حضرت علی کا سنت پیغمبر ۖکی ترویج کرنا

165

حضرت علی بچپنے ہی سے پیغمبر ۖاکرم کی تربیت میں رہے اور اپنا بیشتر وقت ان کے ساتھ گذارا اور آنحضرت ۖ کے اخلاق و کردار کو اپنا لیا ،حضرت علی فرماتے ہیں :’میں ان کے پیچھے پیچھے یوں لگا رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے،آپ ہر روز میرے لئے اخلاق حسنہ کے پرچم بلند کرتے اور مجھے ان کی پیروی کا حکم دیتے تھے۔’وَلَقَدْ کُنْتُ اَتْبعَۂ اَتْبَاعَ الْفَصِیْلِ اِثْرَ اُمِّہِ یَرْفَعُ لِیْ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ مِنْ اَخْلَاقِہ عَلْماً وَ یَاْمُرُنِیْ بِالْاِقْتَدَائِ بِہ'(١)بعثت پیغمبر کے بعد آپ سب سے پہلے ان پر ایمان لائے تھے اور آنحضرت ۖ کی زندگی کے آخری لمحہ تک آپ ان کے یاور رہے۔(٢)حضرت علی نے قرآن کی تفسیر اور نشر و اشاعت کے علاوہ دوسری بھی خدمات انجام دی ہے یعنی پیغمبرۖ احکام الہٰی کو بولتے جاتے تھے اورآپ اسے صحیفہ کی شکل میں جامعہ کے عنوان سے تحریر کرتے جاتے تھے اس کے علاوہ پیغمبرۖ نے جو کچھ وحی کے ذریعہ حاصل کیا تھا ان سب کی آپ کو تعلیم فرمادی تھی۔حضرت علی ۖ نے جہاں اپنے دور حکومت میں پیغمبرۖ کی سنت کو عملی جامہ پہنایا وہیں اسے اپنے خطبوں میں لوگوں سے بیان بھی کیا ہے لوگ آپ کے خطبوں کو پیغمبرۖ کی سنت کا مفسر یعنی عقائد،اخلاق اور اسلام کے واقعی احکام کی تفسیر سمجھتے تھے اور اسے حفظ بھی کرتے تھے جسے بعد میں علماء نے جمع کرکے اسے کتاب کی شکل دے دی۔مسعودی نے مروج الذہب میں حضرت علیۖ کے شرح حال کے آخرمیں نقل کیا ہے کہ لوگوں نے حضرت علی ۖ کے جو خطبات حفظ کئے تھے ان کی تعداد چار سو اسی سے زیادہ ہے۔ (3)پس جو کچھ سید رضی رحمة اللہ علیہ نے نہج البلاغہ میں تکراری خطبوں کو حذف کرکے جمع کیا ہے اس کی تعداد ٢٣٦ہے اور یہ وہ خطبے ہیں جنہیں سید رضی (رہ) نے انتخاب کیا تھا اور ان کی نظر میں فصیح و بلیغ تھے۔سید رضی (رہ)نے جتنے خطبے نہج البلاغہ میں جمع کئے ہیں اگرچہ بعض علماء نے اس سے کم جمع کیا ہے پھر بھی حضرت کے بہت سے خطبے اور بیانات ہم تک نہیں پہنچ سکے چنانچہ جب ہم نہج البلاغہ کی تحقیق کریں گے تو ہمیں یہ اندازہ ہوگا کہ نہج البلاغہ اسلامی تعلیمات ،توحید ،صفات خدا،نبوت،امامت،معاد اور اسلامی آداب کا مجموعہ ہے۔اگر حضرت علی کے ہاتھوں حکومت نہ آتی اور ان خطبوں کو بیان نہ کیا جاتا تو ہمارے عقائد مکتب خلفاء کے پیرو کار وں کی طرح ہوتے جیسا کہ یہ لوگ خدا کیلئے جسم ،ہاتھ ،پیر، پنڈلی،انگلی،اور آنکھ کے قائل ہیں اور صرف کعب الاحبار اور تمیم داری کی روایتیں جو توریت اور انجیل کے تحریف شدہ عقائد سے لی گئی تھیں سماج میں باقی رہ جاتیں ۔وہ صحیح نظریہ جو معتزلہ کا مجسمہ کے مقابلہ میں تھا حضرت علی کے انہیں بیانات کا نتیجہ تھا چونکہ یہ لوگ حضرت علی کو چوتھا خلیفہ مانتے تھے اور ان کے اقوا ل کو اس سلسلے میں قبول کرتے تھے پس حضرت علی نے اپنی خلافت کے زمانے میں صحیح عقائد اور توحید کو سماج میں پلٹایا ہے اسی طرح سے احکام دیت کے متعلق حضرت علی کا ایک مجموعہ جسکا نام اصل تھا(اصول چھوٹی چھوٹی روایتوں کا مجموعہ تھا جسے ائمہ کے شاگردوں نے بلا واسطہ امام سے سنا تھا اور اسے جمع کیا تھا پھر بعد میں علمائے حدیث نے اس اصول کو جمع کیا تھا اور کتب اربعہ اور حدیث کی دوسری کتابوں کی طرح ترتیب دے رکھا تھا )ہم تک پہنچا ہے (اس مجموعہ )کو حضرت نے کتاب ‘جامعہ’سے جیسے پیغمبر ۖ نے فرمایا تھا اس سے تحریر کیا تھا آپ نے اسے اپنے گورنروں اور لشکر کے سرداروں کیلئے لکھا تھا تاکہ وہ اسی کے مطابق حدود جاری کریں کیونکہ اس مجموعہ میں تمام اعضاء بدن ،انگلی،ہاتھ،پیر،آنکھ،نطفہ،علقہ،مضغہ و ……کی دیت تفصیل سے ذکر کی گئی تھی جو سوائے فقہ مکتب اہل بیت کے کسی بھی مذہب کے فقہ میں نہیں پائی جاتی ہے اس اصل کو جب حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا:’ہاں یہ امیرالمومنین کا فتویٰ ہے ‘(4)
شاگردوں کی تربیتحضرت علی نے اپنے شاگردوں کی تربیت کی اور انھیں اسلامی تعلیمات دی جن میں سے ابن عباس، کمیل بن زیاد،مالک اشتر،میثم تمار،ابوالاسود دوئلی،رشید حجری اور حجر بن عدی……..تھے ان میں سے بعض نے تو حضرت سے خصوصی طور پر استفادہ کیا تھا(5)اور بعض گورنری کیلئے منصوب ہوئے تھے ۔
پیغمبر ۖ کی حدیث نقل کرنے کیلئے صحابہ کو شوق دلاناصحابہ میں سے ١٥٠٠ سے زیادہ جو حضرت علی کے ہمراہ جنگ جمل کیلئے بصرہ آئے تھے جنگ ختم ہونے کے بعد حضرت علی ان سب کو اپنے ساتھ کوفہ لے گئے اور اس جگہ کو آپ نے اپنی حکومت کا پایہ تخت قرار دیا اور خلفاء کے بر خلاف کہ جنہوں نے پیغمبر ۖ کی حدیث نقل کرنے پہ پابندی لگا رکھی تھی تمام لوگوں کو شوق دلایا کہ وہ ساری حدیثیں جنہیں پیغمبر ۖ سے سن رکھی ہیں لوگوں سے روایت کریں مثلا ‘ایک دن آپ نے مسجد کوفہ کے صحن میں صحابہ کو قسم دی کی جو بھی حجة الوداع میں پیغمبر ۖ کے ساتھ ساتھ تھا اور حدیث غدیر کو ان سے سنا تھا کھڑا ہو جائے اور نقل کرے، لوگ کھڑے ہوئے اور پیغمبر ۖ کے خطبہ غدیر کو نقل کیا (6) اسی طرح سے ایک ہزار سے زیادہ صحابیوں نے جن کے ذہنوں میں یہ روایتیں محفوظ تھیں اور گذشتہ حکومتوں کے خوف سے چھپائے ہوئے تھے انھوں نے حضرت علی ۖ کی خلافت کے زمانے میں پوری آزادی کے ساتھ ان حدیثوں کو نقل کیا اور دھیرے دھیرے کوفہ حضرت کے دوستوں اور ان کے شیعوں سے اسلامی یونیورسٹی میں تبدیل ہو گیا اور تشیع کی لہر کوفہ سے ایران اور دوسری جگہوں تک پھیل گئی حموی نے معجم البلدان میں کلمہ ‘قم’کے ذیل میںلکھا ہے کہ ‘قم’میں ہمیشہ سے امامی شیعہ رہے ہیں اور ٨٣ ہجری میں حجاج کے زمانے میں شہر کی شکل اختیار کر گیا سب سے پہلے ‘قم’آنے والوں میں چند شیعہ بھائی تھے یعنی عبد اللہ،عبد الرحمان، اسحاق اور نعیم ،سعد بن مالک بن عامر اشعری جو یمن کے رہنے والے تھے قم فتح کرنے کے بعد یہیں آباد ہو گئے کچھ عرصہ کے بعد ان لوگوں کے چچا زاد بھائی وغیرہ تھے ان لوگوں سے آ ملے چنانچہ جو یہاں سات گائوں تھے وہ سات محلوں کی شکل میں ایک شہر میں تبدیل ہو گئے ان میں سے ایک کو کمندان کہا جاتا تھا بعد میں اس کے بعض حروف کو گرا کر قم بنا دیا گیا (جو اسی نام سے مشہور ہے)سعد کے سب سے بڑے بیٹے جو قم تشریف لائے تھے ان کا نام عبد اللہ تھا جن کے بچوں نے کوفہ میں تربیت پائی تھی اور انھوں نے ہی کوفہ سے تشیع کو قم منتقل کیا تھا لہٰذا اس زمانے سے لیکر آج تک (یعنی معجم البلدان کے تالیف ہونے تک)کوئی بھی سنی سر زمین قم پر دیکھنے میں نہیں آیا (معجم البلدان،لفظ قم)قم اس زمانے سے لیکر آج تک تشیع کا مرکز رہا ہے اور محدثین کی ایک بڑی تعداد کو جنم دیا ہے اسی وجہ سے اہل بیت کی اس پر خاص توجہ بھی تھی ۔چنانچہ جس وقت امام موسیٰ کاظم کی دختر نیک اختر حضرت فاطمہ معصومہ تقریبا ً ٢٠٠ھمیں مدینہ سے خراسان جا رہی تھیں اور ساوہ میں پہونچ کر بیمار پڑ گئیں (چونکہ اس شہر میں متعصب قسم کے سنی رہتے تھے (اہل ساوہ صفویوں کے زمانے میں شیعہ ہو گئے تھے وہ اس طرح سے سلاطین صفویہ میں سے کسی نے سبزوار کے رہنے والے کسی عالم کو ساوہ کا شیخ الاسلام قرار دے دیا تھا اور انہوں نے کسی دوسرے عالم دین کی مدد سے اس شہر میں تشیع کی ترویج کی)توانہوں نے اپنے ساتھ والوں سے کہا کہ وہ انہیں قم لے کر چلیں ۔پھر جب قم میں وارد ہوئیں تو لوگوں نے پر جوش انداز میں ان کا استقبال کیا اور کچھ دنوں کے بعد اسی شہر میں ان کی وفات ہو گئی اور بعد میں شیعیت قم سے کاشان اور دوسرے شہروں میں پھیل گئی جس زمانے میں بنی عباس نے سادات کرام کو پکڑنا اور پھانسی دینا شروع کر دیا اسی زمانے میں یہ لوگ ایران آکر اس دیار کے شیعوں کے یہاں پناہ لئے ہوئے تھے اور ان لوگوں کے درمیان چھپے ہوئے تھے یہاں تک کہ امام رضا ایران تشریف لائے اور ان کے آنے سے ایران میں تشیع کی تکمیل ہوئیبہرحال جو بھی ہو یہ حضرت علی کا جگر تھا کہ انہوں نے کوفہ کو مرکز بنا کر (شیعیت کی نشر واشاعت کی) بنی عباس کی خلافت کے شروع میں جو امام صادق کو تھوڑی بہت آزادی ملی تو اسی مسجد کوفہ میں بیٹھ جاتے تھے اور لوگوں سے حدیث بیان کرتے تھے اور لوگ ہزاروں کی تعداد میں حضرت سے استفادہ کرنے کیلئے جمع ہوتے تھے ایک شخص نے کہا :میں تین روز تک امام صادق کی خدمت میں جاتا رہا لیکن بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے ان تک نہیں پہونچ سکا(7)اس طرح سے کوفہ اس زمانے سے لیکر آج تک علویوں (شیعوں)کا مرکز اور شام امویوں کا مرکز تھا اور مکہ و مدینہ بکری اور عمری کا مرکز تھا خلافت کے بانی بنی عباس جب لوگوں کو خلافت بنی عباس کی دعوت دینے کیلئے بھیجتے تھے تو کہتے تھے:خراسان اور دور دراز کے علاقوں میں جائو اور اس دعوت کی ترویج کرو کیونکہ شام میں اموی مکہ و مدینہ میں بکری و عمری اور کوفہ میں علوی رہتے ہیں ۔یہی کوفہ والے تھے جنہوں نے امام حسین کو خط لکھا اور حضرت مسلم بن عقیل کی بیعت کی اور ابن زیاد نے لاکھ کوشش کی اور دبائو ڈالا کہ انہیں حضرت سید الشہداء کی نصرت کرنے سے روکا جائے لیکن اس کے باوجود بھی واقعہ کربلا کے بعد اسی کوفہ سے توابین نے قیام کیا اور ہزاروں کی تعداد میں امام حسین کی قبر پر گئے اور حضرت کی مدد نہ کر سکنے پر توبہ کیا اور ابن زیاد اور اہل شام سے جنگ کی یہاں تک کہ شہید کر دیئے گئے ،مختار نے بھی کوفہ ہی سے قیام کیا تھا اور حضرت سید الشہدا کے قاتلوں کو ایک کے علاوہ سب کو فی النار کر دیا تھا ،زید بن علی بن الحسین نے بھی کوفہ ہی سے قیام کیا تھا، اس کے بعد حضرت علی نے مدینہ سے کوفہ ہجرت کرکے اپنے بیانات ،خطبوں اور مخصوص شاگردوں کی تربیت کرکے انہیں دوسرے علاقوں میں بھیج کر نیز صحابہ کو پیغمبر ۖکی حدیث نقل کرنے کی آزادی دیکر قرآن اور پیغمبر ۖکی سنت کو اسلامی معاشرے میں دوبارہ پلٹایا جس کے نتیجے میں محدثین کی ایک بڑی تعداد وجود میں آئی جنہوں نے روایتوں کو مکتب اہل بیت اور مکتب خلفاء کی حدیث کی کتابوں میں جمع کیا اس کے بعد کتب اربعہ (شیعوں کی چار اہم کتابیں )اور صحاح ستہ (اہل سنت کی چھ کتابیں )تدوین کی گئی ۔*******١۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ١٩٢٢۔ نقش ائمہ در احیاء دین جلد ١١ ص٢٩،٤١3۔ مروج الذہب، جلد٢، ص٤١٩4۔تفصیل کیلئے معالم المدرسین، جلد٣،ص٢٠٧،٢٢٣ ملاحظہ فرمائیں5۔ خطبہ کمیل نہج البلاغہ میں اس بات پر شاہد ہے کہ حضرت نے بعض معارف اور حقائق کی تعلیم صرف و صرف کمیل کو دی تھی6۔ معالم المدرسین، جلد ١، ص٤٢٠ ؛تاریخ ابن کثیر ،جلد ٥، ص ٢١١۔٢١٢؛مسند احمد بن حنبل ،جلد ١،ص١١٨۔١١٩،جلد ٤، ص٣٧٠7۔ بحار، جلد ٤٧،ص٩٣۔٩٤قطعہقلم یہ کہتا ہے دنیا کے ہر مورخ سےیہ معجزہ مجھے سادہ دکھائی دیتا ہےمیں لکھ رہا ہوں فضائل علی کے صدیوں سےمگر ورق مجھے سادہ دکھائی دیتا ہے(جرار اکبرآبادی)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.