۸ ذی الحجہ ۶۰ ہجری — قافلۂ حسینی کی مکہ سے کربلا روانگی

قافلۂ حسینی کی مکہ سے کربلا روانگی

43

۸ ذی الحجہ ۶۰ ہجری — قافلۂ حسینی کی مکہ سے کربلا روانگی
نواسۂ رسول ﷺ، امام حسین علیہ السلام نے حج کو عمرے میں تبدیل کرکے اپنے اہلِ خانہ اور جانثار اصحاب کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے کربلا کی جانب سفر کا آغاز فرمایا، جو تاریخِ اسلام کے عظیم ترین واقعہ، واقعۂ کربلا پر منتج ہوا۔
یزید بن معاویہ نے اقتدار سنبھالتے ہی تمام اسلامی علاقوں کے گورنروں کو حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام سے زبردستی بیعت لی جائے۔ امام حسینؑ نے کھلے الفاظ میں ظلم، فسق اور فاجر حکمران کی بیعت سے انکار فرمایا۔
اس سے قبل امام حسینؑ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لائے تھے۔ مکہ میں آپؑ تقریباً چار ماہ قیام پذیر رہے۔ اس دوران اہلِ کوفہ کی جانب سے ہزاروں خطوط موصول ہوئے جن میں امامؑ کو عراق آنے کی دعوت دی گئی اور مکمل نصرت و حمایت کا یقین دلایا گیا۔
جب امام حسینؑ مکہ میں موجود تھے تو یزیدی حکومت نے خفیہ طور پر قاتلوں کو بھیجا تاکہ حج کے دوران امامؑ کو شہید کیا جائے۔ یہ خطرناک منصوبہ امام حسینؑ تک پہنچا، اور یہ واضح ہوگیا کہ اگر آپؑ مکہ میں رہ کر حج مکمل کرتے ہیں تو خانۂ کعبہ کی حرمت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس لیے امام حسینؑ نے حج کو عمرے میں تبدیل فرمایا اور ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے روانگی اختیار کی۔
جب امام حسین علیہ السلام مکہ سے روانہ ہوئے تو قافلے میں یہ عظیم شخصیات شامل تھیں:
اہلِ بیتؑ
حضرت عباس علیہ السلام — لشکر کے علمبردار اور محافظِ خیام
حضرت علی اکبر علیہ السلام — نوجوانانِ بنی ہاشم کے سردار
حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام
امام زین العابدین علیہ السلام — بیماری کی حالت میں قافلے کے ساتھ
حضرت عون بن عبداللہ
حضرت محمد بن عبداللہ
حضرت علی اصغر علیہ السلام — شیر خوار طفل
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا
حضرت زینب سلام اللہ علیہا
حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا
حضرت رباب سلام اللہ علیہا
حضرت لیلیٰ سلام اللہ علیہا
اصحابِ باوفا
حضرت حبیب ابن مظاہر — بزرگ صحابی اور امامؑ کے وفادار ساتھی
حضرت مسلم بن عوسجہ — ابتدا کے جانثار، شدید زخمی ہو کر بھی وفادار رہے
حضرت زہیر بن قین — راستے میں شامل ہو کر کامل وفا اختیار کی
حضرت بُریر بن خضیر — عابد و زاہد اور مجاہدِ راہِ حق
حضرت نافع بن ہلال — شجاع محافظِ امامؑ
حضرت جون — غلام ہونے کے باوجود عشقِ اہلِ بیتؑ میں شہید
حضرت حنظلہ بن اسعد — حق کا پیغام بلند کرنے والے
حضرت عابس بن ابی شبیب — بے مثال شجاعت کے مالک
حضرت قیس بن مسہر — امامؑ کے پیغامبر، راستے میں شہید
حضرت عبداللہ بن یقطر
حضرت حر بن یزید ریاحی — ابتدا میں دشمن لشکر کے کمانڈر، بعد میں حق پہچان کر امامؑ کے ساتھی اور شہید
حضرت سعید بن عبداللہ حنفی — نماز کے وقت ڈھال بن کر شہید ہوئے
حضرت وہب بن عبداللہ — والدہ اور زوجہ سمیت قربان ہوئے
حضرت انس بن حارث — صحابیٔ رسول ﷺ، نصرتِ امامؑ کے لیے آئے
حضرت حجاج بن مسروق — اذان دینے کی سعادت حاصل کی
حضرت سوید بن عمرو — شدید زخمی حالت میں بھی لڑتے رہے
حضرت ابو ثمامہ صائدی — نمازِ ظہر کی یاد دہانی کرائی
روایات میں آتا ہے کہ جب قافلۂ حسینی مکہ سے روانہ ہوا تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے بھائی امام حسینؑ کے ہمراہ تھیں، جبکہ حضرت عباس علیہ السلام قافلے کی حفاظت پر مامور تھے۔
روانگی کے وقت امام حسینؑ نے فرمایا:
میں نہ سرکشی کے لیے نکلا ہوں، نہ فساد کے لیے، نہ ظلم کے لیے، بلکہ اپنے نانا ﷺ کی امت کی اصلاح کے لیے نکل رہا ہوں۔
اور ایک مقام پر فرمایا:
“جو ہمارے ساتھ جان دینے کے لیے تیار ہے، وہ ہمارے ساتھ چلے
السلام علیک یا اباعبداللّٰہ الحسینؑ
السلام علی الحسینؑ و علی علی بن الحسینؑ و علی اولاد الحسینؑ و علی اصحاب الحسینؑ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.