس شخص کے سوا اور کوئی نہیں جو خدا سے ڈرتا ہے اور ان کے احکام کی اطاعت کرتا ہے"۔

عَنْ مُفْضِّلْ بِن عَمَر قَالَ قَالَ اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ عَلَیْہِ السَّلاَمُ اِذَا اَرَدْتَ اَنْ تَعْرِفَ اَصْحَابِی فَانظُرْ اِلٰی مَنْ اِشْتَدَّ وَرَعَہ وَخافَ خالِقَہ وَرَجَا ثَوَابَہُ وَاِذَا رَاَیْتَ ھٰوٴُلآءِ فَھٰوٴُلآءِ اَصْحَابِیْ (کافی)

"حضرت امام صادق (علیہ السلام) نے مفضل بن عمر سے فرمایا : اگر تم ہمارے اصحاب کو پہچاننا چاہتے ہو تو اس شخص کو دیکھو جو سختی کے ساتھ گناہوں سے پرہیز کرتا ہے اور اپنے خالق سے زیادہ ڈرتا ہے اور وہ اس کے ثواب کا امیدوار ہوتا ہے ۔ جب تم کہیں بھی ایسے افراد کو دیکھنا تو سمجھ لینا کہ یہی لوگ میرے اصحاب ہیں"۔

دَخَلَ عِیْسیٰ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ القُمّی اِلٰی ابی عَبْدِاللّٰہ (ع) فَقَالَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ لَیْسَ مِنَّا وَلاَکَرَامَةَ مَنْ کَانَ فِیْ مِصْرٍ فِیْہِ مِأَ اَلفٍ اَوْیَزِیْدُوْنَ وَکَانَ فِیْ ذٰالِکَ الْمِصْرِ اَحَدُاَوْرَعُ مِنْہ (کافی)

"عیسیٰ بن عبداللہ قمّی حضرت ابی عبداللہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں اور نہ ہمارے نزدیک اس کی عزت ہے کہ کسی شہر میں ایک لاکھ نفر آباد ہوں اور وہاں ایک آدمی (غیر شیعہ ) بھی اس سے زیادہ پرہیزگار موجود ہو۔ یعنی شیعہ ٴ اہل ِ بیت کو ایمان ، عمل اور تقویٰ میں سب سے بہتر ہونا چاہیئے کہ اس کا مقابل کوئی دوسرا نہ ہو"۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام ِ پاک میں اُسے ’خیرالبریّہ ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُوْلٰئِکَ ھُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ (سورہ ۹۸ آیت۷)

"بے شک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے، یہی لوگ بہترین ِ خلائق ہیں"۔

اور حضرت رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے یہ روایت ہے کہ ’خیرالبریّہ‘ سے مراد شیعیان ِ علی (علیہ السلام) ہیں۔ جیسا کہ فرمایا:

تَاْتِیْ اَنْتَ وَشِیْعَتُکَ یَوْمَ الِْیَامَة، رَاضِیْنَ مَرْضِیْنَ (تفسیر طبری مناقب خوارزمی۔ الصواعق۔ تالیف ابن حجر)

"اے علی! ’خیرالبریّہ‘سے مراد آپ اور آپ کے شیعہ ہیں۔قیامت کے دن جو کچھ اللہ تعالیٰ ان کو مرحمت فرمائے گا اس سے راضی اور خوشی کی حالت میں ہوں گے اور وہ سب پسندیدہ ٴ خدا ہوں گی"۔

ولایت

کوئی شک نہیں کہ جس کو اہل ِ بیت اطہار کی ولایت حاصل ہو گی وہ نجات پانے کا اہل ہو گا۔ بلکہ انبیاءِ کرام اور آئمہ اطہار # کے ساتھ ہوگا۔ چنانچہ امام رضا (علیہ السلام) نے فرمایا:

حَقٌ عَلٰی اللّٰہِ اَنْ یَبْعَثَ وَلِیَّنَا مُشْرِقًا وَجْھُہُ نَیِّراً بُرْھَانُہُ ظَاھِرَةً عِنْدَاللّٰہِ حُجَّتُہُ، حَقٌّ عَلٰی اللّٰہِ تَعَالٰی اَنْ یَّجْعَلَ وَلِیَّنَا مَعَ النبییّنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَاءِ وَالصّٰلِحِیْنَ وَحَسْنَ اُوْلٰئِکَ رَفِیْقًا (بحارالانوار)

"ہمارے دوستدار کو قیامت کے دن ایسی حالت میں محشور کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے کہ اس کا چہرہ خوبصورتی سے چمک رہا ہو۔ اس کی دلیل روشن اور اس کی حجّت اللہ کے نزدیک ظاہر ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے کہ ہمارے دوست ( صاحب ِ ولایت) کو قیامت کے دن انبیاء و شہداء و صدیقین کے ساتھ محشور فرمائیں اور یہ ہستیاں بہترین رفیق ہیں"۔

مگر جاننا چاہیئے کہ ولایت کے معنی کیا ہیں

کتاب مجمع البحرین میں ولایت کے لغوی معنی کے بارے میں لکھا ہے:

اَلْوَلاَیَةُ بِالْفَتْحِ؛ مَجَبَّةُ اَھْلَ الْبَیْت عَلَیْھِمُ السَّلاَ مُ وَاِتّبَاعُھُمْ فِیْ الدِّیْن وَامْتِثَالُ اَوْامِرِ ھِمْ وَانَوَاھِیھِمْ وَالتَّاَسِّیْ بِھِمْ فِی الْاَعْمَالِ وَالْاَخْلاَقِ۔

"ولایت زبر کے ساتھ اہل ِ بیت (علیہم السلام) کی محبت اور دینی امور میں پیروی کرنا اور جن چیزوں کا امر ہے اُن کو کما حقّہ‘ بجا لانا اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے دور رہنا اور اعمال و اخلاق اُ ن کے نقش ِ قدم پر چلنے کا نام ولایت ہے۔ ولایت کی اس تعریف سے واضح ہو کہ ولایت سے مراد فقط محبّت و اطاعت ہے۔ میرے اس بیان کی دلیل حدیث زرارہ ہے جو کہ حضرت امام محمّد باقر (علیہ السلام) سے منقول ہے جس میں امام (علیہ السلام) نے ولایت کو اطاعت سے تعبیر فرمایا ہے"۔

حضرت علی(علیہ السلام) کی ولایت خدا کا مضبوط قلعہ ہے

اس مضمون کا مفہوم ’سلسلةُالذّہب‘ جیسی حدیث شریف سے استفادہ کیا گیا ہے جو صدوق نے امام رضا (علیہ السلام) سے نقل کی ہے۔ اس کی عبارت یوں ہے:

قَالَ اللّٰہُ تَعالٰی وَلاَیَةُ عَلِیّ بِن اَبیْطَالِبٍ حِصْنِیٍ فَمَنْ دَخَلَ فِی حِصْنِیْ اَمِنَ مِنْ عَذَابِیْ۔

"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : علی بن ابی طالب کی ولایت میرا قلعہ ہے ۔ پس جو کوئی میرے قلعے میں داخل ہو وہ میرے عذاب سے محفوظ رہا"۔

اس میں شک نہیں کہ اہلِ بیتِ عصمت و طہارت (علیہم السلام) کی ولایت کے قلعے میں داخل ہونے سے مقصود شیطان اور نفس و خواہشات کی پیروی سے دور بھاگنا اور ان کے دشمنوں سے دور رہنا ہے۔ اور ان بزرگواروں کی پناہ میں داخل ہونا ہے۔ مختصر یہ کہ تمام افعال و اقوال میں ان عظیم ہستیوں کا پیروکار ہونا چاہیئے۔ جاننا چاہیئے کہ لفظ تَحصُّن (مستحکم قلعہ میں پناہ لینا) صرف لفظ سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ فعل و عمل کے ذریعہ ان بزرگواروں کی پناہ میں آنا چاہیئے ۔ چونکہ ہر شخص جس کی پیروی کرتا ہے یقینا وہ اس کے (حصن) قلعے میں پناہ لیتا ہے۔ پس جو کوئی معصیّت میں مبتلا ہوتا ہے وہ عصیان کاری کی حالت میں حصن علی (علیہ السلام) سے خارج ہوتا ہے اور نفس ِ امّارہ اور شیطان کے دام میں پھنس جاتا ہے۔

درندہ شیر سے قلعے میں پناہ لینا

بزرگانِ دین کا قول ہے کہ جو کوئی زبان سے اَعُوْذُبِاللہِ مِنَ ا لشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ (یعنی پناہ لیتا ہوں میں اللہ کی شیطان مردود سے) کہتا ہے لیکن عملی طور پر شیطان کی پیروی کرتا ہے، اس شخص کی مانند ہے کہ جس کے شکار کو شیر درندہ کمین گاہ میں بیٹھا ہو ہو اور اس کے سامنے ایک قلعہ موجود ہو اور وہ شیر سے کہتا ہو : اگر تو نے حملہ کیا تو میں اس قلعے میں پناہ لے لوں گا۔ باوجود خطرے کے وہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا اور قلعہ میں داخل نہیں ہوتا۔ آخر کار شیر اُسے موت کے گھاٹ اتار دے گا۔ ورنہ وہ کوشش کر کے جلد تر قلعے کے اندر داخل ہو جائے تب ہی نجات پائے گا۔

قلعے میں داخل ہونا چا ہیئے

پس جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ تمام خطروں سے محفوظ رہے اُسے چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کے مضبوط قلعے میں ،جو کہ حضرت امیر المٴومنین (علیہ السلام) کی پیروی ہے ، داخل ہو جائے۔ اگر خدا نخواستہ وہ عملاً شیطان کے دام میں پھنسا ہو ہے اور زبان سے دعویٰ کرے کہ میں محب ِ علی ہوں، اس سے کوئی نتیجہ مرتب نہیں ہو سکتا۔

کیا کردار کے بغیر زبانی دعویٰ کافی ہے؟

یَاجَابِرُ لاَتَذْھَبَنَّ بِکَ الْمَذَاھِبُ حَسِبَ الرَّجُلُ اَنْ یَقُوْلَ احِبُّ عَلِیْاً وَّاَتَوَلاَّہُ ثُمَّ لاَیَکُوْنُ مَعَ ذٰلِکَ فِعَالاً ۔ فَلَوْ قَالَ اِنِّیْ اُحِبُّ رَسُولَ اللّٰہ (ص) فَرَسُوْلُ اللّٰہِ خَیْرٌ مِنْ عَلِیّ ثُمَّ لاَیَتَّبِعُ سِیْرَتَہُ ولاَیَعْمَل بِسُنَّتہِ نَفَعَہ حُبُّہُ اِیَّاہُ۔

فَاَتَقُوا اللّٰہَ وَاعْمَلُوْا لِمَا عِنْدَاللّٰہِ لَیْسَ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَ اَحَدِ قَرَاَبةٌ اَحَبُّ الْعِبَادِ اِلٰی اللّٰہِ وَاَکْرَمُھُمْ عَلَیْہِ اَتقَیٰھُمْ وَاَعْمَلُھُمْ بِطَاعَتِہِ۔ یَاجَابِرُ وَاللّٰہِ لاَ یَتَقَرَّبُ اِلٰی اللّٰہِ اِلاَّ بِطَاعَتِہ وَمَا مَعَنَابَرَاءَ ةٌ مِنَ النارِ وَلاَ عَلٰی اللّٰہ عَلٰی اَحَدٍ مِنْ حُجَّةٍ مَنْ کَانَ مُطِیْعاً لِلّٰہِ فَھُوَ لَنَا وَلِیُّ وَمَن کانَ للّٰہِ عَاصِیاً فَھُوَ لَنَاعَدُوٌ وَمَا تَنَالُ وَلاَ یَتُنَا اِلاَّ بِالْعَمَلِ وَالْوَرَع۔ (کافی)

"حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے شیعوں کے صفات بیا ن کرنے کے بعد فرمایا: اے جابر! آیا کسی شخص کا اتنا کہنا کافی ہے کہ میں علی (علیہ السلام) کو دوست رکھتا ہوں اور مجھے ان کی ولایت حاصل ہے۔ اس دعوے کے باوجود عملی طور پر اہلبیت (علیہم السلام) کی پیروی نہیں کرتا۔ اگر کسی نے کہا بے شک میں رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو دوست رکھتا ہوں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) علی (علیہ السلام) سے بہتر ہیں اور میں شیعہٴ محمد ہوں۔ (اس دعوے کا جواب یہ ہے کہ خود پیغمبرِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اپنے اہلبیت کی پیروی کے بارے میں تاکید فرمائی ہے)، ’تعجب ہے‘ کہ باوجود دعوائے محبت ِ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) اُن کی سیرتِ طیّبہ کی متابعت نہیں کرتے اور نہ ان کی سنت پر عمل پیرا ہیں ۔ فقط دعوائے محبت سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ پس تم اللہ سے ڈرو تا کہ اس کی رحمت تمہارے شامل ِ حال ہو جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور کسی کے درمیان رشتہ داری نہیں ۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ ترین اور عزیز ترین بندہ وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرتا ہو اور سب سے زیادہ عمل کرتا ہو۔"

عمل ہی سے مقصد حاصل ہوتا ہے

گذشتہ فرمائش سے پیوستہ فرمایا:

یَاجَابِرُ وَاللّٰہِ لاَیَتَقَرَّبُ اِلٰی اللّٰہِ اِلاَّ بِطَاعَتِہِ وَمَا مَعَنَا بَرَاءَ ةٌ مِّنَ النَّارِ وَلاَعَلَی اللّٰہِ عَلٰی اَحَدٍ مِنْ حُجَّتِہِ مَنْ کَانَ مُطِیْعاً لِلّٰہِ فَھُوَ لَنَا وَلِیٌّ وَمِنَ کَانَ للّٰہِ عَاصِیاً فَھُوَ لَنَاعَدُوٌّ۔ وَمَا تَنَالُ وَلاَ یَتُنَا اِلاَّ بِالْعَمَلِ وَالْوَرَعِ (کتاب کافی)

"اے جابر! خدا کی قسم قرب ِ الٰہی بغیر اس کی اطاعت کے کسی طرح نصیب نہیں ہوتا۔ جب ہمارے شیعوں کے پاس اطاعت و عمل نہ ہو تو ان کو بے قصور ٹھہرا کر جہنم سے آزادی کا ہمارے پاس کوئی حکم نامہ نہیں۔ فقط یہ کہنا کہ ’ شیعہ ہوں‘، بارگاہ ِ الٰہی میں قابل ِ سماعت دلیل نہیں۔ (اگر خدا چاہے تو اُسے عذاب میں مبتلا کر سکتا ہے کیونکہ خداوند ِ عالم کی طرف سے یہ وعدہ نہیں کہ ’مدعیٴ تشیع‘ کو بخش دیں گے۔ معیار اطاعت و عمل ہے)۔ پس جو کوئی اللہ کی اطاعت کرنے والا ہو وہی ہمارا ولی (دوستدار) ہے اور جو معصیّت کار ہو وہ ہمارا دشمن ہے۔ اور ہماری ولایت سوائے تقویٰ و عمل کے کسی طرح حاصل نہیں ہو سکتی۔"

تقویٰ کی اقسام کے متعلّق علّامہ مجلسی کی رائے

علّامہ مجلسی رضوان اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تقویٰ کی چار قسمیں ہیں:

(۱) ’ورع تابعین‘، جس سے مراد محرمات سے پرہیز کرنا ہے۔

(۲) ’ورع صالحین‘، یعنی مشتبہ چیزوں سے پرہیز کرنا تاکہ حرام سے آلودہ نہ ہو۔

(۳) ’ورع متقین‘، جس سے مقصد مباح چیزوں کو ترک کرنا ہے تاکہ حرام چیزوں میں مبتلا نہ ہوں۔ مثلاً لوگوں کے حالات نہ پوچھنا اس خوف سے کہ مبادا غیبت کے مرتکب ہو جائیں۔

(۴) ’ورع سالکین‘، یعنی غیر ِ خدا سے منہ پھیر لو ا س ڈر سے کہ قیمتی عمر بیہودہ کاموں میں صرف ہو جائے۔ اگرچہ حرام کے ارتکاب کا اسے اندیشہ بھی نہ ہو۔

محبت

حضرات اہلِ بیتِ اطہار (علیہم السلام) اور برادران ِ اہل ِ تسنّن کی بہت سی روایتوں سے بشارت ملی ہے کہ جس سے ایمان دار لوگوں کی امید کو تقویت ملتی ہے کہ اس محبت کی برکت سے خواہش پرستی اور شیطان کی پیروی سے مکمل دوری حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر کسی نے کسی بزرگ ہستی سے دوستی کی تو اس دوستی کا لازمہ یہ ہے کہ محبوب کے دوستوں سے دوستی برقرار رکھیں اور دشمنوں سے دشمنی۔ شیطان کی دوستی اور خواہشات ِ نفسانی کی پیروی اللہ تعالیٰ بندگی اور محبت اہل ابرار (علیہم السلام) کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

انشاء اللہ دوستداران علی (علیہ السلام) ان کی محبت کی برکت سے شیطان کی راہ سے دور رہیں گے۔ لہٰذا معلوم ہو کہ محبت بھی ولایت کی طرح معصیت سے برأت کا سبب نہیں بننا چاہیئے بلکہ اس کے برعکس اگر حقیقی اور سچا محب ہے تو پھر خواہشات ِ نفسانی کے گرد نہیں گھومتا۔ اس مطلب کو واضح کرنے کے لیے چند مختصر احادیث کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

محبّت انسان کو ثابت قدم کرتی ہے

قَالَ الْبَاقِرُ (ع) مَاثَبَتَ اللّٰہُ حُبَّ عَلِّیٍ فِی قَلْبِ اَحَدٍ فَزَلَّتْ لَہُ القَدَمُ اِلاَّ ثَبتَّھَا اللّٰہُ وَثَبَّتَ لَہ قَدَمٌ اُخریٰ (بحارالانوار)

" حضر ت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا: خداوند ِ عالم نے حضرت علی (علیہ السلام) کی دوستی کو جس شخص کے دل میں جگہ دی ہے اس کے قدم میں معصیت سے لغزش نہیں آتی بلکہ اللہ اُسے بچا کر اس میں ثابت قدمی پیدا کرتا ہے اور دوسرے اُٹھنے والے قدم کو بھی استحکام بخشا ہے۔"

جناب جابر انصاری کی وصیّت

اِنْ تَزَلَّ لَھُمْ قَدَمٌ بِکَثْرَةِ ذُنُوْبِھِمْ ثَبَتَتْ لَھُمْ اُخْرَیٰ بِمَحَبَّھِمْ

(ج ا سفینة البحار)

حضرت جابر انصارے نے اپنی وصیت میں عطیہٴ کوفی سے کہا " اگر اہلِ بیت صلوات اللہ علیہم اجمعین کے دوستوں کا پہلا قدم گناہوں کی کثرت کے سبب لڑکھڑا گیا تو اِن حضرات کی محبت کی وجہ سے دوسرا قدم جمانے کی سکت اللہ تعالیٰ پیدا کردے گا۔"

حضرت علی کے دوستداروں کے لیے فرشتوں کی استغفار

بہت سی روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ دوستداران اہل بیت (علیہم السلام) کے لیے ملائکہ استغفار کرتے ہیں ۔ چنانچہ بحار الانوار میں اہل ِ سنّت و الجماعت سے یہ روایت نقل کی گئی ہے :

عَنْ اَنَسٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ (ص)قَال خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ نُوْرِ وَجْہِ عَلیِّ بْنِ اَبِیْطَالِب سَبْعِیْنَ اَلفَ مَلَکٍ یَسْتَغْفِرُوْنَ لَہ وَلِمُحِبِّیْہِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ

"خداوندعالم نے حضرت علی (علیہ السلام) کے نور سے ستّر ہزار طرشتے پیدا کئے ہیں۔ یہ ملائک اُن پر اور ان کے دوستوں کے لیے قیامت تک استغفار کرتے رہیں گے۔ "

حضرت علی(علیہ السلام) کی محبت گناہوں کو جلا ڈالتی ہے

اس بارے میں صراحتاً روایت ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کی دوستی گناہوں کو فنا کردیتی ہے ۔ چنانچہ بحار الانوار میں ابن ِ عباس نے یہ روایت حضرت رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے نقل کی ہے:

حُبُّ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالَبٍ یَأْکُلُ الذُّنُوْبَ کَمَا تَاْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ۔

"یعنی حضرت علی (علیہ السلام) کی محبت گناہوں کو اس طرح جلا دیتی ہے جس طرح آگ لکڑی کو جلاتی ہے۔

رذل سواد معاصی بروں برد مہرش

چنانکہ ماہ برد ظلمت ِشب ِ دیجور

زحبّ او ست بروز جزانہ از طاعت

امید ِ مغفرت از حیّ ِ لا یزال ِ غفور

(رباعی)

یعنی حضرت علی (علیہ السلام) کی محبت دل کی سیاہی کو اس طرح مٹا دیتی ہے جیسے چاند تاریک رات کے اندھیرے کو۔ قیامت کے دن مغفرت ان کی محبت کے صلے میں ملے گی نہ کہ اطاعت و عبادت کے عوض۔ مگر اس محبت کے ساتھ ہمیشہ رہنے والے غفور ِ رحیم کی امید بھی دل میں ہونی چاہیئے۔ (یعنی محبت سے سر شار ہو کر اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے)۔

پریشا نیاں اور بلا ئیں گنا ہوں کو زائل کر د یتی ہیں

اس بارے میں روایت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ِ بیت (علیہم السلام) کے گناہ گار دوستوں کو دنیا میں گو نا گوں بلاؤں میں مبتلا کرتا ہے تا کہ مرنے سے پہلے گناہوں سے پاک ہو جائیں ۔ اگر گناہ زیادہ ہیں تو جان کنی کی سختی سے؛ اگر اس سے بھی زیادہ ہیں تو برزخ سے لے کر محشر تک کے عذاب سے پاک کردیتا ہے۔ بالفرض وہ اس قدر گناہ گار ہے کہ میدانِ حشر تک کثرت سے گناہ باقی ہوں اور معاف نہیں ہوئے ہوں تو جہنم کی آگ سے معذّب ہو گا اور گناہوں سے پاک و صاف ہو کے بعد نکالا جا ئے گا۔ اور وہ شخص جس کے دل میں محبت ِ اہل ِ بیت (علیہم السلام) اور ایمان کا ذرہ موجود ہے وہ جہنم میں نہیں رہے گا۔ چونکہ ہمیشہ کا عذاب کفّار اور دشمنان ِ اہل ِ بیت ِ رسول صلوات اللہ علیہم اجمعین کے لیے مخصوص ہے۔

محبّت کے انداز سے فیض حاصل کر سکتا ہے

ضمناً اس نکتے کی ہاد دہانی بھی کی جاتی ہے کہ عذاب ِ الٰہی میں کم یا زیادہ مدّت گرفتار رہنے کا دارومدار محبت ِ اہل ِ بیت (علیہم السلام) کی شدّت اور ضعف کی بناء پر ہے۔ محبت زیادہ ہو تو شفاعت بھی جلد ہو گی بلکہ سکرات موت کے وقت اس کی فریاد کو پہنچتے ہیں۔ چنانچہ جناب سیّد حمیری نے سوانح عمری میں لکھا ہے کہ سیّد اسماعیل حمیری شاعر ِ اہل ِ بیت (علیہم السلام) تھے۔ ۱۷۳ ھء میں وفات پائی۔حضرت علی (علیہ السلام) کی ہر ایک فضیلت کے بارے میں ایک قصیدہ انشاء فرمایا ہے ان کو کسی مجلس میں اس وقت تک سکون و قرار نہیں ملتا تھا جب تک کہ وہ اپنے قصائد میں سے کوئی قصیدہ پڑھ کر نہ سنا دیں۔ اِن بزرگوار کی رحلت کے وقت بڑی کرامت ظاہر ہوئی ۔ چنانچہ شیعہ و سنی کتب مثلاً الغدیر، جلد سوم ، کتاب الأغانی ، مناقب ِ سروری، کشف الغمہ، امالی شیخ صدوق، بشارة المصطفیٰ، اور رجال کشی میں یہ حکایت نقل کی گئی ہے۔ اس کا خلاصہ یوں ہے:

سیّد صاحب کی وفات کے وقت شیعہ مذہب کے مخالفین کی ایک جماعت موجود ہو گئی ۔ سیّد صاحب خوبصورت آدمی تھے اور سرخ و سفید چہرہ رکھتے تھے۔ بار بار اور کثرت سے افسوس کا اظہار کر رہے تھے ۔ اسی اثناء میں ان کے چہرے پر روشنائی کی طرح ایک سیاہ نقطہ ظاہر ہو اور دیکھتے ہی دیکھتے تیزی سے پھیلنے لگا۔ یہاں تک کہ سارا چہرہ تارکول کی طرح سیاہ ہو گیا۔ مخالفین خوش ہو نے لگے اور ملامت چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ سیّد پر خاموشی اور بے ہوشی طاری تھی۔ ایک مرتبہ ہوش آیا تو آنکھیں کھولیں اور نجف اشرف کی سمت رخ کر کے فریا د کی : یا امیر المٴومنین ، اے بے چاروں کے مرکز ِ امید، کیا آپ اپنے دوستوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں ؟ کہتے ہیں کہ تین بار اس جملے کی تکرار کی ۔ اتنے میں خدا کی قسم ایک نور اُن کی پیشانی پر ظاہر ہو جو آہستہ آہستہ پھیلتا گیا۔ یہاں تک کہ چہرہٴ مبارک چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگا۔ سیّد نے ہنستے ہوئے خوشی میں فی البریہہ یہ شعر کہے:

کَذِبَ الزَا عِمُوْنَ اَنَّ عَلَیّاً

لَنْ یُّنْجِی مُحِبُّہُ مِنْ ھَتَاتِ

جھوٹ کہا ہے ایسا گمان کرنے والوں نے کہ علی (علیہ السلام) اپنے دوست کو سختی سے نجات نہیں دے سکتے۔

قَدْوَرَبِّیْ دَخَلْتُ جَنَّةَ عَدْنٍ

وَعَفَالِیَ الْاِلٰہُ عَنْ سَیِّئاتی

میرے پروردگار کی قسم میں بہشت میں داخل ہو ا ہوں اور یقینا اللہ تعالیٰ نے میرے گناہ بخش دیئے ۔

فَاَبْشِرُوا الْیَومَ اَوْلیاءَ عَلیٍ

وَتَولُّوْا عَلِیاً حَتّیٰ الْمَمَاتِ

پس تمہیں بشارت ہو اے دوستدارانِ علی (علیہ السلام) جو مرتے دم تک علی (علیہ السلام) کا دوستدار رہے۔

ثُمَّ مِنْ بَعْدِہِ تَوَلُّوْا بَنِیْہِ

وَاحِداً بَعْدَ وَاحِدٍ بِالصِّفاتِ

اس کے آپ (علیہ السلام) کے گیارہ فرزند۔ یکے بعد دیگرے جو امامت کے جملہ اوصاف رکھتے ہیں ، ان کی محبت کریں۔

ان چار اشعار کے بعد اللہ کی وحدانیت ، پیغمبر ِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رسالت اور امیر المٴومنین (علیہ السلام) کی ولایت کا زبان سے اقرار کیا۔ آنکھیں بند کیں اور دنیا سے سدھار گئے۔

خواہشات محبت کی راہ میں رکاوٹ ہیں

کبھی ایس ابھی ہوتا ہے کہ دنیوی مال و دولت سے زیادہ محبت اور خواہشاتِ نفسانی کے ہیجان سے ہا آلِ محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کی محبت دل میں نہ ہونے ہا اگر ہے تو کمی کی بناء پر لوگ مرتے وقت اہلِ بیتِ اطہار (علیہم السلام) کو بھول جاتے ہیں اور جس چیز کی محبت میں وہ سرشار ہوتے ہیں موت کے وقت صرف وہی نظر آتا ہے۔ اس بارے میں بہت سی روایتیں ہیں۔ ان کا یہاں ذکر کرنا موضوع سے علیحدہ اور طوالت کا باعث ہو گا اس لیے مختصر گذارش پر اکتفا کی جاتی ہے۔

سودا خوش است کہ یکجا کند کسی

اس مصرعے سے جو مطلب اخذ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اہل ِ ایمان اپنے دل میں زیادہ سے زیادہ محبت ِ اہل ِ بیت (علیہم السلام) پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے علاوہ دوسری چیزوں کی محبت کو دل سے نکال دیں اور ہر گناہ سے خصوصاً گناہان ِ کبیرہ سے اجتناب کریں تاکہ انشاء اللہ بُرے انجام سے محفوظ رہیں۔

نعمت کو معصیت میں استعمال نہ کریں

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اپنے بعض دوستوں کے نام یہ خط لکھا:

اِنْ اَرَدْتَّ اَنْ یَخْتِم عَمَلُکَ بِخَیْرٍ حَتّیٰ تَقْبِضَ وَاَنْتَ فِیْ اَفْضَل الْاَعْمَالِ فَعَظِّمِ اللّٰہِ حَقَہ اَنْ تَبْذِلَ نعْمَائِہِ فی مَعَاصِیْہِ وَاَنْ تَنْتَر بِحِلّمِہ مِنْکَ وَاَکْرِمْ کُلَّ مَنْ وَّجَدْ یَذکُرُنَا اَوْیَنْتَحِلُ مَوَدَّتَنَا۔ ثُمَّ لَیْسَ عَلَیْکَ صَادِقاً کانَ اَوْکَاذِباً۔ اِنَّمَا لَکَ نِیَّتُکَ وَعَلَیْہِ کِذْبُہُ (بِحَار الْاَنْوار)

" اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری عمر و عاقبت بہترین اعمال و حالات کے ساتھ انجام پا ئے اور اسی حالت میں روح قبض ہو تو اللہ تعالیٰ کو کما حقّہ‘ بزرگ جانو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی نعمتوں کو اس کی نافرمانیوں میں صرف کرو اور خداوند ِ متعال کی عنایات کا غلط فائدہ اٹھا کر مغرور ہو جاؤ (یعنی نعمت ِ خداوندی کو معصیت کی راہ میں صرف نہ کرو) اور ہر اس شخص کی عزّت کرو جو ہم اہل ِ بیت کو یاد کرتا رہتا ہے یا ہماری دوستی کا اظہار کرتا ہے ا س سے واسطہ نہیں کہ وہ سچ بولتا ہے یا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے، کیونکہ تم کو اپنی نیت کا اچھا صلہ اور اس کو اپنے جھوٹ کا گناہ (سزا) مل جائے گا۔"

گناہ کی تاریکی اور توبہ کا نور

عَنِ الصَّادِق (ع) فی تَفْسِیْرِ قَوْلہ تَعَالٰی ((اللّٰہُ وَلِیُّ الَّذینَ آمَنُوْا یُخْرِجُھُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلٰی النُّوْرِ)) قَالَ علیہ السَّلام یَعْنِیْ مِنْ ظُلُمَاتِ الذُّنُوْبِ اِلٰی نُوْرا التَّوْبَةِ وَالْمَغْفِرَةِ لِوَلاَ یَتِھِمْ کُلُّ اِمَامٍ عَادِلٍ مِنَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ((وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَوْلٰیْھُمُ الطَّاغُوْتُ یُخْرِجُوْنَھُمْ مِنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمَات)) اِنَّمَا عُنِیَ بِھٰذا عَلٰی اَنَّھُمْ کَانُوْا عَلٰی نُوْرِ الْاِسْلَامِ فَلَمَّا اَنْ تَوَلوْا کُلَّ اِمَامٍ جَائِرٍ لیْسَ مِن اللّٰہِ خَرَجُوا بِوَلایَتِھِمْ مِنْ نُوْرِالْاِسْلَامِ اِلٰی ظُلُمَاتِ الْکُفْرِ۔ فَاَوْجَبَ اللّٰہُ لَھُمُ النَّارُ مَعَ الْکُفَّارِ

(تفسیر صافی ص۶۸ نقل از اصول کافی)

"اس قولِ خدا کی تفسیر کے بارے میں کہ ’ خدا ان لوگوں کا سرپرست ہے جو ایمان لا چکے انہیں تاریکیوں سے نکال کررو شنی میں لاتا ہے‘، حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو گناہوں کی تاریکیوں سے توبہ اور مغفرت کے نور کی طرف لے جاتا ہے ۔ کیونکہ ان لوگوں کو ہر ایک امام عادل اور اللہ کی طرف سے منصوب پیشواؤں یعنی بارہ امام (علیہم السلام) کی ولایت حاصل ہے۔

اوراس آیت کے آخری حصے "اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا انکے سرپرست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں میں ڈال دیتے ہیں"۔(سورہٴ بقرہ آیت ۲۵۷)کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کا ارادہ اس آیہ شریفہ سے اس کے سوا اور کچھ نہیں "جو لوگ نوراسلام پر تھے اس کے بعد ہر ایک ظالم اور ناحق پیشواؤں کی پیروی کرتے رہے جو کہ منصوب من اللہ نہیں تھے ۔اس لئے نور اسلام سے کفر کی تاریکیوں کی طرف نکل گئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے کافروں کے ساتھ جہنم کی آگ ان کے لیے واجب قرار دیدی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.