عصمت ِآ ئمہ
عصمت ِآ ئمہمحمد اصغر عسکریگزشتہ شمارے میں عصمت کی مختصراً تعریف اور انبیا کے معصوم ہونے کے حوالے سے بحث ہو چکی ہے اسی سلسلہ بحثِ عصمت کو آگے بڑھاتے ہو ئے اس مقالے میں آئمہ کی عصمت کے بارے بحث کر تے ہیں کیونکہ انبیا کے معصوم ہونے کی ضرورت تو سمجھ میں آتی ہے کیونکہ انہوں نے وحی ِ خدا اور شریعت کو لو گوں تک ابلا غ کرنا ہے لہذا اگر وہ معصوم نہ ہو ئے تو درست پیغام وحی لو گوں تک نہیں پہنچ سکے گا جس کے نیتجے میں مقصد وحیِ (ھدایت )فوت ہو جا ئے گا لہذا انبیا کا معصوم ہو نا قابل فہم اور قابل قبول ہے مگر سوال یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد آئمہ کا معصوم ہونا کیوں ضروری ہے ؟اور اگر امام معصوم نہ ہو تو کیا مشکل پیش آئے گی اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ یہ بھی واضح کیا جا ئے کہ جب نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا اور شریعت خداوندی اکمال دین اور اتمام نعمت کی منزل کو پہنچ چکی تھی اور حلالِ محمد ۖ قیامت تک حلال اورحرام ِ محمد ۖ قیامت تک کے لیے حرام ہو چکا تھا تو پھر آئمہ کی کیوں ضرورت پیش آئی ؟ تو آئیے سب سے پہلے مختصراً یہ جاننے کی کو شش کر تے ہیں کہ سلسلہ نبوت کے بعد آئمہ کا وجود کیوں ضروری ہے ؟امام کے ہو نے یا نہ ہو نے کے حوالے سے صدر اسلام سے ہی مختلف نظریات پائے جاتے ہیں معتزلہ میں سے خوارج اور اصم نے کہا ہے کہ امام کا نصب کرنا نہ خدا کے لیے ضروری ہے اور نہ لوگوں کے لیے اس کا انتخاب ضروری ہے ،ابو علی جبائی نے کہا ہے کہ امام کا انتخاب عقلاً واجب نہیں ہے بلکہ لو گوں کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لیے کسی کو امام منتخب کریں ،اسی طرح ابو حسین بصری معتزلہ اور امامیہ کا نکتہ نظریہ ہے کہ امام کا نصب کرنا عقلا واجب ہے مگر فرق یہ ہے کہ امامیہ قائل ہیں کہ خدا پر لازم و ضروری ہے کہ انبیا کے بعد امام کو نصب کرے اور معتزلہ بغداد نے کہا کہ یہ عمل لو گوں پرواجب ہے ۔صاحب کشف المراد اس مطلب کو یوں بیان کر تے ہیں ۔’الامام لطف فیجب نصبہ علی اللہ تعالی تحصیلا للغرض’ ١’امام کا ہونا لطف ہے کیونکہ امام کے وجود سے لو گ خدا کی اطاعت کے قریب ہو تے ہیں اور معصیت خداسے دور ہوتے ہیں اگرامام نہ ہو تو فتنہ فساد بڑھ جائے گا اور امام کے وجود سے دین و دنیا دونوں کے امور منظم ہو تے ہیں’
قاعدہ لطف :’کل شئی مقرب الی طاعة اللہ تعالیٰ ومبعِّد عن معصیہ ”ہروہ عمل جو انسان کو خدا کی اطا عت کے قریب کرے اور معصیت خدا سے دور کر ے لطف کہلاتا ہے ‘اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ تمام واجبات شرعیہ واجبات عقلیہ کے لیے لطف ہیں مثلاً عقل کہتی ہے کہ فرزند کا قتل کرنا برائی اورجرم ہے اسی لیے خدا نے عرب کے ان جا ہلوں کی مذمت کی ہے جو اپنی بیٹیوں کو زندہ در گور کر دیتے تھے ۔’وَاِذَا الْمَوْئ دَةُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ‘ (٢)’اور جب زندہ درگور لڑکی سے پو چھا جائے گا کہ وہ کس گنا ہ میں ماری گئی’اگر چہ فرزند کا قتل کرنا عقلاً بھی جرم ہے مگر جب شریعت نے بھی حرام قرار دے دیا تو لو گ زیادہ اس جرم سے پر ہیز کریں گے اور شریعت میں قتل فرزند کا حرام ہو نا ایک لطف ہے اسی طرح انبیا اور آئمہ کا بھیجنا اور آسمانی کتابوں کا نزول بھی ایک لطف ہے کہ جن کے وجود بابرکت سے لو گ ہدایت حاصل کر تے ہیںاورظلمات و گمراھیوں سے نجات پاتے ہیں ۔حقیقت میں امام کے وجود کی وہی ادلہ ہیں جو ادلہ انبیا کا ضروری ہونا ثابت کر تی ہیں مگر چونکہ ہماری بحث عصمت آئمہ کے حوالے سے ہے لہذا وجود امام پر باقی ادلہ کو بیان نہیں کرتے بلکہ اپنے موضوع سے متعلق گفتگو کر تے ہیں ۔آئمہ کی عصمت پرا دلہ بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ عصمت کے حوالے سے مزید بحث کی جائے تاکہ مفہوم عصمت جب واضح ہو جائے گا تو عصمت ِ آئمہ کاسمجھنا آسان ہو جا ئے گا ۔
حقیقت ِ عصمت :لغت میں عصمت کے معنیٰ روکنا ہیں جیسا کہ ابن فارس نے کہا ہے’عصم یدل علیٰ امساک ومنع وملاذمة والمعنیٰ فی ذلک کلہ واحد من ذلک ان یعصم اللہ تعالیٰ عبدہ من سو ء یقع فیہ ‘(٣)کلمہ عصمروکنے اورمنع پردلالت کر تا اسی لیے استعمال ہو تا ہے کہ’ان یعصم اللہ تعالیٰ عبدہ من سو ء یقع فیہ ” خدا اپنے بندے کو عصمت دیتا ہے ‘یعنی اپنے بندے کو نا گوار امر میں واقع ہونے سے محفوظ رکھتا ہے ۔ابن منظورنے کہا ہے’العصمة فی کلام العرب المنع وعصمة اللہ عبدہ ان یعصمہ مما یو بقہ’کلام عرب میں عصمت کا معنیٰ روکنا ہے اور خدا کا اپنے بندے کو عصمت دینا یعنی ایسی چیز جو اسے ہلا ک کردے سے بچانا ہے ۔(٤)راغب اصفہانی نے بھی عصم کا یہی معنی کیا ہے اور اس آیت کو شاہد کے طور پر لا یا ہے’ لاَ عَاصِمَ الْےَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ‘(٥)’آج خدا کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے’متکلمین اسلامی اور حکما ء نے بھی عصمت کا معنیٰ روکنا اور محفوظ کرنا کیا ہے یعنی معصوم وہ ہے جو گناہ کے ارتکاب سے محفوظ ہو ،اگر چہ معصوم کا گنا ہ سے بچنا خدا کے ارادے کے تابع ہے لیکن خدا کا ارادہ کس انداز سے حوادث ِ جہان پر اثر انداز ہو تا ہے اس میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ متکلمین اسلامی کے معصوم کے حوالے سے مختلف تفسریں کی ہیں ،متکلمین اشاعرہ کہ جو نظام اسباب و مسبسبات کے منکر ہیں او ر افعال کو بلاواسطہ خدا کی طرف نسبت دیتے ہیں انہوں نے عصمت کا معنیٰ کرتے ہو ئے کہا ہے کہ معصوم وہ ہو تا ہے کہ جس میں خدا نے گناہ کو پیدا ہی نہ کیا ہو ،قاضی عصندالدین ایجی نے کہا ہے’وھی عندنا ان لایخلق اللہ فیھم دنبا ‘(٦)سعد الدین تفتازانی نے کہا ہے کہ حقیقت عصمت یہ ہے کہ خدا وند متعال اپنے بندے میں گناہ کوخلق ہی نہ کرے جب کہ وہ گناہ پر قدرت و اختیار رکھتا ہو۔(٧)متکلمان عدلیہ(امامیہ و معتزلہ )جو لطف کو خدا کے لیے واجب جانتے ہیں ان کا نظریہ عصمت اسی مبنیٰ پرقائم ہے ۔سید مرتضی علم الہدیٰ فرما تے ہیں :عصمت وہ لطف ہے جو خدا اپنے بندے پر انجام دیتا ہے اور اس کے ذریعے وہ فعل قبیح سے رک جا تاہے (٨)فاضل مقداد نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے:ہمارے اصحاب اور دیگر عدلیہ کے متکلمین نے عصمت کی تعریف میں کہا ہے عصمت ایک ایسا لطف ہے جو خدا مکلف پر کرتا ہے اس طرح سے کہ گناہ کا اس سے سرزد ہو نارک جا تاہے ،لہذا لطف کے ہو تے ہو ئے اس میں گناہ کوانجام دینے کا انگیز ہ نہیں ہو تا ،اگر چہ وہ گناہ پر قادر ہو تا ہے۔(٩)اسلامی حکماء نے اپنے توحید افعالیٰ والے مبنی ٰ کے مطابق عصمت کو ایسا نفسانی ملکہ کہا ہے کہ جس کے ہو تے ہو ئے معصوم سے گناہ کا ارتکاب محال ہو تا ہےمحقق طوسی نے کہا ہے :’انھا ملکة لا یصدرعن صاحبا معھا المعاصی وھذا علٰی رائی الحکما ء ‘(١٠)پس اس مختصر بحث سے جو نیتجہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ عصمت میں جبر نہیں ہو تا بلکہ معصوم عصمت کا مرتبہ رکھتے ہو ئے مختار اور قادر ہو تا ہے اور گناہوں پر بھی قادر ہو تا ہے اسی لیے حضرت یوسف ـ نے واضح فرمایا کہ اس کا بھی دوسرے انسانوں کی طرح نفس امارہ ہے ۔’وَمَا اُبَرِّیُ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَ مَّارَة بِالسُّوْئِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّیْ ‘(١١)’اور میں اپنے نفس کی صفائی پیش نہیںکرتا کیونکہ نفس تو برائی پر اکساتا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے’جب حقیقت عصمت واضح ہو گئی تو آئیے اب آئمہ کی عصمت پر کون سی ادلہ ہیں جن کے ذریعے آئمہ کی عصمت کو ثابت کیا جا سکے بیان کر تے ہیں ۔بعض متکلمین اسلامی نے خود لطف کو جہاں وجود امام پر دلیل قرار دیا ہے وہاں امام کے معصوم ہونے پریہی دلیل قائم کی ہے اور کہا ہے خدا کے لطف کا تقاضا یہ ہے کہ آئمہ معصوم ہو ں ۔
امام محافظ شریعت:عقل یہ کہتی ہے کہ جو شریعت قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدا یت کررہی ہے اس شریعت کو اپنی حقیقی شکل میں باقی رہنا چاہیے اور اس کی حفاظت ضروری ہے ور نہ نقض غرض لازم آئے گی یعنی انسانیت کی ہدا یت والی غرض ومقصد فوت ہو جا ئے گا کیونکہ یہ شریعت ھادیہ اگر تحریف ہو گئی تو پھر یہ ہدا یت نہیں کر پائے گی لہذ اخدا کے لیے ضروری ولاز م ہے کہ وہ اس کی حفاظت کی ضمانت دے اور اس کی حفاظت کا بندوبست کرے اور شریعت کی حفاظت خدا نے امام ِ معصوم کے ذریعے کی ہے اور کو ئی راستہ ممکن نہیں ہے۔اگرچہ قرآن کریم شریعت کا سب سے بڑا سر چشمہ ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا نے لی ہے اور فرما یا’اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَاالذِّکْرَ وَاِنَّالَہ لَحٰفِظُوْنَ ‘(١٢)’بے شک ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ‘مگریہ بات بھی عیاں ہے کہ اس نورانی کتاب ھدایت میں کلیات اور اصول شریعت کو بیان کیا گیا ہے اور ان کلیات کی تبیین وتوضیح خودرسول خدا ۖ کی ذمہ داری ہے’وَاَنْزَلْنَا اِلَےْکَ الذِّکْرَ لِتُبَےِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَےْھِمْ ‘(١٣)یعنی ہم نے اس قرآن کو آپ پرنازل کیا ہے تاکہ نازل شدہ کی توتبیین کرے لہذا شریعت کے احکام کی تفصیل بنی ۖ کی سنت و سیرت سے ملے گی پس فقط قرآن ہی کا مل شریعت نہیں ہے بلکہ سنت رسول ۖبھی شریعت ہے ،اب قرآن و سنت کی حفاظت قیامت تک کے لیے ضروری ہے،حفاظت کے تین ممکنہ راستے ہیں١۔محافظہ شریعت غیر معصوم ہو یہ درست نہیں ہے کیونکہ غیرمعصوم کامطلب ہے کہ جو خطا کر سکتا ہے اور وہ شریعت کی حفاظت میں بھی خطا کر سکتا ہے پس غیر معصوم محافظ کا نیتجہ یہ ہو گا کہ شریعت اپنی حقیقی شکل میں باقی نہ رہے اورنیتجاً ھدایت والا مقصد فوت ہو جائے ۔٢۔پوری امت محافظ شریعت ہو ،یہ راستہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ فرض یہ ہے کہ یہ امت بھی غیر معصوم ہے لہذا جو اشکال وہاں تھا وہ یہاں بھی موجود ہے کہ پور ی امت غیر معصوم ہے لہذا شریعت کی حفاظت میں خطا کر سکتے ہیں بلکہ اس کی مثال ایسے ہے کہ اگر ایک صفر کے ساتھ کئی صفریں لگاتے جا ئیں تو نیتجہ صفرہی ہو گا لہذا یہ راستہ بھی با طل ہے۔٣۔محافظ شریعت ایسا امام ہو جو معصوم ہو ،یعنی جس کے قول ،فعل اور علم میں کہیں کوئی نہ عمداً خطا ہو اور نہ سہوی خطا ہو اورو ہ قرآن کے بطون و اسرار کاعالم ہومتشابہات کو محکمات سے سمجھنے والا ہو اور راسخ فی العلم ہو تا کہ قرآن وسنت میں ان احکام کوجو قطعی طور پر بیان نہیںہوئے بیان کرے ،اور یہ بھی لازم وضروری ہے کہ یہ محافظ قیامت تک ہر زمانے میں رہے خواہ ظاہری صورت میں یا پردہ غیب میں تاکہ جب کبھی اور جہاں کہیں شریعت کو مٹانے کی کو شش کی جا ئے تو وہ اپنی حفاظت والی ذمہ داری کو انجام دے چاہے اس حفاظت کے لیے اسے کتنی ہی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے ۔عالم تشیع کے نامور ستون علامہ سید مرتضی علم الہدی اس بر ہان کو یو ں بیان کر تے ہیں :پیغمبر گرامی اسلام کی شریعت دائمی ہے اور قابل نسخ نہیں ہے او رتمام مکلفین پر واجب ہے کہ قیامت تک اسی شریعت کے احکام کے پا بند و ملتزم رہیں ،لہذا ضروری ہے کہ یہ شریعت قیامت تک محفوظ رہے اور اس کی حفاظت کسی محافظ کی محتاج ہے اور وہ محافظ یا معصوم ہو گا یا غیر معصوم دوسرا فرض باطل ہے کیونکہ غیر معصوم شریعت کی صحیح حفاظت نہیں کر سکتا پس امام معصوم کے علاوہ کوئی دوسرا محافظ شریعت نہیں بن سکتا ،اگر چہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اخبار متواترہ موجود ہیں جس سے شریعت کی حفاظت ممکن ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اخبا ر بہت کم تعداد میں ہیں اور یہ اخبار شریعت کے بہت سارے احکام کو بیان نہیں کر تی(١٤)سدید الدین حمصی اسی دلیل کو ایک اور انداز سے بیان کر تے ہیں :امت پیغمبر ۖ قیامت تک عبادات ،معاملات ،میراث ،اور احکام جزائی میں شریعت اسلامی کے پابند ہیں اور یہبھی معلوم ہے کہ ان احکام کا علم نہ بدیہی ہے اور نہ عقل کے ذریعے ان احکام کو جانا جا سکتا ہے اور پیغمبر ۖ کی قطعی احادیث میں بھی شریعت کے تمام احکام کا علم نہیں ہے اور دوسرے طرف سے احکام شرعی میں اجماع کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے کیونکہ ان احکام میں علما ء کے درمیان اختلاف موجود ہے اور اس کے علاوہ اجماع میں جب تک قوم معصوم اور معصوم کی رضا شامل نہ ہو وہ اجماع قابل اعتماد نہیں ہے ۔(١٥)ان مطالب کی روشنی میں ضروری ہے کہ امت میں امام معصوم ہو کہ جس کے قول فعل اور علم میں کسی قسم کی خطا کا شالئبہ تک نہ ہو تا کہ ایسے احکام جو قطعی طور پر سنت رسول ۖ میں بیان نہیں ہو ئے ان کو بیان کرے۔امام کے معصوم نہ ہو نے کی آفات اورنتائج :گزشتہ دلیل سے واضح ہو گیا کہ امام محافظ شریعت ہے اور محافظ کا معصوم ہو نا ضروری ہے اب ذیل میں یہ بتاتے ہیں کہ امام اگر معصوم نہ ہو امت اسلامی کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کونسی آفات اسلامی معاشرے کے دامن گیر ہو تی ہیں ،اگر امام معصوم نہ ہو تو اس کے لیے ایسے نتائج سامنے آتے ہیں کہ جو نہ عقل کے لیے اور نہ شریعت کے لیے قابل قبول ہیں ۔١۔ نہی عن المنکر یعنی برائی سے روکنا اسلام کے اہم ترین فرائض میں سے ہے حکم ہے کہ اگر کوئی فرد بر ائی کا مرتکب ہو تو دوسروں پر واجب ہے کہ اس کو روکیں اور اس کی مذمت کریں اب اگر امام خود بھی گناہ کا مرتکب ہو تو دوسروں پر واجب ہے کہ اس کو روکیں اور اس کی مذمت کریں بلکہ اما م کے مقام و منصب کی وجہ سے اس کو سختی سے روکا جائے اور زیادہ شدت دکھائی جا ئے مو لیٰ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ـ نے فرمایا ہے ۔’وافضل من ذلک کلہ کلمة عدل عند امام جائز ‘(١٦)’یعنی ظالم حکمران کے سامنے کلمہ عدل کہنا سب سے افضل عبادت ہے ‘لہذا اگر امام گناہ کا مرتکب ہو جا ئے تو تمام لو گوں پر واجب ہے کہ اسے روکیں بلکہ افضل عباد ت ہے اور دوسری طرف سے چونکہ وہ امت کا امام ہے اس کی اطاعت بھی واجب ہے لہذا یہ تضا د ومنافات ہے کہ ایک طرف سے چونکہ وہ امام ہے اس کی اطاعت بھی واجب ہے اور دوسری طرف سے چونکہ وہ غیر معصوم ہے اور گناہ کا مرتکب ہو جا ئے تو روکنا واجب ہے اور اس کی مخالفت کی جا ئے۔اور دوسری بات یہ ہے کہ امام اگر گناہ کر ے تو اس کا مقام و منزلت گرجائے گا بلکہ معاشرے کے عام افراد سے بھی اس کی حیثیت کم ہو جائے گی کیونکہ بڑے لوگو ں کی چھوٹی غلطیاں بھی بڑی ہو تی ہیں ممکن ہے امام کا ایک گناہ صغیرہ عام فرد کے گناہ کبیرہ سے زیادہ جرم جانا جائے اسی لیے مولیٰ امیر المومنین نے اسلامی حکام کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہو ئے فرمایا ہے’ان اللہ فرض علی آئمہ العدل ان یقدّ رو انفسھم بضعة الناس کی لا یتبع بالفقیر فقرہ ”بے شک خدا نے عدل کے پیشوائوں پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو فقرا ء کی طرح ڈھالیں تاکہ کسی فقیر کو اس کا فقر تباہ نہ کر دے ‘(١٧)اسی لیے خداوند متعال نے قرآن میں ازواج پیغمبر ۖ کو خطاب کر تے ہو ئے فرمایا’لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّقَےْتُنَّ ‘(١٨)’تم عام عورتوں جیسی نہیں ہو اگر تقویٰ رکھتی ہو ‘٢۔امام اگر خطا کا مرتکب ہو جا ئے تواس پر اعتماد و وثوق کم ہو جا ئے اور نیتجاً اس کی اطاعت میں کمی واقع ہو جا ئے گی اور امامت کا ہدف ومقصد پورا نہیں ہو گا شیخ طوسی نے اسی مطلب کو یوں بیان فرمایا ہے :امام اپنی ولادت سے زندگی کے آخری لمحات تک گفتار ،کردار اور رفتار میں ہر قسم کی عمدی اور سھوی خطاسے معصوم ہو نا چاہیے کیونکہ اگر امام سے کو ئی گناہ سر زد ہو گیا تو لوگوں کے ہاں اس کامقام گر جائے گا اور اگر بھول کر کو ئی غلطی ہو گئی تواس سے اعتماد اٹھ جا ئے گا جس کے نیتجے میں امامت کے نصب کرنے کا ہدف و مقصد فوت ہو جا ئے گا (١٩)اسی لیے ہمارا عقیدہ ہے کہ امام جو محافظ شریعت ہے وہ منصوص من اللہ ہوتا ہےیعنی اس کا حق انتخاب عام لوگوں کو نہیں ہو تا بلکہ اسے خدا و رسول ۖ منتخب کرتاہےتاکہ اس میں کسی قسم کا نقص نہ ہو پس عقلی و شرعی قواعد کا تقاضا یہ ہےکہ ایسا امام جو پیغمبر ۖ کا جانشین اور امت اسلامی کا رہبر ہو وہ پیغمبر ۖ کی طرح معصوم ہورسول جیسا ہو تاکہ لوگوں کے لیے مکمل طور پر قابل اعتما د ہو اوراس کا قول ،فعل اور کردار امت اسلامی کے لیے نمونہ عمل بن سکے ۔
حوالہ جات(١) کشف المراد ،ص٥٠٧(٢) تکویر آیت ٨،٩(٣) احمد بن فارس ،معجم مقایسیس فی اللغة،ص٧٧٩،دارالفکر بیروت(٤) ابن منظور ،لسان العرب،ج١٠،ص٧٥ا،دارالفکربیروت(٥) ھودآیت ٤٣(٦) شرح المواقف،ج٨،ص٢٨٠(٧) شرح العقائد النسفیہ ،تفتازانی ،ص١١٣(٨) رسائل الشریف المرتضیٰ،ج٣،ص٣٢٦،موسسہ النور(٩) اللوامع الالھٰیہ،ص٢٤٣ دفتر تبلیغات اسلامی ،قم(١٠) تلخیص المحصل ،ص٣٦٩(١١) یوسف ٥٣(١٢) حجر ٩(١٣) نحل ٤٤(١٤) الشافی ج١،ص١٧٩(١٥) المنقذ من التقلید ج٢،ص٢٥٦(١٦) نہج البلاغہ ،حکمت ٣٧٤(١٧) نہج البلاغہ،خطبہ ٢٠٩(١٨) احزاب آیت ٣٢(١٩) الرسائل العشر،ص٥٨،موسسہ نشر اسلامی قم