حضرت علي کي عدالت
لہذا پر سکون اور بے خوف و خطر زندگي گزارنے ، اور کمال کي منزلوں کو طے کرنے کے لئے ضروري ہے کہ انساني سماج اور نظام حيات بھي عدالت اور توازن کے مستحکم ستونوں پر استوار ہو،تاکہ تباہي وبربادي سے محفوظ رہ سکے اور انساني معاشرے کي اسي ضرورت کے پيش نظر، اللہ تعالي نے انبياء ومرسلين اور اپنے نمائندوں کو بھيج کر نوع انساني کے لئے اپني مخصوص ہدايت وراہنمائي کا انتظام کيا ہے.چنانچہ خدا نے قرآن مجيد ميں انبياء و مرسلين کي بعثت کا فلسفہ ان الفاظ ميں بيان کيا ہے:’ولقد ارسلنا رسلنابالبینات ليقوم الناس با لقسط‘‘يعني:ہم نے واضح دلائل کے ساتھ اپنے رسولوںکو بھيجا اور ان کے ساتھ کتاب و ميزان نازل کيا تاکہ انساني سماج ميںعدالت کا قيام ہو(۱)اسلام کي نظر ميں عدالت کا تعلق بين الاقوامي حقوق سے ہے، يعني اسلام عدالت کا برتاؤ برتنے ميں مسلمانوں اور غير مسلمانوں کے درميان تفريق کا قائل نہيںہے.چنانچہ خدا وند متعال فرماتا ہے:’يا ايّھاالذين آمنوا کونوا قوامين للّہ شھدئ بالقسط …‘‘اے صاحبان ايمان! ہميشہ اللہ کے لئے قيام کرو اور بر بنائے عدالت گواہي دو اور کہيں ايسا نہ ہو کہ کسي قوم کي دشمني تم کو عدالت کے راستہ سے ہٹادے تم ہميشہ عدل و انصاف کا برتاؤ کرو کہ عدالت پر ہيزگاري کے زيادہ نزديک ہے(۲)
عدالت کا مفہوملفظ عدالت ظلم کے مقابلے ميںاستعمال ہوتا ہے اور لغت ميں برابري،سچائي ،استقا مت اور حد وسط کے معني ميں آيا ہے.(۳)قرآن کريم کے عظيم الشان مفسر، علامہ طباطبائي نے عدالت کے بارے ميں بہت ہي عمدہ اور مفيد وضاحت کي ہے اور وہ يوں کہ :’عدالت زندگي کے کسي ايک پہلو تک محدود نہيںہے بلکہ انساني زندگي کے تمام انفرادي اور اجتماعي پہلوؤں پر محيط ہے.عدالت کا مطلب يہ ہے کہ ان تمام اشياء اور اشخاص کے درميان برابر ي اور مساوات کا برتاؤ کيا جائے جو ايک مرتبہ اور منزلت رکھتے ہوں‘‘(۴)اسلامي تعليمات ميں لفظ عدالت کاتين مقامات پراستعمال ہوتا ہے :
(۱) عدالت الہي(۲) عدالت ذاتي، جو کہ قضاوت ،نماز جمعہ و جماعت کي امامت وغيرہ کي شرط ہے.(۳) عدالت اجتماعي، جو کہ سماج اور معاشرہ کے تمام شعبوں کو اپنے اندر شامل کرليتي ہے.ہم اس مقالہ ميں عدالت کي ابتدائي دو صورتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے فقط تيسري صورت يعني عدالت اجتماعي کے بارے ميں حضرت علي کے اقوال و ارشادات اور آپ کي سيرت طيبہ کا جائزہ لے رہے ہيں.
حضرت علي کي نظر ميں عدالت کي اہميتجيسا کہ اوپر کي سطروں سے واضح ہو چکا ہے کہ عدالت وہ عظيم حقيقت ہے جسے نافذ کرنے کے لئے اللہ تعالي نے انبياء اور مرسلين بھيجے.حضرت علي عدالت کو ہر شئي پر ترجيح ديتے تھے، چنانچہ ايک شخص نے آپ سے پوچھا: عدالت افضل ہے يا جود و سخاوت.توآپ نے فرمايا : عدالت افضل ہے.جب کہ ايک سادہ لوح انسان کي نظر ميں جود و سخاوت عدالت سے بالاترہے.اور پھر حضرت علي نے دليل يہ دي کہ عدل اس لئے افضل ہے کہ زندگي کے امور اور مسائل کو اپني جگہوں پر قرار ديتا ہے، جب کہ سخاوت انھيں اپني جگہوں سے ہٹا ديتي ہے.(۵)چونکہ عدالت کا مطلب يہ ہے کہ معاشرہ اپنے طبيعي مزاج پر چل رہا ہے اور ہر چيز اپني صحيح جگہ پر ہے ليکن جودو سخاوت کا مطلب يہ ہے کہ معاشرہ اپنے طبيعي مزاج سے ہٹ گيا ہے ، جس کي وجہ سے يہ ضرورت پيش آئي کہ معاشرہ کے کسي ايک فرد کو اس کے حق سے زيادہ دے کر اس کي ضرورت پوري کي جائے.آپ نے عدل کي برتري پر دوسر ي دليل يہ دي :’:العدل سائس عام والجود عارض خاص‘‘يعني: ‘عدالت ايک عام قانون اور عمومي مدير ہے جو پورے معاشرہ پر محيط ہوتا ہے؛ جبکہ سخاوت ايک استثنائي صورت حال ہے‘‘نتيجۃً عدل بر تر اور افضل ہے(۶)آپ عدالت کو ہميشہ اور ہر حال ميں فوقيت ديتے ہوئے فرماتے ہيں :’فان في العدل سعۃ…‘‘يعني:عدل ميں وسعت اور لا محدود گنجائش ہے اور جو کوئي عدالت کي وسيع فضا ميں بھي تنگي محسوس کرے تو وہ ظلم و نا انصافي کي تنگ فضا ميں بدرجہ اولي تنگي گھٹن اور محسوس کرے گا(۷)حضرت علي علیہ السلام عدالت کو ايک فريضہ الہي بلکہ ناموس الہي سمجھتے ہيں اور اس بات کي ہرگز اجازت نہيں ديتے کہ انسان کے سامنے ظلم و ستم ہو اور وہ خاموش تماشائي بنا کھڑا ديکھتا رہے؛ بلکہ اس کا فرض ہے کہ حتي الامکان ظلم و ستم کو ختم کرنے اور عدل و انصاف کو عام کرنے کي سعي و کوشش کرے ۔چنانچہ آپ خطبہ شقشقيہ ميں فرماتے ہيں:’اما والذي فلق…‘‘يعني :’گاہ ہو جاؤ ، قسم ہے اس خدا کي جس نے دانہ کو شگافتہ کيا اور ذي روح کو پيدا کيا ، اگر حاضرين کي موجودگي اور مدد کرنے والوں کي وجہ سے مجھ پر حجت قائم نہ ہو گئي ہوتي اور اللہ نے علماء سے يہ عہد و پيمان نہ ليا ہوتا کہ وہ ظالم کے ظلم اور مظلوم کي مظلوميت پر خاموش نہ رہيں تو ميں خلافت کي رسي کو اس کي گردن پر ڈال کر آج بھي ہنکا ديتا…‘‘۔(۸)عام لوگوںکي نظر ميں حکومت کا مقصد اقتدار ، عيش و عشرت اور لذت طلبي ہے ليکن نمائندگان پروردگار کي نظر ميںحکومت کا مقصد ،معاشرہ ميں عدل و انصاف کا قيام،ظلم و جور کا خاتمہ اور دنيا و آخرت ميں نوع انساني کي کاميابي اور کامراني سے ہمکنار کرنا ہے۔ايک مرتبہ ابن عباس ،حضرت علي علیہ السلام کي خدمت ميں حاضر ہوئے تو اس وقت آپعلیہ السلام اپنا پھٹا پرانا جوتا سي رہے تھے ، آپ علیہ السلام نے ابن عباس سے پوچھا:’ اس جوتے کي کيا قيمت ہوگي‘‘؟انھوں نے کہا :کچھ نہيں! تو آپ علیہ السلام نے فرمايا:’ميري نظر ميں اس حکومت و رياست کي قدر و قيمت اس جوتے سے بھي کمتر ہے علیہ السلام مگر يہ کہ حکومت کے ذريعے ميں عدالت کو نافذ کرسکوں ،حق کو قائم کر سکوں اور باطل کومٹا سکوں۔(۹)حضرت علي علیہ السلام نے عدالت کو اتني اہميت دي اور اس طرح عدالت کو اپني زندگي ميں سمو ليا کہ عدالت آپ کي شخصيت کا ايسا حصہ بن گئي کہ جب بھي آپ علیہ السلام کا تذکرہ ہوتا ہے، بلا فاصلہ ذہن ،عدالت کي طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اسي طرح جب کبھي عدالت کا ذکر ہوتا ہے تو وہ عادل امام علیہ السلام بے ساختہ ياد آجاتا ہے ، جس نے اعلان بھي کيا تھا اور اپنے عمل سے ثابت بھي کيا تھا کہ:واللہ !اگر مجھے سات اقليم اس شرط پر ديئے جائيںکہ ميں ايک چيونٹي کے منھ سے جو کا ايک چھلکا چھين لوں تو ميںانہيں ٹھوکرمار سکتا ہوں، ليکن اس حد تک بھي بے عدالتي اور ظلم نہيں کر سکتا‘‘۔(۱۰)آپ کي عدالت اتني مشہور ہوئي کہ دين و مذہب کي حدوں سے گزر کر ھما گير شکل اختيار کر گئي ۔اور آج دنيا کا ہر مفکر اور دانشور ، خواہ وہ کسي بھي ملت و مذہب سے تعلق رکھتا ہو ،آپ کي عدالت کے سامنے سر تسليم خم کرنے کو اپنا شرف سمجھتا ہے۔چنانچہ جا رج جرداق نام کے ايک مسيحي دانشور نے آپ کي عدالت کے موضوع پر 5جلدوںپر مشتمل’ صوت العدالۃ الانسانيہ‘‘ نام کي کتاب بھي تاليف کردي جو دنيا کي مختلف مشہور زبانوں ميںترجمہ بھي ہوچکي ہے۔حضرت علي علیہ السلام نے اپني ذا تي ز ندگي سے لے کر اجتماعي،سماجي اور حکومتي زندگي کے ہر پہلو ميں مکمل طور پر عدالت کو نافذ کيا۔اور بديہي ہے کہ ان سارے موارد کي جمع آوري، اس مقالہ ميں ہر گز نہيں ہو سکتي ، لہذا ذيل کي سطروں ميں ہم حکومتي اور اجتماعي مسائل ميں بعض عناوين کے تحت آپ کي عدالت کے کچھ نمونے نھج البلاغہ کے تناظر ميں پيش کر رہے ہيں:
قانون سازي اور قانون کے نفاذ ميں عدالتحضرت علي علیہ السلام نے اپني حکومت کے لئے جو قوانين مرتب کئے تھے وہ من و عن وہي قوانين تھے جو رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اسلامي حکومت کے لئے معين فرمائے تھے، چنانچہ حضرت علي علیہ السلام کي عدالت کے بارے ميںپيغمبر اسلام(ص) کا ارشادہے:’کفّي و کفّ علي في العدل سواء ‘‘يعني :عدالت ميں ميرا اور علي کا ہاتھ بالکل برابر ہے ۔(۱۱)اس ميں کوئي شک نہيںہے کہ اسلام مالي اور ديگر مادي حتي معنوي مسائل ميں سارے انسانوں کو ايک ہي خانہ ميں جگہ نہيں ديتا اور اس مسئلہ ميں اسلام مارکسزم کا شديد مخالف ہے ؛ليکن جہاں قانون کا مسئلہ ہوتا ہے وہاں اسلام، عالم وجاہل،غريب و امير،دوست و دشمن سب کو ايک نظر سے ديکھتا ہے۔حضرت علي علیہ السلام اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں:’عليک بالعدل في الصديق والعدو‘‘يعني :دوست اور دشمن دونوں کے ساتھ عدالت سے پيش آؤ۔(۱۲)آپ علیہ السلام نے ايک نافرمان عامل کي تنبيہ کرتے ہوئے ايک خط ميں فرمايا:’واللّہ لو ان الحسن والحسين…‘‘يعني: واللہ اگر حسن علیہ السلام و حسين علیہ السلام نے بھي يہ کام کيا ہوتا، تو ان کے لئے بھي ميرے پاس کسي نرمي کا امکان نہيں تھا اور نہ وہ ميرے ارادہ پر قابو پاسکتے تھے جب تک کہ ان سے حق کو حاصل نہ کر ليتا اور ان کے ظلم کے آثار کو مٹا نہ ديتا۔(۱۳)آپ علیہ السلام قانون کے نفاذ ميں کسي مروت ، خاندان پرستي اور تعلقات کے قائل نہيں تھے چنانچہ جناب عقيل علیہ السلام نے جو کہ آپ کے سگے بھائي تھے، جب آپ سے اپنا قرض ادا کرنے کے لئے بيت المال سے کچھ اضافي رقم کا مطالبہ کيا تو آپ نے نہايت سختي سے انکار کر ديا ۔(۱۴)آج کي حکو متوں کو حضرت علي علیہ السلام کي سيرت کو اپنا کر ايسے قوانين بنانا چاہيں جن ميں صرف حکمرانوں کا نہيں بلکہ پوري قوم کا فائدہ ہو اور دنيا کو چاہئے کہ ملکي اور عدالتي قوانين کے نفاذ ميں تفريق کي قائل نہ ہو ۔
گورنر کے انتخاب ميں عدالتآج کي دنيا ميں حکومت کے نمائندوں اور اراکين کے انتخاب، نيز عہدوںاور منصبوں کي تقسيم ميںمکر و فريب ،رشوت ،چرب زباني ، ما ل و دولت کي فراواني ، تعلقا ت اور سب سے بڑھ، کر اپنے ذاتي منافع کو پيش نظر رکھا جاتا ہے، مگر جس چيز پر بالکل توجہ نہيں دي جاتي وہ انسان کي معنويت ،صداقت،عدالت اور لياقت و صلاحيت ہے .ليکن علوي حکو مت ميں معاملہ بالکل برعکس تھا. وہاں کسي بھي چيز پر توجہ نہيں دي جاتي تھي؛ سوائے عدالت ،معنويت اور لياقت و صلاحيت کے .حضرت علي علیہ السلام نے اپنے اور پرائے کے امتياز کو ختم کرکے جو شخص جس عہدہ کي صلاحيت رکھتا تھا وہ عہدہ اس کے سپرد کردياچنانچہ آپ کے۵۱گورنروں کي فہرست پر جب نظر ڈالي جاتي ہے تو اس ميں مہاجر و انصار،يمني،نزاري ،ہاشمي ، غيرہاشمي،عراقي،حجازي اور پير وجوان سب نظر آتے ہيں ،جو چيز آپ سے پہلے کي حکومتوں ميں بے نام و نشان تھي۔اس کے برعکس آپ کي نگاہ وليد ،مروان ،عمر وعاص اور طلحہ و زبير جيسے مشہور اور سرکردہ افراد پر نہيں ٹکتي ، چونکہ ان کے اندر وہ تقوي اور صلاحيت موجود نہيں تھي جو ايک اسلامي مملکت کے حاکم اور عامل ميں ہونا چاہيئے. اگرچہ فقط طلحہ اور زبير کو ان کي خواہش کے مطابق کوفہ اور بصرہ کاحاکم نہ بنانے کي وجہ سے آپ کو طرح طرح کي مشکلات ،منجملہ جنگ جمل اور اس سے پہلے جنگ بصرہ(جمل صغري) کا سامنا کرنا پڑا۔آپعلیہ السلام نے دنياوي سياست دانوں کے برعکس، کسي بھي حال ميں بڑي سے بڑي مادي منفعت اور سياست کے بدلے عدالت کا سودا نہيں کيا ،اور خلافت ملتے ہي تمام ظالم اور نا اہل گورنروں منجملہ معاويہ جيسے طاقتور اور بانفوذ ،گورنر کو معزول کر ديا کيونکہ جب آپ سے لوگوں نے کہا في الحال معاويہ کو معزول نہ کيجئے ،ابھي آپ کي حکومت مستحکم نہيں ہوئي ہے.اور وہ بغاوت کرکے آپ کي حکومت کے لئے خطرہ بن جائے گا. جب حکومت کے ستون مستحکم ہو جائيں تو آپ بآساني اس کو معزول کر ديجئے گا. تو آ پ نے يہ کہ کر لوگوں کو خاموش کرديا کہ:’ ميں ايک لمحہ کے لئے بھي ظلم و ستم کو برداشت نہيں کر سکتا ‘‘اور تقريباً اسي سے مشابہ ايک دوسرے موقع پر آپ نے ارشاد فرمايا :’اتامروني ان اطلب النصر بالجور…‘‘يعني:کيا تم لوگ مجھے مشورہ دے رہے ہو کہ ميں ظلم و جور کے سہارے فتح و کا ميابي حاصل کروں . . . ( ۱۵ )اور اس جملہ کے ذريعے آپ نے اس نظريہ پر خط بطلان کھينچ ديا جو کہتا ہے کي بلند اور نيک مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اچھے برے ہر قسم کے وسائل کا سہارا ليا جاسکتا ہے ۔
بيت المال اور مالي وسائل کي تقسيم ميں عدالترسول اللہ (ص) عرب و عجم اور سياہ و سفيد کي تفريق کے بغير سارے مسلمانوں کو بيت المال سے برابر کا حق ديا کرتے تھے۔ ليکن رسول اللہ (ص) کے بعد کي حکومتوں نے آپ کي سيرت کے بر خلاف بيت المال اور مال غنيمت کي تقسيم ميں رنگ و نسل اور ذات پات کو معيار بنا ليا .ليکن حکومت ملتے ہي حضرت علي علیہ السلامنے اس غلط اور غير اسلامي سيرت کي مخالفت کي اور دوبارہ سيرت رسول (ص) کا احياء فرمايا اور عرب و عجم ، سياہ و سفيد اور مہاجر و انصار کي تفريق ختم کر دي ، جس کے نتيجے ميں اہل باطل کي ايک بڑي تعداد آپ کي مخالف ہو گئي (۱۶)جب آپعلیہ السلامنے خليفہ سوم کي بد عنوانيوں کي مخالفت کي تو کچھ لوگوں نے کہا جو ہو گيا؛ سو ہو گيا تو اما معلیہ السلامنے فرمايا :’واللہ لو وجد تہ قد تزوج بہ النساء …‘‘يعني: خدا کي قسم !اگر ميں مسلمانوں کے عمومي اموال اس حالت ميں پاتا کہ اسے عورت کا مہر بنا ديا گيا ہے يا کنيز کي قيمت کے طور پر ديا گيا ہے تو اسے بھي واپس کرا ديتا …‘‘ (۱۷)آپعلیہ السلامبيت المال کومال خدا اور مسلمانوں کا حق سمجھتے تھے .آپ نے کبھي بھي بيت المال کو اپنے ذاتي منافع کے لئے استعمال نہيں کيا اور نہ ہي اپنے کسي عامل کي طرف سے بيت المال ميں خيانت اور اسراف کو برداشت کيا .نہج البلاغہ کے مختلف خطبات اور مکتوبات اس بات پر گواہ ہيں کہ امير المومنينعلیہ السلامنے بيت المال ميں معمولي خيانت کرنے والوں کي شديدتنبيہ و سرزنش کي ہے اور بہت سے گورنروں کو اس خطا پر معزول بھي کيا ہے۔
قضاوت ميں عدالتآپ کي عدالت اس سلسلے ميں شہرہ آفاق ہے اور اس موضوع پر بہت سي مستقل کتابيں لکھي گئي ہيں. ہم ذيل کي سطروں ميں فقط دو تين نمونوں کے ذکر کرنے پر اکتفائ کر رہے ہيں:الف: ايک مرتبہ ايک شخص نے خليفئہ دوم کے دربار ميں حضرت عليعلیہ السلام کے خلاف شکايت کي ، حضرت عليعلیہ السلاماس شخص کے ساتھ خليفہ دوم کے دربار ميں پہنچے تو خليفہ نے کہا: اے ابو الحسن! آپ اپنے مدّعي کے ساتھ بيٹھئےعلیہ السلامجب مقدمہ کا فيصلہ ہو چکا تو خليفہ نے حضرت عليعلیہ السلامکے چہرے پر ناراضگي کے آثار ديکھ کر اس کا سبب پوچھا ، آپعلیہ السلامنے فرمايا:’ تم نے گفتگو کے دوران ميرے مدّعي کو نام لے کر بلايا مگر مجھے کنيت کے ساتھ بلايا حالانکہ عدل و انصاف کا تقاضا يہ تھا کي تم مجھے بھي نام لے کر بلاتے ‘‘(۱۸)ب: حضرت عليعلیہ السلامنے اپنے مشہور صحابي ابو الاسود دوئلي کو ايک جگہ قاضي بنايا اور پھر کچھ ہي عرصے کے بعد معزول کر ديا تو انہوں نے پوچھا : يا امير المومنين ميں نے نہ تو کوئي خيانت کي اور نہ ہي کسي طرح کي نا انصافي اور ظلم ، پھر آپ نے مجھے کيوں معزول کر ديا ؟ تو آپعلیہ السلام نے فرمايا:’ ميں نے ديکھا کي تمہاري آواز مدعي کي آواز سے بلند ہو جاتي ہے. لہذا تمہيں معزول کر ديا‘‘(۱۹)حضرت عليعلیہ السلامنے فيصلہ، قضاوت اور حدودالہي کے نفاذ ميں اپنے پرائے، دوست و دشمن، غلام و آقا، عرب و عجم سب کو ايک نگاہ سے ديکھا. چنانچہ تاريخ ميں ايسے بہت سے شواہد ملتے ہيں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حکم الہي کي مخالفت اور جرم کے مرتکب ہونے کي صورت ميں اپنے قريبي ترين چاہنے والوں پر بھي حدود الہي کو جاري کيا ۔ چنانچہ نجاشي نام کے آپ کے ايک قريبي چاہنے والے نے ،جو بہت بڑے شاعر تھے اور ہميشہ آپ کي حمايت ميں اشعار کہا کرتے تھے، شراب پي لي. تو آپ نے اس پر بھي شراب پينے کي حد جاري کردي اور جب اس کے قبيلہ والوںنے اعتراض کيا تو فرمايا:’ اے بني نہد کے بھائيو!نجاشي بھي امت مسلمہ کا ايک فرد ہے. لہذا ہم نے کفارہ کے طور پر اس پر بھي شريعت کي حد جاري کي ہے …‘‘(۲۰)
اسيروں اور مجرموں کے ساتھ عدالتآج عدالت کے علمبردار اور حقوق انساني کاڈھنڈورا پيٹنے والے کس طرح سے عدالت اور حقوق انساني کي دھجياں اڑا رہے ہيں، يہ کسي بھي صاحب عقل و شعور سے پوشيدہ نہيں ہے ۔آج امريکہ ،يورپ اور ديگر ممالک ميں اسيروں اور مجرموں کے ساتھ جو برتاو کيا جاتا ہے اس کي معمولي مثاليں گوانٹا نامو اور عراق ميں ابو غريب اور ديگر امريکي جيلوں سے ملنے والي کچھ سنسني خيز خبريں ہيں جنہيں سن کر ہر انسان کا بدن لرز جاتا ہے اور دل دہل جاتا ہے. ايک طرف قيديوں کے ساتھ يہ سلوک ہو رہا ہے اور دوسري طرف حضرت عليعلیہ السلاماپنے قاتل کے سامنے دودھ کا پيالہ پيش کر رہے ہيں۔سچ تو يہ ہے کہ عدالت کے تشنہ انسان کو صرف اسلام ہي کے چشمہ زلال اور سر چشمہ حيات سے سيرابي حاصل ہو سکتي ہے ۔حضرت عليعلیہ السلامنے اپنے قاتل کے بارے ميں جو وصيتيں کي ہيں وہ در حقيقت منشور انسانيت ہيں. آپعلیہ السلامفرماتے ہيں :’ديکھو اگر ميں اس ضربت سے جانبر نہ ہو سکا تو ميرے قاتل کو ايک ہي ضربت لگانا؛اس لئے کہ ايک ضربت کي سزا اور قصاص ايک ہي ضربت ہے اور ديکھو ميرے قاتل کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کرنا کيونکہ ميں نے سرکار دوعالم سے سنا ہے کہ خبر دار! کاٹنے والے کتے کو بھي مثلہ نہ کرنا (اس کے بدن کے اعضاء نہ کاٹنا) ۔‘‘(۲۱)
مذہبي اقليتوں کے ساتھ عدالتتاريخ شاہد ہے کہ مذہبي اقليتوں، مثلا اسلامي مملکت ميں رہنے والے عيسائيوں اور يہوديوں وغيرہ کے لئے حضرت عليعلیہ السلامکي حکومت کا زمانہ ان کي پوري تاريخ کا سب سے سنہرا اور پر امن دور ہے. اور ا ن کے علماء اور مفکرين بھي اس حقيقت کا اعتراف کرتے ہيں۔حضرت عليعلیہ السلاماپنے گورنروں کو غير مسلموں کے حقوق اور ان کے احترام کے بارے ميں خصوصي تاکيد کيا کرتے تھے. جس کي ايک مثال مالک اشتر کا عہدنامہ ہے. بطور مثال ،صرف ايک جملہ ملاحظہ ہو :’سارے لوگ تمہار ے بھائي ہيں ، کچھ ديني اور کچھ انساني اعتبار سے ، لہذا تمہيں سب کے حقوق کالحاظ رکھنا ہو گا …‘‘(۲۲)تاريخ ميں يہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ آپ نے ايک پريشان حال بوڑھے عيسائي کو ديکھ کر مسلمانوں کي سخت توبيخ کي اور پھر بيت المال سے اس کے لئے ماہانہ وظيفہ معين کر ديا۔اور معاويہ کے لشکر نے جب ‘ انبار‘‘ پر حملہ کيا اور اس کے ايک سپاہي نے ايک کافر ذمي عورت کا پازيب اور گوشوارہ چھين ليا تو آپعلیہ السلام نے مسلمانوں کو جمع کر کے ايک خطبہ ديا اور فرمايا :’اس دردناک اور شرمناک واقعہ پر اگر کوئي مسلمان افسوس کرتے ہوئے مر جائے تو وہ قابل ملامت نہيں ہے ‘‘۔(۲۳)کيا آج دنيا ميں عدالت کا نعرہ بلند کرنے والي حکومتوں ميں مسلم اقليتيں بھي پر امن اور محفوظ ہيں؟!!
ميں اپنے مقالے کو شاعر کے اس شعر پر ختم کر رہي ہوں :
صلّي الالہ علي جسم تضمنہ قبرفاصبح فيہ العدل مدفوناً
‘ خدا کا درود و سلام ہو اس جسم اطہر پر جس کے دفن ہونے کے ساتھ عدالت بھي دفن ہو گئي۔‘‘
حوالہ جات1۔ قرآن مجيد ،سورہ حديد 252۔ قرآن مجيد ،سورہ مائدہ83۔لسان العرب ج9، ص834۔ علامہ طباطبائي ،تفسير الميزان ،ج12،ص4545۔نہج البلاغہ ،حکمت 4376۔ نہج البلاغہ حکمت 4377۔نہج البلاغہ خطبہ 158۔ نہج البلاغہ خطبہ 39۔نہج البلاغہ خطبہ 3310۔ نہج البلاغہ خطبہ 23411۔ابن المغازلي مناقب علي ابن ابي طالب ص129 12?غرر الحکم ،ج3،ص29413۔ نہج البلاغہ مکتوب 4114۔نہج البلاغہ خطبہ 22215۔نہج البلاغہ خطبہ 12416۔ ابن ابي الحديد ،شرح نہج البلاغہ ،ج7 ،ص3617۔ نہج البلاغہ خطبہ 1518۔ ابن ابي الحديد ، شرح نہج البلاغہ ،ج17،ص6519۔ نوري ، مستدرک الوسائل ،ج3،ص19720۔ مناقب ابن شہر آشوب ،ج2،ص 14721۔نہج البلاغہ ،وصيت 4722۔ نہج البلاغہ ،عہد نامہ مالک اشتر23۔ نہج البلاغہ خطبہ 27