ایک دو سر ے کے حسد او ر غیر ت کو نہ جگا ئیے

185

میاں یا بیوي کي تحقیر، خاند ان کي نابودي کا آغازظلم، اہانت اور بغیر کسي وجہ کے ترجيحي رویہ اختیار کرنا ہر حال میں غلط و ناپسندیدہ ہے۔ اگر آپ دنیا کے سب سے بہترین مرد ہوں اور آپ اپني تعلیم، معلومات اور دیگر جہات سے مکمل انسان ہوں تو آپ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ایک نچلے طبقے کي کم پڑھي لکھي خاتون کے ساتھ چھوٹا سا بھي ظلم کریں اور اس کي اہانت کریں۔ عورت، عورت ہي ہے تا قیامت۔ آپ کو اس کي چھوٹي سے چھوٹي اہانت کا بھي ہر گز حق حاصل نہیں ہے۔یہ صرف ہم ہي سے مخصوص نہیں، یہ پرفیوم میں نہائے ہوئے سوٹ بوٹ والے یو رپي کبھي دوسرے معاشروں کے باشندوں پر بدترين انداز میں ظلم کرتے ہیں۔ مرد، عورت سے کتنا ہي بلند مقام کیوں نہ رکھتا ہو، اُسے یہ حق نہیں کہ اپني بیو ي پر ظلم و جفا کرے۔بیوي کیلئے بھي یہي حکم ہے۔ کبھي کبھار ایک پڑھي لکھي خاتون ایک عام سے نوکري والے یا مزدور سے شادي کرتي ہے چنانچہ اُسے بھي یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے شوہر کي تحقير کرے۔ اس کا شوہر کیسا بھي ہو بہرحال اپني بیوي کي تکیہ گاہ ہے اور بیوي کو اُسي پر تکیہ اور بھروسہ کرنا چاہیے۔یہ بیوي کي ذمہ داري ہے کہ وہ روحي طور پر اپنے شوہر کي ایسي حفاظت کرے کہ اُس پر تکیہ کرسکے۔ اگر ایسا ہو تو یہ صحیح و سالم گھرانہ ہے۔ اگر آپ نے اس طرح اپنے گھر کو بسایا تو جان ليے کہ آپ نے اپني خوش بختي کے ایک اساسي رکن کي حفاظت کرلي ہے ۔
آئیڈیل کي تلاش میں افراط سے کام لینالڑکے اور لڑکیوں کو چا ہیے کہ زندگي کے آئیڈیل کے پیچھے نہ بھاگیں۔ شا دي میں کوئي بھي آئیڈیل نہیں ہوتا ہے اور نہ ہي انسا ن اپنے آئیڈیل کو ڈھونڈسکتا ہے۔ اُنہیں چا ہیے کہ مل جل کر زندگي کي تعمیر کریں۔خداوند عالم ان کي زندگي کو شیریں کرے گا، انہیں برکت عطا کرے گا اور اُنہیں رضا ئے الٰہي حاصل ہوگي، ان شائ اللہ۔شادي کے ابتد امیں جب میاں بیوي ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو انہیں سامنے سب کچھ اچھا اور خوبصورت ہي نظر آتا ہے،کچھ مدت بعد وہ کہتے ہيں کہ ٹھيک ہے،مناسب ہے،اس کے بعد نقائص،کمي و کوتاہي اور کمزورياں آہستہ آہستہ دونوں ميں نظر آنے لگتي ہيں۔ليکن ان تمام باتوں کو مياں بيوي کے ليے سرد مہري اور دل کي تنگي کا باعث نہيں بننا چاہيے۔ بلکہ انہي کوتاہيوں اور کمزور يوں کے ساتھ ہي زندگي گزارني چاہیے کيونکہ آئيڈيل اور بے عيب مرد اور عورت اس عالم ہستي ميں کہيں بھي نہيں مل سکتے۔
غير شرعي معاشرتوہ مرد جو غير نامحرم خواتين سے سروکار رکھتا ہے تو مختلف سطح پر دوجگہ اس کي جبلي خواہشات کي سيرابي کا امکان موجود ہے۔ ايسا آدمي جو کبھي بھي فطري خواہشات کي سيرابي کيلئے اپني بيوي پر اکتفا نہيں کرے گا۔يہ اس مرد کي مانند نہيں ہے کہ جو کسي بھي نامحرم عورت پر نظريں نہيں اٹھاتا ہے۔ يہ جو کہا جاتا ہے کہ عورت اجتماعات اور محفلوں ميں نامحرم مردوں سے مخلوط نہ ہو،اسي ليے ہے کہ يہ عورت صرف اپنے شوہر کو اپنا دل دے، اور اسي کي عاشق ہو۔اگر اس عورت کي حالت يہ ہو کہ اس کا شوہر اس کيلئے عام سا انسان اور معمولي شوہر ہوجائے تو اس مرد کي عورت کي نگاہوں ميں کوئي وقعت وحيثيت نہيں ہوگي جيسا کہ آجکل ہميں مغربي معاشرے ميں نظر آرہا ہے۔ ايسي عورت کہتي ہے کہ ميرے اپنے شوہر سے بني بني اور نہيں بني تو نہيں بني، ميں طلاق لے لوں گي اور قصے کويہيں تمام کردوں گي۔ تم اپني راہ لو اور ميں اپني راہ! يہ بہت بري صورتحال ہے۔کچھ خواتين ايسي ہيں جو اس بات کي کوشش کررہي ہيں کہ خواتين کي حالت ايسي ہوجائے۔يقين رکھيے يہ بات خود خواتين کيلئے مضر ہے اور انہيں کبھي فائدہ نہيں پہنچاسکے گي کيونکہ يہ سوچ، خاندان کي بنيادوں کو متزلزل کر ديتي ہے۔
گھر کي چار ديواري اور عفت و نا موس ،گھر کے محافظ ہيںمحرم و نامحرم، حجاب، نگاہ کرنے اور نگاہ نہ کرنے کے مسائل اور غير صحيح اور نقصاندہ طريقہ زندگي يہ وہ چيز يں ہيں کہ جن کي اسلام ميں بہت زيادہ تاکيد کي گئي ہے۔بعض(اسلامي)ممالک ميں اور جہاں اسلام نہيں ہے وہاں ان چيزوں کا خيال نہيں رکھا جاتا ہے۔صحيح ہے کہ يہ مسائل مرد و عورت کيلئے ايک خاص قسم کي محدوديت کا باعث بنتے ہيں ليکن شريعت نے ان قوانين کو خانداني نظام زندگي اور ايک گھرانے کي بنيادوں کے استحکام، پائيداري، اسکي حفاظت اور خوشحالي کيلئے وضع کيا ہے۔اگر ان مسائل و قوانين ميں ہر انسان تدبر و تآمل کرے تو وہ حکمت کے بيش بہا گوہروں کو موجود پائے گا۔يہ جو آپ ديکھتے ہيں کہ اسلام ميں محرم و نامحرم کے مسائل اور مرد و عورت کے الگ الگ ہونے پر اتني زيادہ تاکيد کي گئي ہے يہ دقيانوسي اور فرسودہ باتيں نہيں ہيں کہ جو انسان کو پتھر کے زمانے کي طرف ماضي ميں لے جائيں۔ يہ باتيں دراصل انساني اور بشري مفاہيم کا اہم ترين حصہ ہيں۔ ان ميں سب سے اہم ترين عنصر يہ ہے کہ خاندان کي بنياديں مستحکم ہوں۔ مياں بيوي کا آپس ميں احساس وفاداري کرنا اور حسد سے پرہيز کرنا يہ بھي بہت اہم بات ہے۔اسلام کا ديا ہو احجاب،اسلام ميں حرام کردہ نظريں اور اسلام کا ممنوع کيا ہوا ميل جول اور طرزِ معاشرت اسي ليے ہے کہ آپ کا دل اور محبت ايک نکتے پر متمرکز ہوجائے۔ اسلام کے بيان کردہ حجاب، چہرے کو چھپانے اور مرد و عورت کے باہمي مخلوط طرز معاشرت کي نفي جيسي باتوں کو ديکھ کر کوتاہ نظر افراد يہ خيال کرتے ہيں کہ يہ صرف ظاہري سي باتيں ہيں، نہيں! حقيقتاً يہ بہت گہري اور عميق باتيں ہيں۔ يہ باتيں اس ليے ہيں کہ خاندان اپني جگہ قائم رہيں اور مياںبيوي کے دل ايک دوسرے سے جڑے اور گھرانے خوشحال اور مستحکم رہيں۔ ان احکام کي وجہ يہي ہے۔ يہ محرم ہے، وہ نامحرم ہے، فلاںکو نہ ديکھو، فلاں کے ساتھ ميل جول اور نشست وبرخاست نہ رکھو، فلاں سے ہاتھ نہ ملاؤ، فلاں کے سامنے نہ ہنسو، نامحرم کے سامنے زينت و آرائش نہ کرو اور خود کو دوسروں کے سامنے جلوہ نہ دو، اگر آپ اسلام کي بيان کردہ ان تمام باتوں اور فقہ و شريعت کے بيان کردہ ان تمام پروگراموں پر عمل پيرا ہوں تو آپ کا يہ چھوٹا سا گلشن ہرا بھرا رہے گا اور بلائيں اور آفتيں اِسے کوئي نقصان نہيں پہنچا سکيں گي۔مياں بيوي اس بات کا اچھي طرح احساس کر يں کہ وہ ايک دوسرے سے وابستہ ہيں ان کا وجود ايک دوسرے کے بغير نا مکمل ہے اور وہ ايک گھر ميں رہتے ہيں۔ بيوي ہر گز يہ محسوس نہيں کرتي کہ گھر اس کيلئے ايک جھنجھٹ اور اس کے ہاتھ کي زنجير ہے۔ اسي طرح شوہر بھي يہ احساس نہيں کرتا کہ اس کا گھر اور بيوي اس کيلئے باعث زحمت ہیں۔اسلام نے اس قدر جو تا کيد کي ہے کہ نامحرم کيلئے اپني آنکھوں کو بند رکھو، تمہاري آنکھيں کوئي بھي حرام چيز نہ ديکھيں تو يہ صرف اس ليے ہے کہ جب آنکھ کسي کو ديکھے گي تو آپ کي بيوي يا مياں کے پيار کا کچھ حصہ بھي اس کي طرف چلا جائے گا۔ (ديکھنے والا) خوا ہ مرد ہو يا عورت اس ميں کوئي فرق نہيں ہے۔مرد کيلئے ايک اور طرح سے حکم ہے اور عورت کيلئے ايک اور طرح سے فرمان موجود ہے۔ جب پيار کم ہو گا تو محبت بھي کمزور ہو جائے گي اور جب محبت ضعيف ہو گي تو گھر کي بنياديں بھي متزلزل ہو جائيں گي۔ اس وقت جو چيز آپ کيلئے لازمي و ضروري ہو گي وہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گي اور جو آپ کيلئے ضرر و نقصان کا باعث ہوگي وہ آپ تک پہنچ جائے گي۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.