امام مہدی(عج) احادیث کے آینہ میں( چوتھی قسط)

385

اہل سنت کے دو گروہ ہیں بعض تو شیعوں کی مانند یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ۲۵۵ہجری میں دنیا میں تشریف لاچکے ہیں جبکہ بعض دیگر ان کی ولادت کا انکار کرتے ہیں
(۱)امام مہدی(عج) کی ولادت مبارک :ویسے تو کسی شخص کی ولادت پر اس کے والدین اور دایہ کی گواہی ہی کافی ہوتی ہے اگرچہ کسی اور نے ان کا مشاہدہ نہ بھی کیا ہو لیکن امام زمانہ (عج)کے بارے میں ان دو گواہیوں کے علاوہ سینکڑوں لوگوں کی گواہیاں موجود ہیں کہ جنہوں نے انہیں دیکھا ان سے ملاقات کی ان سے سوال کئے ان کی کرامات دیکھیں اور ان سے احادیث نقل کیں اس کے علاوہ امام زمانہ (عج)کے طویل عرصہ تک معین شدہ وکلا اور سفیر حضرات اور ہر دور میں ان کے لاکھوں کروڑوں پیروکار کہ جن میں بعض ان سے ملاقات بھی کرتے ہیں یہ سب ان کی ولادت پر قرائن و شواھد ہیں ۔
ان سب سے بڑھ کر اہم ثبوت وہ بہت سی احادیث و روایات ہیں کہ جو آپ کی ولادت مبارک کو بیان کررہیں ہیں کہ ہر دور میں ایک امام کا وجود ضروری ہے لیکن احادیث کی ایک کثیر مقدار ایسی ہے کہ جس میں معصومین علیھم السلام نے امام مہدی(عج) (عج ) کی ولادت کی بشارت دی ایسی احادیث کے چند نمونے ذیل میں ہیں:
۱۔احمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام فرما رہے تھے :الحمد للہ الذی لم یخرجنی من الدنیا حتی ارانی الخلف من بعدی (منتخب الاثر جلد ۲ ص ۷۹۱)
شکر ہے اللہ تعالی کا کہ اس نے مجھے اس جھان سے نہیں نکالا یہاں تک کہ مجھے میرا جانشین دکھلا دیا ۔
۲۔ابی غانم جو کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے خادم تھے کہتے ہیں :
ولد لابی محمد علیہ السلام ولد فسماہ محمدا فعرضہ علی اصحابہ یوم الثالث وقال ھذا صاحبکم من بعدی و خلیفتی علیکم وھوالقائم الذی تمتد الیہ الاعناق بالانتظار (کمال الدین جلد ۲ باب ۴۲ ح۸)
ابومحمد (امام حسن عسکری علیہ السلام )کے ہاں ایک فرزند پیدا ہوا کہ اس کا نام محمد رکھا گیا تیسرے دن امام حسن عسکری علیہ السلام نے اسے اپنے اصحاب کو دکھلایا اور فرمایا میرے بعد یہ تمہارا صاحب و امام اور تم پر میرا جانشین ہے یہ وہی قائم ہے کہ جس کا لوگ انتظار کررہے ہیں ۔
۳۔امام ھادی علیہ السلام نے فرمایا :ان الامام بعدی الحسن ابنی و بعد الحسن ابنہ قائم الذی یملأ الارض قسطا و عدلا کما ملئت جورا و ظلما (گذشتہ ماخذ باب ۳۷ ج۱۰)
میرے بعد میرا فرزند حسن امام ہے اور ان کے بعد ان کے بیٹے قائم امام ہیں وہ وہی ہیں کہ جو زمین کو عدل و انصاف سے پر کریں گے کہ جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے پر ہوئی تھی
نوٹ:ایسی دیگر بہت سی روایات کو دیکھتے ہوئے امام زمانہ کی ولادت پر تواتر معنوی قائم ہوتا ہے ۔
(۲)امام مہدی(عج) کا نسب مبارک:اہل سنت کے ایک گروہ کا یہ عقیدہ ہے کہ امام مہدی (عج)امام حسن علیہ السلام کی نسل سے ہیں نہ کہ امام حسین علیہ السلام کی نسل سے۔
اھل سنت کی معتبر کتابوں کے مطالعے اور تحقیق سے یہ نتیجہ نکلا کہ اس عقیدہ کے اثبات پر صرف ایک روایت ہے کہ جو سنن ابی داود میں وارد ہوئی ہے اس روایت کے متن میں آیا ہے کہ حضرت علی(ع) اس حال میں کہ اپنے فرزند حسن کی طرف دیکھ رہے تھے فرمایا: یقینا یہ میرا فرزند سید و سردار ہے جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں نام دیا ان کی صلب سے ایک شخص پیدا ہوگا کہ جو تمہارے پیغمبر کے ہم نام ہوگا اور خلقت میں ان کے مشابہ ہوگا ۔(سنن ابو داوود جلد۴ ح۴۲۹۰)
پہلا جواب
اگر ہم اس روایت کی سند و متن کا تجزیہ کریں اور اس کے مدمقابل وہ احادیث کہ جو امام مھدی (عج) کو امام حسین علیہ السلام کی نسل مبارک سے بتاتی ہیں ان سے مقایسہ کریں تو مندرجہ ذیل دلائل کی بنا پر اس روایت کے جعلی ہونے پر یقین حاصل ہوتا ہے :
(۱)ابوداوود سے حدیث کے نقل کرنے میں اختلاف:
محدث اھل سنت جزری شافعی (متوفی ۸۳۳ھجری) اس حدیث کو ابوداوود سے نقل کرتے ہیں لیکن لفظ حسن کی جگہ حسین ذکر کرتے ہیں (المناقب فی التھذیب السنی المطالب ص ۱۶۵أ۱۶۸)
(۲)حدیث کا مقطوع ہونا:
اس حدیث کی سند مقطوع یعنی حضرت علی علیہ السلام سے متصل اور پیوستہ نہیں ہے درمیان میں کچھ راوی موجود نہیں ہیں چونکہ وہ راوی جو حضرت علی علیہ السلام سے نقل کررہا ہے وہ ابواسحاق سبعی ہے کہ جس کے بارے میں یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ اس نے ایک بھی حدیث حضرت علی علیہ السلام سے سنی ہو کیونکہ سنی محدث منذری اس حوالے سے صراحت کرتے ہیں کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے وقت سات سال کا تھا (مختصر سنن ابی داوود ج۶ ص ۱۶۲)
سنی عالم ابن حجر کے مطابق وہ عثمان کے قتل کے دو سال قبل پیدا ہوا (تھذیب التھذیب ج۲ ص ۵۶)
(۳)حدیث کی سند کا مجہول ہونا:
اس حدیث کی سند میں ابوداوود کہتے ہیں کہ یہ حدیث ھارون بن مغیرہ نے میرے لئے بیان کی اس شخص کو علماء حدیث نہیں جانتے لھذا یہ ان کے نزدیک مجہول ہے تو خود اھل سنت کے محدثین کے قاعدہ کے تحت جس حدیث کی سند میں کوئی راوی مجہول ہو وہ حدیث قابل اطمینان نہیں ہے
(۴)اھل سنت کی بہت سی روایات کا اسے رد کرنا :
یہ حدیث ان تمام بہت سی احادیث کے خلاف ہے کہ جو خود اھل سنت نے نقل کئیں اور ان میں یہ وضاحت ہوئی ہے کہ امام مہدی (عج)امام حسین علیہ السلام کی نسل مبارک میں سے ہیں بعنوان مثال حذیفہ بن یمانی صحابی پیغمبر (ص) کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک خطبہ فرمایا اور اس میں آنے والے دور کی خبروں سے ہمیں آگاہ کیا پھر فرمایا:
اگر دنیا کی عمر سے فقط ایک دن باقی رہ چکا ہو اللہ تعالی اس دن کو اتنا طولانی کرے گا کہ میری اولاد میں سے ایک شخص کو اٹھائے گا کہ جو میرا ہم نام ہوگا تو صحابی رسول سلیمان کھڑے ہوئے اور پوچھا اے اللہ کے رسول وہ آپ کے کون سے بیٹے کی نسل سے ہوگا تو آپ نے فرمایا: اس بیٹے سے اور اپنا ہاتھ امام حسین کو لگایا (المنار المنیف ابن قیم ص ۱۴۸ القول المختصر ابن حجر ج۴ ص ۳۷)
(۵)تبدیل ہونے کا احتمال :
بعید نہیں ہے کہ اس وقت کتاب کی نسخہ برداری کے وقت یہ لفظ حسین سے حسن میں تبدیل کردیا گیا ہو ورنہ اس قدر احادیث کے مدمقابل اس تنہا روایت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
دوسرا جواب:
اگر فرض کریں کہ یہ حدیث درست ہو تو پھر بھی یہ حدیث ان تمام احادیث کے ساتھ سازگار ہوسکتی ہے کہ جو بالصراحت کہہ رہیں ہیں کہ آپ امام حسین کی اولاد سے ہیں اس طرح کہ امام سجاد علیہ السلام کی زوجہ اور امام باقر علیہ السلام کی والدہ گرامی جناب فاطمہ امام حسن مجتبی کی بیٹی تھیں لھذا امام باقر علیہ السلام والد کی طرف سے حسینی اور والدہ کی طرف سے حسنی ہیں اسی طرح بعد والے ائمہ بھی حسینی اور حسنی ہیں چونکہ سب امام باقر علیہ السلام کی ذریت سے ہیں ۔
ذیل میں ہم چند بزرگ علماء اھل سنت کا نام ذکر کرتے ہیں کہ جنہوں نے امام مہدی (عج)کے امام حسین(ع) کی اولاد میں سے ہونے والی احادیث کو ذکر کیا اور ان کے حسینی ہونے کا اعتراف کیا :
(۱)علامہ ابن قتیبہ دینوری (متوفی ۲۷۶ھجری)
(۲)حافظ ابو الحسن علی بن عمر دارقطنی شافعی (متوفی ۳۸۵ ھجری)
(۳)حافظ ابو نعیم اصفہانی (متوفی ۴۳۰)
(۴)موفق بن احمد ملکی خوارزمی خطیب (متوفی ۵۸۶ ھجری )
(۵)شیخ الاسلام ابوالعلاء حسن بن احمد حسن عطار ھمدانی (متوفی ۵۶۹ ھجری)
(۶)ابن ابی الحدید (متوفی ۶۵۶)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.