عصمت ِانبیا

267

اپنے مقام پر علم کلام میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسانیت کی ہدا یت اور راہنمائی کے لیے عقلِ انسانی کا فی نہیں ہے بلکہ وحی الہیٰ ضروری ہے جب وحی کا ضروری ہو نا ثابت ہو تو اس وحی کو محفوظ رکھنا بھی اتنا ہی ضروری اور لازم ہے ،جتنا خود وحی کا ہونا ضروری ہے ۔کیونکہ اگر وحی کی ضرور ت ثابت ہو مگر وہ اپنی حقیقی شکل میں محفوظ نہ ہو تو پھر اس کی ضرورت بھی خدشہ دار ہو جائے گی ۔اور یہ با ت ہر شخص پر واضح اور معلوم ہے کہ ایک عام انسان وحیِ الہیٰ سے استفادہ نہیں کر سکتا اور وحی کو دریافت کرنے کے لیے ایک خاص قسم کی لیاقت واستعداد چاہیے یعنی چند مخصوص افراد کے ذریعے وحی الہیٰ کے پیغامات کو لو گوں تک پہنچا یا جا سکتا ہے ۔لیکن ان پیغامات کے صحیح ہو نے کی کیا ضمانت ہے ؟اور کہا ں سے معلوم ہو کہ خداکے نمائندے نے وحی کو صحیح طور پر دریافت کیا ہے اور صحیح و سالم ،لوگوں تک پہنچایا ہے کیونکہ وحی تب فائدہ مند ہو سکتی ہے جب مر حلہ صدور سے مرحلہ وصول تک ہر قسم کی عمدی وسھوی خطائوں سے اور اضافات سے محفوظ ہو اور اسی کو علم کلا م کی اصطلاح میں عصمت کہا جاتا ہے ۔تو آئیے سب سے پہلے یہ جاننے کی کو شش کر تے ہیں کہ عصمت کا کیا مفہوم ہے ؟عصمت کی کیا حدود ہیں؟اور کیا عصمت کا لازمہ جبرہے یعنی جب خدا کسی کو معصوم بناتا ہے تو اس کے ارادے و اختیارکو سلب کر لیتا ہے یا نہیں بلکہ وہ اپنے ارادے اوراختیار کے ہو تے ہو ئے معصوم ہو تا ہے ؟اگر چہ عصمت کاموضوع بہت وسیع اور کلی ہے اور کسی ایک مقالے میں اس کے تمام پہلوئوں پر بحث نہیں کی جا سکتی لہذا اس مختصر تحریر میں عصمت کا مفہوم اور اس کی ضرورت کو کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے اس پر بحث کر یں گے ۔عصمت کا لغوی معنیٰ پاک دامنی (Chastity)ہے ۔١ذیل میں ہم عصمت کی چند تعریفیں بیان کر تے ہیں تاکہ اس کا معنیٰ و مفہوم مزید واضح ہو سکے۔معروف عارف وفیلسوف علامہ طباطبائی فرماتے ہیں۔عصمت نفس میں ایک ایسی علمی صورت ہے کہ جو انسان کو ہر قسم کے باطل سے خواہ اس کا تعلق عقیدے سے ہو یا عمل سے محفوظ کر تی ہے ۔٢عقائد اسلامی کے مصنف لکھتے ہیں :عصمت ایک ایسی اندرونی قوت کا نام ہے کہ جو انسان کو ہر قسم کے گناہ سے محفوظ بناتی ہے ۔٣بررسی مسائل کلی امامت میں مصنف لکھتے ہیں کہ :عصمت ایک ایسی غیر معمولی باطنی اور نفسانی قوت ہے کہ جس سے انسان اس کا ئنات کی حقیقت اور عالم وجود کے باطن وملکوت کا مشاہدہ کر سکتا ہے اور یہ غیر معمولی نفسانی قوت جس میں بھی پیدا ہو جا ئے اسے ہر قسم کی خطا ء وگناہ سے معصوم بنا دیتی ہے ۔٤مذکورہ تعریفات سے واضح ہو تا ہے کہ عصمت ایک غیرمعمولی قوت ہے جو خدا اپنے خاص بندوں کو عطا کر تا ہے اور عصمت مقولہ علم سے اس کا تعلق ہے ۔بنیاد ی طور پر اہل تشیع اوراہل سنت کے درمیان عصمت کے معنیٰ و مفہوم میں اختلاف ِنظر دکھا ئی دیتا ہےاہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ الہیٰ نمائندے خواہ انبیا ہوں یا آئمہ اپنے آغاز ولادت سے زندگی کے آخری لمحے تک تمام گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اور ہر قسم کی خطا ء ولغزش سے خواہ عمدی ہویا سہوی پاک ہوتے ہیں جب کہ اہل سنت عصمت کے اس وسیع مفہوم کے قائل نہیں ہیں۔بلکہ بعض نے عصمت ِ انبیا سے فقط گناہان کبیر ہ سے معصوم ہو نا مراد لیا ہے بعض نے دوران بلوغ سے اور بعض نے کہا ہے کہ بعثت کے بعد نبی معصوم ہو تا ہے،انبیاء کی عصمت کو ثابت کرنے سے پہلے چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے تا کہ موضوع بحث واضح ہو سکے ۔١۔ انبیا اور آئمہ کے معصوم ہونے کا مطلب صرف گناہوں سے پاک ہو نا نہیں ہے کیونکہ ایک معمولی انسان بھی کم عمر ہونے کی وجہ سے ممکن ہے کو ئی گناہ نہ کرے بلکہ معصوم ہونیکا مطلب یہ ہے کہ یہ ہستیاں ایک طاقتور ملکہء نفسانی کی مالک ہیںکہ جو سخت سے سخت حالات میںبھی اپنے آپ کو محفوظ رکھتی ہے اور یہ ملکہ نفسانی گناہوں کی آلودگیوں سے آگاہی ،قوی ارادہ اور نفسانی خواہشات کو کنٹرول کرنے کے نیتجے میں حاصل ہو تا ہےاور اس کی فاعلیت کو خدا کی طرف نسبت دی جا تی ہے ۔ورنہ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ خدا کسی معصوم انسان کو زبردستی گناہوں سے بچاتا ہے اور اس کے اختیار کو چھین لیتا ہے ۔٢۔ کسی بھی شخص کی عصمت کا لازمہ یہ ہے کہ وہ اُن تمام حرام اعمال کو ترک کر دے جو خود اس کے زمانے کی شریعت میں حرام ہوں نہ وہ حرام اعمال جو گزشتہ شریعتوں میں حرام تھے مگراب حلال ہو چکے ہیں ۔لہذا انبیا ء اور آئمہ کی عصمت ان اعمال کو انجام دینے سے خدشہ دار نہیں ہو تی جو کسی دوسری شریعت میں پہلے حرام تھے اور اب جا ئز ہوں۔٣۔ گناہ سے مراد ایسا عمل ہے جسے فقہ میں انجام دینا حرام ہو یا ایسے عمل کا ترک کرنا کہ جسے فقہ میں واجب کہا گیا ہے ۔لیکن گناہ کے علاوہ دوسرے کلمات جیسے عصیان ،ذنب وغیرہ وسیع معنیٰ میں استعمال ہو ئے ہیں کہ جسے ترک اولیٰ کہاجا تا ہے ایسے اعمال کا انجام دینا عصمت کے منافی نہیں ہے ۔اگر چہ اس کی تفصیل کے لیے الگ مستقل بحث کی ضرورت ہے کہ تر ک اولیٰ سے کیا مراد ہے ؟اور انبیا و آئمہ کی طرف گناہوں کی نسبت سے کیا مراد ہے ؟٤۔ اس نکتے کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ عصمت کی اس بحث میں ہماری مرادآئمہ اور فرشتوں کی عصمت نہیں ہے بلکہ ہمارا موضوع بحث صرف انبیا کی عصمت مراد ہے ،اورآئمہ کا معصوم ہونا کیوںضروری ہے اس کو آئندہ شمارے میں زیر بحث لائیں گے ۔عصمت کی ضرورت:جب عصمت کا معنیٰ و مفہوم واضح ہو گیا تو ا ب یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہانبیا کا معصوم ہو نا کیوں ضروری ہے ؟ اگر ابنیا معصوم نہ ہو تے تو کیا مشکل پیش آتی ؟عصمت کی ضرورت کو دونوں دلیلوں یعنی عقلی ادلہ اورنقلی ادلہ سے اپنے مقام پر ثابت کیا گیا ہے، ذیل میںہم ان میں سے بعض ادلہ کا ذکر کر تے ہیں ۔پہلی دلیل :انبیا ء کے معصوم ہو نے پر پہلی دلیل یہ ہے کہ واضح ہے کہ انبیا ء کی بعثت کا ہدف انسانوں کو ان کی ان ذمہ داریوں کی طرف ہدایت اورراہنمائی کر نا ہے کہ جو خدا نے ان کے لیے معین فرمائی ہیں ۔در حقیقت انبیاء انسانوں کے درمیان خدا کے نمائندے ہو تے ہیں کہ جن کاکام لو گوں کو راہ ِ راست کی ہدایت کرنا ہو تا ہے لہذا اگر ایسے نمائندے خدا کے بتائے ہو ئے قانون اور دستور کے پابند نہ ہو ں اور اپنی رسالت کے بر خلاف اعمال کے مرتکب ہو ں تو نقض غرض لا زم آئے گا یعنی وہ ہدف اورمقصد جو خدا ان انبیاء کو بھیج کر حاصل کر نا چاہتا تھا وہ حاصل نہیں ہو سکے گا۔لہذا خدا کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ انبیاء تمام گناہوں سے پاک او ر دور ہو ں بلکہ سہو و نسیان کی بنیاد پربھی کو ئی ناشائستہ عمل انجام نہ دیں تاکہ لو گوںکا اعتماد باقی رہے ۔دوسری دلیل :انبیا کی وحی کو لو گوں تک پہنچانے اورانہیں راہِ راست کی طرف راہنمائی کر نے کے علاوہ ایک اور ذمہ داری لوگوں کی تربیت اور تزکیہ ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہو ا ہے۔(ھُوَا لَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّےّنَ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ ےَتْلُوْ عَلَےْھِمْ اٰےٰتِہ وَےُزَکِّےْھِمْ وَےُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَوَالْحِکْمَةَ ) ٦ترجمہ :۔وہی ہے جس نے خواندہ لو گوں میںانہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سنا تا ہے اور انہیں پاکیزہ کر تا ہے اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے ۔تا کہ وہ باصلاحیت افراد کو کمال کی آخری منزل تک لے جا ئیں اور یہ ذمہ داری فقط وہی لوگ انجام دے سکتے ہیں جو خود انسانی کمالا ت کے اعلیٰ مقامات(عصمت)پر فائز ہو ں ۔اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ افراد کی تربیت میںمربی کا کردار اس کی گفتار سے زیادہ موثر ہو تا ہے ۔شاید امام جعفر صادق ـاپنی نورانی حدیث میں یہی فرمانا چاہتے ہیں کہ”کونوادعاٰة الناس بغیر السنتکم ”٧”یعنی لو گوں کو راہ ِراست کی دعو ت دو مگر اپنی زبان سے نہیں یعنی کردا ر عمل سے”وہ افراد جو کہ کردار اور عمل کے لحاظ سے عیوب اور نقائص کے حامل ہو تے ہیںان کی گفتار بھی مطلوبہ تاثیر نہیں رکھتی لہذا انبیا ء کی بعثت اس عنوان سے کہ وہ معاشروں کے مربی ہیں فقط اسی صورت میں قابل ِ عمل ہے کہ جب ان کا کردار و گفتار ہر قسم کی سھوی و عمدی خطا ء سے محفوظ ہو ۔حقیقی محبت :۔انبیا حقیقی عشق الہیٰ سے سر شار تھے ،کیونکہ انبیا باقی تمام لوگوں کو نسبت خدا کی زیادہ معرفت رکھتے تھے۔ان کو خدا کی بزرگی کا یقین تھا ،صرف اسی کی رضا و خوشنودی ان کی نظروں کے سامنے تھی،یہی وجہ تھی کی انبیا تبلیغ کی راہ میں راہ مشکل اور ہر حادثے کا استقبال کر تے تھے وہ بحرانی دور میں خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے ۔خد ا کی راہ میںسختیاں برداشت کر نے میں خوش ہو تے تھے ،جو راہِ خدا میں اس قدر ڈوبا ہو ا ہو ،دل ودماغ کی گہرائیوں میں فقط اسی کا خیال ہو کیا ایسے شخص سے خدا کی نا فرمانی کی امید کی جا سکتی ہے ؟نہیں ہر گز نہیں بلکہ ایسا شخص ہمشیہ خدا کی اطاعت میں مصروف رہے گا ۔اس لیے جب رسول خدا ۖکی خدمت میں عرض کیا گیا یا رسول اللہ ۖ آپ عباد ت میں اس قدر زحمت کیوں برداشت کرتے ہیں جب کہ آپ ہر قسم کے گناہ سے پاک و پاکیزہ ہیں تو اس وقت آپ نے فرمایا”أفلا أکون عبداً شکور””کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ”٨حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب ـ پیغمبر اسلام ۖ کی صفات کی طرف اشارہ فرماتے ہیں ،خدا وند عالم نے آنحضرت کو رسول ۖاور پیغمبر ۖ بنا کر بھیجا اس حالت میں کہ آپ لو گوںکو بشارت دینے والے اور ان کو ڈرانے والے تھے اپنے بچپن میں سب سے افضل تھے آپ ہر متقی سے پاکیزہ تر اور ہر سخی زیادہ سخی تھے ۔٩اورپھر ایک سادہ مثال سے اس مطلب کو مزید واضح کر تے ہیں ۔کیا آپ کو ئی ایسا عقل مند انسان تلاش کر سکتے ہیںجو آگ کوکھانے کے لیے فکرمند ہو یا گندگی چبانے کی فکر میں ہو؟کیا کو ئی ایسا با شعور انسان تلاش کیا جا سکتا ہے جو مکمل طور پر برھنہ ہو کر گلیوں اور بازاروں میں گھومے؟یقینا جواب نفی میں ہو گاپس کہا جا سکتا ہے کہ ہر عقل مند اور صحیح و سالم شخص بعض بُرے اور ناشائستہ کاموں کے مقابلے میں محفوظ ہو تا ہے اور اِن کاموں کی نسبت معصوم ہو تا ہے ۔قرآن او رعصمت انبیا ء :قرآ ن میں بہت ساری آیات میں عصمت کے مفہوم اور اس کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ذیل میں ہم چند آیات کا ذکر کر تے ہیں ۔قرآن کریم نے بعض انسانوں کو مخلص کہا ہے یہاں تک کہ ابلیس بھی انہیں گمراہ کرنے کی طمع نہیں رکھتا جیسا کہ قرآن میں آیا ہے کہترجمہ 🙁 کہنے لگا :مجھے تیری عزت کی قسم ! میں ان میں سب کو بہکا دوں گا،ان میں سوائے تیرے خالص بندوں کے )١٠اس آیت میں ابلیس نے کہا کہ سوائے مخلصین کے باقی لوگوں کو گمراہ کروں گا یعنی ابلیس کا انہیںگمراہ نہ کرنا اس عصمت کی وجہ سے ہے جو انہیں گناہوںکے مقابلے میں حاصل ہے ورنہ تو ابلیس ان کا بھی دشمن ہے اگر اسے موقع مل جا ئے تو انہیں بھی گمراہ کرتا ۔لہذا مخلص کا عنوان معصوم کے مساوی ہے قرآن نے بعض انبیاء کو مخلصین میں سے شمار کیا ہے ۔ترجمہ : (اے رسول ۖہمارے بندوں میں ابراہیم ،اسحاق ،اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت و بصیرت والے تھے ہم نے انہیں ایک خاص صفت کی بنا پر مخلص بنایاوہ دارِ آخرت کا ذکرہے )١١سورہ مریم میں ارشادہوا(اے رسول ۖ قرآن میں موسیٰ ـکا تذکرہ کرو اس میں شک نہیں کہ وہ مخلص اور میرا بھیجا ہوا نبی تھا)١٢اس کے علاوہ قرآن نے یوسف ـ کا سخت ترین لمحات میں محفوظ اپنے کو ان کے مخلص ہو نے سے نسبت دی ہےسورہ یوسف میں ارشار ہوا ۔(ہم نے اس کو یوں بچایا تاکہ ہم اس سے برائی اور بدکاری کو دور رکھیں بے شک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا )١٣قرآن میں انبیاء کی اطاعت کو مطلق قرار دیا گیا ہے ۔سورہ نسا میںارشارہوا۔(اور ہم نے کو ئی رسول نہیں بھیجا مگر اس واسطے کہ خدا کے حکم سے لو گ اس کی اطاعت کر یں )١٤اور انبیا ء کی مطلق اطاعت اس صورت میں صحیح ہے کہ جب ان کی اطاعت خدا کی اطاعت ہو اور ان کی پیرویکر نا خدا کی اطاعت کے خلاف نہ ہو،اگر انبیا ء معصوم نہ ہو تے تو خدا ان کے مطلق اطاعت کا حکم کبھی نہ دیتا ۔قرآن کی رو سے خدا نے الہیٰ منصبوں کو فقط ان لو گوں سے خاص کیا ہے جن کے ہا تھ ظلم سے آلودہ نہ ہو جیسا کہ قرآن حضرت ابراہیم ـ کے جواب میں فرماتا ہے جب انہوں نے اپنی اولاد کے لیے منصب امامت کی درخواست کی” وَاِذِابْتَلٰی اِبْرٰھمَ رَبُّہ’ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ۔ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَتِیْ قَالَ لاَ یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ ”١٥فرمایا میرے اس عہد پر ظالموں میں سے کوئی بھی فائز نہیں ہو سکتا اور واضح ہے کہ ہر گناہ نفس پر ایک ظلم ہے اور قرآن نے ہر گناہگار کو ظالم کیا ہے پس انبیاء میں جومنصب الہیٰ کے ذمہ دار ہو تے ہیں ہر قسم کے گناہ اورظلم سے پاک ہو تے ہیں ۔اورقرآن میں ایسی آیات بھی موجود ہیں جو بالخصوص پیغمبر گرامی اسلام کی عصمت کے حوالے سے راہنمائی کر تی ہیں ۔”وَلَوْ لَاَ اَنْ ثَبَّتْنٰکَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَےْھِمْ شَےْئًا قَےِلْاًo اِذًالَّا ذَقْنٰکَ ضِعْفَالْحَےٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لاَ تَجِدُلَکَ عَلَےْنَا نَصِےْرًا ” ١٦ترجمہ: ” اور اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو بلا شبہ آپ کچھ نہ کچھ ان کی طرف مائل ہو جاتے ،اس صورت میں ہم آپ کو زندگی میں بھی دوہر ا عذاب اور آخرت میںبھی دوہرا عذاب چکھا دیتے پھر آپ ہمارے مقابلے میںکو ئی مددگار نہ پاتے ”اس آیت مجیدہ میں ”ولولا ان ثتبناک ” تثبیت (ثابت قدمی )سے مرا د عصمت ہے اور یہ تشبیت کسی خاص مورد میں نہیں ہے بلکہ پیغمبرۖ کی تمام زندگی کو شامل ہے اور یقینا تثبیت الہیٰ سے مراد پیغمبر ۖ کا مجبور ہو نا اور سلبَ ارادہ نہیں ہے ،بلکہ اس تثبیت الہیٰ کے ہو تے ہو ئے پیغمبر ۖ مختار تھے ۔اوریہ بھی واضح ہے کہ انبیا ء کا معصوم ہو نا صر ف تبلیغ دین کے میدان تک محدود نہیں ہے بلکہ اپنی انفرادی ونجی زندگی میں بھی وہ معصوم تھے ،کیونکہ اگر انبیا ء اپنی عام زندگی میں اشتباہ و خطا کے مرتکب ہوتے تو لوگ ان کی تبلیغ و تعلیم پر بھی اعتماد نہ کر تے ۔لہذا خدا وند متعال کے لیے لا زم تھا کہ انبیا ء کو معصوم بناتا تاکہ بعثت انبیاء کے مقاصد میں کو ئی رکاوٹ نہ ہو ۔١٧پس ان عقلی اور قرآنی ادلہ کی روشنی میں واضح ہو گیا ہے کہ انبیا کا معصوم ہو نا ضروری ہے اور عصمت بھی بچین سے نہ کہ بلوغ سے یا زمانہ بعثت سے ،اگرچہ موضوع ابھی تشنہ ہے اور کئی پہلوئوں سے جیسے آئمہ کی عصمت کا ضروری ہو نا پھر اگر عصمت خدا کی طرف سے دی ہوئی ایک انعام ہے تو پھر اسمیں معصوم کی اپنی کیا فضلیت اور کیا کمال ہے ؟او ر بہت سارے اعتراضات جو عصمت پر کیے گئے ہیں،من جملہ اگر انبیاء آئمہ ومعصوم ہیں تو پھر ان کی طرف گناہوں کی نسبت کیوں دی گئی ہے یہ تمام ابحاث ابھی باقی ہیں لہذا ان ابحاث پر آئندہ شماروں میں بحث کریں گے ۔حوالہ جات١۔ فرھنگ جامع دکتر علی رضا ۔مادۂ عصم٢۔ تفسیر المیزان ،ج١٦،علامہ طباطبائی٣۔ عقائد اسلامی ،ص٢٥٢،محمود واعظی٤۔ بررسی مسائل کلی امامت،ص١٧١،ابراہیم امینی٥۔ کشف المراد٦۔ سورۂ جمعہ ،٢٧۔ میزان الحکمة٨۔ تفسیر نور الثقلین ،ج٢،ص٣٦٧٩۔ تاریخ طبری ،ج٥،ص٢٢٧١١٠۔ سورہ ص،٨٢،٨٣١١۔ سورہ ص،٤٥،٤٦١٢۔ سورۂ مریم ،٥١٣۔ یوسف،٢٤١٤۔ نساء ،٦٤١٥۔ بقرۂ ،١٢٤١٦۔ بنی اسرائیل ،٧٥،٧٤١٧۔ منشورِجاوید ،ج٦،جعفرسبحانی ص١٣١ 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.