دعا ،قرآن کی روشنی میں
فیض بے نھایت کا مرکز، جود وکرم کا موجیں مارتا ھوا سمندر، ھدایت ورھبری کا انتظام کرنے والا، علم ودانش کو نازل کرنے والاخداوندرب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ھے:” قُلْ مَا یَعْبَاٴُ بِکُمْ رَبِّی لَوْلاَدُعَاؤُکُمْ۔۔۔”[2]”(اے پیغمبر ! ) کہہ دو اگر تمھاری دعائیں نہ ھوتیں تو پروردگار تمھاری پروا بھی نہ کرتا”۔دعا؛ خدا وندعالم کی توجہ کا وسیلہ اور دعا کرنے والے پر رحمت الٰھی کے نزول کا سبب ھے، جس کے ذریعہ انسانی زندگی سے شقاوت اور بدبختی کا خاتمہ ھوجاتا ھے، اور دعا کرنے والے کی زندگی میں سعادت او رخوش بختی آجاتی ھے۔محبت کرنے والوں کا محبوب، عشق کرنے والوں کا معشوق، یاد کرنے والوں کا مونس و غنموا اور شکر گزاروں کا ھمنشین،نیز بندوںکا ناصر ومدد گار اور اھل دل حضرات کا معتمد قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ھے:” وَإِذَا سَاٴَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ اٴُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِی إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی وَلْیُؤْمِنُوا بِی لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُونَ۔”[3]”اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں ان سے قریب ھوں، پکارنے والے کی آواز سنتا ھوں، جب بھی پکارتا ھے ،لہٰذا مجھ سے طلب قبولیت کریں اور مجھ پر ھی ایمان و اعتماد رکھیں شاید اس طرح راہ راست پر آجائیں”۔جی ھاں! خدا کے علاوہ کوئی بھی بندوں سے قریب نھیں ھے، وہ ایسا قریب ھے جس کی وجہ سے انسان وجود میں آیا ھے، اسی نے شکم مادر میں اس کی پرورش کی ھے، رحم مادر سے اس دنیا میں بھیجا ھے، اپنے اس مھمان کے لئے دنیا کی تمام مادی اور معنوی نعمتیں فراھم کی ھےں، اس کی ھدایت اور دنیا وآخرت میں اس کی سعادت اور خوشبختی کے لئے انبیاء کرام کو بھیجا ھے، اور قرآن کریم اور ائمہ معصومین علیھم السلام جیسی بے مثال نعمت سے نوازا ھے، اس کی پیاس کے وقت صاف اور شفاف پانی پیدا کیا ، اس کے کھانے کے لئے مناسب ترین لذیذ غذائیں فراھم کی ھیں اور اس کی بیماریوں کے علاج کا بندوبست کیا۔تنھائی کو دور کرنے کے لئے بیوی بچے اور دوست مھیا کئے۔بدن چھپانے کے لئے مختلف قسم کے کپڑے پھنائے۔لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈالی، اس کی سخت سے سخت مشکلات کو آسان کیا اس کی صحت و سلامتی کو باقی رکھا ،اس کے مرتبہ اور وقار میں اضافہ کیا۔یہ تمام نعمتیں خدا کے علاوہ اور کون دے سکتا ھے، اور خدا کے علاوہ کون ھے جو انسان کی تمام ضرورتوں اور حاجتوں کو جانتا ھو؟ یقینا صرف خدا ھی ھے جو انسان کے سب سے زیادہ نزدیک ھے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ھوتا ھے:”وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہِ نَفْسُہُ وَنَحْنُ اٴَقْرَبُ إِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ۔”[4]” اور ھم نے انسان کو پیدا کیا اور ھمیں معلوم ھے کہ اس کا نفس کیا کیا وسوسے پیدا کرتا ھے اور ھم اس سے رگِ گردن سے زیادہ قریب ھیں”۔انبیائے کرام جو عقل ودرایت ، بصیرت اور کرامت کے لحاظ سے تمام انسانوں سے افضل ھیں اور ان کے دل ودماغ دوسروں سے زیادہ نورانی ھیں، ان کا علم غیب و شھود دونوں کی بہ نسبت کامل اور ایک جیسا ھے، اور تمام چیزوں کی حقیقت کو اسی طرح جانتے ھیں جس طرح سے ھیں، وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کے ساتھ وابستگی قائم کئے رکھتے تھے اور ان کی زندگی میں کوئی دن ایسا نہ آتا تھا جس میں اپنی عمر کا کچھ حصہ دعا میں بسر نہ کرتے ھوں، اور دعا کے ذریعہ اپنے محبوب کی بارگاہ میں حاضر نہ ھوتے ھوں۔کیوں نہ ھو یہ حضرات دعا کو اپنی ترقی کا ذریعہ ،روح کے لئے رشد ، دل کی پاکیزگی اور باطن سے مادیت کا غبار ہٹانے کا ذریعہ اور زندگی کی راہ میں خداوندعالم کے فراق سے پیدا ھونے والی تمام مشکلات کا حل سمجھتے تھے،انھیں اس بات کا یقین تھا کہ خدا کی بارگاہ میں دعا کرنے والا کوئی بھی انسان اپنی حاجت لئے بغیر واپس نھیں پلٹتا۔ اسی وجہ سے دعا کے قبول ھونے پر ایمان رکھتے تھے اور ذرہ برابر بھی شک وترد ید کا شکار نھیں ھوتے تھے، وہ اپنی تمام دعاؤں کے قبول ھونے کے لئے نھایت خضوع کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں درخواست کرتے تھے اور انھیں سوفیصد اطمینان ھوتا تھا کہ ایک محتاج اور نیازمند کی دعا بے نیاز کی بارگاہ میں قبول ھوگی۔قرآن مجید نے اس حقیقت کو واضح طور پر حضرت ابراھیم علیہ السلام کی زبان سے اس طرح بیان کیا ھے:” الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی وَہَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ ۔”[5]”شکر ھے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسی اولاد عطا کی، بے شک میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا ھے”۔دعااس طاقت کا نام ھے کہ جس کے ذریعہ حضرت زکریا علیہ السلام نے بڑھاپے کے عالم میں خداوند رحمن کی بارگاہ میں بیٹے کی درخواست کی اور خداوندعالم نے آپ کی دعا کو مستجاب فرمایا اور آپ اور آپ کی بیوی (جو دونوں ھی بوڑھے تھے) کو حضرت یحییٰ جیسا فرزند عطا کیا۔[6]حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اصحاب کی خواھش اور اصرار پر خداوندعالم کی بارگاہ میں آسمان سے دسترخوان نازل ھونے کی دعا فرمائی، جس کو خداوندعالم نے مستجاب فرمایا اور ان کے اصحاب ودوستوں کے لئے آسمان سے بہترین غدا نازل فرمائی۔[7]خداوندعالم نے اپنے بندوں کو ھر حال میں دعا کرنے ، ھرخوشی اورغم میں اپنی بارگاہ میں سرِ تسلیم خم کرنے کا حکم دیاھے، اور اس کی بارگاہ رحمت میں اپنے ھاتھوں کو اٹھا کر دعا کریں اور ٹوٹے ھوئے دل کی وجہ سے آنکھوں سے نکلے ھوئے آنسو وؤں کے ساتھ اپنی حاجتوں کو خدا کے سامنے پیش کریں اوراس کے حتمی وعدے کے پیش نظر اپنی دعا کے قبول ھونے کی امید رکھےں، اس کا واضح اعلان ھے :”جو شخص دعا سے منھ موڑے گا، ذلیل وخوار ھوگا، اور آخر کار جھنم میں داخل کردیا جائے گا، جیسا کہ سورہ مومن (غافر) میں خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:” وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِی اٴَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ۔”[8]”اور تمھارے پروردگار کا ارشاد ھے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا، اور یقینا جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ھیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جھنم میں داخل ھوں گے”۔
[2] سوہ فرقان آیت ۷۷۔[3] سورہ بقرہ آیت ۱۸۶۔[4] سورہ ق آیت۱۶۔[5] سورہ ابراھیم آیت۳۹۔[6] سورہ مریم ۵ تا ۷۔[7] سورہ مائدہ آیت ۱۱۲تا ۱۱۵۔[8] سورہ غافر(مومن)آیت۶۰۔