عمل اور دعا الله کی رحمت کی دو کنجيا ں

274

رسول الله (ص) نے جناب ابوذر سے وصيت کرتے ہو ئے فرمایا 🙁 "یااٴباذرمَثَلُ الذي یدعوبغيرعمل کمثل الذي یرمي بغيروتر ” ( ١ "اے ابوذر بغير عمل کے دعا کرنے والا اسی طرح ہے جس طرح ایک انسان بغير کمان کے تير پهينکے "امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے : "ثلاثة ترود عليهم دعوتهم:رجل جلس فی بيتہ وقال:یاربِّ ارزقني، فيُقال لہ:اٴلم ( اجعل لک السبيل الیٰ طلب الرزق ؟۔۔۔”( ٢”تين آدميوں کی دعائيں واپس پلڻادی جاتی ہيں : ان ميں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے گهر ميںبيڻها رہے اور یہ کہے : اے پرور دگارمجهے رزق عطا کر تو اس کو جواب دیا جاتاہے : کيا ميں نے تمہارے لئے طلب رزق کا را ستہ مقررنہيں کيا ؟۔۔۔” اور انسان کےلئے دعا کے بغير عمل پر اکتفا کر لينا بهی صحيح نہيں ہے ۔ رسول اللهصلی الله عليہ وآلہ وسلم سے مروی ہے :”إنّ للهعباداًیعملون فيعطيهم،وآخرین یساٴلونہ صادقين فيعطيهم،ثم یجمعهم فی الجنة۔فيقول الذین عملوا:ربّنا،عملنافاٴعطيتنا،فبمااعطيت هوٴلاء؟ فيقول:هوٴلاء عبادي،اٴعطيتکم اجورکم ولم اٴلتکم من اٴعمالکم شيئاً،وساٴلني هوٴلاء فاٴعطيتهم ( واغنيتهم،وهوفضلي اُوتيہ مَنْ اٴشاء”( ٣”بيشک الله کے کچه ایسے بندے ہ یں جو عمل کرتے ہيں اور خدا انکو عطا کرتا ہے اوردوسرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١) وسا ئل شيعہ ابواب دعا باب ٣٢ حدیث ٣ ۔ )٢)وسائل الشيعہ کتاب الصلاة ابواب الدعا باب ۵٠ ح ٣ ۔ )٣) وسائل الشيعہ جلد ۴ صفحہ ١٠٨۴ حدیث / ٨۶٠٩ ۔ )بندے ہيں جو صدق دل سے سوال کر تے ہيں اور خدا وند عالم ان کو بهی عطا کر تاہے پهرجب ان کوجنت ميں جمع کيا جا ئيگا تو عمل کرنے والے بندے کہيں گے : اے ہمارے پالنے والے ہم نے عمل کيا تو تو نے ہم کو عطا کيا ليکن ان کو کيوں عطا کيا گيا جواب ملے گا یہ ميرے بندے ہيں ميں نے تم کو تمہارا اجر دیا ہے اور تمہارے اعمال ميں سے کچه کم نہيں کيا ہے اور ان لوگوں نے مجه سے سوال کيا ميں نے ان کو دیا اور ان کو بے نياز کردیا اور یہ ميرا فضل ہے ميں جس کو چا ہتا ہوں عطا کرتا ہوں "اگر انسان عمل کرنے سے عاجز ہو تو الله نے اس کی تلافی کےلئے دعا قرار دی تا کہ انسان اپنے نفس پر اعتماد کرے ،جو کچه حول و قوہٴ الٰہی کے ذریعہ عطا کيا گيا ہے اورجو کچه اس نے عمل کے ذریعہ قائم کيا ہے اس کے فریب ميں نہ آئے ۔ معلو م ہو ا کہ عمل اور دعا دو نوں سب سے عظيم دو کنجياں ہيں جن دو نوں کے ذریعہ انسان پر الله کی رحمت کے دروازے کهلتے ہيں ۔ا ب ہم عمل اور اس کے رحمت سے رابطہ کے مابين اور اس کے با لمقا بل دعا اور ا لله کی رحمت کے خزا نوں کے ما بين رابطہ اور عمل سے دعا کے رابطہ کے بارے ميں بحث کریں گے چونکہ یہ روابط ہی اسلام کے ابتدائی اور اصلی مسائل ہيں۔الله تعالیٰ نے اپنے بندوں کو "عمل اور دعا”دونوں چيزیں ایک ساته عطا کی ہيں۔اسکا مطلب یہ ہے کہ اللهتعالیٰ نے اپنے بندوں کو وہی سب کچه عطا کيا”جو ان کے پاس ہے”۔”وہ سب کچه نہيں جو ان کے پاس نہيںہے”اور ان کے پاس ان کی کوششيں اور ان کے اعمال ہيں۔وہ اپنی کوشش سے جو کچه الله کے سامنے پيش کرتے ہيں اور اپنے نفوس اور اموال سے خرچ کرتے ہيں وہ عمل ہے ،اور جو کچه ان کے پاس نہيں ہے وہ ان کا فقر،اور الله کا محتاج ہونا ہے اور الله کے سامنے اپنے فقير اور محتاج ہونے کا اقرار کرنا ہے۔انسانی حيات ميں یہ دونوں الله کی رحمت کو نازل کرنے کی کنجياں ہيں،جسے وہ اپنی کوشش عمل،نفس اور مال کے ذریعہ الله سے حاصل کرتا ہے اور الله کے حضور ميں اپنی حاجت ،فقر اور مجبور ی کو دکهلاتاہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.