تبرک حاصل کرنا
پیغمبر اور آپ كے باقیماندہ آثار سے تبرك حاصل كرنے كے جواز پر كیا دلیل پائی جاتی ھے؟ آیا یہ عمل توحید جو كہ دین اسلام كا اصلی شعار ھے، سے سازگاری ركھتا ھے ؟
خداوند متعال كو اس كی خالقیت اور آفرینش میں وحدہ لاشریك قرار دینا توحید كے مراتب میں سے ایك مرتبہ ھے، اس كا مطلب یہ ھے كہ كائنات كا خالق صرف ایك ھے اس كے علاوہ اور كوئی نھیں، كائنات اپنے تمام مختلف جلووں كے ساتھ اسی خدا كی خلق كردہ ھیں، تمام مخلوقات چاھے وہ مادی ھوں یا غیر مادی ذاتی طور پر ہر قسم كے كمال سے فاقد اور بے بہرہ ھیں، اگر ظاہری طور پران میں كمال پایا جاتا ھے تو بس اسی كی مشیت اور ارادہ كی مرھون منت ھیں، اور اس بارے میں مشرك اورموحد ایك طرح ھیں، قرآن نے اسی چیزكو ”یعنی كائنات كی خلقت مشرك اورموحد كے اعتبار سے مساوی ھے“ قضیہ شرطیہ كے طورپربیان كیا ھے، جیسا كہ ارشاد ھوا :
<وَلَئِنْ سَاٴَلْتَھم مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُولُنَّ اللهُ فَاٴَنَّا یُؤْفَكُونَ>1
ترجمہ: اے رسول!اگر تم ان سے پوچھو كہ (بھلا) كس نے سارے آسمان وزمین كو پیدا كیا؟ اورچاندو سورج كو كام میں لگایا، تو وہ ضرور یہی كہیں گے كہ الله نے، پھر وہ كہاں بہكے چلے جاتے ھیں ۔
عصر رسالت كے مشركین اور موحدین كے درمیان تدبیرعالم كااختلاف تھا، موحد ین كا كہنا تھا كہ صرف خداوندعالم ھی اس نظام ھستی كا مدبر ھے، یعنی اس كائنات كو چلانے والا تنھا ذات وحدہ لاشریك ھے، لیكن وہ كہتے تھے كہ اس میں ان جھوٹے خداوٴوں كا بھی حصہ ھے، یعنی عالم كی تدبیر میں ھمارےھاتھوں سے بنائے ھوئے خدا بھی شركت ركھتے ھیں ۔
جب ھم نے اس قاعدہ اور اصل كو قبول كرلیا كہ اس عالم كا مدبر صرف خدا وندمتعال ھے، تو اس كایہ مطلب نھیں كہ مخلوقات ایك دوسرے كیلئے موٴثر نھیں، یعنی مذكورہ قاعدہ اس بات كو نھیں كہتا كہ موجودات عالم ایك دوسرے كیلئے تاثیر نھیں ركھتے، كیونكہ قرآنی، علمی اور فلسفی دلائل سے یہ بات ثابت ھو چكی ھے كہ موجودات عالم باھم علت و معلول كارشتہ ركھتے ھیں، خدا وند متعال نے اس عالم كو علت اور معلول كے نظام پر سنوارا ھے، یعنی یہ كائنات اسباب ومسببات كے نظام پرقائم ھے، ہرسابق وجود؛ اپنے مابعد كے وجود میں (خاص شرائط كے اعتبار سے) تاثیر ركھتا ھے، لیكن تمام موجودات عالم اپنے موٴثر اور اثر سے خدا كی مشیت اور ارادہ كے سایہ میں تاثیر پذیر ھوتے ھیں، جیسے سورج كی چمك، چاند كی روشنی، آگ كی حرارت، اور درختوں كی (پانی وغیرہ كے ذریعہ) پرورش، یہ تمام چیزیں خدا كی مشیت كے بعد ھی انجام پاتی ھیں، اگرایك لحظہ بھی خدا كی مشیت نہ ھوتویہ عالم درھم برھم ھوجائے، اور كچھ كائنات میں باقی نہ بچے ۔
المختصریہ كہ اس كائنات میں صرف ایك ھی واقعی اورحقیقی سبب ھے، اور وہ صرف خدا ھے، لیكن اس كے باوجود اس عالم میں ایك فرعی اور تبعی (عارضی) اسباب و علل كا رشتہ بھی كارفرما ھے جو خدا كی مشیت اور اس كے اذن سے اس عالم كے محرِّك ھیں، مثلاً درختوں اور انسانوں كی زندگی كی پرورش عادی اور طبیعی چند عناصر پرموقوف ھے، اگریہ عناصرو عوامل (جیسے پانی، ھوااورروشنی)اٹھالئے جائیں توانسان كی زندگی خطرہ میں پڑ جائےگی، البتہ خدا كی مشیت ان عوامل سے پہلے موٴثرھے، یعنی ان تمام اسباب وعوامل كی حاكم؛ اس كی مشیت اور ارادہ ھے، گویایہ ظاہری علل و اسباب ارادہ خدا كے لشكری ھیں، اور وہ یعنی خدا كا ارادہ كل ظاہری علل و اسباب كا كمانڈر ھے، سب اسی كے فرمانبردار ھیں۔
قرآن كریم سورہ بقرہ میں ان عادی عوامل كی تاثیر- جسے فلسفی اصطلاح میں ظلی تاثیر كہتے ھیں-كی تصریح ان الفاظ میں كرتا ھے:
< الَّذِی جَعَلَ لَكُمْ الْاٴَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَاٴَنْزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِہِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلاَتَجْعَلُوا لِلَّہِ اٴَندَادًا وَاٴَنْتُمْ تَعْلَمُونَ > 2
ترجمہ: جس نے تمھارے لئے زمین كو بچھونا اور آسمان كو چھت بنایااور آسمان سے پانی برسایا، پھر اسی نے تمھارے كھانے كیلئے بعض پھل پیدا كئے، پس كسی كو خدا كا ھم سر نہ بناوٴ، حالانكہ تم خوب جانتے ھو ۔
آیت میں لفظ ” بہ“ میں "ب" سببیت كے معنی كو بتاتا ھے، یعنی خدا وندمتعال پانی كو پھلوں كی پرورش میں ایك موٴثر عامل ھونے كی تصریح كر رھاھے ۔
درحقیقت (اس) علم كا كام دنیا میں یھی ھے كہ وہ مخلوقات كے درمیان پائے جانے والے روابط كی تحقیق كرے تاكہ ان كے مابین پائے جانے والے مادی اور طبیعی (عادی) اسباب وعلل معلوم ھو سكیں، اور اس كے وجود كو اس طرح پہچانے، تاكہ ان كے منافع سے فائدہ اٹھائے اور ان كے ضرر سے دور رھے ۔
مادی دنیا كی غلط فھم ی یھی ھے كہ وہ صرف اس ظاہری عالم كو دیكھتی ھے، اور اس كے عارضی اسباب كو مستقل سمجھ لیتی ھے، جبكہ درحقیقت اس نظام كے پس پشت ایك واقعی سبب كارفرما ھے جوحقیقت میں حقیقی اس كائنات كا حقیقی مدبر ھے، اور تمام موجودات زمین و آسمان، كی تاثیر گزاری اسی كی مشیت كی بنا پر ھے، عالم اسی كے نظام كے تحت چل رھا ھے، اور آگے بڑھ رھا ھے ۔
مولوی نے اس حقیقت كو چند اشعار كے ضمن میں بیان كیا ھے:
دست پنھان و، قلم بین خط گذار
اسب در جولان و، نا پیدا سوار
گویا حركت دینے والے ھاتھ پنھاں ھیں، اورقلم بین السطور لكھ رھا ھے، گھوڑا حركت میں ھے لیكن اس كا سوار پوشیدہ ھے۔
گہ بلندش می كند، گاھیش پست
گہ درستش می كند، گاھی شكست
كبھی اسے بلند كرتا ھے، اور كبھی نیچے، كبھی صحیح كرتا ھے تو كبھی توڑتا ھے ۔
گہ یمینش می برد، گاھی یسار
گہ گلستانش كند، گاھیش خار
كبھی دائیں لیجاتا ھے تو كبھی بائیں، كبھی گلستان كرتا ھے تو كبھی كانٹے۔
تیر پران بین، وناپیدا كمان
جانھا پیدا و پنھاجان جان
گویا تیرحركت كرتے دكھائی دے رھا ھے، اور اس كی كمان پوشیدہ ھے، یعنی جانیں سامنے ھیں لیكن ان كا خالق پنھاں ھے۔
تیر را مشكن كہ این تیر شھی است
نیست پرتابی زشصت آگھی است
تیر كو مت توڑو كہ یہ بادشاہ كاتیر ھے، یہ نھیں چھوڑا گیا ھے مگر باخبر ھاتھوں سے چھوڑا گیا ھے ۔
ما رمیت اذ رمیت گفت حق
كارحق بر تارھا دارد سبق
”مارمیت اذ رمیت“ كہ جسے خدا نے ارشاد فرمایا، اس سے پتہ چلتا ھے كہ خداكا كام كمان كی اس ڈوری سے بھی پہلے كار گر ھوتا ھے كہ جس كی مدد سے تیر چھوڑاجاتا ھے ۔ 3
پروین اعتصامی كہتی ہیں:
ما بہ دریا حكم طوفا ن می دھیم
ما بہ سیل و موج فرمان می دھیم
ھم ھی دریا كو طوفان پیداكرنے كا حكم دیتے ھیں، ھم ھی سیلاب وامواج كو فرمان صادر كرتے ھیں۔
نقش ہستی، نقشی از ایوان ما است
خاك و باد و آب، سرگردان ما است
یہ كائنات ھمارےھی تیار كردہ محل كابرآمدہ ھے، یہ مٹی دھول، ھوااورپانی سب ھمارےھی حكم سے سرگرداں اورحركت میں ھیں۔
قطرہ ای كز جویباری می رود
از پی انجام كاری می رود
پانی كاوہ قطرہ جو ایك ندی سے باہر نكلتا ھے وہ بھی كسی مقصد كے تحت باہرجارھا ھے ۔ 4
خدا سبب ساز اور سبب سوز ھے
جیسے خدا كی مشیت سببیت اور سبب سازی سے متعلق ھوتی ھے اسی طرح كبھی اس كی مشیت اس بات سے متعلق ھوتی ھے كہ عادی اسباب سے ان كی سببیت كو سلب كرلے، مثلاً آگ كی طبیعی (عادی) سببیت یہ ھے كہ وہ جلائے لیكن خدا اس كی سببیت كو ختم كردیتا ھے، اور اس كو حكم دیتا ھے كہ وہ حضرت ابراھیم كو نہ جلائے، دریا كو حكم دیتا ھے كہ وہ موسی اور ان كی قوم كو غرق نہ كرے، اس طرح خدا كبھی سبب ساز (یعنی سببیت پیداكرتا ھے) ھے تو كبھی سبب سوزھوتا ھے یعنی اس كی سببیت كو سلب كرلیتا ھے، مولوی نے اس حقیقت كو اپنے اشعار میں اس طر ح بیان كیا ھے:
در خرابی، گنج ھا، پنھان كند
خار را گل، جسم ھا را جان كند
خدا كی ذت وہ ھے جو خرابے اور بیابان میں خزانے پنھاں ركھتی ھے، وہ كانٹوں كو پھول اور بے جان جسموں كو جاندار بنادیتی ھے۔
آن گمان انگیز را سازد یقین
مہرھا انگیزد از اسباب كین
خدا وہ ھے جو خواب و خیال كو محكم یقین میں تبدیل كردیتا ھے، اوراسباب بغض وعناد سے محبتیں پیدا كر دیتا ھے ۔
پرورد در آتش ابراھیم را
ایمن روح سازد، بیم را
وہ ابراھیم كو آتش نمرود میں پرورش كرتا ھے، وہ ڈر كو چین و سكون میں تبدیل كردیتا ھے ۔
از سبب سازیش من سودائیم
و زسبب سوزیش سوفسطائیم
اس كی سبب سازی كا میں عاشق ھوں، لیكن اس كی سبب سوزی سے متعجب ھوں
در سبب سازیش سرگردان شدم
در سبب سوزیش ھم حیران شدم 5
اس كی سبب سازی كے عشق میں، میں سرگرداں اور پریشان ھوں، لیكن اس كی سبب سوزی سے دنگ و حیران ھوں ۔
جب حضرت موسی كو ان كی ماں نے دریائے نیل میں ڈالا لیكن ان كے اسباب موت ان كیلئے اسباب حیات بن گئے، اس بارے میں پروین اعتصامی كہتی ھیں:
سطح آب از گاھوارش خوشتر است
دایہ اش سیلاب و موجش مادر است
(جس دریا میں حضرت موسی علیہ السلام كا صندوق تیر رھا ھے) اس كے پانی كی سطح گھوارے سے اچھی ھے، كیونكہ اس كی جنبانی كرنے والی دایہ دریا كے سیلاب ھیں، اور اس كی موجیں ماں ھیں۔
بحر را گفتم، دگر طوفا ن مكن
این بنای شوق را ویران مكن
میں (خدا) نے دریا كو حكم دے دیا ھے كہ طوفان پیدا نہ كرے، اور عشق و محبت كی عمارت كو ویران نہ كرے ۔
صخرہ را گفتم، مكن با او ستیز
قطرہ را گفتیم، بدان جانب مریز
پتھر سے كہہ دیا ھے كہ وہ اس صندوق سے نہ ٹكرائے، دریائی قطروں كو حكم دے دیا ھے كہ وہ اس كی جانب قدم نہ بڑھائیں ۔
امر دادم باد را، كان شیر خوار
گیرد از دریا، گزارد در كنار
ھواؤں كو حكم دے دیا گیا ھے كہ وہ اسے شیر خوار بچے كی طرح دریا سے اٹھا كر ایك كنارے پیار سے ركھ دے ۔
سنگ را گفتم بزیرش نرم شو
برف را گفتم كہ آب گرم شو
سنگریزوں سے میں نے كہہ دیا ھے كہ وہ اس كے نیچے نرم ھوجائیں، اور برف سے كہہ دیا ھے كہ وہ اس كیلئے آب گرم كی مانند ھوجائے ۔
خار راگفتم كہ خلخالش مكن
مار را گفتم كہ طفلك را مزن
كانٹوں سے كہہ دیا ھے كہ اس كے نہ چبھیں، اور سانپ كو آڈر دے دیا ھے كہ وہ اس بچے كو ڈنگ نہ مارے ۔ 6
خدا كی سبب سازی كا دوسرا جلوہ
خدا كی مشیت اس بات سے متعلق ھوتی ھے كہ كائنات كی ہرموجود شےٴاپنے خاص طبیعی ( عادی) سبب كے تحت وجود میں آئے، لیكن كبھی بعض مصالح كی بناپركچھ موجودات اپنےغیر عادی اسباب كے ذریعہ وجود میں آتے ھیں، اوریہ اس لئے ھے كہ تا كہ الله كے انبیاء اس كے ذریعہ یہ ثابت كر سكیں كہ ان كا رابطہ اس كائنات سے بر تر وافضل ذات سے مرتبط ھے، اس خاص عمل كو معجزہ كہا جاتا ھے، انبیاۓ كرام كے معجزات بغیر كسی استثناء كے اسی راستہ سے عالم وجود میں قدم ركھتے ھیں، یقینی طور پر خشك لكڑی كا اژدھا ھونا، عصائے موسی كے ذریعہ پانی كاایك طرف ھوجانا، نابینا لوگوں كا بینا ھونا اور لا علاج مریضوں كا صحت یاب ھونا، یہ سب وہ چیزیں ھیں جو اپنے غیر عادی راستے سے وجود میں آۓ ھیں، لہٰذا یھاں سے نتیجہ یہ نكلتا ھے كہ اكثر اوقات فیوض الٰھیہ ھم تك طبیعی اور عادی اسباب كے ذریعہ پہنچتے ھیں، لیكن خاص مواقع پر خدا كا وھی فیض طبیعی اور عادی راستے سے ہٹ كر پہنچتا ھے، اسی كو اصطلاح میں معجزہ كہا جاتا ھے، البتہ اس صورت میں كہ معجزہ كو انجام دینے والا اثبات نبوت كے مقام میں ھو، اور اس كا ارتباط عالم غیب سے ھو، لیكن اگریہ كام دعوی نبوت كے ساتھ نہ ھو تو كرامت كہلاتا ھے ۔
جناب مریم كی دو كرامتیں
قرآن كریم جناب مریم كی دو كرامتوں كا تذكرہ كرتا ھے:
1۔ وہ ھمیشہ محراب عبادت میں اپنے سامنے اپنی روزی كو پاتی تھیں، جب حضرت ذكریا علیہ السلام ان سے سوال كرتے تو مریم كہتی:
<ہٰذَامِنْ عِنْداللهِ اِنَّ اللهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشاءُ بِغَیْرِحِسَابٍ> 7
یہ الله كی جانب سے ھے بیشك الله جسے چاھتا ھے اسے بے حساب رزق دیتا ھے ۔
2۔ جب حضرت عیسی كی ولادت كا وقت قریب ھوا توجناب مریم شدت درد كی وجہ سے ایك خشك كھجور كے درخت كے نیچے چلی جاتی ھیں، اور اس سے ٹیك لگا كر بیٹھ گئیں، خطاب ھوا: اس خشك درخت كو ہلاوٴ تاكہ اس سے تازہ رطب گریں۔
< وَہُزِّی اِلَیْكَ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاْقِطْ عَلَیْكِ رُطَباً جَنِیًّا > 8
ترجمہ: (اے مریم !) اور خرمے كی جڑ پكڑ كر اپنی طرف ہلاوٴ تم پر پكے پكے تازے خرمے جھڑ پڑیں گے ۔
مذكورہ مقامات پرجناب مریم كے مقام و منزلت اور ان كے پاكیزہ نفس ھونے كی بناپر خدا نے یہ چیزیں ( تازہ كھجوراور اور جنتی كھانا) غیرعادی راستے سے بھیجیں، بغیر اس كے كہ وہ اپنے مقام و منزلت كادعوی كرتیں ۔
جب آپ كرامت اور معجزہ كی خصوصیات سے آشنا ھوگئے، تو اب ھم مفھوم تبرك پر قدرے روشنی ڈالتے ھیں۔
تبرك كیا ھے ؟
تبرك؛ لفظ ”بركت“ سے اخذ كیا گیا ھے جس كے معنی زیادتیٴنعمت كے ھیں، یعنی نعمت میں اضافہ ھونا۔
اصطلاح میں تبرك كے معنی یہ ھیں كہ كوئی مسلمان كسی ذات سے یا انبیاء اور صالحین بندوں كے باقیماندہ آثار كے ذریعہ خیر و بركت (اور زیادتی نعمت ) طلب كرے ۔
كسی ذات یاانبیاء اور صالحین بندوں كے باقیماندہ آثار كے ذریعہ خیر و بركت طلب كرنے كا مطلب یہ نھیں كہ تبرك طلب كرنے والے نے اس اقدام سے امور متحقق ھونے كے طبیعی اور عادی راستوں كو بند كردیا، بلكہ اس كا مطلب یہ ھے كہ اس كے باوجود كہ وہ عادی اسباب سے متوسل ھے، اس نے اپنے لئے باب تبرك بھی باز كیا ھے، اور وہ اس طریقہ سے بھی خدا كے فیض كا طلب گار ھوا ھے ۔
یقینا انبیاء اور خدا كے صالح بندوں كے باقی رھےآثاراوروہ خیر و بركت جسے بشر اس راستہ سے حاصل كرتا ھے، ان كے درمیان كوئی مادی رابطہ نھیں ھے، لیكن جیسا كہ ھم نے اس سے پہلے كہا كہ كبھی خدا كا فیض غیر طبیعی راستوں سے انسان تك پہنچتا ھے، اور خدا كی مشیت اس سے متعلق ھوتی ھے كہ یہ شخص اس پاك ذات اور اس سے باقی ماندہ آثار سے توسل كرے، اور اس راستے سے اس كی حاجتیں پوری ھوں، یہ ایك ایسی حقیقت ھے جس كی قرآن نے بھی تصدیق فرمائی ھے، اور اس بارے میں متواتر روایات بھی نقل ھوئی ھیں، اور نہ كوئی عقلی طور پر مانع پیش آتا ھے كہ وہ آثار جو صالحین بندوں سے منسوب ھیں وہ موٴثر نھیں ھو سكتے ۔
اب ھم ان آیات كی وضاحت كرتے ھیں جو اس بارے میں پائی جاتی ھیں :
1۔ مقام ابراھیم سے تبر ك حاصل كرنا
خداوند متعال نے زمین كے بعض ان حصوں كو جائے عبادت قرار دیا ھے جھاں كی زمین توحید كی علمبرداروں كے جسموں سے متمسك اور وابستہ رھی، جیسے حكم ھوا كہ مقام ابراھیم میں نماز پڑھو :
<وَإِذْجَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَاٴَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی وَعَہِدْنَا إِلَی إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ اٴَنْ طَہِّرَا بَیْتِی لِلطَّائِفِینَ وَالْعَاكِفِینَ وَالرُّكَّعِ السُّجُود>9
ترجمہ: (اے رسول! وہ وقت بھی یاد دلاوٴ ) جب ھم نے خانہٴ كعبہ كو لوگوں كے ثواب اور پناہ كی جگہ قراردی اور (حكم دیا كہ) ابراھیم كی ( اس) جگہ كو نماز كی جگہ بناوٴ، اور ابراھیم و اسماعیل سے عہد و پیمان لیا كہ میرے اس گھر كو طواف اور اعتكاف اور ركوع و سجدہ كرنے والوں كیلئے صاف ستھرا ركھو ۔
مسجد الحرام كے اس مقام پر نماز ادا كرنا اس كے دوسرے مقامات سے كوئی فرق نھیں ركھتا سوائے اس كے كہ یہ جگہ حضرت ابراھیم كے مقام كی بنا پر زیادہ متبرك ھے، لہٰذا نمازی حضرات یھاں نماز ادا كركے زیادہ بركت حاصل كرنا چاھتے ھیں ۔
دوسری جگہ ارشاد ھوتا ھے كہ مسعی ( وہ جگہ جو كوہ صفا اور مروہ كے درمیان پڑتی ھے ) كو جائے عبادت قرار دو، كیونكہ ایك موحد اور جانثار عورت كے مبارك قدم سات دفعہ اس زمین سے متمسك اور وابستہ رھے اس لئے حكم ھوتا ھے كہ زائرین سات مرتبہ ان دونوں پھاڑوں كی درمیان رفت و آمد كریں، یہ كام اس كے علاوہ كچھ نھیں علت ركھتا كہ اس جگہ سے بركت كا حاصل كرنا ھے ۔
2۔ حضرت یوسف كی قمیص اور جناب یعقوب كی بینائی كاپلٹنا
حضرت یعقوب یوسف كے فراق میں سالھا سال روتے رھے، یھاں تك ان كی بینائی ختم ھوگئ، تو خدا اب چاھتا ھے كہ ان كی بینائی كو واپس كرے، یوسف كی قمیص كو جیسے ھی اپنے چہرے پر ركھتے ھیں تو ان كی بینائی پلٹ آتی ھے، چنانچہ ارشاد ھوا :
<اِذْہَبُوْا بِقَمِیْصِیْ ہٰذَاْفَاَلْقُوْہُ عَلٰی وَجْہِ اٴَبِی یَاٴتِ بَصِیْراً> 10
میری اس قمیص كو لیجاوٴ اور اسے ان كی آنكھوں پر ڈال دو تاكہ ان كی بینائی آجائے۔
واضح رھے كہ جناب یوسف كی قمیص كی بنائی دیگر قمیصوں سے كوئی جدا نھیں تھی، یہ قمیص بھی اسی شہرمصر كی روئی سے بنی سلی ھوئی تھی، جس سے دوسری قمیصیں سلی جاتی تھیں، لیكن خدا كی مشیت اس سے متعلق ھوئی كہ اپنے بندے پر فیض اس راستہ سے پہنچائے، لہٰذا یعقوب نے جیسے ھی اس قمیص كو اپنی آنكھوں پر ڈالا ان كی بینائی آ گئی، چنانچہ قرآن میں ا رشاد ھوتا ھے:
< فَلَمَّاْ اَنْ جَاءَ الْبَشِیْرُاَلْقَاہُ عَلٰی وَجْہِہِ فَاْرْتَدَّ بَصِیْراً> 11
جب خوشخبری دینے والا آیا اور ان كے چہرے پر اس قمیص كو ڈالا تو ان كی بینائی آگئی ۔
3۔ صندوق عہد یعنی سكون و كامیابی كا وسیلہ
حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی عمر كے آخری حصہ میں ان الواح كوجن پرخدا كے احكام لكھے ھوئے تھے اور اپنی زرہ اور دوسری یادگار ایك صندوق میں ركھ دیں اور اپنے وصی یوشع بن نون كے سپر د كردیا، اس لئے بنی اسرائیل كی نظر میں اس صندوق كی اھم یت بہت زیادہ ھوگئی، چنانچہ جب ان كے دشمنوں كے درمیان كوئی جنگ واقع ھوتی تو اس كو اپنے ساتھ حمل كركے لیجاتے، اور اس طرح اپنے دشمنوں پر كامیابی حاصل كرتے، جب تك انھوں نے اپنے دینی تقدسات كو محفوظ ركھا یہ صندوق ان كے پاس رھا، اوروہ كامیاب ھوتے رھے، اورہر جگہ سر اٹھا كر زندگی كرتے رھے، لیكن جب دینی اعتبار سے یہ لوگ انحطات میں آئے تو دشمنوں نے ان كے اوپر غلبہ پالیا اور وہ صندوق بھی ان سے چھین لیا ۔
ایك مدت كے بعد خدا كے حكم سے طالوت كو بنی اسرائیل كے لشكر كا سردار بنایا گیا، اور ان كے موجودہ پیغمبر نے ان سے بتایا كہ اس كی سرداری خدا كی جانب سے ھے، اور اس كی نشانی یہ ھے كہ وہ صندوق جو تمھارے سكون اور كامیابی كی دلیل تھا وہ جنگ كی صورت میں تمھارے پاس آجائے گا :
<وَقَالَ لَھم نَبِیُّھم إِنَّ آیَةَ مُلْكِہِ اٴَنْ یَاٴْتِیَكُمْ التَّابُوتُ فِیہِ سَكِینَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِیَّةٌ مِمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَی وَآلُ ہَارُونَ تَحْمِلُہُ الْمَلاَئِكَةُ إِنَّ فِی ذَلِكَ لَآیَةً لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِینَ>12
ترجمہ:اوران كے نبی نے ان سے ( یہ بھی )كھا كہ اس (طالوت)كے (منجانب الله) بادشاہ ھونے كی ھونے كی یہ پہچان ھے كہ تمھارے پاس وہ صندوق آجائے گا، جس میں تمھارے پروردگار كی طرف سے تسكین دہ چیزیں اور ان تبركات میں سے بچا كچھا ھوگا جو موسی اور ھارون كی اولاد یادگار چھوڑ گئی ھے، اور صندوق كو فرشتے اٹھائے ھوں گے، اگر تم ایمان ركھتے ھو تو بیشك اس میں تمھارے واسطے پوری نشانی ھے ۔
قرآن كریم نے اس جگہ بنی اسرائیل كی جانب سے صندوق كے ذریعہ بركت طلب كرنے كے واقعہ كو ایك نبی كی زبانی نقل كیا ھے، اور اس كی عظمت كیلئے یھی كافی ھے كہ قرآن كریم نے اس صندوق كے اٹھانے والوں كوفرشتے بتایا ھے، لہٰذااگر یہ كام اصول توحید كے خلاف ھوتا تو ان كا نبی ان كے اس كام كوایك خوش خبری كے طور پر نہ سناتا ۔
4۔ اصحاب كہف كی جائے خواب سے بركت حاصل كرنا
اصحاب كہف كے مدفن كی خبر پانے كے بعد تمام توحید پرست نماز یوں نے اس بات پر اتفاق نظر كیا ھے كہ ان كے سامنے مسجد بنائیں، اور ان كے اجساد كے كنارے عبادت كركے بركت حاصل كریں، چنانچہ قرآن اس حقیقت كو اس طرح نقل كرتا ھے :
<قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلَی اَمْرِھم لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھم مَسْجِداً>13
ترجمہ: ان كے بارے میں جن ( مومنین) كی رائے غالب رھی انھوں نے كہا كہ ھم تو ان ( كی غار) پر ایك مسجد بنائیں گے ۔
مفسرین كہتے ھیں كہ نمازیوں كی طرف سے اس جگہ مسجد بنانے كا مقصداصحاب كہف كے جسموں سے بركت حاصل كرنا ھے ۔
بہر كیف تبرك كے بارے میں انھیں چند آیات كے بیان پر اكتفا كرتے ھیں، كیونكہ انھیں آیات میں توجہ كرنے سے ایك علمی اور قرآنی اصل كا پتہ چلتا ھے، وہ یہ كہ خدا كی مشیت اگرچہ اسی بات سے متعلق ھوتی ھے كہ وہ اپنی مادی اور معنوی نعمتوں كو طبیعی اور عادی اسباب كے ذریعہ انسان تك پہنچائے، اور اس مسئلہ میں مادی اور معنوی امور میں فرق نھیں پایا جاتا ھے، مثلاً خدا لوگوں كی ہدایت میں عادی اسباب سے استفادہ كرتا ھے، اور رسولوں كوان كی ہدایت كیلئے بھیجتا ھے، لیكن اس كے باوجود كبھی خدا كی مشیت اس چیز سے متعلق ھوتی ھے كہ اس كا فیض غیر طبیعی (عادی) راستوں سے بشر تك پہنچے، اور تبرك حاصل كرنے كا مقصد اس كے علاوہ اور كچھ نھیں كہ انسان غیر طبیعی سبب كے ذریعہ فیض الٰھی كو طلب كرے ۔
تبرك كامحرك
تبرك كی محرك اور باعث دوچزیں ھیں:
1۔ معنوی آثاراور فیوض الٰھی كی امید، یہ دونوں چیزیں كبھی غیر طبیعی راستہ سے انسانوں سے تك پہنچتی ھیں، جیسا كہ اس كی مثالوں كو ھم نے آ پ كے سامنے بیان كیا۔
2۔ رسول اسلام (ص)، آپ كی آل اور سچے ناصرین سے محبت اور موٴدت كرنا ایك قرآنی دستور ھے لیكن محبت اور موٴدت كے اظھار كیلئے ایك مظہر كا ھونا لازمی ھے، یعنی وہ چیز جس كے ذریعہ انسان اپنے عشق و محبت كا اظھار كرتا ھے، ان حضرات كی حیات میں ان كی محبت كی مظہر وھی چیزیں تھیں جن كو ان كے سچے چاہنے والے انجام دیتے تھے، لیكن ان حضرات كی موت واقع ھونے كے بعد ان سے اظھار محبت كیلئے ایسی چیزوں كو انجام دینا ضروری ھوگا جن سے ظاہر ھوتا ھو كہ ھم ان سے محبت كرتے ھیں، اور یہ چیزیں ان حضرات كی محبت كا مظہرھیں، اور ان مظاہر محبت میں سے سب سے اھم مظہر محبت یہ ھے كہ ان كی ولادت پر خوشی اور مسرت كا اظھار كرے، اور ایام وفات میں غم و اندوہ كوظاہر كرے، اور جب ان كے مقبروں میں حاضر ھوئے تو ان كا بوسہ لے، گویا ان كی ضریح، درو دیوار كا چومنا یہ تمام چیزیں ان كی محبت اور موٴدت كا مظہر ھیں، كیونكہ انھیں امور كے انجام دینے سے اس بات كا اندازہ لگتا ھے كہ یہ شخص ان حضرات سے محبت كرتا ھے، اور یہ چیز مسلمین كے دلوں میں قدیم زمانہ سے ایك سنت كے طور پر چلی آرھی ھے، در حقیقت در و دیوار كا چومنااورضریح كا بوسہ دینا یہ اس تختہ اور در و دیوار سے عشق نھیں، بلكہ آنحضرت اور آپ كے سچے ناصرین سے عشق ھونے كا نتیجہ ھے، چونكہ ھاتھ معشوق تك نھیں پہنچ سكتے، تو وہ آثار جو اس كی طرف منسوب ھیں انھیں كے ذریعہ اپنی عشق و محبت كا اظھار كرتے ھیں، بقول مجنون (عامری) كہ جب وہ كہتا ھے:
” امر علی الدیار دیار لیلی
اقبل ذا الجدار و ذا الجدارا
جب میں (اپنی معشوقہ) لیلی كی گلی سے گزرتاھوں تو اس دیوار اس دیوار كے بوسے لیتا ھوں ۔
وما حب الدیار شغفن قلبی
ولكن حب من سكن الدیارا
ایسا نھیں ھے كہ معشوقہ كی گلی اور كوچہ نے میرے دل كو فریفتہ اور مجنون كردیا ھو، بلكہ اس كے عشق نے میرے دل كو پاگل بنا دیا ھے جو اس گلی میں رھتی ھے ۔
یہ زیارتی مقامات اگرچہ ظاہری طور پر پتھر، لكڑی، درو دیوار اورضریح وغیرہ ھیں، لیكن ان سے محبت كااظھار كرنا ھم ارے اس باطنی عشق و محبت كا پتہ دیتے ھیں جو ھم انبیاء اور ائمہ اطھار سے ركھتے ھیں، ان پتھروں اور لكڑیوں نے ان ذوات كی طرف نسبت پانے سے قداست حاصل كرلی ھے، اور جب كسی كا دل كسی كی محبت كا گھر بن جائے تو اس محبوب كا نام و یاد، لباس، جوتے، كپڑے، گلی و كوچہ اور شہر وغیرہ سب اچھے محسوس ھونے لگتے ھیں، محبوب كی ان چیزوں سے انسان لذت حاصل كرتا ھے، گویا یہ تمام چیزیں رخِ محبوب كی تصویر كشی كیلئے ایك آئینہ بن جاتی ھیں۔
مسلمان رسول خدا (ص) سے اس قدر محبت ركھتے ھیں كہ اگر انھیں پتہ چل جائے كہ فلاں جگہ آنحضرت كے قدموں كی نشانی ھے، تو وہ بڑے شوق وولولہ سے اس كی زیارت كرنے جاتے ھیں۔
اس بارے میں عصر رسالت كے مسلمانوں كی سیرت اس قدر وسیع ھے كہ ان كا نقل كرنا مقدور نھیں یعنی دور رسالت كی مسلمانوں كے واقعات ھم اری مذكورہ بحث سے متعلق اس قدر زیادہ ھیں كہ ان سب كا نقل كرنا مشكل ھے، لیكن اگر ھم تمام نقل نھیں كرسكتے تو كم از كم كچھ نقل كرسكتے ھیں بقول اس شعر كے:
آب دریا را گر نتواں كشید
ھم بقدر تشنگی باید چشید
اگر دریا كا مكمل پانی نھیں لا سكتے، تو كم ازكم اپنی تشنگی بجھانے كی مقدار بھر پانی تو لا ھی سكتے ھیں ۔
لہٰذا چند واقعات اس كے نقل كرتے ھیں:
1۔ اصحاب كے بچوں كی تالو برداری
حضرت رسالتمآب كے دور میں جب بھی كوئی بچہ مدینہ میں پیدا ھوتا تھا تو لوگ اس كو فورا ً رسول كے حضورمیں لیجاتے تھے، آنحضرت اس كے تالو كو خرما سے اٹھا دیتے تھے، اور اس كیلئے دعا كرتے، چنانچہ ابن حجر كہتے ھیں :
” جو بچہ بھی ہجرت كے بعد مدینہ میں پیدا ھوا ھے اس نے آنحضرت كو یقینا دیكھا ھے، كیونكہ رسول كے اصحاب كا طریقہٴكار تھا كہ جب ان كے یھاں بچہ پیدا ھوتا تو رسول سے اس كا تالو اٹھواتے، چنانچہ عائشہ كہتی ھیں :
”بچے لائے جاتے تھے اور حضرت ان كو متبرك اور صاحب بركت قرار دیتے“۔
عبد الرحمن بن عوف كھتے ھیں:
” كوئی بچہ ایسا نھیں جو كسی كے یھاں پیدا ھوا ھو، اور وہ حضرت كی خدمت میں نہ لایا گیاھو، رسول اس كیلئے دعا كرتے ۔ 14
جب عبد الله ابن عباس پیدا ھوئے تو رسول اور ان كے خاندان والے سب شعب ابی طالب میں تھے، اس جگہ رسول نے ان كے تالو كو اپنے لعاب دہن سے اٹھایا ۔
2۔ صحابہ كا آنحضرت كی نوازش سے بركت حاصل كرنا
یہ صرف بچے ھی نھیں تھے جو رسول سے تالو اٹھوانے كے ذریعہ متبرك قرار پاتے بلكہ بزرگ صحابہ ایسے تھے جو اس بات پر اصرار كرتے تھے كہ رسول اپنا دست نوازش ان پر پھیر دیں اور اس طرح ان كو متبرك قرار د ے دیں، زیاد بن عبد الله ان لوگوں میں سے ھیں جن كے بارے میں رسول نے دعا كی، اور اپنے ھاتھوں كو ان كے سر پر ركھا اور ان كی ناك تك كھینچا، شاعر زیاد كے بچہ ( علی نام) كی مدح میں شعر پڑھتا ھے: ی
ابن الذی مسح النبی براٴسہ
ودعا لہ بالخیر عند المسجد
كیا كہنا اس بچہ كا جس كے سر پر نبی نے دست شفقت پھیرا اور اس كی لئے دعا ئے خیر كی مسجد كے پاس۔
3۔ رسول كے وضو اور غسل كے پانی سے صحابہ كاتبرك حاصل كرنا
حیات رسول خدا (ص)میں جو امور رائج تھے ان میں سے ایك كام یہ تھا كہ آپ كے وضو اور غسل كے پانی كو اصحاب بعنوان تبرك اخذ كرتے، اور كسی كو اجازت نھیں دیتے كہ ایك قطرہ پانی زمین پرگر جائے، اور اگر پانی زیادہ ھوتا تو اسے پی جاتے تھے، ورنہ اپنے چہروں پر مل لیتے تھے ۔
عروہ بن مسعود ثقفی جو كفار قریش كی جانب سے صلح حدیبیہ میں نمائندگی كر رھا تھا، جب اس نے اس منظر كو دیكھا تو سردارن قریش سے اس طرح كہنے لگا:
”محمد كے اصحاب وضو كاباقیماندہ پانی لینے كے لئے آپس میں ایك دوسرے پر سبقت كرتے ھیں اور نہ صرف یہ كہ وہ وضو كے پانی كے بارے میں ایسا كرتے ھیں بلكہ حضرت كے ہر باقی ماندہ پانی اور كھانا یھاں تك كہ وہ پیالہ جس میں آ پ نے پا نی نوش كیاھو یا وہ كنواں جس سے پانی پیا، اسے بھی رسول كے صحابہ متبرك سمجھتے ھیں“ ۔ 15
4۔ قبر پیغمبر سے تبرك حاصل كرنا
الف) ایك مرتبہ مروان بن حكم مسجد میں داخل ھوا دیكھا كہ ایك مرد ھے جو رسول كی قبر پراپنے چہرے كو ركھے ھوئے ھے، مروان نے اس كی گردن كو پكڑا اور اس كو پیچھے ڈھكیل دیا، اور اس سے كہا: تو جانتا ھے كہ كیا كر رھا ھے؟ جب اس شخص نے اپنا سر اٹھایا تو دیكھا وہ كوئی اور نہ تھا بلكہ رسول كا میزبان اور بزرگ صحابی حضرت ابو ایوب انصاری تھا، وہ مروان كے جواب میں اس طرح كہنے لگے:
” میں پتھروں كی طرف نھیں آیا ھوں، بلكہ میں نے پیغمبر كا قصد كیا ھے، اے مروان! میں نے رسول خدا (ص) سے سنا ھے كہ جب دین كی قیادت صالح افراد كریں تو اس وقت گریہ نہ كرنا لیكن اس وقت گریہ كرنا جب نا اہل افراد دین كی رھبری كریں، یعنی تو اور بنی امیہ والے۔ اس واقعہ كو تاریخ حاكم نیشاپوری سے نقل كیا ھے جسے انھوں نے”مستدرك الصحیحین“ میں نقل كیا ھے، اس سے اصحاب پیغمبر كے عمل كا پتہ چلتا ھے كہ وہ رسول كی قبر اطہر پر چہرے كو ركھ كر بركت حاصل كرتے ھیں، اور مروان بن حكم جیسے افراد (كہ جن كے دل ایمان سے خالی تھے) كی امر تبرك كے بارے میں مخالفت كا پتہ چلتا ۔
ب) رسول اسلام كے دوسرے بزرگ صحابی حضرت بلال حبشی ھیں، جو رحلت رسالتمآب كے بعد مدینہ چھوڑ كر سرحدی علاقہ میں گوشہ نشین ھوگئے، انھوں نے ایك شب رسول كو خواب میں دیكھا، جو ان سے كہتے ھیں: اے بلال! آخریہ جفا كب تك ؟ بلال یہ سن كر بیدار ھوئے، اور رسول كی شكایت كے بارے میں سوچنے لگے، خیال آیا كہ جب سے میں نے مدینہ چھوڑا ھے قبر رسول كی زیارت كو نھیں گیا ھوں، لہٰذا دوسرے دن مدینہ كا رخ كیا، جب مدینہ پہنچے تو رسول كی قبر كے كنارے بیٹھ كر گریہ كرنے لگے، اور اپنے چہرے كو قبر سے ملنے لگے، اور جب امام حسن اور حسین كو دیكھا تو ان كو گلے سے چمٹا كر ان كے بوسے لئے، اور حسنین كی خواہش پر اس شب وھیں كھڑے ھوكر اذان دی جھاں ھمیشہكھڑے ھوكر اذان دیتے تھے ۔ 16
حضرت فاطمہ زہرا (ع)رسول كی وفات اور دفن كے بعد آپ كی قبر كی كنارے كھڑی ھوگئیں اور كچھ قبر كی خاك كو اپنے چہرے پر ڈالا، اور اشكبار ھوئیں اور كہنے لگیں:
ماذا علی شم تربة احمدا
ان لا یشم مدی الزمان غوالیا
صبت علی مصائب لو انھا
صبت علی الایام صرن لیالیا
كیا ھوگا اس شخص كاجو قبر احمد كی خا ك كی خوشبو سونگھ رھا ھے اورجب تك زندہ رھے گراں قیمت مشك كی خوشبو نہ سونگھی ھو ۔
میرے اوپر ایسی ایسی مصیبتیں پڑی ھیں كہ اگروہ روشن دنوں پرپڑتیں تووہ رات كی طرح تاریك ھوجاتے۔
اب ھم ان ھی چندواقعات كو ان دسیوں واقعات میں سے نقل كرنے پربحث كو تمام كرتے ھیں، جن سے ثابت ھوتاھے كہ رسول كے صحابہ آثارپیغمبر سےطلب بركت كرتے تھے، اور كتب احادیث و تواریخ كے تتبع اورتحقیق سے پتہ چلتا ھے كہ پیغمبر اورصالحین كی آثار سے تبرك حاصل كرنا تواتر كی حد تك پہنچا ھوا ھے ۔
نتیجہ بحث
صدر اسلام كے مسلمانوں كی تاریخ كی تحقیق سے واضح طور پرپتہ چلتا ھے كہ باقیماند ہ آثاریاوہ چیزیں جو رسول كی جانب منسوب ھیں ان سےتبرك حاصل كرنا ایك اسلامی ثقافت تھی، اور اس كی محرك دو باتوں میں سے ایك چیز ھے:
1۔ آثار سے تبرك حاصل كرنا، اس امید میں كہ فیض الٰھی اس راستہ سے ان تك پہنچے، جیسے خداكا فیض حضرت یعقوب عليہ السلام كو حضرت یوسف عليہ السلام كی قمیص كے ذریعہ پہنچا ۔
2۔ صدر اسلام كے مسلمانوں كی رسول اسلام سے عشق و محبت سبب ھوتی تھی كہ جو چیزان كی طرف منسوب ھے اس كو محترم اور بابركت سمجھتے، لہٰذا آپ كے تمام آثار جیسے زرہ، تلوار، خود، جوتے، بال، ناخن اور وہ پیالے جس میں رسول پانی پیتے تھے، یھاں تك كہ وہ كوزے اور كنویں جن سے آپ نے پانی پیا، ان تمام چیزوں كو بڑی احتیاط سے محفوظ ركھتے، اور آپ كے عصااور كپڑوں سے تبرك حاصل كرتے، یھاں تك آپ كی انگوٹھی خلفاء كے ھاتھوںدست بدست گشت كرتی رھی ۔
آخری قابل توجہ نكتہ
احمد بن حنبل جو فرقۂ حنبلی كے پیشوا ھیں، اہل سنت میں تقوی اور تقدس كے اعتبار سے كافی اھم یت ركھتے ھیں، حسن اتفاق سے آپ آثار رسول اسلام سے تبرك حاصل كرنے كے بارے میں كافی وسیع نظر ركھتے ھیں، چنانچہ یھاں پرھم آپ كے چند اقوال نقل كرتے ھیں:
1۔ احمد بن حنبل كے بیٹے عبد الله كہتے ھیں:
میں نے اپنے باپ سے پوچھا: ایك شخص رسول خدا (ص) كے منبر پر ھاتھ ركھتا ھے، اور وہ اس طریقہ سے تبرك حاصل كرتا ھے، اس كو چومتا ھے، اورثواب كی امید میں یہی كام قبر رسول كے ساتھ انجام دیتا ھے، میرے باپ نے جواب میں كہا: كوئی حرج نھیں ۔ 17
2۔ احمد بن محمد مقری مالكی (متوفی ۱۰۴۱) اپنی كتاب ”فتح المتعال“ میں ولی الدین عراقی سے ایك واقعہ نقل كرتے ھیں:وہ كہتے ھیں كہ میرے استادابو سعیدنے ایك قدیم كتاب سے جس میں ابن ناصر كی تحریر تھی اس میں اس طرح موجودتھا:
”میں نے امام احمدبن حنبل سے پیغمبر (ص)كی قبركابوسہ لینااور اس سے تبرك حاصل كرنے كےبارے میں سوال كیا ؟ انھوں نے كہا: كوئی ممانعت نھیں ھے ۔
ابن ناصر كہتے ھیں كہ میں نے اس نسخہ كو ابن تیمیہ كو دكھایا، وہ احمد كے اس قول كو دیكھ كر تعجب میں پڑ گیا، میں نے اس سے كہااس مسئلہ میں تعجب كی كوئی بات نھیں، كیونكہ امام احمدوہ شخص ھیں جو امام شافعی كے كپڑے دھوتے تھے، اور جس پانی سے كپڑے دھوتے تھے اسے پیتے بھی تھے ۔
امام شافعی كے لباس سے تبرك حاصل كرنے كے واقعہ كو ابن كثیر نے اپنی تاریخ میں (۱۰/ ۳۶۵) ۲۴۱ ھ كے حوادث كے ذیل میں نقل كیا ھے ۔
جب امام احمد بن حنبل كی معرفت علماء كے بارے میں اس قدرتھی تو لازمی طور پر جو ان سے افضل ھوں گے بالخصوص انبیاء وصالحین كے بارے میں كہیں زیادہ معرفت اور عقیدت و احترام كا مظاہرہ كرتے ھوں گے ۔ 18
حوالہ جات
1. سورہ عنكبوت (۲۹) ۶۱۔
2. سورہ بقرہ (۲)۲۲۔
3. مثنوی: دفتر دوم، ص ۱۳۳، مطبوعہ علمی پریس ۔
4. دیوان پروین اعتصامی: قطعہ ۱۸۲، تحت عنوان لطف حق ۔
5. مثنوی: دفتر اول ص، 14، مطبوعہ علمی پریس ۔
6. پروین اعتصامی، ص ۲۳۷، قطعہ ۱۸۲۔
7. سورہ آل عمران، ۳۷۔
8. سورہ مریم ۔ (۱۹) ۲۵۔
9. بقرہ (۲) ۱۲۵۔
10. یوسف (۱۲)۹۳ ۔
11. یوسف (۱۲)۹۶ ۔
12. بقرہ (۲) ۲۴۸۔
13. سروہ كہف (۱۸)۲۱۔
14. اصابہ ج ۱، ص ۵، استیعاب ( اصابہ كی حاشیہ میں ) ج ۳، ص ۶۳۱۔
15. كنز العمال ج ۱۶، ص۲۴۹۔ سیرہ دحلان، ج ۲، ص ۲۴۶۔ صحیح مسلم ج ۴، ص ۱۹۴۳ باب فضائل ابی موسی ۔
16. تاریخ ابن عساكر، دبیان حالات ابراھیم بن محمد: ۷ / ۱۳۷ نمبر ۴۹۳۔
17. اقتصاد الصراط المستقیم، موٴلفہ ابن تیمیہ ۔
18. فتح المجید ص ۳۲۹۔