حرمِ سیدالشہداء انبیاء اور ملائکہ کی زیارت گاہ ہے۔

سیدالشہداءؑ کی زیارت دنیاوی حاجات کی برآوری، اخروی ثواب کے حصول اور روحانی کمالات کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے۔

3

حرمِ سیدالشہداء انبیاء اور ملائکہ کی زیارت گاہ ہے۔

سیدالشہداءؑ کی زیارت دنیاوی حاجات کی برآوری، اخروی ثواب کے حصول اور روحانی کمالات کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے۔

سینہ زنی اور زنجیر زنی کے جلوس نکالنا، سیاہ لباس پہننا، رنگ برنگے پرچم، عَلَم، علامت اور اس نوع کی دیگر چیزیں اٹھانا، یہ سب عاشورا کی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان امور کی مخالفت یا تو بدنیتی کا نتیجہ ہے یا پھر شدید لاعلمی اور نامناسب ذوق کی علامت۔

سماجی عمل کو انسانی اجتماعی زندگی کا بنیادی ترین عنصر قرار دیا جا سکتا ہے۔ سماجی عمل کی تعریف یوں کی گئی ہے: ایک انسان کی جانب سے کسی دوسرے انسان کے حوالے سے کسی مقصد کے حصول کے لیے کیا جانے والا نمایاں عمل۔ جب سماجی عمل کا تسلسل برقرار رہتا ہے تو باہمی سماجی تحریک پیدا ہوتی ہے اور یہی تحریک باہمی سماجی رابطے کا باعث بنتی ہے۔

باہمی سماجی رابطے کے نتیجے میں ایک انسان کے سماجی اعمال، اس کے گرد موجود دوسرے انسانوں کے سماجی اعمال کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں اور اس اختلاط سے باہمی سماجی اعمال وجود میں آتے ہیں۔ باہمی سماجی اعمال، جو سماجیات کے بنیادی اور مرکزی تصورات میں سے ایک ہیں، کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے: ایسے اعمال جو دو یا دو سے زیادہ انسانوں کے درمیان واقع ہوں اور ان کے درمیان کسی نہ کسی نوع کی ہم آہنگی پیدا کریں۔

باہمی سماجی اعمال اپنی ابتدائی تقسیم کے اعتبار سے دو قسم کے ہیں: متصل اور منفصل۔

باہمی سماجی اعمالِ متصل وہ ہیں جو ایک ہی سمت میں انجام پاتے ہیں؛ مثلاً کسی حقیقت کی دریافت کے لیے گفتگو کرنا یا کسی نیک مقصد کے حصول کے لیے باہمی تعاون کرنا۔

باہمی سماجی اعمالِ منفصل وہ ہیں جن کی سمت ایک نہیں ہوتی؛ مثلاً مسابقت اور کشمکش۔

سماجی زندگی کا دوام اور استحکام، باہمی اعمالِ متصل اور منفصل کے امتزاج پر منحصر ہے اور اسی مرحلے پر ہم سازی کا تصور سامنے آتا ہے۔

ہم سازی، باہمی اعمالِ متصل اور منفصل کے درمیان موجود اختلاف کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ہم سازی کی مکمل صورت سازگاری ہے، جو نہ مصالحت ہے اور نہ اتفاق؛ کیونکہ ان دونوں صورتوں میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا تصور پایا جاتا ہے، جبکہ سازگاری میں اصلاً کسی قسم کی پسپائی مطلوب نہیں ہوتی۔ اگرچہ بعض مواقع پر کسی حد تک پسپائی واقع ہو سکتی ہے، لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ فریقین اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور خود بھی ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں۔ اسی بنا پر سازگاری کو ایسی ہم سازی سے تعبیر کیا گیا ہے جو شخصی ارادے اور شعوری طور پر انجام پاتی ہے۔ باہمی اعمالِ متصل و منفصل کی ہم سازی سے سماجی گروہ وجود میں آتا ہے۔

سماجی گروہ بھی سماجیات کے مرکزی تصورات میں سے ایک ہے۔ اس سے مراد دو یا دو سے زیادہ انسانوں کا ایسا مجموعہ ہے جس کے افراد کے درمیان باہمی اعمال وقوع پذیر ہوں اور ان میں ہم سازی پائی جاتی ہو۔

گروہ کے ارکان اور ذیلی گروہوں کے باہمی اعمال گروہی تحرک کا باعث بنتے ہیں اور اس کے نتیجے میں گروہ کے افراد ایک دوسرے کی زندگیوں میں داخل ہوتے، ایک دوسرے پر منحصر ہوتے اور یوں زیادہ اتحاد حاصل کرتے ہیں۔ باہمی گروہی اثر پذیری اور باہمی گروہی انحصار اسی عمل کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ گروہ کے ارکان کے رویوں میں اس مقصد کے لیے جو ہم آہنگی اور یکسانیت پیدا ہوتی ہے، اس سے گروہی رویہ وجود میں آتا ہے۔

گروہی رویے کی ایک قسم، جس میں شدید جذباتی کیفیت پائی جاتی ہے اور جو باہمی دوری کے ساتھ وقوع پذیر ہونے والے اعمال یا ردِعمل پر قائم ہوتی ہے، اجتماعی رویہ کہلاتی ہے۔

مذکورہ اعمال یا ردِعمل سماجی سرایت کا باعث بنتے ہیں؛ یعنی ان کے نتیجے میں گروہ کے افراد ایک دوسرے کے جذباتی رویوں کو تیزی سے اور بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ اختیار کرتے ہیں اور اس طرح ان کے درمیان ایک قسم کی جذباتی مماثلت پیدا ہو جاتی ہے۔

اجتماعی رویے کے حامل گروہ کو اجتماع کہا جاتا ہے۔

سماجی ماہرین عموماً اجتماع کے تصور سے جماعت کے تصور تک پہنچتے ہیں، جو اجتماع کی اہم ترین قسم ہے، اور پھر اپنی تحقیق کو جماعت پر مرکوز کرتے ہیں۔ جماعت ایسا باہمی ہم آہنگ اجتماع ہے جو ایسے افراد پر مشتمل ہوتا ہے جو عموماً ایک ہی جگہ جمع نہیں ہوتے، لیکن ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں اور سرگرم و متحرک ہو اٹھتے ہیں۔

ربط سے مراد وہ گہرا جذباتی تعلق ہے جو دو یا دو سے زیادہ افراد کو ایک دوسرے سے اس طرح جوڑ دیتا ہے کہ وہ آسانی اور خود بخود ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ جنب و جوش سے مراد وہ نمایاں جذباتی رویہ ہے جو افراد کے باہمی ربط کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے؛ مثلاً تالیاں بجانا یا تکبیر کہنا۔

جماعت کی ایک قسم، جو دیگر اقسام سے بہت مختلف ہے اور اسی لیے اسے جماعت سے الگ ایک مستقل اجتماع قرار دیا جا سکتا ہے، غیر متجاور جماعت یا عامہ ہے۔ عامہ ایسا اجتماع ہے جس میں باہمی مشابہت اور ہم جنسیت کم ہوتی ہے۔ یہ ایسے افراد پر مشتمل ہوتا ہے جو عموماً ایک ہی جگہ جمع نہیں ہوتے، لیکن اپنے مشترکہ مفادات کے باعث ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں اور عوامی رائے اور عمومی اتفاقِ رائے کو جنم دیتے ہیں۔

عوامی رائے سے مراد وہ فیصلہ یا رائے ہے جسے عام لوگ قبول کرتے ہوں؛ مثلاً کتاب پڑھنے والے طبقے کی عمومی رائے کہ موجودہ صورتِ حال میں کتاب کی طلب اور رسد میں مناسب توازن نہیں ہے، یا کھیلوں سے وابستہ افراد کی عمومی رائے کہ ملک کے کھیلوں کے امور کا ذمہ دار شخص مطلوبہ بصیرت نہیں رکھتا۔

عمومی اتفاقِ رائے سے مراد ایسی وسیع اور گہری جڑ رکھنے والی رائے ہے؛ مثلاً کتاب پڑھنے والے طبقے کا یہ عقیدہ کہ کتاب ایک مخلص خیرخواہ اور تنہائی کے گوشے کی مونس ہے، یا کھیلوں سے وابستہ افراد کا یہ تصور کہ عاجزی اور جوانمردی ایک حقیقی کھلاڑی کی دو ناقابلِ تفریق خصوصیات ہیں۔

اب وقت ہے کہ بحث کو اس انداز میں آگے بڑھایا جائے کہ مذکورہ سماجیاتی تصورات کو بیان کرنے کی مناسبت اور اس مقصد کے ساتھ ان کا تعلق واضح ہو جائے جسے ہم بیان کرنا چاہتے ہیں۔

کسی بھی انسانی معاشرے کو، ابتدائی معاشروں کے علاوہ، اگر ہم غور سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ بنیادی طور پر متعدد عامہ پر مشتمل ہوتا ہے، اور جب ہم کسی بھی عامہ کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عوامی رائے اور عمومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر اپنے اعمال اور ردِعمل کا اظہار کرتا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر معاشرہ اپنی عوامی آراء اور عمومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر اپنی سماجی زندگی کو جاری رکھتا ہے۔

مندرجہ بالا گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عوامی آراء اور عمومی اتفاقِ رائے میں نفوذ اور ان میں تبدیلی، سماجی زندگی میں نفوذ اور تبدیلی کے مترادف ہے۔ اسی وجہ سے عوامی رائے اور عمومی اتفاقِ رائے سماجیات کے ماہرین اور سیاسی علوم کے ماہرین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔

اگر ہم کسی معاشرے کو کسی خاص مکتبِ فکر کے راستے پر گامزن کرنا چاہیں تو ہمیں ایسا طریقہ اختیار کرنا ہوگا کہ عوامی رائے بھی اسی سمت میں ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے عمومی طور پر چار طریقوں سے استفادہ کیا جاتا ہے:

الف) ترغیب و لالچ۔

ب) دھمکی۔

ج) تخریب۔

د) تبلیغ۔

ان چار طریقوں میں تقریباً تمام محققین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ چوتھا طریقہ سب سے زیادہ مؤثر اور کارآمد اور اسی بنا پر سب سے زیادہ اہم ہے۔ اسی وجہ سے سماجیات کے ماہرین اور سیاسی علوم کے ماہرین نے اس موضوع پر وسیع تحقیقات کی ہیں اور یہ تحقیقات اب بھی مختلف صورتوں میں جاری ہیں۔ بدقسمتی سے ان تحقیقات کی وسعت اور اس مقالے میں گنجائش نہ ہونے کے باعث یہاں ان کا کوئی مختصر سا جائزہ بھی پیش کرنا ممکن نہیں۔ لہٰذا ہم صرف چند ایسے نکات کی طرف اشارہ کریں گے جو اس بحث سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔

تبلیغ کے نہایت مؤثر طریقوں میں سے ایک ایسے موضوع کے بارے میں ذکر و تذکیر کی مجالس کا انعقاد ہے جس کی ترویج مقصود ہو۔ ان مجالس میں بنیادی طور پر باہمی دوری کے ساتھ وقوع پذیر ہونے والے عمل اور ردِعمل کے نظام سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جمع ہونے والے افراد کو ذاکر اپنی گفتگو اور بیان کے ذریعے متاثر کرتا ہے۔ یہ تحریک افراد میں ایک ردِعمل پیدا کرتی ہے۔ یہ ردِعمل ذاکر پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پہلے سے زیادہ شدید ردِعمل پیدا ہوتا ہے۔ یہ شدید تر ردِعمل خود ان افراد کے لیے دوبارہ تحریک کا باعث بنتا ہے اور یوں ایک نیا ردِعمل اور ایک نئی تحریک وجود میں آتی ہے۔ اس طرح ان افراد کے باہمی اور متناسب ردِعمل کی شدت مسلسل بڑھتی جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ اس نوع کے باہمی اعمال اور داخلی ردِعمل سماجی سرایت کا باعث بنتے ہیں۔

اسی تناظر میں امام حسینؑ کی مجالسِ عزاداری کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ امام حسینؑ کی عزاداری مختلف پہلوؤں سے بحث اور تحقیق کا موضوع بن سکتی ہے۔ بحمداللہ، ان میں سے بہت سے پہلوؤں کا علمائے دین نے کسی حد تک جائزہ لیا ہے، لیکن اس بحث میں ہماری توجہ مذکورہ پہلو کی طرف ہے۔

جب ہم ائمۂ اطہارؑ کی جانب سے امام حسینؑ کی مجالسِ عزاداری منعقد کرنے کی تاکیدات کو اس زاویے سے بھی دیکھتے ہیں تو یہ عمل نہایت حکمت پر مبنی نظر آتا ہے؛ ایسا عمل جو ہمیں ان پاکیزہ انوار، یعنی ائمۂ اطہارؑ سے پہلے سے بڑھ کر محبت و عقیدت رکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔

تبلیغ کا ایک اور مؤثر طریقہ لوگوں کے لیے اسوہ اور نمونہ متعین کرنا ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ جب تمام ائمۂ اطہارؑ اسوہ اور ہادی ہیں تو امام حسینؑ کو مصباحِ ہدایت اور کشتیِ نجات کے عنوان سے کیوں یاد کیا جاتا ہے؟ ان کی مزار کی مٹی کو خصوصی فضیلت اور حرمت کیوں حاصل ہے؟ کیا اس کے سوا کوئی اور وجہ ہے کہ ایک اسوۂ کامل کی دقیق ترین جہات امام حسینؑ کی ذات میں مکمل طور پر جلوہ گر ہوئی ہیں؟

ایک اور مؤثر طریقہ پہلے مرحلے میں شعائر کا وضع کرنا اور دوسرے مرحلے میں ان شعائر کو مستحکم اور فروغ دینا ہے؛ کیونکہ جب یہ عمل انجام پاتا ہے تو مطلوبہ فکر بھی مستحکم اور فروغ پذیر ہو جاتی ہے۔

سینہ زنی اور زنجیر زنی کے جلوس نکالنا، سیاہ لباس پہننا، رنگ برنگے پرچم، عَلَم، علامت اور اس نوع کی دیگر چیزیں اٹھانا، یہ سب عاشورا کی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان امور کی مخالفت یا تو بدنیتی کا نتیجہ ہے یا پھر شدید لاعلمی اور نامناسب ذوق کی علامت۔ البتہ شریعت کے مزاج سے واقف اہلِ دانش کی جانب سے اصلاحی، تکمیلی اور تحسینی رویہ اختیار کرنا نہ صرف درست بلکہ ضروری بھی ہے؛ اور ان لوگوں کی مخالفت کرنا بھی ضروری ہے جو بدنیتی یا لاعلمی کی وجہ سے ان شعائر کے خاتمے کی کوشش کرتے ہیں۔

قابلِ توجہ طریقوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خصوصی مناسک کی ادائیگی کے لیے مخصوص مقامات مقرر کیے جائیں، تاکہ لوگ ان مقامات کی طرف رجوع کرکے ان مناسک کو انجام دیں اور اس طرح اپنے مطلوبہ عقیدے اور فکر کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کریں۔ اس عمل کے ذریعے دل اس عقیدے اور فکر کے ساتھ مزید مضبوطی سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں ان روایات پر توجہ دینا مفید معلوم ہوتا ہے جن میں درج ذیل مضامین بیان ہوئے ہیں:

سیدالشہداءؑ کا حرم انبیاء اور ملائکہ کی زیارت گاہ ہے۔

سیدالشہداءؑ کی زیارت ترک نہ کرو۔

سیدالشہداءؑ کی زیارت دنیاوی حاجات کی برآوری، اخروی ثواب کے حصول اور روحانی کمالات کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے۔

اس بحث کی تکمیل کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دو نکات کی یاد دہانی کرائی جائے:

۱۔ ممکن ہے یہ تصور کیا جائے کہ عوامی رائے میں نفوذ کرنا ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور اس میں تبدیلی کو عوام سے خیانت تصور کیا جانا چاہیے؛ لیکن اس تصور کی کوئی بنیاد نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محض عوامی رائے میں نفوذ اور اس میں تبدیلی کو نہ اچھا قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ برا۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ نفوذ کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے اور تبدیلی کس چیز سے کس چیز کی طرف لائی جا رہی ہے۔ (اس نکتے پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔)

۲۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تبلیغاتی انداز اختیار کرنا اصلاً کوئی پسندیدہ عمل نہیں، بلکہ لوگوں کو صرف استدلالی اور برہانی طریقوں سے حق و باطل کی پہچان تک پہنچانا چاہیے۔ اگرچہ اس نظریے کا تنقیدی جائزہ ایک الگ بحث کا متقاضی ہے، تاہم فی الحال اپنے موقف کی وضاحت کے طور پر مختصراً یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ:

اولاً، معاشرے کی عمومی سطح پر برہانی طریقے ہمیں تبلیغی ذرائع سے بے نیاز نہیں کر سکتے، بلکہ کہنا چاہیے کہ ہر ایک کا اپنا مقام اور موقع ہے اور دونوں اپنی اپنی جگہ مفید ہیں۔

ثانیاً، حتیٰ کہ معاشرے کے دانشور اور خواص بھی سوچے سمجھے اور فنی انداز میں کی جانے والی تبلیغ کے محتاج ہیں، تاکہ حق کو پہچاننے کے علاوہ ان میں اس کے مطابق عمل کرنے کے لیے مطلوبہ انگیزہ بھی پیدا ہو۔ یہ ایک نہایت دقیق اور لطیف مسئلہ ہے جس کا تعلق فلسفۂ اخلاق اور تربیتی نفسیات سے ہے اور اس پر وہیں بحث ہونی چاہیے۔ محض عقلی اقناع انسان کو عمل کی طرف متحرک کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا، اگرچہ افلاطون کی ظاہری رائے اس کے برخلاف معلوم ہوتی ہے۔

ہم اس بحث کو انقلابِ اسلامی کے عظیم رہبر حضرت امام خمینیؒ کے ارشادات کے چند اقتباسات کے ساتھ اختتام تک پہنچاتے ہیں:

اس زمانے میں ایک بات بہت عام تھی، وہ کہتے تھے: ملت گریہ؛ یعنی قوم روتی رہتی ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں سے مجالسِ روضہ چھین لی جائیں۔ اس وقت تمام مجالسِ روضہ بند کر دی گئیں، اور وہ بھی ایسے شخص کے ہاتھوں جو خود مجالسِ روضہ میں جایا کرتا تھا اور وہاں وہ حرکتیں کیا کرتا تھا۔ کیا مسئلہ صرف مجلسِ روضہ کا تھا، یا وہ مجالسِ روضہ سے کوئی اور مفہوم اخذ کرتے تھے اور اسی چیز کو ختم کرنا چاہتے تھے؟

آج ہمیں مجالسِ تعزیہ اور روضہ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

عاشورا کو زندہ رکھنا ایک نہایت اہم سیاسی و عبادی مسئلہ ہے۔ ایسے شہید کی عزاداری کرنا جس نے اسلام کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا، ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس کا انقلاب کی پیش رفت پر گہرا اثر ہے۔ ہم ان اجتماعات سے استفادہ کرتے ہیں۔

مجالسِ عزا کو اسی شان و شوکت کے ساتھ، جس طرح پہلے منعقد ہوتی تھیں بلکہ اس سے بھی زیادہ شان کے ساتھ، برقرار رکھیں۔ اہلِ منبر ــ اَیَّدَهُمُ اللہ تعالیٰ ــ کوشش کریں کہ لوگوں کو اسلامی مسائل، اسلامی سیاسی مسائل اور اسلامی سماجی مسائل کی طرف متوجہ کریں، اور روضہ خوانی سے دست بردار نہ ہوں، کیونکہ ہم روضہ کے ذریعے زندہ ہیں۔

حواشی

۱۔ ابتدائی معاشروں کے علاوہ؛ کیونکہ ان معاشروں میں عامہ کا وجود نہیں ہوتا۔

۲۔ اگرچہ اسلامی نقطۂ نظر میں ان طریقوں کی تقدیم و تاخیر کا انحصار اس الٰہی ثقافت کے مخصوص اقداری معیارات پر ہے اور اس اعتبار سے اس موضوع پر کسی مناسب موقع پر الگ بحث ہونی چاہیے، تاہم اس مقالے میں اس کا جائزہ سماجیاتی تجزیے کے اعتبار سے پیشِ نظر ہے۔

۳۔ ملاحظہ ہو: محمد تقی مجلسی، بحارالانوار، ابواب ما یختص بتاریخ الحسین بن علی علیہماالسلام، باب ۳۴، باب ثواب البکاء علی مصیبته و مصائب سائر الائمہ علیہم السلام و فیه ادب الماتم یوم عاشوراء، جلد ۴۴، صفحات ۲۷۸ تا ۲۹۶۔

۴۔ ملاحظہ ہو: کامل الزیارات، باب ۳۸، روایت ۱ اور ۴، نیز باب ۱۰، روایت ۱۔

۵۔ سابقہ حوالہ، باب ۴۱، روایت ۳۔

۶۔ سابقہ حوالہ، باب ۴۶، روایات ۱ اور ۲؛ باب ۴۹، روایات ۱، ۲ اور ۵؛ باب ۵۱، روایت ۱؛ باب ۵۶، روایت ۳؛ باب ۵۹، روایت ۲؛ باب ۴۹، روایت ۶؛ باب ۲۲، روایات ۱ اور ۲؛ باب ۴۴، روایت ۱؛ باب ۵۰، روایات ۱ اور ۲؛ باب ۵۲، روایات ۱ اور ۲؛ باب ۵۴، روایت ۱۷، اور اسی کتاب میں دیگر ابواب و روایات۔

۷، ۸ اور ۹۔ روح اللہ موسویؒ (رہبرِ کبیرِ انقلاب، قدس سرہ)، صحیفۂ نور، جلد ۸، محرم الحرام کی آمد کے موقع پر وعاظ اور مذہبی خطباء کے اجتماع سے خطاب۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.