نبوت حضرت محمد مصطفی (ص)
شاید یھی ھمارے نبی خاتم کا یہ پھلا امتیاز هو کہ خداوندعالم نے ھمارے نبی کو دوسرے تمام انبیاء (ع) پر فضیلت دی ”رسول اللہ وخاتم النبیین“ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماور آنحضرت کی رسالت کبریٰ، زمان ومکان کے لحاظ سے عالمی ھے اور کسی قوم سے مخصوص نھیں اور ایسا نھیں ھے کہ زمین کے کسی ایک حصہ میں مخصوص هو اور کوئی دوسرا حصہ اس میں شامل نہ هو اور نہ ھی کسی خاص امت سے مخصوص ھے، نیز کسی خاص زمانہ سے بھی مخصوص نھیں ھے، چنانچہ اس سلسلہ میں خداوندعالم کا ارشاد ھے:
( وَمَا اٴَرْسَلْنَاکَ اِلاّٰ کَافَّةً لِلْنَّاسِ)[1]
”اے رسول ھم نے تم کوتمام لوگوں کا رسول بناکر بھیجا“
( وَمَا اٴَرْسَلْنَاکَ اِلاّٰ رَحْمَةً لِلْعَالَمِیْنَ)[2]
”(اے رسول) ھم نے تم کو سارے جھاں کے لوگوں کے لئے از سر تا پا رحمت بنا کر بھیجا“
(قُلْ یَا اُیُّہَا النَّاسُ اِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاً)[3]
”(اے رسول ) ان لوگوں سے کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب کے پاس خداکا بھیجا هوا (پیغمبر)هوں“
(لِاُنْذِرَکُمْ بِہِ وَمَنْ بَلَغَ)[4]
”تاکہ میں تمھیں اور جس کے پاس اس کی خبر پهونچے، ڈراوٴں“
(قُلْ یَا اُیُّہَا النَّاسُ اِنِّمَاْ اَنَا لَکُمْ نَذِیْرٌ مُبِیْنٌ)[5]
”(اے رسول) کہہ دو کہ لوگو! میں تو صرف تم کو کھلم کھلا (عذاب سے) ڈرانے والا هوں“
قارئین کرام ! یہ تمام آیات متفقہ طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ھیں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام لوگوں کے نبی ھیں، چاھے وہ آپ کی بعثت کے وقت موجود هوں یا آپ کے بعد پیدا هوںگے، چاھے وہ جزیرة العرب میں هوں یا دوسرے ممالک میں۔
اور یہ ایک ایسا امتیاز ھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے پھلے کسی نبی یا رسول کو نھیں دیا گیا کیونکہ آپ سے پھلے انبیاء (ع) کسی خاص گروہ یا خاص طائفہ کے نبی هوتے تھے وہ بھی خاص زمانہ میں جیسا کہ قرآن مجید نے واضح طور پر اشارہ کیا ھے:
( لَقَدْ اٴَرْسَلْنَا نُوْحاً اِلٰی قَوْمِہِ)[6]
”ھم نے جناب نوح کو ان کی قوم کے پاس (رسول ) بناکر بھیجا“
(وَاِلٰی ثَمُوْدَ اٴَخَاہُمْ صَالِحاً)[7]
”اور ھم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (رسول بنا کر بھیجا“
(وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مُوسَیٰ بِآیَاتِنَا إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِہِ )[8]
”اور ھم ھی نے یقیناً موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس (پیغمبر بناکر ) بھیجا“
(وَ اِذْ قَالَ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِی اِسْرَائِیْلَ اِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ)[9]
” اور (یاد کرو) جب مریم کے بیٹے عیسی نے کھا اے بنی اسرائیل میں تمھارے پاس خدا کا بھیجا هوا (آیا) هوں“
چنانچہ ان آیات سے یہ بھی واضح هوجاتا ھے کہ جناب نوح علیہ السلام کو اپنی قوم کا اور جناب صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کا، جناب موسی علیہ السلام کو فرعون اور اس کے ساتھیوں کا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کا نبی بنا کر بھیجا گیا لیکن ھمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی ذات گرامی وہ واحد ذات ھے جن کو تمام لوگوں کا نبی بنا کر بھیجا گیا۔
اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ گذشتہ انبیاء (ع) کی رسالت وقتی اور خاص زمانہ کے لئے محدود هونے کی کیا دلیل ھے؟ تو اس سلسلہ میں بھی عرض ھے کہ یہ بات واضح هوجاتی ھے کہ پھلی والی شریعت بعد والی شریعت کے ذریعہ منسوخ هوجاتی ھے، پھلے والے احکام ختم هوجاتے ھیں اور ان کی جگہ جدید احکام نافذ کئے جاتے ھیں کیونکہ انسان دونوں شریعتوں کے احکام پر عمل نھیں کرسکتا جو اکثر احکام میں مختلف اور مخالف هوتی ھیں۔
نیز کسی ایک چیز پر دونوں شریعتیں الگ الگ حکم کرتی ھیں اور اس بات پر عقلی دلیل اور فطرت انسان دلالت کرتی ھے اور اس کا حکم واضح ھے۔
لیکن اس سلسلہ میں یهودی کہتے ھیں کہ ھماری شریعت اور ھمارے نبی کی نبوت باقی ھے کیونکہ یہ لوگ ”نسخ“ کے نظریہ اور نسخ واقع هونے کی نفی کرتے ھیں[10]ان کا گمان یہ ھے کہ اگر نسخ شریعت کو مان بھی لیا جائے تو خداوندعالم کا جاھل اور غیر حکیم هونا لازم آتا ھے !۔
ان کے اعتراض کی دلیل یہ ھے کہ خداوندعالم کے احکام اس زمانے کی مصلحتوں کے لحاظ سے هوتے ھیں کیونکہ بغیر مصلحت کے احکام عبث وبے هودہ هوتے ھیں او راس حکیم مطلق کی حکمت کے منافی ھیں۔
لہٰذا مصلحت کے مطابق احکام کو ختم کرنا حکمتِ خداوندی کے خلاف ھے کیونکہ اس حکم کے ختم کرنے سے بندوں کی مصلحت کا نابود هونا لازم آتا ھے مگر یہ کہ تشریع کنندہ ( خدا ورسول )کے لئے تشریع کے بعد واضح هوجائے کہ اس حکم میں مصلحت نہ تھی، تو اس کو ختم کردیتا ھے اور اگر ھم اس معنی میں نسخ کو مانیں تو اس کے معنی یہ ھیں کہ خدا جاھل ھے، لہٰذا جب نظریہ نسخ کا نتیجہ نسخ کرنے والے کا جھل اور غیر حکیم هونالازم آتا ھے، تو پھر خدا وندعالم کے بارے میں ان دونوں چیزوں (جھل اور غیرحکیم هونا)کا هونا جائز نھیں ھے تو پھر نسخ کے بارے میں نظریہ رکھنا بھی محال ھے۔!
قارئین کرام ! اس اعتراض کا مختصر جواب یہ ھے کہ شریعت کے احکام ومسائل مصلحتوں کے تحت هوتے ھیں اور یہ بھی طے ھے کہ زمانہ کے بدلنے سے مصلحتیں بھی بدلتی رہتی ھیں کیونکہ کبھی کبھی کوئی خاص کام کسی قوم اور کسی زمانہ کے لئے صاحب مصلحت هوتا ھے تو اس کام کے لئے حکم کیا جاتا ھے لیکن وھی کام دوسری قوم یا دوسرے زمانہ کے لئے صاحب مصلحت نھیں هوتا تو اس کام سے روک دیا جاتا ھے۔
دوسرے یہ کہ عقلِ بشری کے ساتھ ساتھ آسمانی ادیان نے بھی رشد وترقی کی ھے، (جیسا کہ ھم جانتے ھیں) جس طرح ایک بچے کی معلومات میں اضافہ هوتا ھے اور اس کی عمر میں اضافہ هوتا ھے روز بروز اس کے علم وعقل اور قابلیت میں اضافہ هوتا رہتا ھے یھاں تک کہ وہ اپنے نظریات اور افکار پراعتقاد کرلیتا ھے، (مثلاً پھلے بچہ ایک کھیل کو اپنے لئے صحیح اور ضروری سمجھتا ھے لیکن جب وہ باشعور هوجاتا ھے تو اس کھیل کو عبث اور بے هودہ سمجھتاھے۔)
بالکل یھی حال آسمانی ادیان کا بھی ھے جو ھر زمانہ اور ھر قوم کے لئے نازل هوئے ھیں اور ھر قوم کی مصلحتوں کے لحاظ سے احکام جاری کرتا ھے اور اس زمانہ کے فکری او رپختہ نظریات کے ساتھ ساتھ چلتا ھے، یھاں تک کہ شریعت اسلام میں اس بلندی پر پهونچا جس کو خداوندعالم نے اختیار اور پسند کرلیا، اور زمانہ اور عقلی رشد کی بلندی پر پہنچے هوئے تمام انسانوں کے لئے یہ شریعت مشعل راہ بن گئی۔
اس کے معنی یہ نھیں ھیں کہ خداوندعالم مصلحتوں سے جاھل تھا یا اس کے لئے کوئی ایسی چیز کشف هوئی ھے جو پھلے کبھی معلوم نہ تھی۔
ان باتوں کے علاوہ خود توریت میں ایسی بہت سی چیزیں موجود ھیں جو وقوع نسخ پر دلالت کرتی ھیں مثلاً حضرت آدم کی شریعت میں ایک شخص کا دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا جائز تھا لیکن یھی کام شریعت جناب موسیٰ علیہ السلام میں حرام قرار دیدیا گیا، جس طرح جناب نوح (ع) کی شریعت میں ختنہ کرنے میں بڑے هونے تک تاخیر کرنا جائز تھا لیکن حضرت موسی (ع)کی شریعت میںاس تاخیر کو حرام کردیا گیا، اسی طرح دوسرے واقعات بھی موجود ھیں۔
ان تمام باتو ںکے پیش نظر نسخ کو محال قراردینا صحیح نھیں ھے اور نہ ھی ان کے پاس کوئی مستحکم دلیل ھے جس پر اعتماد کیا جاسکے، لہٰذا یهودیوں کا یہ گمان خود ان کی کتاب توریت اور حکم عقل کے ذریعہ باطل ومردود ھے:
(وَلَنْ تَرْضیٰ عَنْکَ الْیَهودُ وَلَا النَّصَاریٰ حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ قُلْ اِنَّ ہُدَیٰ اللّٰہِ هو الْہُدیٰ)[11]
”اور (اے رسول) نہ تو یهودی کبھی تم سے رضامند هونگے نہ نصاریٰ یھاں تک کہ تم ان کے مذھب کی پیروی کرو، (اے رسول) ان سے کہہ دو کہ بس خدا ھی کی ہدایت تو ہدایت ھے“
( وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلاَمِ دِینًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَهو فِی الْآخِرَةِ مِنْ الْخَاسِرِینَ )[12]
”اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کی پیروی کرے تو اس کا وہ دین ھرگز قبول ھی نہ کیا جائے گا“
قارئین کرام ! جیسا کہ ھم نے پھلے بھی عرض کیا کہ کسی بھی نبی کا دعویٰ نبوت اس وقت صادق هوسکتا ھے جب وہ کوئی معجزہ پیش کرے ایسا معجزہ جس کی مثال پیش کرنے سے بشر قاصر هو۔
ھمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمدو طرح کے معجزات لے کر آئے۔
پھلا معجزہ: قرآن مجید ۔
دوسرے معجزات: جن کا اس وقت کے مسلمانوں نے مشاہدہ کیا ھے اور ان کی تعدا دبھی بہت زیادہ ھے، اوروہ متواتر طریقوں سے نقل بھی هوئے ھیںنیز ان کے بارے میںبہت سی کتابیں بھی لکھی گئی ھےں،اور علماء حدیث نے بھی ان کو جمع کیا ھے او ریہ نقل وروایت کا سلسلہ آج تک جاری ھے اور ھر زمانہ میں جاری رھے گا۔ (انشاء اللہ)
اگرچہ بعض جاھل اور متعصب مولفین نے ان معجزات میں شک وتردید کی ھے اور بعض نے تو یہ بھی کہہ ڈالا کہ خود قرآن مجید میں ایسی آیات موجود ھیں جو قرآن کے علاوہ دوسرے تمام معجزات کی نفی کرتی ھیں اور یہ کہ صرف قرآن مجید ھی آپ کا واحد معجزہ ھے اور یہ وہ معجزہ ھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے پیش کیا تاکہ اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرسکیں۔
چنانچہ ان لوگوں نے اپنی دلیل کے طور پر درج ذیل آیت پیش کی جس میں ارشاد قدرت هوتا ھے:
(وَمَامَنَعْنَا اَنْ نُرْسِلَ باِلْاٰیٰاتِ اِلاّٰ اَنْ کَذَّبَ بِہَا الاٴوَّلُوْنَ)[13]
”اور ھمیں معجزات بھیجنے سے تو اس کے علاوہ اور کوئی وجہ مانع نھیں هوئی کہ اگلوں نے انھیں جھٹلایا“
کیونکہ انھوں نے گمان کیا کہ اس آیت سے یہ ظاھر هوتا ھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمقرآن کریم کے علاوہ کوئی دوسری نشانی (معجزہ) لے کر نھیں آئے کیونکہ وہ نشانیاں جو گذشتہ امتوں پر نازل کی گئیںان لوگوں نے ان کو جھٹلایا (لہٰذا ھمارے پیغمبر کو وہ نشانیاں دے کر نھیں بھیجا گیا)
اس اعتراض کے جواب میں ھمارے استاد آیت اللہ العظمیٰ امام خوئی ۺنے تفصیل کے ساتھ دندان شکن جواب دیا جس کا خلاصہ یہ ھے۔[14]
”مذکورہ آیہٴ کریمہ میں جن آیات (نشانیوں) کا ذکر ھے او رجن کی نفی کی گئی ھے اور جن کو گذشتہ امتوں نے جھٹلایا ان سے مراد وہ نشانیاں ھیں جن کوگذشتہ انبیاء (ع) کے امتی اپنے نبی کے لئے
پیش کرتے تھے ، پس مذکورہ آیہٴ شریفہ اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ اے نبی تم پر واجب نھیں ھے کہ مشرکین کی تراشیدہ شدہ نشانیوں کا جواب دو، اور یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے مطلق طور پر دوسرے معجزات کی نفی نھیں کرتی، اور اگر یہ طے هو کہ کسی آیت (نشانی) کو جھٹلانے کی وجہ سے نشانیاں نہ بھیجی جائےں تو پھر تو قرآن کو بھی نھیں بھیجنا چاہئے تھا، کیونکہ بعض لوگوں نے تو اس کو بھی جھٹلایا اور یہ وجہ دوسری نشانیوں سے مخصوص کرنا صحیح نھیں ھے بالخصوص جبکہ قرآن مجید آنحضرت کے معجزات میں سے سب سے بڑا معجزہ ھے، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ جن نشانیوں کی نفی کی ھے وہ ایک خاص قسم کی نشانیاں ھیں مطلق نشانیاں نھیں ھےں۔
اگر گذشتہ امتوں کا جھٹلانا اس بات کی صلاحیت رکھتا هو کہ حکمتِ الٰھی اور نشانیاں نہ بھیجنے میں اثرانداز هوتا تو پھر اس بات کی بھی صلاحیت رکھتا هوگا کہ خدا ،رسولوں کونہ بھیجے (کیونکہ دنیا والوں نے نہ معلوم کن کن انبیاء کو جھٹلایا) اور جب یہ بات باطل او رمردود ھے توگذشتہ بات بھی باطل ھے۔
لہٰذا طے یہ هوا کہ خداوندعالم نے جو اپنی نشانیاں نازل فرمائیں وہ طلب کرنے والوں کی طلب کے مطابق تھیں، اور یہ بات واضح ھے کہ وہ لوگ اتمام حجت کرنے والی نشانیوں کے علاوہ بھی دوسری نشانیاں طلب کرتے تھے،(گویا ان کا مقصد ایمان لانانھیں تھا بلکہ اس طرح کی نشانیوں کے مطالبہ کے بعد نبی کو عاجز کرنا هوتا تھایھی وجہ تھی کہ طلب شدہ نشانیوں کے بعد بھی ایمان نھیں لاتے تھے) اور جب یہ بات طے هوگئی کہ معجزات دیکھنے کے باوجود بھی وہ ایمان نھیں لاتے تھے تو اب خدا پر لازم نھیں هوتا کہ ان لوگوں کے معجزات طلب کرنے پر معجزات ظاھر کردےتا، اور اگر خداوندعالم ان میں مصلحت دیکھتا کہ یہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر ایمان لے آئیں گے تو حتماً ان کی طلب شدہ نشانیوں کو بھی نازل کردیتا۔
لہٰذا معلوم یہ هوتا ھے کہ ان لوگوں کے مطالبات اتمام حجت کے بعد تھے اور سابقہ امتو ں کا جھٹلانا ھی سبب تھا کہ خداوندعالم اپنی نشانیوں کو نہ بھیجے کیونکہ ان نشانیوں کا جھٹلانا ان پر عذاب نازل هونے کا سبب تھا لیکن امت محمدی پر خداوندعالم نے اپنے نبی کی خاطر لطف وکرم رکھا کہ اس امت سے اس طرح کی نشانیوں کا انکار کرنے والوں سے عذاب کو دور کیا، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ھے:
(وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاٴَنْتَ فِیْہِمْ)[15]
”حالانکہ جب تک تم ان کے درمیان موجود هو تو خدا ان پر عذاب نھیں کرےگا“
لیکن ان نشانیوں کو جھٹلانے والوں پر عذاب اخروی کیا جائے گا کیونکہ اگر خدا کی کوئی نشانی صرف کسی نبی کی نبوت کے صرف اثبات کے لئے تواس کی تکذیب پر کوئی اخروی عذاب نھیں هوگا اور اگر عذاب هوگا تو اس نبی کے جھٹلانے پر عذاب هوگا۔
لیکن وہ آیات ونشانیاں جن پر لوگوں نے اصرار کیا اور ہٹ دھرمی کی اور ان کا مطالبہ کیا تو اگر وہ اس وجہ سے هو کہ خدا کی پھلی نشانی کی تصدیق هوسکے تاکہ اس نشانی کو دیکھ کر حق واضح هوجائے اور جب ان کی طلب شدہ چیز کو نبی انجام کرکے دکھادے تو پھر ان پر اس نبی کی تصدیق کرنا ضروری هوجاتا ھے او راگر اپنی طلب شدہ چیز کو دیکھ کر بھی اس نبی پر ایمان نہ لائے تویہ نبی اور حق کا مذاق اڑانا ھے۔
خلاصہٴ کلام یہ ھے کہ قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت نھیں ھے جو قرآن کے علاوہ دوسرے معجزات کی نفی کرتی هو اگرچہ یہ بھی طے ھے کہ قرآن مجید ھمارے لئے عظیم دائمی اعجازھے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے دوسرے بھی بہت سے معجزات ھیں۔
قارئین کرام ! معجزہ ایک ایسی حقیقت ھے جس کے اصلی اور نقلی هونے کو کوئی آسانی سے نھیں سمجھ سکتا جیسا کہ گذشتہ اعتراض سے ظاھر هوتا ھے، بلکہ اس سلسلہ میں معلومات رکھنے والے علماء ھی سمجھ سکتے ھیں اور اس کی خصوصیات سے یھی افراد آگاہ هوتے ھیں اور یھی لوگ تشخیص دے سکتے ھیں کہ نوع انسانی اس طریقہ کا کام انجام دینے سے قاصر ھے یا وہ اس طرح کا کام انجام دے سکتے ھیں اسی وجہ سے علماء ھی سب سے پھلے معجزات پر ایمان لاتے ھیں:
(اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہ الْعُلَمَاءُ )[16]
”اس کے بندوں میں خدا کا خوف کرنے والے تو بس علماء (ھی) ھیں“
کیونکہ جاھل انسان صدق وکذب میں امتیاز نھیں کرسکتا او رجو لوگ جاھل ھیں اور جب تک اس علم کے مقدمات سے جاھل ھیں ان پر باب شک کھلا رہتا ھے کیونکہ یہ لوگ احتمال دیتے رھیں گے کہ اس کام کے کرنے والے نے اس علم کے مقدمات کے ذریعہ یہ کام کردکھایا ھے اور یہ صاحبان علم کے لئے ایسا کام کرنا کوئی مشکل نھیں ھے، چنانچہ ان تمام احتمالات کی بنا پر اس معجزہ کی جلدی تصدیق نھیں کرتے۔ اسی وجہ سے حکمت الٰھی کا تقاضا یہ ھے کہ ھر نبی کا معجزہ اس کے زمانہ میں شایع شدہ علم کے مشابہ هو، جس پر اس زمانہ کے علماء نے ممارست اور تمرین کی هو اور اس جیسا عمل انجام دینے کی کوشش کی هو تاکہ جلد ھی تصدیق کرسکےں اور حجت تمام هوجائے۔
اسی بنا پر ھم دیکھتے ھیں کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کرنے میں جلدی کی کیونکہ جناب موسیٰ (ع) کے معجزہ کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگالیا کہ جو کچھ حضرت موسیٰ (ع) نے انجام دیا وہ جادو گری نھیں ھے۔
اسی طرح نزول قرآن کے وقت چونکہ عربوں کی فصاحت وبلاغت اپنے عروج پر تھی، تواس وقت کے لحاظ سے حکمت الٰھی کا تقاضا یہ تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا معجزہ فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے ممتاز هو، چنانچہ پیغمبر اسلام نے قرآن کو معجزہ کے طور پر پیش کیا جو فصیح وبلیغ تھا تاکہ عرب کے زبان داں اور ممتاز ادیبوں پر یہ بات واضح هوجائے کہ یہ کلام الٰھی ھے جو انسانی فصاحت وبلاغت اور ان کی فکر سے اوپر ھے۔
قارئین کرام ! جیسا کہ ھم نے پھلے بھی عرض کیا کہ ھمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قرآن مجید کے علاوہ بھی دوسرے معجزات رکھتے تھے جن کو اس کتاب میں بیان نھیں کیا جاسکتا، لیکن ان تمام معجزات میں قرآن کریم وہ عظیم معجزہ ھے جس کی شان نرالی ھے اور جس کی حجت بھی کامل ترین ھے کیونکہ ایک جاھل عرب جو علوم طبیعت سے واقف نھیں ھے وہ ان معجزات میں شک کرسکتا ھے اور وہ ان اسباب کی طرف نسبت دے سکتا ھے جن سے وہ جاھل ھے او راپنے ذہن میں یہ سوچ سکتا ھے کہ شاید یہ سب سحر اور جادو هو، جیسا کہ سب سے پھلا گمان بھی یھی تھا لیکن جب فنون بلاغت اور کلام فصیح کے اسرار ان پر کشف هوجائیں گے تو ان کو قرآن کے معجزہ هونے میں کوئی شک نھیں رھے گا، ان پر یہ بھی واضح هوجائے گا کہ اس طرح کا کلام کوئی بشرپیش نھیں کرسکتا، جبکہ دوسرے معجزات کم مدت والے هوتے ھیں اورجب وہ ختم هوجاتے ھیں تو راوی اس کو نقل کرتے ھیں یا اس بات کے چرچے عوام الناس کی زبان پر هوتے ھیں اس صورت میں باب شک کھل جاتا ھے جس میں بعض لوگ تصدیق کرتے ھیں اور بعض لوگ جھٹلاتے ھیں، لیکن قرآن کریم ایسا معجزہ ھے جو زمین وآسمان کے باقی رہنے تک باقی رھے گا، اور اس کا اعجاز بھی ھر زمانے کے تمام لوگوں کے سامنے باقی رھے گا۔
بتحقیق ھر وہ شخص جس تک اسلام کی دعوت پهونچی ھے یہ بات اچھی طرح جانتا ھے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے تمام لوگوں اور تمام امتوں کو اسلام کی دعوت دی ھے اور قرآن کریم کے ذریعہ ان لوگوںپر حجت تمام کی ھے اور وہ قرآن کا جواب دینے سے قاصر ھیں کیونکہ ان سب سے قرآن کا مثل لانے کا مطالبہ کیا ھے لیکن کوئی بھی جواب پیش نھیں کرسکتا ، چاھے وہ اپنے وقت کا کتناھی بڑا سورماکیوں نہ هو۔
اس کے بعد تنزل کرتے هوئے اس جیسے دس سوروں کا مطالبہ کیا اس کے بعد ایک ھی سورے کا جواب طلب کیاگیا اور اگر عرب کے فصیح وبلیغ افراد میں کوئی بھی اس کا جواب لانے کی قدرت رکھتا تو قرآن کے اس چیلنج کا جواب دیتا اور قرآن کے چیلنج کوختم کردیتا ھے لیکن جب قرآن سنا تو حقیقت امر کا اقرار کیااور قرآن کے اعجاز کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے، اور یہ یقین کرلیا کہ ھم قرآن سے مقابلہ کی طاقت نھیں رکھتے،چنانچہ ان میں سے بعض نے قرآن کی تصدیق کی اور اسلام قبول کرلیا، لیکن بعض لوگ اپنے بغض وعناد پر قائم رھے اور جنگ وجدل کرنا شروع کردیا۔
چنانچہ بعض مورخین نے اس بات کو نقل کیا ھے کہ ولیدبن مغیرہ مخزومی کا ایک روز خانہ کعبہ سے گذر هوا او رنبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی زبان سے تلاوت کلام پاک کو دور ھی سے کان لگاکر سنا، اس کے بعد اپنی قوم کے مشرکین سے جاکر کھا:
”میں نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے کلام کو سنا، جو نہ کسی انسان کاکلام ھے اور نہ ھی کسی جن کا، یہ وہ کلام ھے جس میں حلاوت اور خوبصورتی ھے اس کے اوپر کا( حصہ )ثمر دینے والے درخت کی مانند اور نیچے کاحصہ گورا ھے، یہ قرآن کی ترقی کی حالت میں ھے اور ھمیشہ سربلند رھے گا۔ [17]
حواله جات
[1] سورہ سباء آیت ۲۸۔
[2] سورہ انبیاء آیت ۱۰۷۔
[3] سورہ اعراف آیت ۱۵۸۔
[4] سورہ انعام آیت ۱۹۔
[5] سورہ حج آیت ۴۹۔
[6] سورہ اعراف آیت ۵۹۔
[7] سورہ اعراف آیت ۷۳۔
[8] سورہ زخرف آیت ۴۶۔
[9] سورہ صف آیت ۶۔
[10] المنخول غزالی ص ۲۸۸۔
[11] سورہ بقرہ آیت ۱۲۰۔
[12] سورہ آل عمران آیت ۸۵۔
[13] سورہ اسراء آیت۵۹۔
[14] البیان فی تفسیر القرآن جلد اول ص ۷۶تا۷۹۔
[15] سورہ انفال آیت ۳۳۔
[16] سورہ فاطر آیت ۲۸۔
[17] المعجزة الخالدة ص ۲۱۔
اقتباس از نبوت حضرت محمد مصطفی (ص) مولف علامه شیخ محمد حسن آل یسین مترجم اقبال حیدر حیدری