دعا ،رحمت کی کنجی ہے
حضرت علی عليہ السلام سے مروی ہے 🙁 <الدعاء مفتاح الرحمة>( ٣ "دعاکليد رحمت ہے”( ٣)بحار جلد ٩٣ صفحہ ٣٠٠ )اور امام امير المومنين علی بن ابی طالب عليہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن عليہ السلام کو وصيت فرمائی:<ثم جعل فی یدک مفاتيح خزاٴئنہ بمااذن فيہ من مساٴلتہ فمتٰی شئت ( استفتحت بالدعاء ابواب خزائنہ>( ١”تمہارے ہاتهوں ميں اپنے خزانوں کی کليد قرار دی پس جب تم چاہو تو اس دعاکے ذریعہ خزانوں کے دروازے کهول سکتے ہو”دعا اور استجابت کے درميان رابطہ کی واضح و روشن تعبير "فمتی شئت استفتحت بالدعاء ابواب خزائنہ”ہے۔پس معلوم ہواکہ جس کليد سے ہم الله کی رحمت کے خزانوں کو کهول سکتے ہيں وہ دعا ہے۔اور ا لله کی رحمت کے خزانے کبهی ختم نہيں ہوتے ليکن ایسا بهی نہيں ہے کہ تمام لوگ الله کی رحمت کے خزانوں کے مالک بن جائيں اور ایسا بهی نہيں ہے کہ تمام لوگ آسانی سے الله کی رحمت کے خزانوں کو حاصل کرسکيں۔امام جعفر صادق عليہ السلام سے خداوند عالم کے قول:( <مَایَفتَْحِ اللهُ لِلنَّا سِ مِن رَحمَْةٍ فَلَامُمسِْکَ لَهَا >( ٢”الله انسا نوں کےلئے جو رحمت کا دروازہ کهول دے اس کا کو ئی روکنے والا ( نہيں ہے "کے بارے ميںروایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا:وہ دعاہے۔( ٣ بيشک دعا وہ کليد ہے جس کے ذریعہ خداوند عالم لوگو ں کےلئے اپنی رحمت کے دروازوں کو کهول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١)بحار الانوار جلد ٩٣ صفحہ ٢٩٩ )٢)سورئہ فا طر آیت / ١۔ )٣)بحار الانوار جلد ٩٣ صفحہ ٢٩٩ ۔ )دیتا ہے اور اس کليد کو خداوند عالم نے اپنے بندوں کے ہاتهوں ميں قرار دیا ہے۔ رسول الله (ص)سے مروی ہے کہ:”من فتح لہ من الدعاء منکم فتحت لہ ابواب ( الاجابة "( ١”تم ميں سے جس شخص کےلئے باب دعا کهل جائے تو اس کے لئے اجابت کے دروازے کهل جاتے ہيں "اللهتبارک وتعالیٰ جو دعا کے ذریعہ بندے کے لئے دروازے کهول دیتا ہے وہ اس کے لئے ابواب اجابت بهی کهول دیتاہے۔حضرت امير المومنين عليہ السلام سے مروی ہے:( "من قرع باب اللّٰہ سبحانہ فتح لہ "( ٢ "جو الله کے دروازے کو کهڻکهڻاتاہے تو الله اس کےلئے دروازہ کهول دیتا ہے” اور امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے:”اکثرمن الدعاء،فانہ مفتاح کل رحمة،ونجاح کل حاجة،ولاینال ماعند اللّٰہ ( الابالدعاء،وليس باب یکثرقرعہ الایوشک انْ یُفتح لصاحبہ "( ٣ "زیادہ دعا کرو اس لئے کہ دعا ہر رحمت کی کنجی ہے۔ہر حاجت کی کاميابی ہے اور الله کے پاس جو کچه ہے اس کو دعا کے علاوہ کسی اور چيز سے حاصل نہيں کيا جاسکتا اور ایسا کوئی دروازہ نہيں جس کو بہت زیادہ کهڻکهڻایا جائے اور وہ کهڻکهڻانے والے کے لئے نہ کهلے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١)کنزالعمال حدیث نمبر/ ٣١۵۶ ۔ )٢)غررالحکم حدیث / ٨٢٩٢ ۔ )٣)بحارالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٢٩۵ ،وسائل الشيعہ جلد ۴صفحہ ١٠٨۶ حدیث/ ٨۶١۶ ۔ )اور حضرت اميرالمومنين عليہ السلام سے مروی ہے:”الدعاء مفاتيح النجاح،ومقاليدالفلاح،وخيرالدعاء ماصدرعن صدر نقي وقلب ( تقي” ( ١”دعا کاميابی کی کليد اوررستگاری کے ہار ہيں اور سب سے اچهی دعاوہ ہوتی ہے جو پاک وصاف اورپرہيزگار دل سے کی جاتی ہے”ر سو ل ١للهصلی الله عليہ وآلہ وسلم سے مر و ی ہے کہ : "الاادلّکم علی سلاح ینجيکم من اعدائکم،ویدرّارزاقکم ؟ قالوا:بلیٰ، قال:تدعون ( ربّکم بالليل والنهار،فانّ سلاح الموٴمن الدعاء "( ٢”آگاہ ہو جاوٴکيا ميں تمہاری اس اسلحہ کی طرف را ہنمائی کروں جو تم کو تمہارے دشمنوں سے محفوظ رکهے اور تمہارا رزق چلتا رہے ؟توانهو ں نے کہا : ہا ں آپ نے فر ما یا :خدا وند عا لم کو رات دن پکارو اس لئے کہ دعا مو من کا اسلحہ ہے”