جہيز، زندگي کي آساني يا فخرو مباہات کا ذريعہ؟
بيٹي کي عزت، اخلاق سے بنتي ہے نہ کہ جہيز سےجہيز لڑکي کي عزت کا باعث نہيں بن سکتا بلکہ لڑکي کي عزت اس کے عمل اور اس کي شخصيت سے ہوتي ہے۔ لڑکي کے گھروالے خود کو بہت مشکل و مشقت ميں ڈالتے ہيں، زحمت برداشت کرتے ہيں، اگر اُن کے پاس رقم نہيں ہوتي تو ادھر اُدھر ہاتھ پير مار کر قرض ليتے ہيں اور اگر صاحب ثروت ہوتے ہيں تو فضول خرچي کرتے ہيں اور وہ بھي صرف اس ليے کہ ايک لمبا چوڑا جہيز کہ جس کي ہر ہر چيز سے زرق و برق جھلکتا ہو، اپنے بيٹي کو ديں۔زيادہ مہر اورلمبا چوڑا جہيز کسي بھي لڑکي کو خوش بخت نہيں کرتا اور نہ ہي کوئي گھرانہ اس کے ذريعے آرام و سکون اور زندگي کے ليے لازمي اعتماد کو پاتا ہے۔ يہ تمام چيزيں زندگي کي ضروريات سے زيادہ ہيں اور دردسر، زحمت و مشقت اور مشکلات کے سوا ان کا کوئي فائدہ نہيں۔ مبادا آپ جاکر قرضدار بنيں، جہيز بنائيں اور خود کو بھي مشقت ميں ڈاليں اور اپنے گھروالوں کو بھي! مبادا آپ يہ خيال کريں کہ اگر آپ کي بيٹي کا جہيز آپ کے ہمسائے يا آپ کے عزيز و اقارب سے کم ہوا تو يہ اُس کي بے آبروئي کا باعث بنے گا، نہيں! يہ ہرگز اس کي بے آبروئي کا باعث نہيں بنے گا (يہ آپ کا خيال باطل ہے!)۔
مادي دوڑ اور جہيز کي لعنتٍ اکثر گھرانے اسٹيٹس، حيثيت و آبرو اور ماديت کي دوڑ ميں لگ کر جہيز کو اپنے ليے ايک وبال جان ميں تبديل کرديتے ہيں اور يوں جہيز معاشرے کے ليے ايک لعنت بن جاتا ہے۔ بعد ميں جب خود بھي اس لعنت کو اپنے اوپر سوار کرليتے ہيں تو اب دوسروں کي باري آتي ہے۔ کہ اس اجتماعي بلاوآفت کے برے اثرات کو برداشت کريں۔ آپ نے تو اپني نورِ چشمي کيلئے ( اگر مال و دولت ہے تو آساني اور فضول خرچي سے اور اگر مال و دولت نہيں ہے تو ادھر اُدھر ہاتھ پير مار کر کہيں نہ کہيں سے) لمبا چوڑا جہيز جمع کرليا تو آپ کے بعد آنے والوں اور اس فضول خرچي ديکھنے والوں کي کيا ذمے داري ہے اور وہ کيا کريں گے؟ ماديت، اسٹيٹس اور نام نہاد عزت و آبرو کي يہ دوڑ کہاں ختم ہوگي؟ يہ وہ مشکلات ہيں کہ جن کا حل نکلنا چاہیے اور اسلام يہ چاہتا ہے کہ معاشرے ميں ان چيزوں کا دور دور تک کوئي نام و نشان نہ ہو۔کچھ لوگ ہيں کہ جو کوشش کرتے ہيں کہ جہيز کي جمع آوري کيلئے عزيز و اقارب، ہمسائے اور رفقا کا سہارا ليں، يہ بہت بڑي غلطي ہے۔ آپ کو يہ ديکھنا چاہیے کہ کيا چيز صحيح اور حق ہے لہٰذا اُسي کو انجام ديں۔ اپني ازدواجي زندگي شروع کرنے والوں کيلئے صحيح کيا ہے؟ دو انسانوں پر مشتمل ايک چھوٹے سے گھرانے کو مختصر سے وسائل زندگي کي ضرورت ہوتي ہے کہ وہ سادہ طور پر اپني زندگي شروع کريں۔مختلف قسم کي فضول خرچياں، افراط،غير معقول کام اور لمبے چوڑے جہيز کيلئے (خلال سے ليکر گاڑي تک کي)تمام چيزيں حتماً خريدي جائيں، جو چيز بھي نظر آئے اُسے فوراً خريد ليں کہ ہماري لڑکي کے پاس اس کي اپني سگي يا خالہ زاد بہن يا ہمسائے کي لڑکي يا اس کي کلاس فيلو سے کم سے کم ايک چيز تو زيادہ ہو۔ يہ وہ تمام غلط باتيں ہيں جو خود انسان کيلئے بھي اذيت و آذار کا سبب ہيں اور لوگوں کيلئے بھي دردِسر ہيں۔ يہي وہ چيزيں اور مشکلات ہيں کہ جو لڑکيوں کے اُن کے شوہر کے گھر جانے اور لڑکوں کے اپنے گھر بسانے کي راہ ميں رکاوٹ ہيں۔اگر شادي آسان ہوتي، اگر لوگ شادي ميں اتني شرائط نہ لگاتے، اگر بعض افراد کے مہر کي رقميں بڑي نہ ہوتيں، اگر جاہلانہ روش کے مطابق جہيز کي لمبي لمبي لسٹيں نہ ہوتيں اور ماں باپ صرف اس خيال سے کہ کہيں اُن کي لڑکي کا دل نہ ٹوٹ جائے اس کے جہيز کي جمع آوري ميں خون پسينہ ايک نہيں کرتے تو بہت سے گھرانوں کے ليے يہ مشکلات پيش ہي نہيں آتيں۔ بہت سے گھرانے پہلے ہي سے ہر چھوٹي بڑي اور ضروري اور غير ضروري چيزوں کو لڑکي کے جہيز ميں شامل کرديتے ہيں کہ مبادا ان کي بيٹي، اپني چچا ذاد بہن يا کسي رشتہ دار سے پيچھے نہ رہ جائے، يہ بات درست نہيں ہے۔ يہ کام غلط ہيں، آپ کي زحمت و مشقت کا سبب ہيں اور ايسي زحمت ہيں کہ جس کا خدا کے نزديک نہ تو کوئي اجر و ثواب ہے اور نہ يہ لائق تحسين و شکريہ ہيں۔
دوسروں کي بھي فکر کريںجب بعض لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے ازدواجي زندگي کا آغاز کرنے والے دو ہمسفروں کيلئے جہيز کے نام پر اپني لڑکي کے ليے پورا بازار کيوں جمع کرليا ہے؟ تو وہ جواب ميں کہتے ہيں کہ ہمارے پاس مال و دولت ہے اور چونکہ ہے لہٰذا ہم اُسے خرچ کررہے ہيں! آيا يہ دليل کافي ہے کہ ہمارے پاس ہے؟ نہيں! نہ صرف يہ کہ يہ استدلال کسي بھي صورت ميں کافي نہيں ہے بلکہ غلط بھي ہے۔ايک معاشرے ميں مختلف قسم کے انسان زندگي بسر کرتے ہيں۔ آپ ايسا جہيز ديں کہ جس کے پاس کافي مال و دولت نہيں ہے اگر وہ اپني بيٹي کي شادي کرنا چاہے تو وہ بھي يہ جہيز دے سکے۔ اگر ايسا نہ ہوا اور آپ جو اپني بيٹي کو مفصّل جہيز اور اپني نورِچشمي کو لمبا چوڑا مہر دے رہے ہيں تو آپ کا يہ فعل شادي کے دروازے کو دوسروں پر بند کردے گا۔ نہ يہ انساني روش اور نہ ہي اسلامي۔
کائنات کي سب سے بہترين دُلہن کا جہيزآپ حضرت ختمي مرتبت ۰کي صاحبزادي کو ديکھئے، اس عالم ميں ہستي کي تمام بيٹيوں اور اولين و آخرين کي خواتين ميں سب سے افضل و بہترين حضرت فاطمۃالزہرا سلام اللہ عليہا تھيں۔ اتني خوبيوں، شرافت اور عظمت والي نہ کوئي بيٹي پيدا ہوئي ہے اور اس جيسي نہ ہي کسي عورت نے اس عالم ميں جنم ليا ہے۔ اول سے آخر تک کي تمام خواتين ان کي کنيزوں اور سورج کے مقابلے ميں ذرات کي مانند ہيں۔ اُن کے شوہر اميرالمومنينٴ بھي عالم ہستي کے بہترين مردوں ميں سے ايک ہيں۔ اگر ہم حضرت اميرالمومنينٴ کے تمام کمالات و فضائل جمع کريں تو ہستي کے تمام مرد اُن کے ايک ناخن کے برابر بھي نہيں ہيں۔عظمت و فضيلت و زيبائي کے يہ دونوں مظہر رشتہ ازدواج ميں منسلک ہوتے ہيں۔ ان دو ہمسفروں کا جہيز (مادي لحاظ سے ارزاں قيمت مگر معنويت و برکت کے لحاظ سے بہت قيمتي) چند چيزيں تھيں کہ جسے تاريخ و سيرت کي کتابوں ميں لکھا گيا ہے کہ ايک چٹائي، ليف خرما، ايک بستر، آٹا پيسنے کي ہاتھ کي چکي، ايک کوزہ اور ايک کاسہ ١ (اور چند مختصر چيزيں اگر آج ان چيزوں کي قيمت لگائي جائے تو چند سو روپوں سے زيادہ نہيں ہوگي۔ اس مہر کو حضرت اميرالمومنينٴ سے لے کر ادا کيا گيا اور ايک مختصر سے جہيز کو خريد کرکے حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ عليہا کے گھر لے جايا گيا۔———١ بحار الانوار، جلد ٤٣، باب ٥ صفحہ ٩٤ہم يہ نہيں کہتے کہ ہماري بيٹياں حضرت فاطمۃالزہرا سلام اللہ عليہا جيسا جہيز ليں۔ نہ ہماري بيٹياں حضرت زہراٴ جيسي ہيں اور نہ ہم اُن کے والد بزرگوار جيسے اور نہ ہمارے بيٹے حضرت اميرالمومنينٴ جيسے۔ ہم کہاں اور وہ کہاں؟ زمين و آسمان کا فرق ہے۔ ليکن ان باتوں سے يہ ثابت ہوتا ہے کہ راستہ صرف انہي کا بتايا ہوا راستہ ہے اور سمت بھي انہي کي بتائي ہوئي سمت ہے۔جہيز کو کم بنائیے، اِدھر اُدھر نگاہ نہ کريں اور فضول خرچ سے پرہيز کريں۔ زندگي کو ان لوگوں کے ليے مشکل نہ بنائیے کہ جو زندگي کے امکانات اور وسائل سے محروم ہيں۔حضرت زہرا سلام اللہ عليہا کا جہيز اتنا تھا کہ شايد دو آدمي بھي اپنے ہاتھوں پر اُٹھا کر اُسے ايک گھر سے دوسرے گھر منتقل کرسکتے تھے۔ يہ کام ہے افتخار کے قابل اور اقدار يہاں ملتي ہیں۔ کيا پيغمبرِاکرم۰ اس بات پر قادر نہيں تھے کہ اپني بيٹي کيلئے ايک لمبا چوڑا جہيز بنائيں؟ اگر وہ ايک اشارہ کرتے تو اُن کے اصحاب کے جن ميں بعض صاحبِ ثروت و دولت بھي تھے، وہ خدا سے چاہتے کہ يہ اصحاب آئيں اور ايک ايک تحفہ ديں اور مدد کريں ليکن انہوں نے يہ کام نہيں کيا۔ آخر کيوں؟ اس ليے کہ ميں اور آپ سيکھيں۔اگر ہم صرف بيٹھيں اور اِن فضائل کو بيان کريں، خوش ہوں اور ان چيزوں اور اُن کي سيرت سے درس حاصل نہ کريں تو اُس کا کيا فائدہ ہوگا؟ ہم ان کي سيرت سے کوئي فائدہ حاصل نہيں کررہے ہيں۔ طبيب کے نسخے کوگھر لاکر طاقچے ميںنہيں رکھنا چاہیے کہ انسان روز اس کو ديکھے اور زيارت کرے۔ اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے تاکہ ہميں فائدہ ہو۔ اسي طرح پرہيزي غذا کے جدول کے مطابق عمل کريں تاکہ اس کا حقيقي فائدہ آپ کو حاصل ہو۔اہلِ بيتٴ کي سيرت پر عمل کرنا دراصل روح کي پرہيزي غذا ہے اور اسي سے ہمارے معاشرے اور گھرانوں کي روحاني صحت وابستہ ہے۔ لہٰذا اس پر عمل کرنا اور شادي اور اس سے مربوط مسائل اور تقريبات کو سادگي کے ساتھ منعقد کرنا چاہیے۔
اے دلہنو! تم اس بات کي اجازت نہ دو!اے بيٹيو! اپنے والدين کو اس بات کي اجازت نہ دو کہ وہ تمہارے جہيز کو بڑا بنائيں، اے دلہنوں! تم يہ کام نہ کرنے دو۔ اگر تمہارے والدين چاہيں تو تم ان کو منع کرو کہ آپ يہ اتني گراں قيمت چيزيں کس ليے خريد رہے ہيں؟ دلہنوں کي ماؤں کو بھي چاہیے کہ جہيز تيار کرنے ميں فضول خرچي سے اپنا ہاتھ روکيںاور افراطِ و اسراف سے کام نہ ليں۔ يہ نہ کہيں کہ ارے يہ تو ہماري چہيتي بيٹي ہے، اگر ايسا نہ ہوا تو اس کا دل ٹوٹ جائے گا، نہيں، ايسا نہيں ہے، يہ لڑکياں بہت اچھي ہيں اور يہ ايسا کام نہيں چاہتيں ہيں۔ ہم بغير کسي وجہ کے ان کا دل اس جانب نہ لے جائيں کہ ہر اچھي، قيمتي اور اعليٰ درجے کي چيز حتماً ان کے ليے خريدي جائے۔يہ لڑکياں جو چاہتيں ہيں کہ ان کا جہيز بنے تو اپنے جہيز، برات و وليمے کے لباس کي خريداري کے ليے شہر کے بعض علاقوں کي سب سے مہنگي دکانوں پر کہ جو بہت مشہور و معروف ہيں اور ميں ان علاقوں سے بخوبي واقف ہوں ليکن ان کا نام لينا نہيں چاہتا، سب سے مہنگي چيزوں کے ليے ناجائيں۔ انہيں چاہیے کہ ان علاقوں کا رخ کريں جو مہنگے نہيں ہيں۔ ايسا نہ ہو کہ وہ بيچارے دولہا کو اپنے پيچھے ليے ليے پھريں تاکہ زيورات اور لباس خريد سکيں(اور لڑکوں کو بھي نہيں چاہیے کہ وہ بارات و وليمے کے لباس اور دوسري خريداري کے ليے دلہن کے گھروالوں پر غير اضافي خرچوں کا بوجھ ڈاليں) ليکن افسوس يہ ہے کہ لوگ يہ کام کرتے ہيں۔
دعائيہ کلمات!يہ محفل ايک مقدس ملاپ کا نقطہ آغاز ہے، مبارک ہو۔ آنکھيں نظارہ کرکے ايک جگہ ٹہرگئي ہيں۔ رہبرِ عاليقدر کي دلنشين آواز گونجي ”ان شائ اللہ، اللہ تعاليٰ مبارک کرے!‘‘ حاضرين کے سرودِ صلوات نے فرشيوں کو عرشيوں کے ہمنوا بناديا۔ يہ اُس ”سيد‘‘ کے بابرکت ہاتھ ہيں جو خدائے مہربان کي بارگاہ ميں دعا کے ليے اٹھے ہيں اور زبان سے ادا ہونے والے جملے دراصل ايک پدر کي ديرينہ آرزو ہے جو صدقِ دل سے اپني زندگي کا نيا سفر شروع کرنے والوں کے ليے ”اس‘‘ کے آسمان لطف و کرم سے مثلِ باراں برس رہے ہیں۔پروردگارا ! ان کے دلوں کو آپس ميں ہميشہ ايک دوسرے کي نسبتمہربان اور محبت کرنے والا بنادے،بارالٰہا! انہيں پاک و پاکيزہ اولاد عطا فرما،خداوندا! انہيں توفيق دے کہ يہ تيري اور تيرے اوليائ کي رضا کے مطابق عمل کريں،پالنے والے! وہ تمام افراد جو اس کارِ مقدس ميں سبب بنے ہيں، انہيںاپني طرف بہترين اجر و ثواب عطا فرما۔”آغا‘‘ کھڑے ہوجاتے ہيں اور دولہاؤں کي ايک لمبي قطار اُن سے ملنے کے ليے بے چين ہے۔ يہ دلہنيں بڑي حسرت سے دُولہاؤں کو مہربان رہبر کے بغل گير ہوتے ہوئے مشاہدہ کرتي ہيں اور ”آغا‘‘اپنے ان کلمات کے ساتھ انہيںبہشت تک چھوڑنے کے ليے دروازے تک تشريف لے جاتے ہيں:”خداوندعالم ان شائ اللہ يہ نيا سفر اور شادي مبارک قرار دے، خداوند مہربان آپ سب کو ايک دوسرے کے سائے ميں آخر عمر تک محفوظ رکھے اور آپ کو توفيق دے کہ آپ اپنے، اپنے گھر والوں، اپنے ملک اور دنيائے اسلام کيلئے عزت و افتخار کا باعث بنيں۔‘‘ہم بھي کائنات کے عظيم ترين اور بابرکت علي و فاطمہ کے جوڑے سے دست بستہ يہي عرض کريں گے آپ اس نئے سفر ميں اس کے يار و مددگار بنيں۔