استکبار اور استضعاف کی اہمیت

236

قر آ ن کی رو سے استکبا ر اور استضعاف کا مطلب بیان کر نے کے بعد یہ مطلب بیان کر دینا ضرو ری ہے کہ کیا قر آن کی رو سے استکبا ر اور مستضعفین کی خا ص اہمیت ہے ؟ یا اخلاقی لحا ظ سے ان کا بذا ت خود کو ئی مثبت یا منفی رخ نہیں ہے ؟جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ استکبا ر میں چو نکہ اپنے کو بڑا سمجھنے ، فخر و مبا ہات کر نے اور ایک دوسرے پر بر تری جتا نے کے معنی پا ئے جا تے ہیں لہٰذا یہ اخلا قی اعتبا ر سے ایک بری صفت سمجھی جا تی ہے اور ہم یہ پہلے عرض کر چکے ہیں کہ ( یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَا دَ تِیْ )کے مثل تعبیر و ں میں حق سے رو گر دا نی کر نا اور طغیا ن و سر کشی کر نے کے معنی پائے جا تے ہیں اور اخلا قی اعتبا ر سے یہ تمام صفتیں مذ مو م ہیں ۔ اس بنا پر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قر آ ن کر یم میں (استکبار ) ایک گرا ہوا ،ناپسند اور منفی رخ کا حا مل امر ہے ۔لیکن استضعاف کا مسئلہ دوسرا ہے استضعاف میں بذات خود منفی مفہوم نہیں پا یا جاتا۔کیونکہ یہ کلمہ حقیقت میں ایک شخص کے بارے میں دوسرے اشخاص کے رو یہ اور طرز فکر کو بیان کرتا ہے خود کسی شخص کی صفت بیان کرنانہیںہے اور اسی وجہ سے استضعاف کے افعال مجہول استعمال ہوتے ہیں معروف میں استعمال نہیںہوتے : (اُسْتُضْعِفُواْ) یعنی کمزور شمار کیے گئے یا(کمزور)بنادیئے گئے؛(اِسْتَضْعَفُوْا) ‘یعنی کمزوری کا اظہار کرنااستعمال ‘نہیںکرتے البتّہ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ زیادہ تر مقامات پر جہاں مستضعفین یعنی (کمزورو بنادیئے گئے یاشمار کئے گئے) استعمال ہواہے،اس کے مصادیق حقیقت میں بھی بعض پہلو سے کمزور و محروم تھے لیکن یہ کمزوری اور محرومی (مثال کے طورپر مادی اعتبار سے فقیر ہونا یا معاشرہ میں کسی عہد ہ پر فائز ہونا) بذات خود بری بات نہیں ہے ۔دوسرا قابل توجہ نکتہ ‘استکبار’اور دولتمند ہونے کا تعلق ہے ۔بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ تمام دولتمند افراد مستکبرہیں اور کبھی کبھی ان دونوںلفظوں کو ایک دوسرے کے مترادف شمار کرلیتے ہیں لیکن یہ تصور غلط ہے ۔جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ’استکبار’ اس اعتبار سے کہ اس کا مطلب خود کو بڑا سمجھ لینا ہے اور اس کے اندر حق کے مقابلہ میں طغیان و سرکشی کرنا شامل ہے جو ایک مذموم بات ہے اورایک منفی رخ پایاجاتا ہے لیکن استکبار کا مطلب نہ تو دو لتمند ہوناہے اور نہ ہی دونوںایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں لہٰذا استکبار سے متعلق آیات کی بنیاد پرقطعی نہیں کہا جاسکتا کہ دولتمندہونا با لذات نا پسند چیز ہے اورہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ تاریخ میں سب سے زیادہ دولت رکھنے والوں میں سے ایک حضرت سلیمان علیہ السلام بھی ہیں ۔تو کیا پیغمبر خدا کو، صرف ان کے پاس دولت ہونے یا معاشرہ میں ممتاز مقام وحیثیت ہونے کی وجہ سے مستکبر کہا جاسکتا ہے؟قطعاًایسانہیںکہا جاسکتا ۔تو معلوم ہواکہ کسی کو صرف اسکے دولتمندہونے یاکسی سماجی عزت و منصب پر فائز ہونے کے سبب مستکبر نہیں سمجھناچاہئے ۔اس مدعا کا دوسرا شاہد یہ ہے کہ قرآ ن کریم کی روسے ایک روزخود مستضعفین مقام ولایت وحکومت پر فائز ہوںگے اور معاشرہ میں اعلی سماجی حیثیت حاصل کریںگے :(وَنَجْعَلَھُمْ اَئمِةً وَنجْعَلُھُمْ۔۔۔)(١)’اورہم ان کو (لوگوں کا )پیشوا قراردیں گے اور ان کو (زمین کا)وارث بنادیں گے ‘کیا یہ گروہ صرف وعدئہ الٰہی پورا ہوتے ہی واضح متکبروں کی صف میں شمارکیا جانے لگے گا ؟اسی طرح قرآن کے بقول مستضعفین مستکبروں کے وارث ہو ںگے اور ان کا اموال و اسباب سب کچھ اپنے اختیار میں لیںگے :(وَاَوْرَثْنَاالْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْایُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَٰرِقَ الْاَرْضِ وَمَغَٰرِبَھَاالَّتِیْ بٰرَکْنَافِیْھَا۔۔۔)(٢)’اور جن گروہ کو مسلسل محروم وکمزور رکھا گیاانھیں (سرزمین فلسطین کا )ایک مغربی اور مشرقی حصہ ہم نے وراثت میں عطا کردیا ۔۔۔’۔…………..١۔سورئہ قصص آیت٥۔٢۔سورئہ اعراف آیت ١٣٧۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.