تبلیغ اسلام میں جنوں کا کر دار
تبلیغ اسلام کے میں جنوں کا کر داریہا ں تک یہ بات روشن ہو جا تی ہے کہ تمام لوگ (ناس) پیغمبر اسلام ۖ کی تبلیغ کے مخا طب تھے اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا یہ دعوت اسلام جنا ت کو بھی شامل ہے ؟بہ ظا ہر قر آ ن کر یم میں یہ بات صاف طور پر بیان نہیں ہو ئی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ لفظ ‘ناس ‘ (یعنی لوگ )(جو بعض آیات میں آیا ہے جیسے ‘ھُدیً لِلنّاسِ’،’کَا فَّة للنَّا س’ِ اور’بَلَا غ للنَّاسِ’بہ ظا ہر انسانو ں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے اور جنو ں کو شا مل نہیں ہے البتہ سو رئہ ‘ناس ‘ کی آخری آ یتوں میں یہ احتمال پایاجاتا ہے کہ ممکن ہے ‘ناس ‘میں جنو ں کو بھی شا مل رکھا گیا ہو:(مِنْ شَرِّالْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ۔اَلَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِالنَّاسِ۔مِنَ الْجِنَّةِ وَالنََا سِ)(١)’اند ر سے وسوسہ کر نے وا لے کے شر سے پنا ہ ما نگتا ہو ں جو لو گو ں کے دلوں میں وسوسے پیدا کر تا ہے ۔وہ (وسو سہ پیدا کر نے والا )جنات میں سے ہو یا انسا نو ں میں سے ‘عبا رت ‘مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّا سِ ‘میں حرف ‘مِنْ ‘منِ بیانیہ ہے ۔ اس عبارت میںدو احتمال پا ئے جا تے ہیں : ایک تو یہ کہ اس میں ‘خنّا س ‘کی وضا حت کی گئی ہے ۔ دو سرے یہ کہ اس ‘ناس ‘ کے ذریعہ ‘فی صدورالنّا س’ کی وضا حت کی گئی ہو ،چنا نچہ دوسری صورت میں آیات کے معنی یہ ہو ں گے ‘لو گو ں کے دلو ں میں’ یعنی ‘جنا ت اور انسانو ں کے دلوں میں ‘ البتہ حق یہ ہے کہ دو سرا احتمال بہت ضغیف ہے اور لفظ ‘ناس ‘کا ظاہری طو ر پر انسان سے مخصوص ہو نا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن دو سرے احتمال کو صرف احتمال کی حد تک ر د بھی نہیں کیا جا سکتا ۔…………..١۔سورئہ ناس آیت ٤۔٦۔بہر حال جن آیات میں لفظ ‘ ناس ‘استعمال ہو ا ہے وہ صاف طور پر دلالت کر تی ہیں کہ جنا ت اسلام کی دعوت میں شا مل نہیں تھے لیکن جن آیات میں لفظ ‘عا لمین ‘استعمال ہو ا ہے ان سے یہ مطلب نکا لا جا سکتا ہے ۔اس لئے کہ ‘عا لمین ‘ہو ش و خرد رکھنے وا لے تما م عا قلو ں کو شا مل ہے اور اس اعتبار سے اس میں جنا ت کی جما عت بھی شامل ہے ۔ان آیات کے علا وہ بعض روا یات میں بھی آیا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) ‘ثقلین ‘ کی جا نب مبعوث کئے گئے ہیں (١)سورئہ احقاف کی آیات بھی اسی مفہو م کی تا ئید کرتی ہیں ارشاد ہو تا ہے :(وَاِذْصَرَفْنَااِلَیْکَ نَفَراًمِنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْآنَ۔۔۔)(٢)’اور جب (قوم ) جن سے کچھ افراد آپ کے پاس بھیجے کہ قر آن کو سنیں ۔۔۔’۔اس آیت کو اپنا مد عا ثابت کر نے اور اس پر دلیل لا نے کے لئے میں نے اس لئے نہیں پیش کیا کہ معلوم ہے آیت میں اس بات کی کو ئی تصر یح نہیں کی گئی ہے کہ پیغمبر اسلام ۖنے جنو ں کو اپنا پیغام سنا نے کے لئے دعو ت دی ہو بلکہ ممکن ہے خدا وند عالم نے خود کو ئی سبیل نکا لی ہو کہ جنو ں کا ایک گروہ خود آئے اور پیغمبر کی با تیں غور سے سنے ۔دوسری بات یہ کہ حتی اگر ہم اس بات کو تسلیم کر لیں کہ جن پیغمبر اسلام ۖکی دعو ت کے مخا طب نہیں تھے اور آپ کی تبلیغ انسا نو ں سے مخصو ص تھی تو بھی گز شتہ مطالب کی بنیاد پر جنو ں کا فر یضہ تھا کہ پیغمبر اسلام ۖکی دعوت سے آ گا ہی کے بعد اس کو قبو ل کر ے اور اس پر ایمان لا ئے ۔