ایران؛ استقامت کے عظیم امتحان میں سرخرو

دبیرخانۂ دین پژوهانِ کشور کا اعلامیہ

7

ایران؛ استقامت کے عظیم امتحان میں سرخرو

دبیرخانۂ دین پژوهانِ کشور کا اعلامیہ

ملتِ عظیم ایران!
شہداء کی پروردہ اور حماسی کارناموں سے تاریخ رقم کرنے والی قوم!

آپ بخوبی جانتے ہیں کہ آج ہم خطے کی تاریخ کے ایک نہایت حساس دوراہے پر کھڑے ہیں؛ ایسے دور میں جب قوموں کی سلامتی کو دھمکیوں، پابندیوں، دہشت گردی اور دنیا کے بے رحم جنگ افروزوں کی جارحیت کے سائے میں بازیچۂ اطفال بنایا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ایران صرف اپنی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع نہیں کر رہا، بلکہ اپنے حقِ خود ارادیت، انسانی وقار، سیاسی خودمختاری اور اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کا بھی تحفظ کر رہا ہے۔

ہم ماضی کی مسلط کردہ جنگوں اور اپنے شہداء و مجاہدین کی مقدس دفاعی جدوجہد کے زخموں کو فراموش نہیں کر سکتے۔ وہ گھر جو مسمار کر دیے گئے، وہ بچے جو قربانی کا نشانہ بنے اور وہ خاندان جنہوں نے برسوں اپنے عزیزوں کی جدائی کا غم سہا، ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔ اسی لیے ہماری آواز اندھے انتقام کی آواز نہیں، بلکہ انصاف، مؤثر دفاعی بازدارندگی اور ایسے امن کی صدا ہے جس کی بنیاد زور زبردستی اور جبر پر استوار نہ ہو۔

ہم ایک ولایت سے وابستہ قوم ہیں، جس نے مشکل ترین حالات میں ایمان، علم، ثقافت اور سماجی اتحاد کے سہارے استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ دھمکیاں مشکلات اور نقصانات تو پیدا کر سکتی ہیں، لیکن ایک ایسی راسخ العقیدہ قوم کے عزم کو مٹا نہیں سکتیں جس کی تاریخ افتخار سے معمور، تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار اور ثقافت عزت و سربلندی کی حسینی تعلیمات سے سرشار ہے۔ ایران تمام تر مشکلات کے باوجود ذلت اور زور زبردستی کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرے گا۔

جنگ افروزی شکست خوردگان کی پناہ گاہ نہیں بن سکتی!

اگر منحوس ٹرمپ اور پلید نیتن یاہو یورپی حکومتوں اور دیگر ممالک کو ایک وسیع تر تصادم میں گھسیٹنے کے درپے ہیں تو انہیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ اس راستے کا انجام کیا ہوگا؟ کیا جنگ کی آگ مزید بھڑکانے سے سلامتی حاصل ہو سکتی ہے؟ کیا بے گناہ شہریوں کا مزید خون بہا کر سیاسی شکستوں پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے؟ کیا قوموں کو دھمکیاں دے کر سیاسی جواز کے بحران، پالیسیوں کی ناکامی اور امریکہ کے بارے میں عوامی بے اعتمادی کا علاج کیا جا سکتا ہے؟

تاریخ کا جواب بالکل واضح ہے: جنگ افروزی کچھ عرصے کے لیے پروپیگنڈے کا ماحول تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن حقیقت کو مٹا نہیں سکتی۔

کسی بھی حکومت یا اتحاد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی ساکھ، اقتدار یا انتخابی مفادات کے تحفظ کے لیے بے گناہ انسانوں کی جانوں کو داؤ پر لگا دے۔ شہروں، طبی مراکز، بنیادی شہری تنصیبات اور غیر فوجی خاندانوں پر ہر حملہ اس کے مرتکبین اور ان کے سیاسی و ابلاغی حامیوں کے دامن پر ایک بدنما داغ ہے۔

دنیا کی حکومتوں کا جرائم کے سامنے خاموش رہنا انہیں ان کی اخلاقی ذمہ داری سے بری نہیں کر سکتا۔ عالمی برادری کو مہم جوئی کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے مکالمے، غیر فوجی شہریوں پر حملوں کے خاتمے اور ممالک کی خودمختاری کے احترام کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

بڑی طاقتوں کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دوسرے ممالک پر سیاسی حمایت ختم کرنے یا محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے سے خطہ زیادہ محفوظ نہیں ہو سکتا۔ پائیدار سلامتی نہ دھمکیوں سے جنم لیتی ہے اور نہ ہی بلیک میلنگ سے؛ بلکہ باہمی احترام، حقیقی مکالمے اور قوموں کے حقوق کو تسلیم کرنے سے وجود میں آتی ہے۔

قوموں کا حقِ سلامتی، خودمختاری اور انصاف کبھی بھی ان بے آبرو فرعونوں کے ہاتھوں پامال نہیں کیا جا سکتا۔

انسانی اور سیاسی اصول بالکل واضح ہے: کسی دوسری حکومت کے تبلیغاتی مقاصد یا تزویراتی اہداف کے حصول کے لیے کسی قوم کو حملے کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

بزدلانہ طور پر غیر فوجی شہریوں کو قتل کرنا اور انہیں شہادت سے ہم کنار کرنا، دہشت گردی اور زندگی کی بنیادی تنصیبات کو تباہ کرنا، سلامتی کے کسی نعرے یا دفاع کے کسی دعوے کی آڑ میں عوامی ضمیر کے سامنے قابلِ جواز نہیں بن سکتا۔

جو لوگ آج عالمی نظم و نسق کی بات کرتے ہیں، انہیں اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ معصوم بچوں کے خون اور خاندانوں کی اذیت کے سامنے یہی عالمی نظام خاموش کیوں رہتا ہے؟

ایران کو اپنے عوام، اپنی سرزمین اور اپنی قومی خودمختاری کے دفاع کا حق حاصل ہے؛ بالکل اسی طرح جس طرح دنیا کی ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے۔ جائز دفاع اور دوسری قوموں کے خلاف نفرت انگیزی میں واضح فرق ہے۔ ہم مختلف ممالک کے عوام کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے، بلکہ جنگ پسند حکومتوں اور عام لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہیں۔

ہمارا احتجاج ان فیصلوں کے خلاف ہے جو پورے خطے کو ہتھیاروں کے تجربات کی تجربہ گاہ اور انسانوں کو طاقت کے حساب کتاب میں محض اعداد و شمار بنا دیتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ یہ مظلوم مگر بااقتدار قوم کبھی جارحیت کو قبول نہیں کرتی اور نہ ہی کسی طاقت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتی ہے۔ وہ شیاطینِ انس، جنہوں نے اپنی تمام تر جدوجہد کو مادی مفادات کی حساب گری اور ذلت آمیز طرزِ فکر کے گرد محدود کر رکھا ہے، یہ گمان کرتے ہیں کہ دھمکیوں کا دائرہ وسیع کرکے اور آگ و آہن کی شدت بڑھا کر وہ اس قوم کے فولادی عزم کو توڑ سکتے ہیں جس نے صدیوں سے مکتبِ عاشورا اور ثقافتِ انتظار کے ساتھ گہرا رشتہ استوار کر رکھا ہے۔

حالانکہ پروردگارِ متعال کی نصرت اور اس کے اٹل الٰہی قوانین ہمیشہ حق و انصاف کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے پشت پناہ رہے ہیں۔

«إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ»

ترجمہ: اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو ثابت رکھے گا۔

مشکلات کے مقابلے میں شعوری صبر، طوفانوں سے گزرنے اور ان پر قابو پانے کا راز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے کہ بالآخر کامیابی صبر کرنے والوں اور اللہ کی مضبوط رسی کو تھامنے والوں ہی کے حصے میں آئے گی۔

لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔

عشّ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، قم المقدسہ
دبیرخانۂ دین پژوهانِ کشور

تاریخ: ۲۸ مہر ۱۴۰۵ھ ش۔، ۸ جمادی الاولیٰ

تحریر: ڈاکٹر آیت پیمان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.